Bismillah

664

۸تا۱۴صفر المظفر۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۱۹تا۲۵اکتوبر۲۰۱۸ء

میرے مرشد ‘ میرے رہبر ‘ عمر ؓ ، عمر ؓ (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 659 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Mere Murshid Umar

میرے مرشد ‘ میرے رہبر ‘ عمر ؓ ، عمر ؓ

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 659)

اللہ تعالیٰ،شہید محراب نبوی سیدنا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے درجات کو مزید بلند فرمائے ۔

ویسے تو رحمت ِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام ہوں یا اہل بیت عظام ، یہ سب ہی ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک اور سروں کے تاج ہیں لیکن جیسے دنیا میں ہر پھول کی رنگت اور خوشبو الگ ہوتی ہے اور مختلف ستاروں کی چمک دمک دوسرے ستاروں سے نمایاں ہوتی ہے،اسی طرح گلستان نبوت کے ان افراد کے بارے میں یہ کہنا بالکل درست ہے کہ :

ہر گلے را رنگ و بوئے دیگر است

(ہر پھول کی رنگت و خوشبو الگ ہوا کرتی ہے)

امیر المومنین ،خلیفۃ المسلمین ،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سسر محترم،سیدنا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے باوقار داماد، حمیت دینی و غیرت اسلامی کے پیکر ،جرأت و بہادری کے اعتبار سے عرب بھر میں ممتاز ،تاریخ اسلام کی آبرو اور تاریخِ انسانیت میں کامیاب ترین حکمران، دریائے نیل جن کے ایک فرمان سے جاری ہوا اور آج تک بہہ رہا ہے،روم و فارس کے وہ عظیم فاتح جو منبر رسول پر خطبہ دینے کیلئے کھڑے ہوئے تو اُن کے کرتے پر پیوندہی پیوند لگے تھے ۔ حلقہ بگوش اسلام ہونے کے بعد پوری زندگی غلامیٔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں گزار کر تا قیامت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پڑوس میں آرام فرما ہو جانے والے سیدنا حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ان عظیم شخصیات میں جو مقام و مرتبہ ہے‘ وہ کسی صاحب ِ ایمان سے مخفی اور پوشیدہ نہیں ہے ۔

کتنے محروم اور تہی دامن ہیں وہ لوگ جو حضرات ِ صحابہ کرام اور اہل بیت عظام میں فرق کرتے ہیں اور ان کے درمیان تفریق کی راہیں تلاش کرنے کی مذموم کاوشوں میں مصروف رہتے ہیں ۔ ہم نے تو جب بھی دیکھا ان میں سے ہر ایک کو دوسرے کی عزت اور آبرو کا پہرہ دیتے ہوئے اور دفاع کرتے ہوئے ہی دیکھا۔

ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پتہ چلا کہ کچھ لوگ حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں کچھ نازیبا الفاظ استعمال کر تے ہیں ، آپ رضی اللہ عنہ منبر پر تشریف فرما ہوئے اور لوگوں کو مخاطب کر کے فرمایا :

والذی فلق الحبۃ وبرأ النسمۃ لا یحبھما الا مومن فاضل ولا یبغضہما ولا یخالفہما الا شقی مارق ، فحبہما قربۃ وبغضہما مروق ما بال اقوام یذکرون اخوی رسول اللہ ووزیریہ وصا حبیہ وسیدی قریش وابوی المسلمین ، فانا بری ممن یذکرہما بسوی و علیہ معاقب(کنزالعمال:رقم الحدیث ۳۶۰۹۶)

’’اُس ذاتِ پاک کی قسم جس نے دانے کو پھاڑا اور روح کو زندگی بخشی ، اِن دونوں حضرات سے وہی شخص محبت کرے گا جو خود صاحب ِ فضیلت ایمان والا ہو گا اور ان دونوں سے بغض و عداوت صرف وہی رکھے گا جو خود بد بخت اور دین سے نکلنے والا ہو گا ۔کیوں کہ ان دونوں حضرات کی محبت اللہ تعالیٰ کے قرب کا ذریعہ ہے اور ان سے بغض و نفرت رکھنا دین سے محروم ہونے کی نشانی ہے ۔

ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں بھائیوں ، دونوں وزیروں ، دونوں ساتھیوں ، قریش کے دونوں سرداروں اور مسلمانوں کے دونوں راہنمائوں کو برے الفاظ سے یاد کرتے ہیں ۔ میں تو ایسے لوگوں سے بالکل لا تعلق ہوں جو ان دونوں حضرات کو برائی سے یاد کرتے ہیںاور میں اس پر انہیں ضرور سزا دوں گا ‘‘۔

بہرحال حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا احسان‘ اہل ایمان کیسے نہ مانیں کہ انہی کی بدولت پہلی مرتبہ مسلمانوں نے مکہ مکرمہ کی مسجد ِ حرام میں کھلم کھلا بارگاہ الٰہی میں سجدہ ریز ہونے کی سعادت حاصل کی ۔

امام ابن کثیرؒ  تحریر فرماتے ہیں:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدھ کو عمر رضی اللہ عنہ یا ابو جہل کے مسلمان ہونے کی دعا فرمائی اور جمعرات کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ مسلمان ہو گئے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور گھر میں موجود صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس قدر بلند آواز سے نعرئہ تکبیر لگایا کہ مکہ کے دور دراز علاقہ میں سنا گیا ۔

 حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گزارش کی :

 ’’یارسول اللہ ! ہم حق پر ہوتے ہوئے اپنے دین کو مخفی اور پوشیدہ رکھیں اور باطل ہونے کے باوجود کفار کے دین کا اظہار کھلے عام ہو ؟‘‘

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

 ’’اے عمر ! ہماری تعداد کم ہے ، جو ہم پر بیتی تم دیکھ چکے ہو ‘‘۔

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا :

’’ اس ذات گرامی کی قسم ! جس نے آپ کو برحق مبعوث فرمایا ، جس مجلس میں میں نے کفر و شرک کا اظہار کیا ، اب اس مجلس میں ایمان و اسلام کا اظہار کروں گا ‘‘

پھر وہاں سے آکر بیت اللہ کا طواف کیا ، اس کے بعد آپ قریش کی مجلس میں آئے جو آپ کے انتظار میں تھے۔

 ابوجہل بن ہشام نے کہا :

’’ فلاں شخص کہتا ہے کہ تو اپنا دین ترک کر چکا ہے‘‘

 حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا :

’’ ہاں ! میں گواہ ہوں کہ اللہ وحدہ لا شریک لہ کے بغیر کوئی معبود نہیں ، اور بے شک محمد صلی اللہ علیہ وسلم ا س کے بندے اور رسول ہیں ‘‘۔

 صرف اتنا کہنا تھا کہ مشرکین آپ پر کود پڑے ، لیکن آپ چھلانگ لگا کر عقبہ کے سینے پر بیٹھ گئے اور اس کی آنکھوں میں انگلیاں دے ماریں ، وہ چیخنے چلانے لگا ، پھر ان کے حملے کا زور ٹوٹا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے ، جو قریب آتا اسے دبوچ لیتے یہاں تک کہ لوگ بے بس ہوگئے ، اور آپ ؓ ان محفلوں میں جن میں آپ کا آنا جانا تھا ،ایمان کا مظاہرہ کر کے بڑی شان و شوکت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا :

’’ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، آپ کوئی فکر نہ کیجئے میں ہر مجلس میں بغیر کسی خوف و خطرے کے ایمان کا مظاہرہ کر آیا ہوں ‘‘۔

پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکلے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ آپ کے آگے آگے تھے ، بیت اللہ کا طواف کیا اور ظہر کی نماز پڑھی ، پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ساتھ لئے دار ارقم میں چلے آئے ، اور پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ تنہا اپنے گھر لوٹ آئے ۔ ( تاریخ ابن کثیر: ۲/۶۵ )

کرسیٔ اقتدار اور عہدہ و منصب کا نشہ بھی کیا غضب چیز ہے ۔ کتنے ہی باوقار لوگ یہاں پہنچ کربے توقیر ہو جاتے ہیں اور کتنے ہی دولت ِ ایمان سے محروم اور متاع اخلاق سے تہی دامن ہو جاتے ہیں مگر قربان جائیے درسگاہِ نبوت کے فیض یافتہ اُس حکمران کی ادائوں پر کہ چودہ سو سال سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد بھی اپنے تو اپنے‘ غیر بھی یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہیں کہ صحیح معنیٰ میں انسانی فلاحی ریاست کے بانی وہ ہی ہیں جس فاتح کی افواج وقت کی سپر پاورز کو ناکوں چنے چبوا رہی ہوں‘ اس کی طرزِ حکمرانی کا اندازہ صرف ایک واقعہ سے لگا لیں :

 حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے خادم حضرت اسلمؒ کہتے ہیں کہ عمربن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک رات مدینہ منورہ کی گلیوں میں گشت کیا۔

دیکھتے ہیں کہ ایک عورت اپنے گھر میں ہے اور اس کے گرد بچے رو رہے ہیں اور ایک ہنڈیا ہے آگ پر جس میں اس نے پانی بھر رکھا ہے، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے دروازے کے قریب پہنچ کر کہا:

’ ’اے اللہ کی بندی یہ بچے کیوں رو رہے ہیں؟ ‘‘

 خاتون نے کہا:

 ’’ان بچوں کا رونا بھوک کی وجہ سے ہے‘‘۔

 حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا:

 ’’یہ ہنڈیا کیسی ہے جوآگ پر رکھی ہے؟ ‘‘

 خاتون نے کہا:

 ’’میں نے اس میں پانی ڈال رکھا ہے جس سے ان بچوں کو بہلا رہی ہوں تاکہ یہ سو جائیں اور میں ان کو اس وہم میں ڈال رہی ہوں کہ اس میں کوئی چیز (پک رہی) ہے ۔‘‘

 حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جب یہ سنا تو آپؓ بیٹھ کر رونے لگے۔

پھر دارالصدقہ آئے،جہاں مسلمانوںکے صدقات جمع رہتے تھے،وہاں سے آپؓ نے ایک بڑا تھیلا لیا اور اس میں کچھ آٹا، گھی، چربی ، کھجوریں ، کپڑے اور دراہم رکھے یہاں تک کہ اس تھیلے کو بھر دیا۔

پھر کہا:

’’ اے اسلم! اس تھیلے کو میرے اوپر رکھ دو‘‘۔

 میں نے کہا :

’’اے امیر المؤمنین! میں اس کو آپ کی طرف سے میں اٹھا کر لے جائوں گا‘‘۔

 حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا :

’’اے اسلم! میں ہی اس کو اُٹھا کر چلوں گا کیونکہ آخرت میں جس سے اس کی پوچھ ہوگی،وہ میں ہی ہوں۔‘‘

 پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو اپنے کندھے پر اُٹھایا اور اس کو لئے ہوئے اس عورت کے گھر پہنچے اور ہنڈیا لے کر اس میں آٹا اور کچھ چربی اور کھجوریں ڈالیںاور (چولہے پر چڑھا کر) اپنے ہاتھ سے حرکت دیتے رہے اور ہنڈیا کے نیچے پھونکیں مارتے رہے۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی ڈاڑھی بہت بڑی تھی، میںنے ان کی ڈاڑھی کے درمیان سے دھواں نکلتے ہوئے دیکھا۔

یہاں تک کہ ان بچوں کیلئے آپ رضی اللہ عنہ نے کھانا پکا دیا پھر اپنے ہاتھ سے ان کیلئے چمچہ سے کھانابرتن میں نکالا اور ان کو کھلاتے رہے یہاں تک کہ ان کا پیٹ بھر گیا ۔(ازا  لۃ الخفاء۴؍۴۳)

ہمارے سامنے چرچل ، ہٹلر اور نپولین وغیرہ کی مثالیں پیش کرنے والے مسلمان دانشور اور اہل قلم کو کاش یہ بھی یاد رہتا کہ اُن کی تاریخ میں ایک عمرؓ بھی گزرا ہے ‘ عظیم عمرؓ ، سچا عمرؓ ، بے مثال عمرؓ ، رخشندہ و تابندہ عمرؓ ، زندہ و جاوید عمرؓ ، ہمارا فخر عمر ؓ ، ہمارا مرشد اور ہمارا رہبر عمرؓ !

لاکھوں سلام ہوں حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور تمام اصحاب کرام و اہل بیت عظام پر کہ جن کے احسانات کا حق ہم کبھی ادا نہیں کر سکتے ۔

اے اللہ ! ہماری طرف سے اُنہیں بہترین اجر عطاء فرما ،اُن کے درجات کو مزید بلند فرمانا اور ہمیں بھی ان کے نقشِ قدم پر چلنا نصیب فرما ۔ (آمین ثم آمین)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online