Bismillah

664

۸تا۱۴صفر المظفر۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۱۹تا۲۵اکتوبر۲۰۱۸ء

آئین پاکستان کا غدارکون؟ (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 658 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Ain-e-Pakistan ka Ghadar

آئین پاکستان کا غدارکون؟

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 658)

اللہ تعالیٰ پاکستان کی حفاظت فرمائے اور ہر قسم کے فتنوں سے اسے محفوظ فرمائے ۔ معلوم نہیں یہاں کے حکمران مسئلہ ختم نبوت کی اہمیت کو سمجھتے نہیں یا جان بوجھ کر لاکھوں مسلمانوں کی قربانیوں کو ضائع کرنے کے درپے ہیں ۔

اللہ تعالیٰ نے سلسلۂ نبوت کی ابتداء سیدنا آدم علیہ السلام سے فرمائی اور اس کی انتہاء محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس پر فرمائی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت ختم ہو گئی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آخر ی نبی ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کو نبی نہ بنایا جائے گا ۔ اس عقیدہ کو شریعت کے الفاظ میں عقیدئہ ختم نبوت کہا جاتا ہے ۔ ختم نبوت کا عقیدہ ان اجماعی عقائد میں سے ہے ۔ جو اسلام کے اصول اور ضروریات دین میں شمار کئے گئے ہیں اور عہد نبوت سے لے کر اس وقت تک ہر مسلمان اس پر ایمان رکھتا آیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بلا کسی تاویل اور تخصیص کے خاتم النبیین ہیں ۔

یہ عقیدہ قرآنِ مجید کی ایک سو آیات مبارکہ اور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث متواترہ ( دو سو دس احادیث مبارکہ) سے ثابت ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کا سب سے پہلا اجماع اسی مسئلہ پر منعقد ہوا ۔ چنانچہ امام العصر حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری ؒ اپنی آخری کتاب ’’ خاتم النبیین ‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں:

’’ اور سب سے پہلا اجماع جو اس امت میں منعقد ہوا ۔ وہ مسیلمہ کذاب کے قتل پر اجماع تھا ۔ جس کا سبب صرف اس کا دعویٰ نبوت تھا ۔ اس کی دیگر گھنائونی حرکات کا علم صحابہ کرامؓ کو اس کے قتل کے بعد ہوا تھا ۔ جیسا کہ ابن خلدونؓ نے نقل کیا ہے ۔ اس کے بعد ہر دور میں مدعی نبوت کے کفر و ارتد اد اور قتل پر ہمیشہ اجماع رہا ہے اور نبوت تشریعیہ یا غیر تشریعیہ کی کوئی تفصیل بھی زیر بحث نہیں آئی‘‘۔ ( ترجمہ : صفحہ ۱۹۷)

ہر کچھ دن نہیں گزرتے کہ پاکستان کے ایوانہائے اقتدار میں براجمان لوگوں کو مسئلہ ختم نبوت کے منکرین سے ہمدردیاں پیدا ہونا شروع ہو جاتی ہیں اور پھر جب تک کوئی زبردست عوامی احتجاج ان کا رخ نہ موڑ دے ‘ تب تک یہ اپنی غلطی پر ڈٹے رہتے ہیں ۔

افسوس کہ جن لوگوں کو عوام اپنا حکمران منتخب کرتے ہیں اور ان کے کندھوں پر آئین پاکستان کے تحفظ کی سب سے زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے‘ وہ ہی اس سلسلے میں سب سے زیادہ کوتاہی کرنے والے نکلتے ہیں ۔ ۷؍ ستمبر ۱۹۷۴ ء کو پاکستان کی قانون ساز اسمبلی نے بغیر کسی اختلاف کے منکرین ختم نبوت یعنی قادیانیوں اور مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا ۔

قادیانیوں کے بین الاقوامی سرگرمیاں بتاتی ہیں کہ انہوں نے اس قومی اور آئینی فیصلے کو آج تک تسلیم نہیں کیا اور ان سے پاکستان اور اہل پاکستان کے خلاف جو کچھ ہو سکا ‘ انہوں نے اس کے خلاف کیا ۔ پھر اس آئینی ترمیم پر ۱۹۸۴ء میں امتناع قادیانیت آرڈیننس کی شکل میں جو قانون سازی ہوئی ‘ اگر قادیانی ملت کے لوگ اسے دل و جان سے تسلیم کر کے ملکی قانون سمجھتے ہوئے اس پر عمل پیرا ہو جائیں تو وطن عزیز میں اس حوالے سے کبھی کوئی جھگڑا پیش ہی نہ آئے ۔

یہ آرڈیننس اب قانون کا حصہ ہے اور اس کے مطابق :

(۱)… قادیانی اپنی جماعت کے سربراہ کو امیر المومنین نہیں کہہ سکتے ۔

(۲)… اسی طرح یہ اپنی جماعت کے سربراہ کو خلیفۃ المومنین یا خلیفۃ المسلمین بھی نہیں کہہ سکتے ۔

(۳)… مرزا غلام قادیانی کے کسی مرید کو صحابی نہیں کہہ سکتے ۔

(۴)… مرزا غلام قادیانی کے کسی مرید کیلئے ’’ رضی اللہ عنہ‘‘ نہیں لکھ سکتے ۔

(۵)… مرزا غلام قادیانی کی بیوی کو ام المومنین نہیں کہہ سکتے ۔

(۶)… قادیانی اپنی عبادت گاہ کو مسجد نہیں لکھ سکتے اور اس میں اذان نہیں دے سکتے ۔

(۷)… قادیانی اپنے آپ کو مسلمان نہیں کہہ سکتے ۔

(۸)… قادیانی اپنے مذہب کو اسلام نہیں کہہ سکتے ۔

(۹)… قادیانی اپنے مذہب کی دعوت و تبلیغ نہیں کر سکتے ۔

(۱۰)…قادیانی شعائر اسلام میں سے کسی علامت کو بھی استعمال نہیں کر سکتا ۔

یہ اور اس طرح کے نکات کو قانون کا حصہ اس لیے بنایا گیا ہے تاکہ ہر شخص کو یہ پتہ چل جائے کہ قادیانیت ‘ اسلام سے بالکل الگ تھلگ مذہب ہے اور اس کے پیروکاروں کا مسلمانوں سے کسی قسم کا کوئی بھی تعلق نہیں ۔ قادیانی ہمیشہ جعل سازی کر کے اپنے آپ کو مسلمان کہہ کر عام مسلمانوں کو دھوکہ دینے چلے آتے تھے لیکن اس قانون نے اس راستے کو بالکل بند کر دیا ۔

اب چاہیے تو یہ تھا کہ ہمارے حکمران ‘ جن کو پاکستان کے کروڑوں مسلمانوں کی نمائندگی کا اعزاز حاصل ہوتا ہے ‘ ان ملکی قوانین پر سختی سے عمل کرواتے اور جو قادیانی بھی جہاں اس کی خلاف ورزی کرتا ‘ قانون اس کے خلاف حرکت میں آتااور اُسے قرار واقعی سزا دلائی جاتی ۔

مگر عملاً صورت حال یہ ہے کہ پاکستان کے حکمرانوں کا ایک طبقہ ووٹ اور نوٹ تو مسلمانوں سے لیتا ہے لیکن ان کی تمام تر ہمدردیاں قادیانیوں کے ساتھ ہوتی ہیں ۔ یہ لوگ کلمہ تو تاجدار ختم نبوت حضرت محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا پڑھتے ہیں لیکن منکرین ختم نبوت کو نوازنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے ۔

 ایک منکر ختم نبوت‘ خواہ وہ قادیانی کہلائے یا مرزائی ‘ اگر یہ تسلیم کر لیتا ہے کہ وہ اسلام کے اس بنیادی عقیدے سے منحرف ہونے کے وجہ سے مسلمان نہیں رہا اور وہ ایک الگ مذہب کا پیروکار ہے تو پھر قانونی اعتبار سے کوئی جھگڑا باقی نہیں رہتا ۔ آخر مسلم ممالک میں یہودی‘ عیسائی ‘ ہندو اور سکھ بھی تو آرام و سکون سے رہتے ہیں ۔ یہ لوگ اپنے آپ کو مسلمان نہیں کہتے ‘ اس لیے مسلمانوں کو بھی انہیں کافر قرار دینے کیلئے کوئی تحریک نہیں چلانی پڑتی ۔ اس کے برخلاف قادیانی اپنے کفریہ عقائد کے باوجود جعل سازی ‘ ہٹ دھرمی اور سینہ زوری سے اپنے آپ کو مسلمان ہی کہلانا چاہتے ہیں‘ اس لیے مسلمانوں کو ان پر کڑی نظر رکھنی پڑتی ہے ۔

آپ دنیا کے کسی بھی ملک پاکستانی پاسپورٹ پر باقاعدہ ویزا لے کر جائیں اور قانونی تقاضے پورے کریں تو کوئی آپ کو نہیں پوچھے گا لیکن اگر آپ اُس ملک کا جعلی پاسپورٹ بنوالیں اور پھر اُن سے یہ مطالبہ بھی شروع کردیں کہ مجھے اپنا شہری مان کر وہ ہی حیثیت دو ‘ جو تمہارے ہاں عام شہریوں کی ہے تو ظاہر ہے کہ یہ ایک بڑا جرم سمجھا جائے گا اور ممکن ہے کہ اس کی بہت سخت سزا مل جائے ۔ بس یہ بات سمجھ آجائے تو قادیانیوں اور دیگر کافروں کا فرق خود بخود سمجھ میں آجاتا ہے ۔ عام کافر دوسرے مذاہب کے ماننے والے ہیں لیکن دھوکے باز اور جعل ساز نہیں‘ ان کو کوئی مسلمان سمجھ کر اُن کے ساتھ معاملہ نہیں کرتا لیکن قادیانی دھوکے باز اور جعل ساز ہیں‘ عام مسلمان اُن کے دھوکے اور فریب کا شکار ہو کر انہیں مسلمان سمجھ بیٹھتے ہیں ۔ظاہر ہے کہ جب دنیاوی معاملات جعل سازی کی روک تھام ضروری ہے تو عقیدہ اور نظریہ میں اس کی اجازت کیسے دی جا سکتی ہے ۔

پروپیگنڈے کے تمام تر جدید ترین ذرائع قادیانیوں کی دسترس میں ہیں ۔ بی بی سی تو گویا اُنہی کے مؤقف کو بیان کرنے کیلئے وقف ہے ۔ دین سے محبت رکھنے والے مختلف جوان وقتاً فوقتاً انٹرنیٹ ، ٹی وی چینلز اور اخبارات میں آنے والے ان کے بیانات کی نشاندہی کرتے رہتے ہیں ۔ موجودہ پروپیگنڈے کی لہر میں قادیانیوں کا زیادہ زور اس بات پر ہے کہ گزشتہ تقریباً ایک صدی میں ہمارے خلاف علماء کرام اور زعمائے ملت نے جو کچھ کہا ‘ وہ محض جذباتیت پر مبنی ہے ۔ مرزا غلام قادیانی نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا تھا ‘ بعض لوگوں نے ذاتی رنجش اور جماعتی رقابت کی بناء پر اُس کی طرف یہ کفر منسوب کر دیا ۔ دوسری بات آج کل قادیانی یہ کہتے ہیں کہ ہم بڑے با اخلاق اور خوش گفتار ہیں ‘ جبکہ ہمارے مخالفین ہمیں گالیاں دیتے ہیں ‘برا بھلا کہتے ہیں ۔ اس لیے ہم بے چارے مظلوم ہیں اور علماء کرام (نعوذ باللہ ) ظالم ہیں ۔ تیسرا نکتہ جسے وہ بڑے شدو مد سے بیان کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ ۱۹۷۴ء میں قوی اسمبلی کو علماء کرام نے ہائی جیک کر لیا تھا اور وزیر اعظم مسٹر بھٹو کو بلیک میل کر کے ہمارے کفر کا فیصلہ لیا گیا ورنہ ’’ مولویوں ‘‘ کے علاوہ کسی نے بھی ہماری مخالفت نہیں کی ۔ یہ تین نکات ہیں جنہیں نت نئے انداز سے چبا کر قادیانی پیش کرتے ہیں ۔ آئیں !! بالکل اختصار کے ساتھ اُن کے تینوں خیالات کا جائزہ لیتے ہیں ۔

پہلی بات یہ کہ مرزا قادیانی نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا تھا ، سر ا سر جھوٹ اور فریب ہے ۔ مرزا کے احمقانہ دعووں پر علماء نے مستقل کتابیں لکھی ہیں جن میں اُس مخبوط الحواس شخص کے بت سے مضحکہ خیز دعوے بھی نقل کیے ہیں ۔ اپنی بات کی وضاحت کیلئے ہم صرف ایک حوالہ نذرِ قارئین کرتے ہیں ۔ مرزا اپنی کتاب ’’حقیقتہ الوحی‘‘ کے حاشیہ ‘ص ۷۳پر لکھتا ہے :

’’ میں آدم ہوں ، میں شیث ہوں ، میں نوح ہوں ، میں ابراہیم ہوں ، میں اسحق ہوں ، میں اسمٰعیل ہوں ، میں یعقوب ہوں ، میں یوسف ہوں ، میں موسیٰ ہوں ، میں دائود ہوں ، میں عیسیٰ ہوں ، اور آنحضرت کے نام کا میں مظہر ِ اتم ہوں ، یعنی ظلی طور پر میں محمد اور احمد ہوں ‘‘۔( نعوذباللہ تعالیٰ )

دوسری بات یہ کہ قادیانی با اخلاق ہیں اور ان کے مخالفین بد اخلاق ، یہ بھی بالکل حقائق کے برخلاف بات ہے ۔ اگر کہیں قادیانی ظاہری طور پر با اخلاق بننے کی کوشش بھی کرتے ہیں تو اُس کا مقصد محض مسلمانوں کے ایمان پر شب خون مارنا ہوتا ہے ۔ ان کی خوش گفتاری اور مسکراہٹیں کاروباری بنیادوں پر ہوتی ہیں ورنہ وہ پوری امت مسلمہ کے بارے میں کیا غلیظ سوچ رکھتے ہیں ، اس کا اندازہ مرزا قادیانی کی اپنی مندرجہ ذیل تین عبارات سے لگائیں :

۱… جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہو گا اور تیرا مخالف رہے گا وہ خدا اور رسول کی مخالفت کرنے والا جہنمی ہے ۔ ( الہام مرزا غلام احمد تبلیغ رسالت ۹؍ ۶۷)

۲… کل مسلمانوں نے مجھے قبول کر لیا ہے اور میری دعوت کی تصدیق کر لی ہے مگر کنجریوں اور بد کاروں کی اولاد نے مجھے نہیں مانا ۔( آئینہ کمالات :۵۴)

۳… جو شخص ہماری فتح کا قائل نہ ہو گا تو صاف سمجھا جائے گا کہ اس کو ولد ا لحرام بننے کا شوق ہے ۔ ( انوار الاسلام :۳۰)

پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خان قادیانی نے جب بانی ٔ پاکستان محمد علی جناح کی نماز ِ جنازہ میں باوجود وہاں موجود ہونے کے شرکت نہیں کی ، تو صحافیوں کے سوال پر اُس نے جواب دیتے ہوئے واضح طور پر کہا ’’ آپ لوگ مجھے ایک کافر حکومت کا مسلمان وزیر سمجھ لیں یا ایک مسلمان حکومت کا کافر وزیر ‘‘۔ظاہر ہے کہ اس جملے کا مقصد اپنے آپ کو کافر کہنا نہیں بلکہ قادیانیوں کے علاوہ پوری امت کو کافر قرار دینا ہے ۔ جو لوگ ساری امت ِ مسلمہ کو کافر بناتے پھریں وہ مسلمانوں سے کیسے یہ توقع رکھتے ہیں کہ انہیں اہل ِ اسلام میں سے محض ایک فرقہ شمار کر لیا جائے ۔

تیسری بات کا تعلق ۱۹۷۴ء کو قانون ساز اسمبلی کی کاروائی سے ہے ۔ قوی اسمبلی میں قادیانیوں کو صفائی پیش کرنے کا مکمل موقع فراہم کیا گیا اور ہر طرح انصاف کے تقاضے پورے کئے گئے ۔ یہ پوری کاروائی تاریخی و قومی دستاویز کے نام سے شائع ہو چکی ہے ، کوئی بھی شخص اس کا مطالعہ کر کے حقیقت ِ حال معلوم کر سکتا ہے۔

ان تمام حقائق کے پیش نظر ہمیشہ سے پاکستان کے عوام کا یہ مبنی بر انصاف مطالبہ رہا ہے کہ قادیانیوں کو کسی بھی اہم عہدے پر فائز نہ کیا جائے اور اگر وہ پہلے سے کسی سرکاری اہم منصب پر ہیں تو فوری طور پر انہیں معزول کیا جائے ۔ قادیانیوں کی پاکستان کے خلاف سازشیں اور ناپاک عزائم کوئی راز نہیں ۔ اس حوالے سے بے شمار مستند ریکارڈ سرکاری دستاویزات اور عدالتی فیصلوں کا حصہ ہے ۔ اس لیے یہ کہنا بالکل درست ہے کہ جو شخص ختم نبوت کا منکر ہے وہ کبھی بھی پاکستان کا وفادار نہیں ہو سکتا۔ کسی قادیانی سے یہ توقع کرنا کہ وہ اپنے علم و ہنر سے پاکستان کو فائدہ پہنچائے گا محض خام خیالی ہے ۔

رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے دامنِ ختم نبوت کو چھوڑ کر پہلے بھی جن لوگوں نے قادیانیوں سے وفا کی ہے ، تاریخ نے انہیں عبرت کا نشان بنا دیا ہے اور آئندہ بھی جو لوگ نظریہ اسلام اور آئین پاکستان کے برخلاف قادیانیوں کو اپنے کندھے فراہم کریں گے ، ہمیں یقین ہے کہ وہ بھی انہی کے ہاتھوں ذلیل و رسوا ہوں گے۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو رحمت دو عالمﷺ کی سچی غلامی عطاء فرمائے اور ہم سب کو آپﷺ کا وفا دار امتی بنائے۔ (آمین ثم آمین )

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online