Bismillah

664

۸تا۱۴صفر المظفر۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۱۹تا۲۵اکتوبر۲۰۱۸ء

عثمانؓ… آپ کی عظمت پر میں قربان (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 657 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Usman aap ki Azmat per Qurban

عثمانؓ… آپ کی عظمت پر میں قربان

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 657)

اللہ تعالیٰ سب مسلمانوں کے محسن سیدنا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے درجات کو مزید بلند فرمائے ۔ بے شک ان کے فضائل و کمالات کو سمجھنے کیلئے دل میں خوف خدا اور ذہن میں شرم و حیاء ہونا ضروری ہے ۔ جو لوگ اپنے حالات اور اپنے زمانے پر ان کو پرکھنے کی کوشش کرتے ہیں‘ وہ بلاشبہ بڑی غلطی میں مبتلا ہیں ۔ کہاں خیرالقرون میں زبانِ نبوت سے جنت کا پروانہ پانے والی وہ عظیم ہستی ‘ جن کے مال نے اہل ایمان کو اس وقت سب سے زیادہ فائدہ پہنچایا جب اسلام اور مسلمانوں کو اس کی سخت ضرورت تھی ‘ جن کو ایسا اعزاز نصیب ہوا جو اولین و آخرین میں کسی کی قسمت میں نہیں آیا ‘ وہ کہاں اور پندرہویں صدی میں مکروہ سیاست کے علمبردار اور خواہشات و نفسیانیت کے اسیر کہاں؟

بھلا کیا جوڑ ہے اور کیا مقابلہ ہے ان دونوں میں؟

دنیا نے بڑے بڑے مقررین کی تقاریر بھی سنی ہیں اور سامعین کو داد و تحسین کے ڈونگرے برساتے ہوئے بھی دیکھا ہے لیکن کیا کبھی اس آسمان و زمین نے ایسی تقریر بھی سنی ہو گی ‘ جس میں سامعین ‘ خطیب کے خون کے پیاسے ہوں اور اُس کو قتل کرنے کے درپے ہوں لیکن پھر بھی اس کی ہر بات کی تصدیق و تائید کر رہے ہوں ۔

جی ہاں! یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دہرے داماد ‘ امیر المومنین سیدنا حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ہیں ۔ جب دور دراز کے علاقوں سے آئے ہوئے باغیوں نے آپ ؓ کے گھر کا محاصرہ کر لیا ، مدینہ منورہ سے جلیل القدر صحابہ کرامؓ حج کا فریضہ ادا کرنے مکہ مکرمہ گئے ہوئے تھے اور جو یہاں باقی تھے ان کو لڑنے سے خود آپؓ نے ہی سختی سے روک دیا تھا کہ میں یہ نہیں چاہتا کہ میری وجہ سے مسلمانوں کے درمیان قتال کا سلسلہ شروع ہو جائے اور اہل ایمان ہی ایک دوسرے کا خون بہانے لگ جائیں ۔

ایسے حالات میں آپؓ اپنے گھر کے بالا خانے پر تشریف لائے اور اپنے گھر کے گرد محاصرہ کیے ہوئے باغیوں کو مخاطب کر کے فرمایا :

میں تمہیں اللہ تعالیٰ اور اس کے دین حق اسلام کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں ۔

کیا تم یہ جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ہجرت فرما کر مدینہ تشریف لائے تو یہاں ’’ بئر رومہ‘‘ کے علاوہ میٹھے پانی کا کوئی کنواں نہیں تھا ۔

یہ کنواں ایک یہودی کی ملکیت تھا اور وہ اس کا پانی بہت مہنگا بیچتا تھا ۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

’’ کوئی اللہ کا بندہ ہے جو بئر رومہ کو خرید کر سب مسلمانوں کو اس سے پانی لینے کی اجازت دے دے تو اللہ جنت میں اس کو اس سے بہتر عطا فرمائے گا‘‘۔

اس وقت میں نے اس کنویں کو اپنے مال سے خرید ا اور مسلمانوں کیلئے وقف کر دیا ۔

افسوس کہ آج تم مجھے اسی کا پانی پینے سے روکتے ہو اور میں سمندر جیسا کھارا اور کڑوا پانی پینے پر مجبور ہوں ۔

اس کے جواب میں ان باغیوں کے گروہ نے کہا :

اللھم نعم

’’ اے اللہ ! ہم جانتے ہیں کہ عثمانؓ کی یہ بات درست ہے‘‘

پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا :

میں تمہیں اللہ تعالیٰ اور اس کے دین حق اسلام کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں ۔

کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعمیر کردہ مسجد نمازیوں کیلئے تنگ ہو گئی تھی ۔ اس وقت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا :

’’ کون اللہ کا بندہ ہے جو فلاں خاندان کے پلاٹ کو خرید کر ہماری مسجد میں شامل کر دے تو اللہ تعالیٰ اس کو جنت میں اس سے بہتر جگہ عطا فرمائے گا ‘‘ ۔

تب میں نے اس کو اپنے ذاتی مال سے خرید لیا اور مسجد میں شامل کر دیا ۔

آج تم لوگ مجھے اس مسجد میں دو رکعت نماز پڑھنے سے بھی روکتے ہو ۔

اس پر ان لوگوں نے جن کے دماغوں پر خون سوار تھا اور وہ ہر وحشیانہ قدم اٹھانے کیلئے تیار تھے ‘ بیک زبان جواب دیا :

اللھم نعم

( اے اللہ ! ہم جانتے ہیں عثمانؓ کی یہ بات بھی درست ہے)

اس کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ بھی کہا :

کیا تم لوگ جانتے ہو کہ میں نے غزوئہ تبوک کے لشکر کیلئے اپنے مال سے کتنا سازو سامان دیا تھا ؟

اس پر ان لوگوں نے ایک مرتبہ پھر ’’ اللھم نعم‘‘ کہا ۔

اب صبر و استقامت کے پہاڑ اور شرم و حیاء کے پیکر سیدنا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے فرمایا :

میں تمہیں اللہ تعالیٰ اور اس کے دین حق اسلام کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں ۔

کیا تمہارے علم میں یہ بات ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہاڑ پر تشریف فرما تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے اور میں بھی ہمراہ تھا ۔

پہاڑ حرکت کرنے لگا اور اس کے پتھر اوپر سے نیچے کی طرف گرنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہاڑ پر زور سے اپنا قدم مبارک مارا اور فرمایا :

’’ اے پہاڑ ٹھہر جا ! کیونکہ اس وقت تیرے اوپر ایک نبی اور ایک صدیق اور دو شہید ہیں‘‘ ۔

اس پر ان ظالموں نے پھر جواب دیا : ’’ اللھم نعم‘‘

( اے اللہ ! یہ بات بھی ہم جانتے ہیں)

اس کے بعد سیدنا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے تین مرتبہ ارشاد فرمایا :

’’ قسم ہے رب کعبہ کی میں شہید ( ہونے والا) ہوں‘‘۔

( جامع ترمذی ۲؍ ۲۱۱، سنن نسائی ، دارقطنی)

واقعی عظیم وہی ہے جس کی عظمت اور برتری کی گواہی اس کے دشمن بھی دینے پر مجبور ہو جائیں ۔ اب ذرا خالی ذہن اور تمام باتوں سے یکسو ہو کر سوچیں کہ اگر ہمارے خاندان میں کوئی شخص رشتہ کرنا چاہے

 اور ہمیں اس کے کردار پر ایک فیصد بھی شک ہو یا ہم اس کے نظریے کے بارے میں کسی بد گمانی کا شکار ہوں تو کیا ہم اس کو رشتہ دینا گوارہ کر لیں گے ۔ جب ہماری غیرت و حمیت اس بات کی اجازت نہیں دیتی تو کیا ایک لمحہ کیلئے بھی یہ تصور کیا جا سکتا ہے کہ رحمت ِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دو صاحبزادیوں کا رشتہ ‘ ایک کی وفات کے بعد دوسرا رشتہ بغیر تسلی اور اطمینان کے دے دیا ہو گا ۔

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو جو ’’ ذوالنورین ‘‘ یعنی دو نور اور روشنیوں والا کہا جاتا ہے ‘ وہ اسی بناء پر کہا جاتا ہے کہ یہ اعزاز تمام انسانوں میں سے صرف آپ کے نصیب میں آیا ہے کہ کسی بھی پیغمبر علیہ السلام کی دو صاحبزادیاں آپؓ کے نکاح میں آئیں ۔ پھر یہ رشتے کس باہمی محبت ‘ اعتماد اور خوشی سے ہوئے اس کا اندازہ ان روایات سے لگالیں ‘ جو آج بھی حدیث و تاریخ کی کتابوں میں جگمگا رہی ہیں :

حضرت سعید بن مسیب ؒسے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہسے ملاقات ہوئی۔ حضرت عثمان ؓ  اس وقت بہت ہی غمزدہ اور سخت رنجیدہ تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ان کا یہ حال دیکھ کر) پوچھا :

عثمان! تمہارا یہ کیا حال ہے؟

 انہوں نے عرض کیا :اے رسول خدا! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں کیا کسی شخص پر بھی ایسی سخت مصیبت آئی ہو گی جو مجھ پر آئی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی جو میرے ساتھ تھیں (یعنی حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا) وہ وفات پاگئیں۔ اللہ ان پر رحمت فرمائے( اس صدمہ سے) میری کمر ٹوٹ گئی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دامادی کے رشتہ کا جواعزاز مجھے نصیب تھا ،اب وہ ہمیشہ کیلئے ختم ہوگیا(اور میں اس عظیم نعمت اور سعادت سے محروم ہوگیا) ۔

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا:

 عثمان! کیا تم ایسا ہی کہتے ہو (اور تمہیں اسی کا صدمہ او ررنج ہے؟)

 حضرت عثمان ؓ   عرض کیا:

 یا رسول اللہ! میں قسم کے ساتھ وہی بات کہتا ہوں جو ابھی میں نے عرض کی ہے۔(یعنی میرا یہی حال اور یہی احساس ہے) ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم، عثمان رضی اللہ عنہ سے یہ گفتگو فرما رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

ہذا جبریل یا عثمان! یأمُرنی عن أمر اللّٰہ أن أزوجک أختہا أم کلثوم علی مثل صداقہا وعلی مثل عشرتہا فزوجہ رسول اللّٰہ إیاہا

 اے عثمان! یہ جبرائیل امین ہیں۔ یہ مجھے اللہ تعالیٰ کا حکم پہنچا رہے ہیں کہ میں اپنی بیٹی مرحومہ رقیہ کی بہن امّ کلثوم کا نکاح تم سے کردوں اسی مہر پر جو رقیہ کا تھا اور اسی طرح کی معاشرت پر، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ اپنی بیٹی امّ کلثوم رضی اللہ عنہا کا نکاح کردیا۔(ابن عساکر، کنز العمال: ۱۳/۴۲، الاصابہ : ۸/۲۸۹)

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری صاحبزادی (امّ کلثوم) کا انتقال ہوگیا… تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے عثمان! اگر میری دس بیٹیاں ہوتیں تو میں ان میں سے ایک کے بعد ایک کا(سب کا) تم سے نکاح کردیتا، کیونکہ میں تم سے بہت راضی اور خوش ہوں۔(معجم اوسط :۶/۱۷۶، کنزالعمال: ۱۳/۷۵، ابن عساکر)

ابھی تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے چند ہی اعزازات لکھے گئے ہیں اور کالم کا دامن تنگ ہو گیا ہے ۔ جس شخصیت کیلئے صلح حدیبیہ کے موقع پر بیعت ِ رضوان کے وقت رحمت ِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اہتمام اور انتظام فرمایا ہو کہ اپنے مبارک ‘ مقدس ‘ معطر اور منور ہاتھ کو ان کا ہاتھ قرار دیا ہو ‘ ایسی عظیم ہستی سے بد گمانی کو بد بختی اور بد قسمتی کے سوا کیا نام دیا جا سکتا ہے ۔ آپ ؓ کے فضائل و کمالات کو کوئی کہاں تک بیان کر سکتا ہے اور لکھ سکتا ہے ۔

آخری بات یہ سمجھ لینی چاہیے کہ فارسی کی شہرئہ آفاق کتاب ’’ مثنوی معنوی‘‘ کا ایک بہترین شعر ہے :

کار پاکان را قیاس از خود مگیر

گرچہ ماند در بنشتن شیر و شِیر

یعنی پاک لوگوں کے کاموں کو اپنے اوپر مت قیاس کرو کہ ان کی نیتوں اور ارادوں کو بھی اپنے جیسا سمجھنے لگ جائو ۔ دیکھو ! شیر ( وہ درندہ جو انسان کو بھی کھا جاتا ہے) اور شِیر ( یعنی دودھ ‘ جسے انسان پی جاتا ہے) دونوں لکھنے میں تو ایک جیسے ہیں لیکن معنی اور حقیقت میں کتنا فرق ہے ۔ جیسے یہ دونوں حقیقت میں ایک جیسے نہیں ‘ ویسے تمہارے کام اور پاک لوگوں کے کام بھی ایک جیسے نہیں ہو سکتے ۔

بھلا ان لوگوں سے زیادہ قابل احترام کون ہو سکتا ہے جن کے ایمان کی گواہی اللہ تعالیٰ کا پاک کلام دیتا ہو اور حضرت محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے مقام و مرتبے کو بیان کر رہے ہوں ۔

عثمانؓ ! بلاشبہ آپ پاک ہیں ان تمام الزامات و اتہامات سے جو بد باطن لوگ آپ پر لگاتے ہیں ۔ بے شک وہ لوگ چاند کی طرف تھوکنے کی کوشش کرتے ہیں جو بالآخر انہی کے چہروں کو آلودہ کر دیتا ہے ۔ہم آپؓ کی محبت پر ہی زندہ رہنا چاہتے ہیں اور اسی پر اللہ تعالیٰ سے خاتمہ مانگتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کی بے شمار رحمت ہو آپ ؓ پر اور تمام صحابہ کرام و اہل بیت ِ عظامؓ پر ۔ اللہ تعالیٰ ہماری طرف سے آپ سب کو بہترین سے بہترین جزائے خیر عطا فرمائے اور ہمیں بھی آپ کے نقش قدم پر چلنا نصیب ہو ۔ (آمین ثم آمین)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online