Bismillah

681

۹تا۱۵ جمادی الثانی۱۴۴۰ھ  بمطابق ۱۵تا۲۱ فروری۲۰۱۹ء

اصلی اور سچی تبدیلی (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 672 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Asli aur Sachi Tabdeeli

اصلی اور سچی تبدیلی

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 672)

اللہ تعالیٰ ہمارے ملک پر رحم فرمائے اور برائی سے اچھائی کی طرف حقیقی تبدیلی ہمیں نصیب فرمائے ۔ یہ تو واضح ہے کہ ہمارا سیاست سے اتنا ہی تعلق ہے ‘ جتنا اکثر سیاستدانوں کا اسلام سے تعلق ہے ۔ لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ وطن عزیز کا ہر ناکام حکمران جب اچھی طرز حکمرانی کی کوئی مثال پیش کرنے سے عاجز آجا تا ہے تو غیر ملکی آقائوں کو خوش کرنے کیلئے اسلام کو تختۂ مشق بنا لیتا ہے ۔

ہماری موجودہ حکومت بھی تبدیلی کے بلند بانگ دعوے لے کر میدان میں اتری لیکن اب جب کہ یہ ہر میدان میں بری طرح مار کھا چکی ہے اور عوام کو سہولیات فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے تو اس کو بھی آسان راستہ یہ ہی سوجھا ہے کہ پاکستان کے اہل ایمان کو ستایا جائے‘ طے شدہ معاملات متنازعہ بنا ئے جائیں اور اپنے وعدوں سے راہ فرار اختیار کی جائے ۔

ایک اسّی سالہ بزرگ عالم دین کا جنازہ جیل سے اٹھنا معمولی بات نہیں ۔ جس ملک میں کرپشن کے مگرمچھ اور تصدیق شدہ قومی غدار مزے لوٹ رہے ہوں‘ وہاں مولانا محمد یوسف سلطانی مرحوم کو باوجود بڑھاپے ‘ بیماری اور شدید نقاہت کے صرف تحفظ ناموس رسالت کے جرم میں قید کرنا اور پھر علاج معالجے کی سہولت بھی فراہم نہ کرنا ‘اتنا بڑا جرم ہے کہ اس کی مذمت کیلئے تمام الفاظ ناکافی محسوس ہوتے ہیں ۔ افسوس کہ معمولی معمولی بات پر از خود نوٹس لینے والی عدلیہ بھی اس بھیانک حادثے پر چپ سادھے بیٹھی رہی ۔

تبدیلی کے نام پر قادیانیت نوازی کا مکروہ دھندا بھی عروج پر ہے ۔ پسماندہ طبقات سے زندہ رہنے کا حق چھین کر انہیں نا قابل برداشت بوجھ کے نیچے کچل کر تبدیلی کا عملی ثبوت پیش کیا جا رہا ہے ۔

ایسی خوفناک ، کربناک اور المناک تبدیلی دیکھ کر بلا اختیار ایک سچی ‘خوبصورت اور پیاری تبدیلی یاد آجاتی ہے ۔ وہ تبدیلی جس نے کائنات کو اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لا کھڑا کیا ‘ وہ تبدیلی جس نے گرتے ہوئے لوگوں کو تھام لیا اور پسے ہوئے انسانوں کو نہ صرف زندہ رہنے کا حق دیا بلکہ زندگی کا شعور بھی بخشا ۔ یہ تبدیلی ریاست ِ مدینہ کے بانی ‘ سرکارِ مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی تبدیلی تھی ۔ ایسی پاکیزہ ‘ معطر اور منور تبدیلی جس سے ساری انسانیت مہک اٹھی ۔ مفکر اسلام مولانا سید ابو الحسن علی ندوی رحمۃ اللہ علیہ نے اس تبدیلی کا کیا خوب نقشہ کھینچا ہے:

’’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد دنیا کی رُت بدل گئی، انسانوں کے مزاج بدل گئے ، دلوں میں خدا کی محبت کا شعلہ بھڑکا ، خدا طلبی کا ذوق عام ہوا ، انسانوں کو ایک نئی دھن (خدا کو راضی کرنے اور خدا کی مخلوق کو خدا سے ملانے اور اس کو نفع پہنچانے کی) لگ گئی ، جس طرح بہار یا برسات کے موسم میں زمین میں روئیدگی ، سوکھی ٹہنیوں اور پتیوں میں شادابی اور ہریالی پیدا ہو جاتی ہے ، نئی نئی کونپلیں نکلنے لگتی ہیں اور درو دیوار پر سبزہ اگنے لگتا ہے ، اسی طرح بعثت محمدی کے بعد قلوب میں نئی حرارت ، دماغوں میں نیا جذبہ اور سروں میں نیا سود اسماگیا ، کروڑوں انسان اپنی حقیقی منزل کی تلاش اور اس پر پہنچنے کے لیے نکل کھڑے ہوئے ، ہر ملک اور قوم میں ، طبیعتوں میں یہی نشہ اور ہر طبقے میں میدان میں ، ایک دوسرے سے بازی لے جانے کا یہی جذبہ موجزن نظر آتا ہے ، عرب و عجم ، مصر و شام ، ترکستان اور ایران ، عراق و خراسان ، شمالی افریقہ اور اسپین اور بالآخر ہمارا ملک ہندوستان اور جزائر شرق الہند سب اسی صہبائے محبت کے متوالے اور اسی مقصد کے دیوانے نظر آتے ہیں ، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے انسانیت صدیوں کی نیند سوتے سوتے بیدار ہو گئی ، آپ تاریخ اور تذکرہ کی کتابیں پڑھیے تو آپ کو نظر آئے گا کہ خدا طلبی اور خدا شناسی کے سوا کوئی کام ہی نہ تھا ، شہر شہر ، قصبہ قصبہ ، گائوں گائوں ، بڑی تعداد میں ایسے خدا مست ، عالی ہمت ، عارف کامل ، داعیٔ حق اور خادم خلق ، انسان دوست ، ایثار پیشہ انسان نظر آتے ہیں جن پر فرشتے بھی رشک کریں ، انہوں نے دلوں کی سرد انگیٹھیاں سلگائیں، عشق الٰہی کا شعلہ بھڑکا دیا ، علوم و فنون کے دریا بہا دیے ، علم و معرفت اور محبت کی جوت لگا دی اور جہالت و وحشت ، ظلم و عداوت سے نفرت پیدا کر دی ، مساوات کا سبق پڑھایا ، دکھوں کے مارے اور سماج کے ستائے ہوئے انسانوں کو گلے لگایا ، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بارش کے قطروں کی طرح ہر چپہ زمین پر ان کا نزول ہوا اور اس کا شمار نا ممکن ہے ۔

آپ ان کی کثرت (کمیت) کے علاوہ ان کی کیفیت کو دیکھئے ، ان کی ذہنی پرواز ، ان کی روح کی لطافت اور ذکاوت اور ان کے ذوق سلیم کے واقعات پڑھیے ، انسانوں کے لیے کس طرح ان کا دل روتا اور ان کے غم میں گھلتا اور کس طرح ان کی روح سلگتی تھی ، انسانوں کو خطرہ میں ڈالتے اور اپنی اولاد اور متعلقین کو آزمائش میں مبتلا کرتے تھے ، ان کے حاکموں کو اپنی ذمہ داری کا کس قدر احساس اور محکوموں میں اطاعت و تعاون کا کس قدر جذبہ تھا ، ان کے ذوق عبادت ، ان کی قوت دعا ، ان کے زہد و فقر ، جذبۂ خدمت اور مکارم اخلاق کے واقعات پڑھیے ، نفس کے ساتھ ان کا انصاف ، اپنا احتساب ، کمزوروں پر شفقت ، دوست پروری ، دشمن نوازی اور ہمدردیٔ خلائق کے نمونے دیکھئے، بعض اوقات شاعروں اور ادیبوں کی قوت متخیلہ بھی ان بلندیوں تک نہیں پہنچی ، جہاں وہ اپنے جسم و عمل کے ساتھ پہنچے ، اگر تاریخ کی مستند اور متواتر شہادت نہ ہوتی تو یہ واقعات ، قصے کہانیاں اور افسانے معلوم ہوتے ۔ یہ انقلاب عظیم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عظیم معجزہ اور آپ کی ’’ رحمۃ للعالمینی‘‘ کا کرشمہ ہے ‘‘ (تہذیب و تمدن پر اسلام کے احسانات و اثرات ) 

ہماری قوم نے ہمیشہ نت نئے نعروں سے دھوکہ کھایا ہے لیکن تبدیلی اور ’’ریاست مدینہ بنانے‘‘ کے نعرے کا دھوکہ تو ایسا ہے کہ بلاشبہ صدیوں یاد رکھا جائے گا ۔ یہ نعرہ دینے والے جہاں بھی گئے ‘ اپنے پیچھے کئی بدبودار داستانیں چھوڑآئے ، جب حقیقی تبدیلی لانے والے ہمارے آقا و مولیٰ  ، سرکارِ مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو دلوں کو پاکیزگی ‘ نگاہوں کو حفاظت اور کردار کو عفت بخشی تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہِ کیمیا اثر سے فوری اور دائمی تبدیلی واقعات تو سیرت طیبہ میں بہت سے ہیں لیکن حضرت فضالہ بن عمیر رضی اللہ عنہ کا یہ واقعہ بہت ہی ایمان افروز اور سبق آموز ہے ۔

 رسول اللہ ﷺ فاتحانہ مکہ میں داخل ہوئے اور بیت اللہ کا طواف کرنے لگے ۔ فضالہ بن عمیر آپ ﷺ کی طرف بڑھے جو دل سے مسلمان نہیں ہوئے تھے ۔ وہ بھی آپ کے پیچھے پیچھے طواف کرنے لگے۔ اُن کا ارادہ تھا کہ موقع پاکر رسول اللہ ﷺ کو (نعوذباللہ) قتل کر دیں ۔

وہ آپ کے قریب آئے تو آپ نے اُنہیں دیکھ لیا۔ آپ اُن کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا :  ’’ کیا فضالہ ہو ؟‘‘

انہوں نے جواب دیا :’’ جی ، یا رسول اللہ ! فضالہ ہوں ۔ ‘‘

آپ ﷺ نے دریافت کیا : ’’ تمہارے دل میں کیا بات آئی تھی ؟‘‘

فضالہ نے کہا :’’ کچھ نہیں ، میں تو اللہ کا ذکر کر رہا تھا ۔ ‘‘

رسول اللہ ﷺ ہنس پڑے اور کہا :’’ استغفر اللہ ‘‘

فضالہ کہتے ہیں :’’ پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنا ہاتھ میرے سینے پر رکھا تو میرا دل پُر سکون ہو گیا ۔ ابھی رسول اللہ ﷺ نے اپنا ہاتھ نہیں ہٹایا تھا کہ مجھے محسوس ہونے لگا کہ دنیا میں آپ سے بڑھ کر مجھے کوئی عزیز نہیں۔ ‘‘

اس کے بعد فضالہ گھر کی طرف روانہ ہوئے ۔ راستے میں اُنہیں وہ عورت ملی جس سے اُن کی دوستی رہی تھی ۔ عورت نے اُنہیں دیکھتے ہی کہا :

’’ فضالہ !آئو ہمارے پاس بھی بیٹھ جایا کرو ۔ ‘‘

فضالہ نے نفی میں جواب دیا اور یہ شعر پڑھے :

قالت ھلم الی الحدیث فقلت لا

یابی علیک اللّٰہ والا سلام

’’ اُس نے کہا :’’ آئو باتیں کریں ۔ ‘‘ میں نے کہا:’’ نہیں ‘‘ اللہ اور اسلام تمہاری یہ بات نہیں مانتے ‘‘

لو ما رأیت محمداً و قبیلہ

بالفتح یوم تکسر الاصنام

’’ اگر تم فتح کے دن محمد اور اُن کے زمرے کے افراد کو دیکھتی ، جس دن بت ٹوٹ پھوٹ گئے تھے ۔ ‘‘

لرأیت دین اللّٰہ اضحی بینا

والشرک یغشی و جھہ الاظلام

’’تم دیکھتی کہ اللہ کا دین غالب آچکا ہے اور شرک کا چہرہ تاریکیوں نے ڈھانپ لیا ہے ۔ ‘‘

بعد کے دنوں میں فضالہ ؓ بہت اچھے مسلمان ثابت ہوئے ۔ (البدایہ والنہا یہ )

 رسول اللہ ﷺ صحابۂ کرامؓ  کی مبارک مجلس میں تشریف فرما تھے ۔ ایک نوجوان مسجد میں داخل ہوا اور اِدھر اُدھر دیکھنے لگا گویا کسی کی تلاش میں ہے ۔ اُسے رسول اللہ ﷺ دکھائی دیے تو وہ آپ کی طرف آیا ۔ توقع تھی کہ وہ مجلس میں بیٹھ کر آپ کی باتیں سنے گا ۔ لیکن یہ کیا ! اُس نے رسول اللہ  ﷺ کی طرف دیکھا اور جرأ ت سے کہا :’’ یا رسول اللہ  ﷺ ! مجھے زنا کی اجازت دیجئے ۔ ‘‘

رسول اللہ ﷺ نے نوجوان کی طرف دیکھ کر اطمینان سے کہا :

’’ کیا تمہیں اپنی والدہ کے لیے زنا پسند ہے ؟‘‘

اس نے کہا:’’ نہیں ۔‘‘

اس پر آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ اسی طرح لوگ بھی اسے اپنی مائوں کے لیے پسند نہیں کرتے ۔ ‘‘

پھر دریافت کیا : ’’ کیاتم اپنی بہن کے لیے زنا پسند کرتے ہو ؟‘‘

نوجوان نے کہا :’’ نہیں ۔ ‘‘

آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ اسی طرح لوگ اسے اپنی بہنوں کے لیے پسند نہیں کرتے ۔ ‘‘

آپ ﷺ نے پھر پوچھا : ’’ کیا تم اپنی پھوپھی یا خالہ کے لیے زنا پسند کرتے ہو ؟‘‘

نوجوان نے اس بار بھی نفی میں جواب دیا ۔

بالآخر آپ ﷺ نے فرمایا :

’’ تو لوگوں کے لیے بھی وہی پسند کرو جو تم اپنے لیے پسند کرتے ہو اور لوگوں کے لیے بھی وہ ناپسندسمجھو جو تم خود نا پسند کرتے ہو ۔ ‘‘

اور نوجوان کو ادراک ہو گیا کہ وہ غلطی پر تھا ۔ اس نے نہایت تواضع سے کہا :

’’ اللہ سے دعا کیجئے کہ وہ میرا دل پاک کردے۔‘‘

رسول اللہ ﷺ نے نوجوان کے سینے پر ہاتھ رکھا اور دعا کی :

’’ اے اللہ ! اس کے دل کو ہدایت دے ، اس کا گناہ معاف کر اور اس کی شرمگاہ کی حفاظت کر ۔ ‘‘

نوجوان یہ کہتا ہوا مسجد سے باہر آگیا :’’ واللہ ! میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور مجھے دنیا کا کوئی کام زنا سے زیادہ پسند نہیں تھا اور اب یہ حالت ہے کہ دنیا کا کوئی کام مجھے زنا سے بڑھ کر نا پسند نہیں ۔ ‘‘ (مسند احمد )

بلاشبہ یہ ہے وہ تبدیلی جس نے ریاست ِ مدینہ کی بنیاد رکھی اور مولانا حالی نے اس کا نقشہ یوں کھینچا :

اُتر کر حرا سے سوئے قوم آیا

اور اک نسخۂ کیمیا ساتھ لایا

عرب جس پہ تھا قرنوں سے جہل چھایا

پلٹ دی بس اک آن میں اس کی کایا

رہا ڈر نہ بڑے کو موج بلا کا

ادھر سے اُدھر پھر گیا رخ ہوا کا

اللہ کریم بھی پاکستان کو ایسی ہی پاکیزہ ، مبار ک اور عظیم تبدیلی نصیب فرمائے۔(آمین ثم آمین)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online