Bismillah

668

۷تا۱۳ربیع الاول۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۱۶تا۲۲نومبر۲۰۱۸ء

جرنیل ختم نبوۃ کی یاد میں (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 664 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Jarnail Khatm e Nabuwwat ki yaad mein

جرنیل ختم نبوۃ کی یاد میں

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 664)

گزشتہ دن چنیوٹ میں واقع مجاہد ختم نبوت حضرت اقدس مولانا منظور احمد چنیوٹیؒکے عظیم تاریخی ادارہ کو تجاوزات کے نام پر مقامی انتظامیہ کی طرف سے نشانہ بنائے جانے کی خبر اخبارات میں پڑھی تو شدید صدمہ ہوا اور ذہن میں اُس عظیم شخصیت کی یادیں تازہ ہو گئیں جن کی زندگی کا ہر دن بلکہ ہر لمحہ تحفظ عقیدئہ ختم نبوت کیلئے وقف تھا ۔

امامِ کعبہ شیخ عبداللہ بن السبیل نے ان کے انتقال پر اپنے تعزیتی پیغام میں بالکل درست فرمایا تھا :

’’ ان کی پوری زندگی مسئلہ ختم نبوت کی جدوجہد سے عبارت ہے اور انہوں نے دنیا کے ہر محاذ پر باطل قوتوں کا مقابلہ کیا ۔‘‘

رحمت ِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا ہی یہ کمال تھا کہ آپ نے اپنی تصنیفی ، ادبی ، علمی ، فکری ، نظری اور تقریر و خطابت کی تمام صلاحیتوں کو مسئلہ ختم نبوت کیلئے مختص کر دیا تھا  وہ جہاں جاتے اسی مسئلہ پر گفتگو فرماتے ، اسی کے بارے میں سوچتے ، اسی کے بارے میں تلقین و نصیحت کرتے اور عام محاورہ کے الفاظ میں انہوں نے اسی کو زندگی کا اوڑھنا بچھونا بنا لیا تھا ۔

بندہ کو بھی حضرت ؒ سے ردّ ِ قادیانیت کا سبق پڑھنے کی سعادت نصیب ہوئی اور سچی بات یہ ہے کہ ان کا پر زور طرز استدلال ‘ جذبۂ ایمانی ، حمیت دینی اور تلمیحات و استعارات کے ساتھ با مقصد لطائف سے مزین ان کا سبق ، رسمی تدریس سے کہیں بلند و فائق تھا ۔

خاتم النبیین ، رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے عقیدئہ ختم نبوت کے تحفظ کیلئے ایک سپاہی بلکہ ایک جرنیل کا کردار ادا کرنے پر رب العالمین جل شانہ نے آپ کو بہت سے دینی اور دنیاوی اعزازات سے نوازا تھا ۔ آپ نے چنیوٹ میں علمائِ کرام کو عقیدئہ ختم نبوت کے تحفظ اور ردِّ قادیانیت کیلئے علمی طور پر تیار کرنے کیلئے ایک تربیتی ادارہ قائم فرمایا تھا‘ جہاں سے سینکڑوں اہل علم کی آپ نے ذہن سازی فرمائی ۔ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں بھی کئی مرتبہ انہیں اس موضوع پر کورس کروانے کا موقع ملا ۔ عالم اسلام کی عظیم درسگاہ ‘ جس کی طرف انتساب ہم جیسے طلبہ کیلئے باعث صد افتخار ہے‘ دارالعلوم دیوبند کی طرف سے بھی آپ کو اس مقصد کیلئے دعوت دی گئی اور آپ نے وہاں کئی ہفتے اساتذہ و طلبہ کو اس موضوع پر لیکچر دئیے ۔ آپ کے یہ اسباق اب کتابی شکل میں بھی شائع ہو چکے ہیں ۔

آپ نے اپنے مقصد کی کامیابی اور تحفظ کیلئے درس و تدریس اور تقریر و خطابت کے ساتھ میدان سیاست کو بھی منتخب فرمایا ۔ منکرین ختم نبوت نے مخالفت میں کوئی کسر نہ چھوڑی اور قادیانیوں کے اشاروں پر آپ کو شکست دینے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا گیا لیکن آ پ ان سب مخالفتوں کے باوجود ۱۹۸۵ء ، ۱۹۸۸ء اور ۱۹۹۷ء میں تین مرتبہ رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے ۔ آپ کی بے پناہ عوامی مقبولیت کا حال یہ تھا کہ چنیوٹ کے ایک متوسط خاندان سے تعلق رکھنے کے باوجود ۱۹۹۳ء میں بلدیہ چنیوٹ کے چیئرمین منتخب ہوئے ۔

آپ کے مؤقر جامعہ کے خلاف کاروائی کو ناجائز تجاوزات کے خلاف آپریشن کے سلسلے میں کی گئی ایک معمول کی کاروائی سمجھنا یقینا حقائق سے منہ موڑنے کے مترادف ہو گا ۔ مسلمان کہلانے والے افسران و ملازمین کو تو چاہیے تھا کہ وہ اس عظیم ادارہ کو خراج تحسین پیش کرتے‘ جس کی نسبت ایک ایسے فقیر منش ، درویش خدا مست اور عظیم مجاہد ختم نبوت کی طرف ہے‘ جس نے دنیا کے ۸۷ ممالک کا سفر کر کے حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے تاج ختم نبوت کی حفاظت کا فریضہ سر انجام دیا ۔ پاکستان کا تو شاید کوئی گوشہ ہو جہاں آپ پیغامِ وفا لے کر نہ پہنچے ہوں اور مسلمانوں کے دلوں کو جذبات ایمان سے نہ گرمایا ہو ۔ بھارت ، بنگلہ دیش ، متحدہ عرب امارت ، سعودی عرب ، کویت ، برطانیہ ، امریکہ ، کینیڈا ، جنوبی افریقہ ، سیر الیون ، ایران اور ترکی کے نام اُس فہرست میں شامل ہیں‘ جن کی سرزمین کو آپ نے اپنے جذبات ایمانی کا گواہ بنایا اور وہاں بسنے والے مسلمانوں کی تحفظ ختم نبوت اور رد قادیانیت کے سلسلے میں کامیاب ذہن سازی فرمائی ۔

دشمن کے دل میں آپ کا رعب اور جلال اتنا تھا کہ قادیانی ملت کا سربراہ مرزا طاہر آپ کو اعلانیہ اپنے دشمنوں میں سرِ فہرست قرار دیتا تھا اور آپ اس اعزاز پر فخر کرتے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے تھے ۔ آپ نے نصف صدی تک قادیانی ملت کے قائدین مرزا ناصر اور مرزا طاہر کو مباہلے کیلئے للکارتے رہے ۔ مباہلہ میں دونوں فریق جمع ہو کر اپنے حق پر ہونے اور دوسرے کے باطل پر ہونے کا اعلان کر کے ایک دوسرے کے خلاف بد دعا کرتے ہیں کہ ہم میں سے جو ناحق پر ہو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تباہ و برباد کر دیا جائے ۔ یہ بات اب تاریخی ریکارڈ کا حصہ ہے کہ قادیانی ملت کے کسی سربراہ نے آپ کی دعوتِ مباہلہ قبول نہیں کی ۔

ہمارا رسمی زمانہ طالب علمی تھا جب ہم نے دیکھا اور سنا کہ تمام مدارس میں آپ کی کامیابی کیلئے اجتماعی دعائوں کا اہتمام کیا جا رہا تھا ۔ ان دعائوں کا پس منظر یہ تھا کہ ایک موقع پر قادیانی سربراہ مرزا طاہر نے دنیا بھر کے علمائِ اسلام کو مباہلہ کا چیلنج دیا تھا تو آپ نے لندن کے اخبارات میں اشتہار دے کر یہ چیلنج قبول کیا اور پھر اپنے ساتھیوں سمیت ہائیڈ پارک کا رنر میں مقررہ وقت پر کافی دیر تک مرزا طاہر کا انتظار فرماتے رہے اور قادیانی سربراہ سمیت کسی کو بھی آپ کا سامنا کرنے کی ہمت نہ ہوئی ۔

پاکستان بننے کے بعد قادیانیوں نے مسلمانوں کو دھوکہ دینے کیلئے اپنے نئے مرکز کا نام ’’ربوہ‘‘ رکھا کیونکہ اس لفظ کا استعمال قرآن مجید میں سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدئہ ماجدہ حضرت مریم علیہا السلام کے حوالے سے ہوا ہے ۔ آپ نے اس نام کی تبدیلی کیلئے سالہا سال تک سیاسی جنگ لڑی اور بالآخر اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان کاوشوں میں ایسا سرخرو فرمایا کہ پنجاب اسمبلی نے آپ کے مؤقف کو تسلیم کرتے ہوئے ’’ ربوہ‘‘ کا نام بدل کر ’’چناب نگر‘‘ رکھ دیا ۔

جرنیل ختم نبوت کا نصف صدی پر محیط تحفظ عقیدئہ ختم نبوت کا یہ سفر پھولوں کی سیج نہیں تھا ‘ اس میں تو قدم قدم پر کانٹے بکھرے پڑے تھے ۔ اسی لیے آپ نے اپنے مشن کی خاطر بارہا قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں اور ایک لمبا عرصہ خوفناک جیلوں میں گزارا ۔ ایک وقت تو ایسا آیا کہ ختم نبوت کے اس عظیم سپاہی ‘ عظیم عالم دین اور مقبول عوامی راہنما کو خطرناک مجرم قرار دے کر پائوں میں بیڑیاں ڈال دی گئیں اور قید تنہائی میں پھینک دیا گیا ۔ آپ خود بتایا کرتے تھے کہ یہ طویل عرصہ میں نے قرآن مجید کے ساتھ گزارا اور کلامِ الٰہی کی تلاوت سے میرا یہ مشکل وقت مصروف ہی نہیں بلکہ مبارک اور معطر وقت بن گیا ۔

حضرت ؒ کی کتابِ زندگی کا ہر ورق ہی ہم جیسے طالب علموں کیلئے اپنے اندر کئی سبق سموئے ہوئے ہے ۔ یہاں تو اپنی نئی نسل کے طلبہ کو اپنے اسلاف کی جاں گسل محنتوں کی صرف ایک جھلک دکھانا مقصد تھا ۔ اللہ تعالیٰ حضرت ؒ کے درجات کو مزید بلند فرمائے اور ہمیں بھی آپ کا سوزِ دروں اور جوشِ عمل نصیب فرمائے۔(آمین)

مدارس اور مساجد کے ساتھ پاکستان کی حکومت کا رویہ کبھی بھی ہمدردانہ نہیں رہا ، خواہ وہ کوئی وفاق حکومت ہو یا صوبائی حکومت اور اُس کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو ۔البتہ کبھی وقتی مصلحت اور کبھی خاندانی اثرات و تربیت کی وجہ سے کوئی حکمران دین اسلام کے ان نگہبان اداروں پر مہربان ہو جائے تو اور بات ہے ۔ آپ وطنِ عزیز کے کالجز اور یونیورسٹیز کی تعلیمی اور اخلاقی رپورٹس دیکھ لیں تو سر شرم سے جھک جاتا ہے ۔ یہ رپورٹ تو اب اعلیٰ عدالتوں میں بھی جا پہنچی کہ اسلام آباد جو وفاقی دارالحکومت ہونے کے ساتھ تعلیمی اور انتظامی اعتبار سے پاکستان کا سب سے اہم شہر شمار ہوتا ہے ، یہاں کے تعلیمی اداروں میں پچاس فیصد سے زائد طلبہ و طالبات منشیات استعمال کر کے اپنے اور قوم کے مستقبل کو تباہ اور تاریک کر رہے ہیں ۔ یہ رپورٹ اور ایسی بہت سی باتیں ہیں جن کو کہنے اور لکھنے سے دل خوش نہیں ہوتا کہ بہرحال یہ بھی مسلمانوں کے ہی جگر کے ٹکڑے ہیں اور ہمارا قومی مستقبل ہیں لیکن یہ بات کتنی افسوسناک ، تکلیف اور جانبدارانہ ہے کہ بجائے ان تعلیمی اداروں میں اصلاح کرنے اور اس پر بحث و مباحثہ کرنے کے ‘ میڈیا اور حکمرانوں کے تمام تیروں کا رخ ہمیشہ دینی مدارس ہی کی طرف رہتا ہے اور یہ لوگ اس مبارک سلسلے کو طعنے دینے اور ہدف ِ تنقید و ملامت بنانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے پھر چنیوٹ کے عظیم دینی ادارہ کے خلاف کاروائی کو تو حالات ِ حاضرہ سے واقفیت رکھنے والا ہر شخص قادیانیت نوازی سے جوڑ رہا ہے اور اس کی بالکل واضح اور معقول وجوہات خود حکومت نے ہی مہیا کر رکھی ہیں ۔

جو تعلیمی ادارہ ستر سال سے قومی خدمت میں مصروف ہو اور اس کا تجاوزات میں آنا بھی یقینی نہ ہو ‘ اُسے صرف چند افسروں کے ذاتی عناد کی بناء پر یا سیاسی دشمنی کی بنیاد پر یا قادیانی گروہ کو خوش کرنے کیلئے نشانہ بنایا جانا ایک ایسا جرم ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے ۔

 حضرت اقدس مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ جیسی عظیم شخصیت کے قائم کردہ ادارے کا جزوی انہدام بلاشبہ ایک ایسا داغ ہے ، جسے کوئی بھی حکومت آسانی سے نہ برداشت کر سکے گی اور نہ ہی آسانی سے یہ داغ دھل سکے گا۔

اللہ کرے کہ پاکستان کے حکمران عقل و خرد سے کام لیں اور پہلے سے تشویش میں مبتلا اہل وطن کو مزید کسی امتحان اور صدمے سے دوچار نہ کریں ۔ (آمین ثم آمین)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online