Bismillah

668

۷تا۱۳ربیع الاول۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۱۶تا۲۲نومبر۲۰۱۸ء

اللّٰہ کے شیراور اہل کشمیر (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 665 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Allah k Sher aur Ahl e Kashmir

اللّٰہ کے شیراور اہل کشمیر

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 665)

مقبوضہ کشمیر کے علاقہ کولگام میں پیش آنے والے تازہ ترین واقعات نے جہاد کشمیر میں اہل کشمیر کے جذبہ جان فروشی کے ساتھ جذبات ایثار وقربانی کو بھی پوری دنیا کے سامنے آشکارا کر دیا ہے ۔

اب تو بھارت کا میڈیا بھی چیخ چیخ کر بتا رہا ہے کہ کشمیری عوام کو جہاںکہیں پتہ چلتا ہے کہ مجاہدین بھارتی فوج کے نرغے میں ہیں ،وہ اپنی جانوں پر کھیل کر انہیں بچانے کے لیے دیوانہ وار دوڑ پڑتے ہیں اور ایسے درجنوں واقعات میں وہ بار ہا اپنے خون کے نذرانے پیش کر چکے ہیں ۔بھارتی حکومت کی طرف سے کشمیری عوام کو سینکڑوں مرتبہ یہ وارننگ جاری کی جا چکی ہے کہ وہ ایسے تصادم کے مقامات سے دور رہا کریں لیکن کشمیری عوام نے ہمیشہ ایسے احکامات کو اپنے پاوں کے نیچے روند کر بتا دیا ہے کہ :

اک پھول گر چاہے گلستان بن جائے

اک موج گر چاہے طوفان بن جائے

اک خون کے قطرے میں ہے اتنی تاثیر

اک قوم کی تاریخ کا عنوان بن جائے

 ایسے جانثاروں کی تعداد سینکڑوں نہیں ہزاروں بلکہ لاکھوں میں ہے جنہوںنے اپنا تن من دھن اس دھرتی پر قربان کر دیا ۔ کشمیر کیلئے رخت ِ سفر باندھنے والا ہر مجاہد  سری نگر کے قبرستان میں محوِخواب اَن گنت سرفروش ، مہمان مجاہدین کیلئے اپنے دروازے ہر دم کھلی رکھنے والی مائیں ، اپنے بھائیوں کو جہاد کشمیر میں جانے کیلئے اصرار کرنے والی بہنیں ، اپنے سینوں پر گولیاں کھا کر نہ جھکنے والے جوان اور بھارتی غاصبوں کے ہاتھوں مسلے جانے والے معصوم پھول سب ہی کشمیر بلکہ پورے پاکستان کے محسن ہیں ، ایسے محسن جن کی وفائوں کا صلہ ہم کبھی بھی ادا نہیں کر پائیں گے ۔

اسلام آباد کی ایک مرکزی شاہراہ کا نام کشمیر سے منسوب ہے اور کراچی کے ایک مرکزی چورا ہے پر بانی پاکستان کا یہ فرمان جلی حروف میں لکھا ہوا ہے کہ کشمیر ہماری شہ رگ ہے اور کوئی قوم بھی اپنی شہ رگ دشمن کے ہاتھ میں نہیں دے سکتی ۔ پاکستان میں بہنے والے اکثر بڑے دریائوں کا سر چشمہ کشمیر ہے اور بتانے والے بتاتے ہیں کہ پاکستان کے نام میں کاف درحقیقت کشمیر کی نمائندگی کر رہا ہے ۔ ان سب باتوں کا نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی تمام جنگوں کے پس منظر میں مسئلہ کشمیر موجود ہے ۔

کشمیر بہت سے لوگوں کی دلچسپیوں کا مرکز ہے اور ہر ایک کی دلچسپی کی وجہ مختلف ہے لیکن پاکستان میں بسنے والے کروڑوں عوام کشمیر کو صرف اس لیے چاہتے ہیں کہ گزشتہ نصف صدی سے زائد عرصے سے بھارت نے وہاں ظالمانہ اور غاصبانہ قبضہ کیا ہوا ہے ۔ وہاں کے مسلمان آئے روز بھارتی ظلم و تشدد کا نشانہ بنتے رہتے ہیں ۔ کشمیر ایسا خطہ ارض ہے جس پر صدیوں تک مسلمانوں نے حکومت کی بلکہ ۱۳۲۰ء سے ۱۵۸۶ء تک وہاں کا قومی پرچم نیلگوں زمین اور سورج کے سنہری رنگ کے ساتھ درمیان میں بہت نمایا ں اللہ اکبر کی تحریر پر مشتمل تھا ۔ یہ اس بات کی واضح علامت ہے کہ ایک طویل عرصے تک کشمیر پر اسلامی سلطنت قائم رہی اور وہاں اللہ تعالیٰ کی کبریائی کا ڈنکا بجتا رہا ہے ۔

کشمیر کا لفظ اہلِ پاکستان کے لئے ایک محبوب، مقدس اور محترم حیثیت رکھتا ہے۔ اس خطہ ارضی سے اہلِ پاکستان کی محبت بلکہ عشق آج کا نہیں قصّہ ہے صدیوں کا دوچار برس کی بات نہیں۔ بھارت کے ساتھ پاکستان کی تمام قابل ذکر جنگیں کشمیر کے لئے ہی ہوئی ہیں۔ پاکستانی دریائوں کے سرچشمے کشمیر کی سرزمین سے پھوٹتے ہیں۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ غیروں کے ظلم و ستم اور اپنوں کی سازشوں کے باوجود کشمیر آج بھی اہلِ پاکستان کے لئے ایک شمع کی حیثیت رکھتا ہے جس پر جاں نثارانِ آزادی پروانہ وار اپنا تن من دھن قربان کر ڈالتے ہیں۔

اقبال مرحوم نے کشمیر کے ظاہری حسن اور خوبصورتی کا نقشہ کس خوبصورتی کے ساتھ کھینچا ہے:

پانی ترے چشموں کا تڑپتا ہوا سیماب

مرغانِ سحر تیری فضائوں میں ہیں بیتاب

مجاہدین کشمیر در حقیقت قافلہ امیر المجاہدین حضرت سید احمد شہیدؒ کے افکار کی عملی تعبیر ہیں جنہوں نے اپنی ایک تحریر میں اپنے جہادی مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا تھا:

ــاس تمام معرکہ آرائی اور جنگ آزمائی کا مقصود صرف یہ ہے کہ اللہ کا کلمہ بلند ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت زندہ ہو اور مسلمانوں کا ایک ملک کفار و مشرکین کے قبضے سے نکل آئے، اس کے سوا کوئی مقصود نہیں۔ اس فقیر کو مال و دولت اور حصولِ سلطنت و حکومت سے کچھ غرض نہیں۔ دینی بھائیوں میں سے جو شخص بھی کفار کے ہاتھوں سے ملک کو آزاد کرے، رب العالمین کے احکام کو رواج دینے اور سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو پھیلانے کی کوشش کرے گا اور ریاست و عدالت میں قوانین شریعت کی رعایت و پابندی کرے گا، فقیر کا مقصود حاصل ہو جائے گا، اور میری کوشش کامیاب ہو جائے گی۔

حقیقت میں مطابق مقولہ سلطنت و مذہب جڑواں ہیں اگرچہ یہ قول حجت شرعی نہیں لیکن مدعا کے موافق ہے کہ دین کا قیام سلطنت سے ہے اور وہ دینی احکام، جن کا تعلق سلطنت سے ہے، سلطنت کے نہ ہونے سے صاف ہاتھ سے نکل جاتے ہیں اور مسلمانوں کے کاموں کی خرابی اور سرکش کفار کے ہاتھوں ان کی ذلت و نکہت اور شریعت مقدسہ کے شعائر کی بے حرمتی اور مسلمانوں کی مساجد و معابد کی تخریب جو ہوتی ہے، وہ بخوبی ظاہر ہے۔

میرا اس منصب (امامت) کے قبول کرنے سے اس کے سوا کوئی مقصود نہیں کہ جہاد کو شرعی طریقے پر قائم کیا جائے اور مسلمانوں کی فوجوں میں نظم قائم ہو، اس کے سواکوئی دوسری نفسانی غرض، مثلاً روپے پیسے کے خزانے یا ملکوں اور شہروں پر تسلط یا حصول سلطنت و ریاست یا اہل حکومت و صاحب اقتدار لوگوں کی تذلیل یا اپنے ہمسروں پر اپنے احکام کا اجرا یا اپنے ہم عصروں پر فوقیت و امتیاز قطعاً و بالکلیہ شامل نہیں، بلکہ ایسی بات نہ کبھی زبان پر آتی ہے، نہ کبھی خیال میں گزرتی ہے، تاجِ فریدوں و تختِ سکندری کی قیمت میرے نزدیک ایک جو کے برابر بھی نہیں، کسریٰ و قیصر کی سلطنت میں خاطر میں بھی نہیں لاتا، ہاں اس قدر آرزو رکھتا ہوں کہ اکثر افراد انسانی بلکہ تمام ممالک عالم میں رب العالمین کے احکام جن کا نام شرع متین ہے ، کسی کی مخالفت کے بغیر جاری ہوجائیں، خواہ میرے ہاتھ سے، خواہ کسی دوسرے کے ہاتھ سے۔ پس ہر ترکیب و تدبیر، جو اس مقصد کے حصول کیلئے مفید ہوگی، عمل میں لائوں گا۔

چونکہ زبانی دعوت و تبلیغ شمشیر و سنان سے جہاد کے بغیر مکمل نہیں ہوتی،اس لئے رہنمائوں کے پیشوا اور مبلغوں کے سردار حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخر میں کفار سے جنگ کرنے کیلئے مامور ہوئے اور دینی شعائر کی عزت اور شریعت کی سربلندی و ترقی اسی رکن جہاد کی اقامت کی وجہ سے ظہور پذیر ہوئی۔

اس عبادت عظمیٰ کا ادا کرنا اور سعادت عالیہ کے حصول کا عزم اس طرح اس فقیر پر القا کیا گیا ہے کہ اس عظیم المرتبت کام کے انجام دینے میں جان و مال قربان کردینا، اہل و عیال کو خیر باد کہنا اور وطن سے ہجرت کرجانا، ناپاک مکھیوں کو ہانکنے اور خس و خاشاک کو دور کرنے سے زیادہ نہیں معلوم ہوتا۔ جب تک ہمارے جسم میں جان ہے اور ہمارے سرجسموں کے ساتھ ہیں، ہم بصد حیلہ و فن اسی سودے میں لگے ہوئے ہیں، خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ہم اپنے مالک کی اطاعت میں مشغول ہیں اور محض رضائے الٰہی کے آرزو مند۔ہمار اجھگڑا امرا وروسائے اسلام سے نہیں ہے  بلکہ ہم کو لمبے بال والوں(سکھوں) بلکہ تمام فتنہ انگیز کافروں سے جنگ کرنا ہے، نہ کہ اپنے کلمہ گو بھائیوں سے اور ہم مذہب مسلمانوں سے۔

اس ملک کو مشرکین کی نجاستوں سے پاک کرنے اور منافقین کی گندگی سے صاف کرنے کے بعد حکومت و سلطنت کا استحقاق اور ریاست و انتظام سلطنت کی استعداد رکھنے والوں کے حوالے کردیا جائے گا، لیکن اس شرط کے ساتھ کہ وہ احسانِ خداوندی کا شکر بجا لائیں گے اور ہمیشہ اور ہر حال میں جہاد کو قائم رکھیں گے اور کبھی اس کو موقوف نہیں کریں گے اور انصاف اور مقدمات کے فیصلے میں شرعِ شریف کے قوانین سے بال بھر بھی تجاوز و انحراف نہیں کریں گے اور ظلم و فسق سے کلیۃً اجتناب کریں گے، اس کے بعد میں اپنے مجاہدین کے ساتھ ہندوستان کا رخ کروں گا تاکہ اس کو شرک و کفر سے پاک کیا جائے، اس لئے کہ میرا مقصود اصلی ہندوستان پر جہاد ہے نہ کہ ملک خراسان (سرحد و افغانستان) میں سکونت اختیار کرنا۔

کشمیر کے غیور اور بہادر عوام آج بھی بھارتی فوجیوں کی بندوقوں کے سامنے سینہ تان کر کھڑے اسلام اور پاکستان سے اپنی بے لوث محبت کا کڑا امتحان دے رہے ہیں۔ درجنوں شہید ہوچکے ہیں، سینکڑوں گرفتار ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں جاں بلب ہیں۔ اُن کی اقتصادی ناکہ بندی کر کے اُنھیں معاشی طور پر مفلوج کیا جارہا ہے، ہندو کی ظالمانہ ذہنیت کھل کر سامنے آچکی ہے، کچھ لوگ اپنے اپنے مفادات کی خاطر چپ سادھے بیٹھے ہیں مگر پاکستانی عوام کے دل آج بھی اپنے مظلوم کشمیری بھائیوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔

رُودادِ الم سن سن کے یہاں

سب لوگ ہیں گو دلگیر بہت

لیکن کشمیر کے شیروں کی

ہر دل میں ہے توقیر بہت

دشمن سے کہو اپنا ترکش

چاہے تو دوبارہ بھر لے

اِس سمت ہزاروں سینے ہیں

اُس سمت اگر ہیں تیر بہت

اللہ کریم شہدائے کشمیر کے درجات کو بلند فرمائے،اہل کشمیر سمیت پوری امت مسلمہ کی حفاظت فرمائے اور خطہ کشمیر سمیت تمام مقبوضہ مسلم ممالک کو آزادی کی نعمت عطا فرمائے۔(آمین ثم آمین)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online