Bismillah

668

۷تا۱۳ربیع الاول۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۱۶تا۲۲نومبر۲۰۱۸ء

عثمان ؒ … ایک آئیڈیل نوجوان (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

 Kalma-e-Haq 667 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Usman aik Ideal Nojwan

عثمان ؒ … ایک آئیڈیل نوجوان

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 667)

اللہ کریم ہمارے عزیز اور عظیم عثمانؒ کی شہادت کو اعلیٰ درجے میں قبول فرمائے ۔

کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ ایک ایسا نوجوان جس کی ابھی مسیں بھی نہیں بھیگی تھیں ‘ جس کی چہرے سے ابھی بچپن کی معصومیت بھی رخصت نہیں ہوئی تھی اور جس کی عمر کے بچے ابھی زمانے کے نشیب و فراز سے بے خبر‘ ماں باپ کے شفقت بھرے سائے تلے زندگی گزار رہے ہوتے ہیں ‘ زندگی کے اس مرحلے کا مسافر ایک نوجوان اپنے ایمان میں‘ اپنے ایقان میں‘ اپنے جذبے میں‘ اپنی فراست میں اتنا آگے بڑھ گیا کہ جس نے بھی اُسے کشمیر کی وادی میں دادِ شجاعت دیتے ہوئے دیکھا‘ بلا اختیار پکار اٹھا:

’’ایسی چنگاری بھی یا رب !

اپنے خاکستر میں تھی‘‘

جس عمر میں بچے کبھی اپنے سائے سے بھی ڈر جاتے ہیں اور اجنبی علاقے اور ماحول میں تو گھبرا اٹھتے ہیں‘ وہ دنیا کی خونخوار ترین‘ تربیت یافتہ آرمی سے پنجہ آزمائی کرتا رہا ‘ ان کا شکار کرتا رہا اور ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اُنہیں للکارتا رہا ۔ اقبال مرحوم نے سچ کہا تھا:

وہی جواں ہے قبیلے کی آنکھ کا تارا

شباب جس کا ہے بے داغ‘ ضرب ہے کاری

قبیلے کا لفظ بھی یہاں کیا خوب آگیا ‘ فارسی کا کیا پیارا شعر ہے :

گریزد از صفِ ماہر کہ مردِ غوغا نیست

کسے کہ کشتہ نشد از قبیلۂ مانیست

( وہ شخص ہماری صفوں سے نکل جائے جو ظلم کے خلاف احتجاج کی ہمت نہیں رکھتا کہ جو اپنے نظریے پر کٹ نہ مرے ‘ وہ ہمارے قبیلے کافرد نہیں ہو سکتا)

عثمان شہیدؒ کا قبیلہ بڑا عظمتوں ‘ رفعتوں اور بلند نسبتوں والا ہے ۔ ابو المجاہدین حضرت اللہ بخش صابرؒ واقعی اسم با مسمّٰی تھے ، استقامت کا مینار اور صبر کا پہاڑ ۔ صبر کرنے والوں کے بارے میں تو قرآن مجید کا وعدہ ہے کہ اُن کو بغیر کسی حساب کے بدلہ دیا جائے گا ۔ رب کریم نے حضرتِ صابرؔؒ کو خوب نوازااتنا نوازا کہ ان کے قبیلے میں قرآن مجید کے بلا مبالغہ درجنوں حافظ پیدا کر دئیے ، علم دین کے کئی حامل بن گئے اور پھر راہ جہاد میں تو یہ قبیلہ اپنی ایک الگ شناخت اور پہچان رکھتا ہے ۔ عثمان شہیدؒ جس قبیلے کا فرد تھا وہ بجا طور پر یہ کہنے کا حق رکھتا ہے کہ :

’’ کسے کہ کشتہ نشد از قبیلۂ ما نیست ‘‘

درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے اور اچھا درخت بہترین پھل کی ضمانت ہوتا ہے ۔ آنکھوں میں ایمانی چمک ، ریاضت و مجاہدہ ایسا کہ قدیم دور کے اولیاء اللہ کی یاد تازہ ہو جائے اور شجاعت و بہادری ایسی کہ افسانہ و خیال معلوم ہوں ۔ یہ ہیں عثمان شہیدؒ کے والد گرامی قدر اور اگر ڈر اس بات کا نہ ہوتا کہ کئی لوگ ان الفاظ کو اظہار ِ تعلق کے بجائے تملق پر محمول کریں گے تو اس راہ عزیمت کے عظیم کردار کے بارے میں مزید بہت کچھ لکھتا لیکن وہ جملہ تو مجھے کبھی نہیں بھولتا کہ جب کراچی میں ایک بڑے عالم دین سے اُن کی شدید خواہش پر بندہ نے چند لمحات کی ملاقات کروائی تو رخصت ہونے کے بعد وہ بلا اختیار کہہ اٹھے:

’’ یہ کوئی عام انسان ہے یا شیر ‘ ببر شیر‘‘

عثمان شہیدؒ کے کشمیر جانے کی خبر کو ہم سب نے تعجب سے سنا کہ ابھی اُن کی عمر ہی کیا تھی لیکن طلحہ رشید شہیدؒ کے بعد سے تو گویا ان کیلئے یہ فانی زندگی بے معنی ہو کر رہ گئی تھی اور ان کا حال یہ تھا:

آگہی ، کرب ، وفا ، صبر ، تمنا ، احساس

میرے ہی سینے میں اترے ہیں یہ خنجر سارے

کچھ باتیں نا قابل فہم حد تک حیران کن ہوتی ہیں ، سمجھ سے باہر ، ادراک کی حدوں سے بہت آگے ، عجیب اسرار میں لپٹی ہوئیں ‘ جتنی وضاحت کرتے جائیں‘ وہ واضح ہونے کے بجائے مزید الجھتی جاتی ہیں ۔ یہ عشق بھی کچھ ایسی ہی چیز ہے ۔ اس کا اندازہ کوئی عاشق ہی لگا سکتا ہے ۔ یہ گھسے پٹے جملے اور حرص و ہوس کو عشق کہنے والے ، حقیقت میں اس جذبے کی بد ترین توہین کے مرتکب ہوتے ہیں ۔ عشق اور چیز ہے‘ ایک اور ہی جہاں ‘ ایک اور ہی منزل ‘ ایک نا قابل بیان کیفیت جسے الفاظ میں محدود اور مقید کرنا نا ممکن ہے ۔

یہ عشق نہیں آساں اتنا ہی سمجھ لیجئے

اک آگے کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے

اور :

آغاز محبت کا انجام بس اتنا ہے

جب دل میں تمنا تھی ‘ اب دل ہی تمنا ہے

ہاں عثمان شہید بھی ایسے ہی عشق میں مبتلا ہو گیا تھا ۔ وہ ایک سچا عاشق تھا ‘ کھرا اور عظیم ۔ اُس کی سوچوں کا محور ‘ اُس کے خیالوں کی دنیا اور اُس کے جذبات کا مرکز لیلائے شہادت اور وہ بھی وادیٔ کشمیر میں ۔

جب ذاتِ حق کی معرفت کا سایہ انسان کے دل پر پڑتا ہے اور اس کی ملاقات کا شوق زندگی کا مقصد بن جاتا ہے تو یہی کیفیت ہوتی ہے:

راز تھا کہ جس کو چھپا کر چلے گئے

رگ رگ میں اس طرح وہ سما کر چلے گئے

جیسے مجھی کو مجھ سے چرا کر چلے گئے

میری حیات عشق کو دے کر جنونِ شوق

مجھ کو تمام ہوش بنا کر چلے گئے

اپنے فروغِ حسن کی دکھلا کے وسعتیں

میرے حدودِ شوق بڑھا کر چلے گئے

آئے تھے دل کی پیاس بجھانے کے واسطے

اک آگ سی وہ اور لگا کر چلے گئے

اب کاروبارِ عشق سے فرصت مجھے کہاں

کونین کا وہ درد بڑھا کر چلے گئے

لب تھرتھرا کے رہ گئے لیکن وہ اے جگرؔ

جاتے ہوئے نگاہ ملا کر چلے گئے

عشق سچا ہو و وہ دوسروں کو بھی اپنا شکار کر لیتا ہے ۔ عثمان شہیدؒ کا عشق تو ایساپکا اور خالص تھا کہ اجتماع میں ہر شخص اسی مئے عشق میں مست نظر آرہا تھا ۔ یہ اور بات ہے کہ خود تو عثمان شہیدؒ ہمیشہ اسی کے قائل رہے کہ :

شراب و شیشہ و ذکر بتاں کا وقت نہیں

اٹھو! اٹھو کہ یہ خواب گراں کا وقت نہیں

زمانہ ڈھونڈ رہا ہے عمل کے شیدائی

خطا معاف یہ حسن بیاں کا وقت نہیں

روش روش یہ خزاں کے نقیب ہیں یارو

چمن بچائو غمِ آشیاں کا وقت نہیں

بڑھو کہ بڑھتی چلی آرہی ہے شامِ حیات

عمل کا وقت ہے ، آہ و فغاں کا وقت نہیں

سنو وہ نغمہ جو روحِ حیات گرمائے

سکوں ہو جس سے اب اس داستاں کا وقت نہیں

وہ نبض ڈوب چلی ہے وہ آنکھ پتھرائی

خدا کا نام لو ‘ یادِ بتاں کا وقت نہیں

جب حنظلہ ؒ ،طلحہؒ اور عثمانؒ جیسے نوجوانوں پر نظر پڑتی ہے تو قرآن مجید کی اس آیت کا نور دل و دماغ کو روشن کر دیتا ہے:

انھم فتیۃ امنوابربھم وزدناھم ھدی 

(بے شک وہ چند جوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لے آئے تھے اور ہم نے انہیں ہدایت سے خوب نوازا تھا) (الکہف )

’’اصحاب الکہف‘‘ یعنی غار والوں کا تذکرہ کرتے ہوئے ’’ فتیۃ‘‘ کا لفظ ان کی جوانی کو ان کے اعزاز کے طور پر بیان فرما رہا ہے۔ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ ’’ جوانی دیوانی ہوتی ہے ‘‘لیکن جب کوئی نوجوان اپنی نوجوانی کو اللہ تعالیٰ کے دین کیلئے وقف کر دیتا ہے ‘ رضا ء الٰہی کیلئے دنیاوی راحتوں کو چھوڑ دیتا اور ایسی عمر میں جب قُویٰ مضبوط ہوتے ہیں وہ گناہوں سے کنارہ کش رہتا ہے تو یہ نوجوان اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا ولی بن جاتا ہے ۔ ایک صحیح حدیث میں جن سات قسم کے افراد کا ذکر ہے کہ ان کو قیامت کے دن ‘ جب سورج سو ا نیزے پر چمک رہا ہو گا ‘ لوگ اپنے پسینے میں ڈوب رہے ہوں گے اور دور دور تک کسی سائے کا نام و نشان نہیں ہو گا ایسے مشکل وقت میں اُنہیں عرشِ الٰہی کا خاص سایہ نصیب ہو گا اور پریشانی سے محفوظ رہیںگے‘تب ’’شابٌ نشاء فی عبادۃ اللّٰہ‘‘ یعنی وہ جوان جس نے اپنی جوانی اللہ تعالیٰ کی عبادت میں گزاری ہو گی‘ اُس کو بھی خاص اعزاز کے ساتھ یہ سعادت نصیب ہو گی

’’اصحاب الکہف ‘‘ جوان تھے اور جوانوں کے دل میں رنگین زندگی کی کتنی خواہشیں مچل رہی ہوتی ہیں لیکن جب بادشاہ نے اُنہیں وارننگ دی کہ وہ اپنے دین برحق کو چھوڑدیں ورنہ سخت سزا کیلئے تیار ہو جائیں ‘ تب ان کے سامنے دوہی آپشن تھے ۔ ایک یہ کہ وہ اپنے عقیدے اور نظریے سے دستبردار ہو کر وزراء اور مشیروں کی اولاد ہونے کے ناطے ہر قسم کے مزے اور راحت حاصل کریں ‘ دوسرا راستہ یہ تھا کہ وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر ‘ اپنی دنیاوی عہدے و منصب سے دستبردار ہو کر مال و دولت سے محروم ہو کر غاروں میں پناہ لے کر اپنے ایمان اور دین کو بچالیں ۔ ان عقل مند جوانوں نے دوسرے آپشن کو اختیار کیا ۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کیلئے اپنے نام کو مٹایا اور حق تعالیٰ نے قرآن مجید کے ذریعے اُن کے نام کو ایسا چمکایا کہ قیامت تک اب اس کو کوئی کتابوں کے اوراق اور لوگوں کے دل و دماغ سے مٹا نہیں سکتا ۔

عثمان ؒ و طلحہ ؒ جیسے نوجوانوں کے سامنے بھی دو آپشن تھے ۔ ایک وہ جو ہمارے معاشرے کا ہر نوجوان جانتا ہے ‘ اپنے’’ کیرئیر‘‘کو مضبوط کرنا ‘ اپنے ’’فیوچر‘‘ کی پلاننگ کرنا اور احکامِ الٰہی سے غافل ‘ بے حسی کی زندگی گزار دینا ۔ جبکہ دوسرا آپشن وہ تھا جو انہوں نے اختیار کیا ‘ ایک عظیم راستہ ‘ ایک پُرخطر لیکن کامیاب راستہ ‘ جنت اور انعاماتِ الٰہی کا مختصر ترین راستہ‘ جس کے بارے میں یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ :ـ

ہوں قدم راہِ الفت میں تو منزل کی ہوس کیسی

یہاں تو عین ِ منزل ہے ‘ تھکن سے چور ہو جانا

اللہ کریم عثمان شہیدؒ اور تمام شہداء اسلام کی شہادتوں کو اعلیٰ درجے میں قبول فرمائے، ان کے مقدس لہو کو اسلام کی آبیاری کا ذریعہ بنائے اور تمام پسماندگان کو صبر جمیل اور اجر جزیل عطاء فرمائے۔ (آمین ثم آمین)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online