Bismillah

664

۸تا۱۴صفر المظفر۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۱۹تا۲۵اکتوبر۲۰۱۸ء

صرف دو باتیں (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 661 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Sirf do Batein

صرف دو باتیں

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 661)

اپنی غلطیاں قومی ہوں یا انفرادی ، ان کا تذکرہ اگر اصلاح احوال اور مستقبل کیلئے بیش بندی کے طور پر ہوتو بہت اچھا ہوتا لیکن اگر ہر وقت اپنی خامیوں کا ذکر احساس کمتری کے طور پر کیا جائے تو کوئی عقل مندشخص اس کو اچھا نہیں سمجھتا ۔

ہمارے ہاں کے کئی معروف کالم نگار گندگی پر بیٹھنے والی مکھی کی طرح مسلمانوں کی تاریخ کی ساری کامیابیاں اور خوبیاں نظر انداز کر کے اور صرف برائیاں چھانٹ کر مسلمانوں کو یہ باور کرواتے ہیں کہ اہل یورپ ایک بہت زریں تاریخ رکھتے ہیں اور اہل اسلام کے پاس سوا ئے حسرت اور ندامت کے کچھ نہیں ، اس لیے یورپ سے آئی ہوئی ہر غلیظ سے غلیظ حرکت اور ہر بری سے بری بات کو شریعت اور عقل کے کسوٹی پر پرکھنے کے بجائے من وعن تسلیم کر لینا ہی سراسر دانشمندی ہے ۔

ہمیں اس وقت نہ تومسلمانوں کے تمام عظیم انسانی ، علمی ، عقلی ، سائنسی اور دیگر رفاہی کارناموں پر بات کرنی ہے اور نہ ہی اہل اسلام کی صفائیاں پیش کرنی ہیں کہ یہ مستقل موضوعات ہیں اور ان پر الگ سے گفتگو ہی مناسب رہے گی ۔آج کی مجلس میں ہم صرف دو باتوں کی طرف اہل ایمان کو متوجہ کرنا چاہتے ہیں تاکہ یہ بات واضح ہو جائے کہ خود ان دانشوروں کے بنائے ہوئے پیمانوں اور من گھڑت اصولوں کے مطابق بھی ان کی باتیں کتنی بے بنیاد اور صرف احساسِ کمتری کا شاخسانہ ہیں۔

پہلی بات :

اغیار کا ماضی تاریخ کے آئینے میں :

ہم یہاں ایسے کالم نگاروں سے متاثر ہونے والے مسلمانوں کو تصویر کا دوسرا رخ دکھانے کیلئے یورپ کی تاریخ کے چند سیاہ اوراق پیش کر رہے ہیں تاکہ عام مسلمانوں کے سامنے دونوں پہلو آجائیں کہ ہزار برس پہلے سے لے کر آج تک کے مسلمانوں کا مواخذہ اور محاسبہ کرنے والے یہ لوگ یورپ کی ہر برائی پر کس مہارت سے پردہ ڈالتے ہیں ۔

یہ بات کسی حد تک ٹھیک ہے کہ آج یورپ مادی علوم و فنون میں بہت آگے نکل گیا ہے ۔ وہاں کے لوگ معاشی طور پر خوشحال ہیں ۔ ہزاروں تعلیمی ادارے وہاں سائنس کے موتی لٹا رہے ہیں ۔ ٹیکنالوجی میں ایک دنیا ان کی دست نگر ہے لیکن یورپ کی حالت ہمیشہ ایسی نہ تھی ۔ حقیقت یہ ہے کہ یورپ اپنی تاریخ میں جہالت کی ان تاریکیوں سے گزرا ہے جن سے شاید کسی دوسرے انسانی معاشرے کو واسطہ نہ پڑا ہو ۔ قرون ِ وسطی کا زمانہ یورپ کی تاریخ کا تاریک ترین زمانہ ہے ۔ اس دور کے بارے میں ڈاکٹر ڈریپر (1882) لکھتا ہے کہ قرونِ وسطیٰ میں یورپ کا بیشتر حصہ لق و دق بیابان یا بے راہ جنگل تھا ۔ کہیں کہیں راہبوں کی عبادت گاہیں اور چھوٹی چھوٹی بستیاں آباد تھیں ۔ جابجا دلدلیں اور غلیظ جوہڑ تھے ۔ لندن اور پیرس جیسے شہروں میں لکڑی کے ایسے مکانات تھے جن کی چھتیں گھاس کی تھیں چمنیاں ، روشندان اور کھڑکیاں مفقود ۔ آسودہ حال امراء فرش پر گھاس بچھاتے اور بھینس کے سینگ میں شراب ڈال کر پیتے تھے ۔ صفائی کا کوئی انتظام نہیں تھا ۔ چونکہ سڑکوں پر بے انداز کیچڑ ہوتا تھا اور روشنی کا کوئی انتظام نہیں تھا، اس لیے رات کے وقت جو شخص گھر سے نکلتا وہ کیچڑ میں لت پت ہو جاتا ۔ تنگی رہائش کا یہ عالم کہ گھر کے تمام آدمی اپنے مویشیوں سمیت ایک ہی کمرے میں سوتے تھے ۔ عوام ایک ہی لباس سالہا سال تک پہنتے تھے جسے دھوتے نہیں تھے ، وہ انتہائی میلا اور بد بودار ہو جاتا تھا ۔ نہانا اتنا بڑا گناہ تھا کہ جب پاپائے روم نے سسلی اور جرمنی کے بادشاہ فریڈرک ثانی (1212ء تا 1250ء) پر کفر کا فتویٰ لگایا تو فہرست ِ الزامات میں یہ بھی درج تھا کہ وہ ہر روز مسلمانوں کی طرح غسل کرتا ہے ۔

فقروفاقہ کا یہ عالم تھا کہ عام لوگ سبزیاں ، پتے اور درختوں کی چھال ابال کر کھاتے تھے ۔ متوسط طبقہ کے ہاں ہفتہ میں ایک مرتبہ گوشت عیاشی سمجھاجاتا تھا ۔ 1030ء کے قحط میں لندن کے بازاروں میں انسانی گوشت بھی بکتا تھا ۔ امراء صرف چند تھے جن کا کام بدکاری ، شراب نوشی اور جوا تھا ۔ جاگیرداروں کے قلعے ڈاکوئوں کے اڈے تھے جو مسافروں پر چھاپے مارتے اور زرفدیہ وصول کرنے کے لیے انہیں پکڑ لاتے تھے ۔ یورپ میں سڑکیں نہ تھیں ۔ ذرائع نقل و حمل بیل گاڑیاں ، خچر اور گدھے تھے ۔ جنگلوں اور پہاڑوں میں ایسے ڈاکو رہتے تھے جو آدم خور بھی تھے ۔ وبائیں عام تھیں ، صرف دسویں صدی میں دس تباہ کن قحط اور تیرا وبائیں پھوٹیں اور لوگ مکھیوں کی طرح ہلاک ہوئے ۔

انسانیت کی قدر و منزلت ان لوگوں کے نزدیک ایسی تھی کہ انسانوں کی آنکھیں نکالنا ، زبان کا ٹنا ، کھال کھینچنا اور زندہ جلا دینا ، رومیوں کی عام سزائیں تھیں۔ ایک مرتبہ جب رومیوں نے روسیوں کو شکست دی تو قیدیوں کے ہاتھ کاٹ کر ان کے ہار بنائے اور ان ہاروں سے قسطنطنیہ کی فصیل کو سجایا ۔ ایک موقع پر جب اسلامی فوج کو شکست ہوئی تو رومیوں نے مسلم اسیران جنگ کو سمندر کے کنارے لٹا کر ان کے پیٹ میں لوہے کے بڑے بڑے کیل ٹھونک دئیے تاکہ بچے کھچے مسلمان جب جہازوں پر واپس آئیں تو اس منظر کو دیکھیں ۔ قیصر باسل دوم (963ء تا 1025ء) نے بلغار یہ پر فتح حاصل کی تو پندرہ ہزار اسیران جنگ کی آنکھیں نکال دیں اور ہر سو قیدیوں کے بعد ایک قیدی کی ایک آنکھ رہنے دی تاکہ وہ ان اندھوں کو گھروں تک پہنچا سکیں ۔

علم اور عالم دشمنی میں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا ۔ زوال رومہ (476ء) کے بعد پاپائیت برسراقتدار آگئی تھی اور (1546ء) تک سیاہ سفید کی مالک رہی ۔ پوپ مذہبی ادب کے علاوہ تمام اصناف علم کا دشمن تھا اور جہاں کہیں کوئی عالم یا فلسفی یا مفکر سر اٹھاتا ، اسے کچل دیتا تھا ۔ اس دور میں سکول اور کالج حکماً بند تھے ۔ لاکھوں کی تعداد میں کتابیں نذر آتش ہوئیں ۔ کئی علماء پوپ کی علم دشمنی کے ہاتھوں قتل ہوئے اور یورپ پر ہر طرف جہالت کی تاریکی چھائی رہی ۔

اہل یورپ کی کتب سوزی بھی ایک تاریخ رکھتی ہے۔ بریفالٹ کہتا ہے کہ قرونِ وسطیٰ میں راہبوں کی علمی سرگرمیاں یہ تھیں کہ وہ یونان وروما کی کتابیں جلا کر ان کی جگہ مسیحی اولیاء کی داستانیں لکھ دیتے تھے ۔ چونکہ اس زمانے میں کاغذ نایاب تھا اور اس کی جگہ چرمی جھلی استعمال ہوتی تھی ، جس کی قیمت کافی زیادہ تھی اس لیے یہ راہب جھلی پر لکھی ہوئی کتابیں کھرچ ڈالتے اور ان پر اپنے مطلب کی تحریریں لکھ ڈالتے ۔ طرابلس میں اس دور کی عظیم ترین لائبریری تھی جس میں کتابوں کی تعداد تیس لاکھ تھی۔ ایک مرتبہ جب صلیبی لشکر اس شہر میں پہنچا تو کتب خانہ کو آگ لگا دی ، تمام کتب جلا ڈالیں اور مسلمانوں کی چھ سو سالہ محنت کو تباہ کر دیا ۔

آپ اندازہ لگا لیں کہ جب ایسی گئی گزری قوم اپنی غلطیوں سے پیچھا چھڑا کر مادی ترقی کی دوڑ میں آگے بڑھ سکتی ہے تو مسلمان قوم کو اصلاح احوال کی دعوت دینے کے بجائے انہیں احساس کمتری میں مبتلا کر کے غیروں کی غلامی کی طرف بلانے کا کیا جواز رہ جاتا ہے ۔

یہاں سب سے زیادہ قابل توجہ بات یہ ہے کہ ترقی صرف معاشی خوشحالی کا نام نہیں … یورپ کے لوگ آج بھی معاشرتی اور روحانی اعتبار سے مسلمانوں سے بہت پیچھے ہیں۔کیا احساس کمتری کا شکار ہمارے کالم نگار اپنے قارئین کو یورپ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں ہونے والی خود کشیوں کی ہوشر با تعداد ، انسانی جرائم کی کثرت ، ناکام شادیوں اور طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح ، بن بیاہی مائوں اور بے نسب بچوں کی بہتات کے بارے میں بھی کچھ بتانا پسند کریں گے ۔

اسلامی ممالک میں جہاں کہیں ایسے مسائل نے جنم لیا تو وہاں اکثر و بیشتر یہ خرابیاں یورپ کا تھوکا ہوا چاٹنے ہی کی بدولت آئی ہیں ورنہ جو سکون ، امن اور رشتوں کا تقدس مسلم معاشرے میں پایا جاتا ہے ، بہت سے غیر مسلم آج بھی اس پر رشک کرتے ہیں ۔

دوسری بات :

مسلمانوں کا ماضی تاریخ کے آئینے میں:

 ان کالم نگاروں نے مسلمانوں کے مادی اعتبار سے بھی بہت سے مثبت کارنامے امت مسلمہ کی نظروں سے اوجھل کر رکھے ہیں ، حالانکہ دنیا کی مفید اور ضروری ایجادات بیشتر مسلمانوں اور عربوں کی مرہون منت ہیں اور وہ اس وقت ایجاد ہوئی ہیں جب کہ متمدن دنیا میں کہیں یورپ و اہل یورپ کا ذکر تک نہ تھا ۔ ان میں سے بعض کی توجدید سائنس نقل بھی نہ کر سکی اور بعض کی نقل اتار کر ایجاد کا سہرا اپنے سر رکھ لیا ، یورپ والوں نے جابر بن حیان کو گیبر ، ابن رشد کو اویرو، ابن سینا کو ایونا اور ابن الہیشم کو الہیزن کہنا شروع کیا تاکہ ان کا مسلمان اور عرب ہونا ثابت نہ ہو ۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہمارا سائنس کا طالب علم خالد بن یزید ، زکریا ، رازی ، ابن سینا ، الخوارزمی ، ابو ریحان البیرونی ، الفارابی ، ابن مسکویہ ، ابن رشد ، کندی ، ابو محمد خوحبدی ، جابر بن حیان ، موسیٰ بن شاکر ، البتانی ، ابن الہیشم ، عمر خیال ، المسعودی ، ابو الوفاء اور الزہراوی جیسے نامور سائنسدانوں کے حالات زندگی اور سائنسی کارناموں سے یکسر نا واقف ہے ۔ آج کی نشست میں نمونے کے طور پر مسلمان سائنسدانوں میں بعض کے سائنسی کارنامے تحریر کیے جاتے ہیں ۔

٭… توپ سب سے پہلے افریقہ کے ایک سردار یعقوب نے بنائی تھی ۔

٭… اویسی نے سب سے پہلے زمین کا چاندی کا کرہ بنایا تھا ، جس میں پہاڑ ، دریا ، جنگل اور وادیاں بنائی گئی تھیں۔

٭…کاغذ کی صنعت کو اوج کمال پر پہنچانے والے اہل شاطبہ ہیں ۔ (شاطبہ بلاد اندلس میں سے ایک شہر ہے)۔

٭… چھپائی کی مشین اور مطابع کے پہلے موجد مسلمان سائنسدان ہیں۔

٭… دوران خون کا جدید نظریہ ولیم ہاروے سے منسوب کیا جا چکا ہے ۔ حالانکہ اس سے بہت پہلے ابن النفیس نے نظریہ پیش کیا تھا ۔

٭… ابو القاسم الزہراوی نے مثانہ کی پتھری نکالنے کے لیے جسم کا جو مقام چیر پھاڑ کے لیے تجویز کیا تھا آج تک اسی پر عمل ہو رہا ہے ۔

٭…الجبراء کے بعد مسلمانوں کی ایک بڑی ایجاد علم مثلثات (ٹرگنو میٹری) ہے ۔

٭…اندلس ( اسپین) کے ایک مسلم حکیم (سائنسدان ) عباس ( ابوالقاسم) بن فرناس نے تین چیزیں ایجاد کر کے دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا تھا ۔ اول عینک کا شیشہ ، دوم بہترین گھڑی جو صحیح وقت دینے میں بے مثل تھی ، سوم ایک مشین جو ہوا میں اڑ سکتی تھی ۔

٭…ابن سینا کے استاد ابو الحسن نے پہلی دور بین ایجاد کی تھی ۔

٭…حسن الزاح نے راکٹ سازی کی طرف توجہ دی اور اس میں تارپیڈ و کااضافہ کیا ۔

موجودہ حالات میں مسلمان کہلانے والے ان کالم نگاروں کا حال تو اس سلسلے میں بالکل ایسا ہی ہے ، جیسے کسی نے کہا ہے :

’’اوروں کی کہانی تو یاد رہی،

خود اپنا فسانہ بھول گئے‘‘

مسلمانوں کے گزشتہ ایک ہزار سال کی تاریخ پر تنقید کرنے والے یہ بے چارے کالم نگار اگر خلافت عثمانیہ کے دسویں فرماں روا سلیمان قانونی کے دور میں ہونے والی ترقی کے احوال ہی نقل کر دیں تو ان کے سارے دعووں کی حقیقت سامنے آجائے ۔ قارئین کرام کو یقینا معلوم ہو گا کہ ڈیڑھ دو صدی پہلے تک ہمارا برصغیر پاک و ہند بھی مسلمانوں کے زیر اقتدار اتنا خوشحال اور ترقی یافتہ تھا کہ یورپ کے ہر ملک سے تعلیم یافتہ اور با کمال لوگ روزی روٹی کی تلاش میں فوج در فوج یہاں آیا کرتے تھے ۔

ہمارا یقین ہے کہ آج عالم اسلام میں جو بھی  انحطاط اور زوال ہے ، اس کی وجہ یہ نہیں کہ ہم کفار کے نقال نہ بن سکے اور ان کے راستے پر نہ چل سکے بلکہ اس کا سبب صرف اور صرف یہ ہے کہ ہم نے زندگی کے سارے شعبوں میں اسلامی تعلیمات کو اپنا یا ہی نہیں اور مسلمانوں کی ترقی جو خدائی نظام ہے ، اس سے مسلسل منہ موڑے ہوئے ہیں ، پھر اس سلسلے میں سب سے بڑی رکاوٹ وہ نظامِ تعلیم ہے جو ہماری قوم کو خود اعتمادی سے نوازنے کے بجائے اپنے دین‘ اپنی معاشرت اور اپنی تاریخ کے بارے میں احساس کمتری میں مبتلا کر رہا ہے ۔

اقبال مرحوم جن سے زیادہ یورپ کے حالات سے کون واقف ہو گا ، مسلمانوں کو مخاطب کر کے کیا خوب کہہ گئے:

اے لا الہ کے وارث باقی نہیں ہے تجھ میں

گفتار دلبرانہ ، کردار قاہرانہ

تیری نگاہ سے دل سینوں میں کانپتے تھے

کھو گیا ہے تیرا جذبِ قلندرانہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online