Bismillah

664

۸تا۱۴صفر المظفر۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۱۹تا۲۵اکتوبر۲۰۱۸ء

ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 662 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Hamein kia Kerna Chahiye

ہمیں کیا کرنا چاہیے؟

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 662)

یہ جو نام نہاد ’’ دانشوری ‘‘ اور روشن خیالی ہے ‘ اس کے پیچھے کیا ذہنی پستی اور تاریکی چھپی ہوئی ہے؟ کیا کبھی آپ نے اس پر بھی سوچا ہے کہ ’’آزادی ٔ اظہار رائے‘‘ کے نام پر ہمارے ذرائع ابلاغ پر مسلط ایک ٹولہ دراصل کیا کھیل ،کھیل رہا ہے ۔ یہ لوگ جو زبان اور قلم کی درانتی لے کر ملک و ملت کی جڑیں کاٹ رہے ہیں اور ہمارے مذہب اور تہذیب کو ہمارا فخر بنانے کے بجائے ایک گالی بنانے پر تلے ہوئے ہیں‘ یہ کن قوتوں کے پروردہ ہیں اور انہیں کہاں سے کنٹرول کیا جا رہا ہے ۔

یہ اپنے آپ کو مسلمان کہلاتے ہیںلیکن بغیر کسی شرم و عار کے نماز ، روزہ ،حج ، جہاد، پردہ ،داڑھی اور ایسے کسی بھی اسلامی حکم پر جس سے مسلمانوں کی شناخت ہوتی ہے،یہ لوگ قہقہے لگاتے ہیں ‘ اس کا مذاق اڑاتے ہیں اور اسے(نعوذ باللہ) گھٹیا بنا کر پیش کرتے ہیں ۔ بات دراصل یہ ہے کہ مسلمان اپنے مرکز سے کیا محروم ہوئے، خود اعتمادی کے جوہر سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ لفظ تو کب کے ہم سے چھینے جا چکے تھے لیکن اب تو سوچ اور فکر پر بھی فرنگی پہرے مسلط ہیں۔ اور کیوں نہ ہو کہ خیر سے ہم بولتے اے بی سی ہیں، سنتے بی بی سی، دیکھتے سی این این اور نام ہمارا ٹرپل ایم خان ہے۔

کبھی’’ دقیانوسی‘‘ زمانہ تھا کہ لوگ اسکول وکالج میں قرآن وحدیث کی تعلیم دینے پر زور دیتے تھے کہ ہمارا ڈاکٹر اور انجینئر بچہ بے دین نہ مرجائے ،لیکن اب تو ’’ترقی یافتہ‘‘ دور ہے مدارس دینیہ کی عظمت کا اندازہ بھی ان میں موجودہ کمپیوٹروں کی تعداد اور انگلش لینگویج کے معیار کو دیکھ کر لگایا جاتاہے۔

سوچ کی پستی اور فکر کا انحطاط بھی دیکھیں کہ حدیث نبوی میں شلوار اور تہہ بند کو ٹخنوں سے نیچے کرنے سے منع کیا گیاتو پڑھے لکھے لوگ آستینیں چڑھا کر میدان میں آگئے کہ جی اس میں کیا حکمت ہے؟ اس سے کیا ملتا ہے؟ کیا سارا دین اب ٹخنے ننگے رکھنے میں ہی رہ گیا ہے؟ دنیا چاند پر پہنچ گئی ہے مگر ہمارے مولوی حضرات کو ٹخنے ننگے رکھنے پر ہی اصرا ر ہے وغیرہ، وغیرہ۔

لیکن جب سے ’’عزت مآب‘‘ فرنگیوں نے نصف ران تک کے کاچھے اورنیکر زیب تن کرنا شروع کیے ہیں اورکئی کھیلوں کیلئے تو اسے لازمی تک قرار دیدیا ہے تب سے آپ کو سخت سردی کے دنوں میں بھی اسلام آباد اور کراچی کے پوش علاقوں کے گلی کوچوں میں صبح سویرے نیکر پہنے ہوئے ماڈرن لوگ نظر آ ئیں گے۔

ایک مسلمان کے سامنے مسواک کے فضائل بیان کیے جائیں تو طرح طرح کے سوالات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے لیکن ٹوتھ برش اور ٹوتھ پیسٹ تو ہر گھر کے ہر فرد کی ضرورت ہے۔ بات اگر اتنی ہی ہوتی توصبر کرلیتے کہ اقبال مرحوم پہلے ہی سمجھا گئے تھے   ؎

تعلیم کے تیزاب میں ڈال اس کی خودی کو

ہو جائے ملائم تو جدھر چاہے  اسے پھیر

تاثیر میں اکسیر سے بڑھ کر ہے یہ تیزاب

سونے کا ہمالہ ہو تو مٹی کا ہے ایک ڈھیر

اور اکبر الہ آبادی تو بہت ستھرے انداز میں بتاگئے   ؎

شیخ مرحوم کا قول مجھے یاد آتا ہے

دل بدل جائیں گے تعلیم کے بدل جانے سے

اسی تیزاب کی تیزی اور دلوں کی تبدیلی کا اعجاز ہے کہ آج ہماری قوم اپنے راہنماؤں کی تلاش کیلئے بھی ’’دانش افرنگ‘‘ کی طرف رجوع کرتی ہے۔ دشمن اس پریشانی میں ہے کہ کہیں اس بھٹکے ہوئے کارواں کو کوئی میر کارواں نہ نصیب ہوجائے۔ اس لخت لخت ملت کو کوئی ایسا رہنما نہ میسر ہوجائے جو اس کے بکھرے ہوئے شیرازے کو مجتمع کرکے نشان منزل کا پتہ دیدے۔

یہاں سب سے اہم بات یہ ہے کہ جس وقت یہ احساس کمتری کے مارے ہوئے ’’ دانشور‘‘ دینی احکام کا مذاق اڑانے کی کوشش کرتے ہیں ، اُس وقت ہمیں کیا کرنا چاہیے ۔ آئیں اس سلسلے میں ایک جلیل القدر صحابیٔ رسول سیدنا حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے طرزِ عمل سے یہ سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہمیں ایسے لوگوں کے جواب میں کیا رویہ اپنانا چاہیے ۔کیا ایسے لوگوں کی باتیں سن کر ہمیں بعض نام نہاد مفکرین کی طرح دین میں الٹی سیدھی تاویلات گھڑنی چاہئیں کہ جو کام دشمن نہیں کرسکا وہ ہم لوگ خود اپنے ہاتھوں سے ہی پورا کر دیں یا ہمیں پورے اعتماد ، پورے یقین اور مکمل شرح صدر کے ساتھ دینی احکام کو بیان کرنا چاہیے ۔

و عن سلمان رضی اللہ عنہ  قال: قال بعض المشرکین، وھو یستہزیٔ: انی لاری صاحبکم یعلمکم حتی الخراء ۃ۔ قلت: اجل، امرنا ان لا نستقبل القبلۃ، ولا نستنجی بایما ننا، ولا نکتفی بدون ثلاثۃ احجار، لیس فیھا رجیع ولا عظم۔ (رواہ مسلم واحمد واللفظ لہ)

’’حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مشرکین میں سے ایک شخص نے انہیں بطور استہزاء ( مذاق اڑانے کیلئے) یہ کہا کہ میں تمہارے سردار (رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم) کو دیکھتا ہوں کہ وہ تمہیں ہر چیز سکھاتے ہیں یہاں تک کہ قضائے حاجت میں بیٹھنے کی صورت بھی ۔ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا : بالکل کیوں نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم ( استنجاء کے وقت قبلہ کی طرف منہ کر کے نہ بیٹھیں ، اپنے دائیں ہاتھ سے استنجاء نہ کریں ، تین پتھروں سے کم سے استنجاء نہ کریں اور ہم استنجاء کے لیے نجاست کی چیزیں اور ہڈی استعمال نہ کریں)‘‘۔

دیکھیں !حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے سنت ِ پاک کا مذاق بنانے والے مشرک کے جواب میں کوئی معذرت خواہانہ رویہ اپنانے اور من گھڑت تاویلات کا سہارا لینے کے بجائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو بڑی وضاحت اور فخر کے ساتھ بیان کر دیا اور یہ سمجھا دیا کہ انسان خواہ کسی علاقے یا کسی زمانے کا ہو ، اُسے ہر حال میں اسلامی تعلیمات کی ضرورت رہے گی اور دین اسلام ہی ایسا کامل و مکمل ضابطۂ حیات ہے جس میں ہر بات کی واضح راہنمائی موجود ہے ۔

پھر اہل ایمان کو تو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع اور پیروی کی طرف قرآن مجید نے انہیں کس خوبی سے متوجہ کیا ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے:

’’اے نبی! آپ کہہ دیجئے کہ اگر تم لوگ اﷲ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، اﷲ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا۔‘‘ (آل عمران ،۳۱)

غور کیجئے کہ اتباع نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے لوگوں کی طرف سے اﷲ تعالیٰ کی محبت کا دعویٰ ہے لیکن اتباع سنت کے بعداﷲ تعالیٰ، بندے سے محبت فرماتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ اتباع سنت کے بغیر عشق نبوی کی طرح عشقِ الٰہی کا دعویٰ بھی محض خام خیالی ہے۔

اسی طرح قرآن مجید میں بارہا اﷲ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اہل ایمان کیلئے اسوۂ حسنہ قرر دیا گیا ہے جس کا واضح مطلب یہی ہے کہ ہمیں کبھی بھی اغیار کی باتوں سے متاثر ہو کر نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک طریقوں کو ہرگز نہیں چھوڑنا چاہیے اور یہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے ہم اللہ تعالیٰ کا قرب اور رضا مندی حاصل کر سکتے ہیں۔

یہاں مزید ایمان افروز  بات یہ ہے کہ دنیا بھر کے بانیان مذہب اور پیغمبروں میں سے یہ اعزاز صرف خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا ہر گوشہ آپ کے ماننے والوں کیلئے بالکل واضح ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش سے لے کر موت تک کا وقت صبح سے شام تک کے طریقے اور انفرادی واجتماعی زندگی کے سلیقے سب کچھ حدیث، تاریخ اور سیرت کی کتابوں کے اوراق میں بالکل محفوظ ہیں۔ جبکہ دوسری طرف عالم یہ ہے کہ بانیان مذہب کی سیرتوں کا تو کیا علم ہوتا خود ان کے وجود کے بارے میں ہی محققین سوالیہ نشان کھڑے کر رہے ہیں۔ لیکن افسوس کہ اس امت نے اس چیز کی قدر نہیں کی اور شکل وصورت سے لے کر لباس تک، خوشی سے لے کر غمی تک اور پیدائش سے لے کر موت تک سب طریقے غیروں کے اپنانے شروع کردئیے۔ اﷲ تعالیٰ نے اس امت کو سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شکل میں ایسی کسوٹی دیدی ہے جس کی بنیاد پر وہ ہر زمانے میں کھرے کو کھوٹے سے، اصل کو نقل سے اور دین کو لادینیت سے جدا کرسکتے ہیں۔

حضرات صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کے دور میں ایران فتح ہوا تو ایک ایرانی سردار نے کھانے کی دعوت کی۔ کھانے کے دوران ایک صحابی (مشہور روایت کے مطابق حضرت حذیفہؓ) کے ہاتھ سے لقمہ گرگیا، تعلیم نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق وہ اٹھانے لگے تو ساتھ والے صاحب نے اشارہ کیا کہ اسے چھوڑ دو۔ یہاں کے لوگ اس طرح اٹھا کر کھانے کو معیوب سمجھتے ہیں۔ صحابی نے یہ سن کر وہ لقمہ اٹھایا، سب کو دکھایا اور پھر کھالیا اور اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے صاحب کو کہا:

ا ء ترک سنۃ حبیبی لھولا ء الحمقاء ؟

’’کیا میں اپنے حبیب (صلی اللہ علیہ وسلم) کی سنت کو ان احمقوں کی وجہ سے چھوڑ دوں؟ ‘‘

حضرات صحابہ کرامؓ نے اتباع سنت اور پیرویٔ رسول میں اپنے اور بیگانے کسی کی پرواہ نہیں کی، اقبال مرحوم اسی لیے تو کہہ گئے تھے:

’’جو پیدا ہو ذوق یقین تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں‘‘

صلح حدیبیہ کے موقع پر عثمان رضی اﷲ عنہ سفیر نبوت بن کر مکہ تشریف لے جاتے ہیں۔ میزبان جب آپ کے ٹخنوں کو ننگا دیکھتا ہے تو کہتا ہے: ’’عثمان! مکہ کے سردار اس کو معیوب سمجھتے ہیں ، تم اپنے ازار کو یہاں کے فیشن کے مطابق اپنے ٹخنوں سے نیچے لٹکا لو ‘‘۔

 حضرت عثمان رضی اﷲ عنہ پورے اعتماد کے ساتھ جواب دیتے ہیں: لا،ھکذا ازارۃ صاحبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم

’’ نہیں، میرے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم ) کا ازار ایسے ہی ہوتا ہے۔‘‘

حضراتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور بعد میں آنے والے کامیاب مسلمانوں کا یہی یقین اور اعتماد سے بھرپور رویہ تھا ، جس کے آگے ساری دنیا سرنگوں ہو گئی اور بجائے اس کے کہ وہ حضرات اپنے زمانے کے فیشن اور رسوم و رواج سے متاثر ہوتے ، ساری دنیا نے اس زمانے میں انہی کے نقش قدم پر چلنے میں عزت اور فخر محسوس کیا۔

الحمد للہ تعالیٰ ! اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو دین عطا فرمایا ہے اُس کے ہر حکم میں کوئی نہ کوئی حکمت ، مصلحت اور ہمارا ہی فائدہ پنہاں ہے ۔ اہل علم نے بڑی محنت سے اس موضوع پر مستقل کتابیں لکھ کر اس بات کو روزِ روشن کی طرح واضح کر دیا ہے۔علامہ شاطبی ؒ کی کتاب ’’ الموافقات ‘‘ اور حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ کی کتاب ’’ حجۃ اللہ البالغہ‘‘ تو اس موضوع پر شہرئہ آفاق ہیں۔اس لیے کسی سٹھیائے ہوئے نام نہاد مفکر اور بے علم و عمل کالم نویس کی چرب زبانی پر توجہ دینے کے بجائے مستند اہل علم سے ٹھوس علم دین سیکھنا چاہیے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں بھی حضرات صحابہ کرامؓ جیسا کامل ایمان اور اتباع سنت کا جذبہ نصیب فرمائے ۔(آمین ثم آمین)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online