Bismillah

664

۸تا۱۴صفر المظفر۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۱۹تا۲۵اکتوبر۲۰۱۸ء

زمین پھر پھٹے گی! (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 663 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Zameen Phir Phate gi

زمین پھر پھٹے گی!

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 663)

پچاسی سالہ راجہ عبدالرؤف جذبات کی شدت سے مغلوب ہو رہے تھے۔ ان کے بدن پر کپکپی طاری تھی، آواز میں ارتعاش تھا اور موتیوں جیسے آنسو آنکھوں سے نکل کر رخسار پر بہتے ہوئے سفید ڈاڑھی کے چمکدار بالوں میں گم ہوتے چلے جا رہے تھے۔

’’زمین پھر پھٹے گی… ہاں بیٹا! دیکھ لینا زمین پھر پھٹے گی اور یہ سارے بدبخت لوگ اس میں دھنسا دیئے جائیں گے…‘‘

’’کیا مطلب بابا جی…!‘‘

میں نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے پوچھا، تو وہ برسہا برس پرانی یادوں میں کھو گئے۔

’’بیٹا! یہ اُس زمانے کی بات ہے، جب میں جوان تھا۔ ایک مرتبہ مجھے کچھ دنوں کے لئے مدینہ منورہ میں قیام کی سعادت حاصل ہوئی۔ میں ہر روز روضۂ رسول  صلی اللہ علیہ وسلم پر حاضری کا شرف حاصل کرتا اور صبح و شام کے زیادہ سے زیادہ اوقات اسی بقعۂ نور میں گزارتا۔

 ایک دن میری وہاں ایک فرشتہ صورت، نورانی پیکر بزرگ سے ملاقات ہوئی۔ یہ صاحب بخارا کے رہنے والے تھے اور عرصۂ دراز سے مدینہ منورہ میں ہی مقیم تھے۔ ان کی تمام تر مشغولیات کا خلاصہ یہ تھا کہ دن بھر مسجد نبوی میں ہی رہتے اور لمحہ بہ لمحہ روضۂ اقدس کی زیارت سے دل کا سرور اور آنکھوں کا نور حاصل کرتے۔ مجھے ان کی قسمت پر رشک آنے لگا اور دل ان سے بندھ گیا۔ پھر تو میں ان کے قریب تر ہوتا چلا گیا۔

ایک روز انہوں نے مجھے خاص طور پر اپنے پاس بلایا اور فرمانے لگے کہ رات عشاء کی نماز کے بعد جب لوگ مسجد سے نکل جائیں اور گنے چنے افراد رہ جائیں تو تم میرے پاس آنا، میں تمہیں ایک اہم بات بتاؤں گا۔ چنانچہ عشاء کی نماز کے بعد میں ان کی خدمت میں حاضر ہو گیا۔ انہوں نے کچھ دیر انتظار کیا، پھر مجھ سے کہا کہ آؤ! میرے ساتھ… میں تمہیں ایک عجیب چیز دکھاتا ہوں۔ میں ان کے ساتھ ہو لیا اور وہ مجھے لے کر روضۂ اقدس کی سنہری جالیوں کی طرف چل دیئے۔ وہاں پہنچ کر جب ہم دونوں مواجہ شریف سے صرف سات ،آٹھ فٹ کے فاصلے پر رہ گئے، تو وہ یک دم کھڑے ہو گئے۔

 پھر وہ زمین کی طرف جھکے اور انہوں نے وہاں بچھے ہوئے ایک خوبصورت قالین کا ایک کونا اٹھایا۔ پھر مجھ سے فرمایا کہ اسے اور اٹھاؤ۔ میں نے ان کے حکم کی تعمیل کی اور جب قالین کے نیچے کی زمین کا کافی حصہ ہمیں نظر آنے لگا تو بخاری بزرگ نے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:

’’یہ کالے سنگِ مرمر کا فرش دیکھ رہے ہو؟‘‘

 تب میں نے دیکھا کہ چار پانچ فٹ کے طول و عرض کے برابر فرش کا ایک حصہ سیاہ رنگ کا تھا، جبکہ مسجد نبوی میں باقی سب جگہ سفید پتھروں کا فرش تھا۔ میں نے حیرت کے ساتھ عرض کیا:

’’حضرت! یہ کیا ہے؟‘‘

 انہوں نے کہا:

 ’’یہ ایک اہم اور تاریخی واقعہ کی نشانی ہے۔‘‘

میں نے بے ساختہ پوچھا:

 ’’کیسا واقعہ؟ کون سا واقعہ؟‘‘

 تب انہوں نے بتانا شروع کیا۔

’’کئی سو سال پہلے کی بات ہے۔ مسجد نبوی شریف میں ایک سعادت مند صاحب خدمت کے فرائض سر انجام دیتے تھے۔ ان کی سب سے بڑی خوش قسمتی یہ تھی کہ رات کو جب مسجد لوگوں سے خالی ہو جاتی، تو وہ مسجد کے تمام دروازے اپنے ہاتھوں سے مقفل کرتے اور پھر باقی رات تن تنہا حبیب صلی اللہ علیہ وسلم  کی قربت کے مزے لوٹتے۔ ایک رات انہیں شہر کے حاکم کی طرف سے یہ حکم ملا کہ آج آپ نے لوگوں کے چلے جانے کے بعد مسجدکے دروازے بند نہیں کرنے، کیونکہ حکومت کے کچھ اہم غیر ملکی مہمان آئے ہوئے ہیں اور انہیں لوگوں کی بھیڑ سے بچانے کے لئے رات کے وقت روضۂ اقدس کی زیارت کروانی ہے۔

 یہ حکم سن کر وہ خادم مسجد پریشان ہو گئے، کیونکہ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ تاہم مجبور تھے، لہٰذا ایسا ہی کیا، اور رات جب سب لوگ چلے گئے تو وہ ایک مخفی گوشے میں چھپ کر بیٹھ گئے، کہ دیکھئے کون آرہا ہے اورکیاہوتاہے؟اسی عالم میں جب رات کا کافی حصہ بیت گیا اور شہر کے گلی کوچوں میں سناٹا چھا گیا تو اچانک انہوں نے دیکھا کہ مسجد نبوی کا ایک دروازہ کسی نے دھکا دے کر کھولا اور معاً کئی آدمی مسجد کے اندر داخل ہو گئے۔

 حیرت انگیز بات یہ تھی کہ وہ سب کے سب کدالیں اور بیلچے اٹھائے ہوئے تھے اور پریشان کن صورتحال یہ تھی کہ وہ سارے ہی روضۂ اقدس کی طرف بڑھ رہے تھے۔ اس کا واضح مطلب یہی تھا کہ ان کے عزائم خطرناک اور ارادے ناپاک تھے۔ مگر وہ تعداد میں زیادہ تھے اور خادمِ مسجد اکیلے اور نہتے۔ اب ان کے پاس اور تو کوئی چارہ نہیں تھا، لہٰذا ہاتھ اپنے پروردگار کے سامنے پھیلا دیئے اور عافیت و خیریت طلب کرنے لگے۔ اُدھر ان کی دعائیں آسمانوں کی طرف جا رہی تھیں اور ادھر وہ ناپاک وجود جارحانہ انداز میں روضۂ اقدس کی طرف بڑھتے چلے جا رہے تھے۔ جیسے جیسے وہ اپنے ہدف کے قریب ہوتے گئے، ویسے ویسے اس بے بس خادم مسجد کی آہ و زاری بڑھتی گئی۔

 بالآخر وہ مسلح افراد روضۂ اقدس کے بالکل نزدیک جا پہنچے۔ بس یہاں تک… یہ کہتے ہوئے بخاری بزرگ نے سیاہ پتھروں والے اس فرش کی طرف اشارہ کیا اوراپنی بات جاری رکھتے ہوئے بتانے لگے کہ عین اُسی وقت الحاح وزاری میں مصروف اس خادم نے محسوس کیا کہ ایک شدید زلزلہ آیا، در و دیوار ہلنے لگے، زمین کا اتنا حصہ شق ہوا اور وہ سب بدبخت افراد اس کے اندر دھنس گئے۔

یہ منظر دیکھ کر وہ دوڑتے ہوئے یہاں پہنچے تو دیکھا کہ سوائے ایک گڑھے کے نشان کے اور کچھ نہیں تھا…یعنی زمین نے ان سب افراد کو نگل لیا تھا۔ جب سے اس مقام پر علامت لگا دی گئی اور حالیہ تعمیر کے دوران صرف اس مخصوص مقام پر سیاہ رنگ کے سنگِ مرمر کا فرش بنایا گیا۔ تاکہ رہتی دنیا تک گستاخانِ رسول سے خدائی انتقام کے اس ناقابل فراموش واقعہ کی زندہ علامت باقی رہے۔‘‘

’’نہیں معلوم اس واقعہ کو کتنی صدیاں اور کتنے سال بیت گئے… لیکن آج بھی مجھے یقین ہے کہ زمین کا سینہ پھر چاک ہو گا، اور پیکرِ حسن و جمال صلی اللہ علیہ وسلم   کی ذات گرامی پر کیچڑ اُچھالنے کی ناپاک کوشش کرنے والے نجس لوگ پھر اس میں دھنس جائیں گے…‘‘

یہ کالم برادر عزیز مولانا محمد مقصود احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ تعالیٰ کے قلم سے ہے اور ان کے کالموں کے سدا بہار مجموعہ ’’ نوائے مقصود‘‘ میں شامل ہے ۔ آج جب سپریم کورٹ میں توہین رسالت کیس کی کاروائی نظر سے گزری تو ذہن میں یہ تازہ ہو گیا اور اب بغیر کسی تبدیلی کے نذر قارئین ہے ۔

اللہ کریم اس کو برادر شہید ؒ کیلئے صدقہ جاریہ بنائے اور ہمارے ملک کے اہل حل و عقد کو ہوش کے ناخن لینے کی توفیق عطا فرمائے۔(آمین ثم آمین)

کالم میں جو اقعہ ذکر کیا گیا ہے ، اس کا تذکرہ کئی مستند کتابوں میں موجود ہے ، صرف ایک حوالہ مندرجہ ذیل ہے:

قال السمھودی رحمہ اللّٰہ تعالیٰ بعد ذکرہ:وقدذکر ابو محمد عبداللّٰہ بن ابی عبداللّٰہ بن ابی محمد المرجانی ھذہ الواقعۃ باختصار فی تاریخ المدینۃ لہ ، وقال:

سمعتھا من والدی یعنی الامام الجلیل ابا عبداللّٰہ المرجانی ، قال : وقال لی :

سمعتھا من والدی ابی محمد المرجانی سمعھا من خادم الحجرۃ

قال ابو عبداللّٰہ المرجانی :

 ثم سمعتھا انا من خادم الحجرۃ الشریفۃ و ذکر نحوما تقدم الا انہ قال :

 فدخل خمسۃ عشراوقال عشرون  رجلا بالمساحی فمامشواغیرخطوۃ اوخطوتین وابتلعتھم الارض ولم یسم الخادم،واللّٰہ اعلم

(وفا ء الوفاء باخبار دارالمصطفیٰ ، نورالدین ابو الحسن السمہودی المتوفی ۹۱۱ ھ ، دارالکتب العلمیۃ ، بیروت)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online