Bismillah

681

۹تا۱۵ جمادی الثانی۱۴۴۰ھ  بمطابق ۱۵تا۲۱ فروری۲۰۱۹ء

ایک فریضہ …… ایک نیکی (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 673 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Aik Fariza Aik Naiki

ایک فریضہ …… ایک نیکی

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 673)

ربیع الاول کے مہینے میں بندہ نے اللہ تعالیٰ کی توفیق سے سیرت طیبہ کے حوالے سے’’ رسول اکرم ﷺ کا ساتھ چاہیے؟‘‘ کے عنوان پر مستقل تین مضامین لکھے جنہیں کئی احباب نے پسندیدگی کی نظر سے دیکھا اور بعض نے یہ اصرار بھی کیا کہ ایسی مزید احادیث مبارکہ جن میں اہل ایمان کو مختلف اعمال پر یہ خوشخبری سنائی گئی ہے کہ روز قیامت رحمت کائنات  ﷺ کی معیت اور رفاقت نصیب ہو گی وہ بھی سامنے آنی چاہئیں۔سرسری تلاش سے اس طرح چند مزید عنوانات پر فرامین نبوی سامنے آگئے ،جو ایک طرف تو اس سعادت عظمیٰ اور نعمت کبریٰ کے تذکرے پر مشتمل ہے تو دوسری طرف ان میں ہم سب کے لیے بہت اہم ہدایات ملتی ہیں اور ایک مسلم معاشرہ کبھی بھی ان آفاقی تعلیمات سے بے نیاز نہیں ہو سکتا ۔آج کی مجلس کا تعلق یتیموں کے حقوق اور ان کے خیال رکھنے پر ملنے والے عظیم انعامات سے ہے کیونکہ اس عظیم عمل پر خود زبان رسالت سے واضح بشارتیں آتی ہیں۔

عالمی اداروں کی رپورٹ کے مطابق دنیا میں اس وقت پندرہ کڑور تیس لاکھ بچے یتیم ہیں اور ان بچوں میں چھ کڑور یتیم بچے صرف ایشیا میں موجو د ہیں ۔اور ان بچوں کی تعدادا تنی زیادہ ہے کہ اگر یہ یتیم بچے انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنائیں تو پوری دنیا کے گرد حصار بن سکتا ہے ۔چند مسلم ممالک کشمیر ،عراق ،افغانستان ،فلسطین اور شام وغیرہ میں خاص طور پر گزشتہ چند سال سے مسلط کی گئی جنگوں کے باعث یتیم بچوں کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔پاکستان میں بھی یتیم بچوں کے حوالے سے صورت حال مختلف نہیں ،گزشتہ عشرے میں آنے والی ناگہانی آفات ،بد امنی کے خلاف جنگ،صحت عامہ کی سہولیات کی کمی اور روز مرہ حادثات کے باعث جہاں ہزاروں افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ،وہیں لاکھوں بچے بھی اپنے خاندان کے کفیل سے محروم ہو گئے اور معاشرے کے یتیم ٹھہرے۔مختلف اداروں کی مطابق پاکستا ن میں ۴۲ لاکھ بچے یتیم ہیں جن کی عمریں ۱۵ سال سے کم ہے اور ان میں بڑی تعداد ایسے بچوں کی ہے ،جنہیں تعلیم وتربیت ،صحت اور خوراک کی مناسب سہولیات میسر نہیں ۔بد قسمتی سے روزبروز بگڑتی معاشی صورت حال ،کم آمدنی اور سماجی رویوں کے باعث بھی یتامیٰ کے خاندان کے لیے اس کا بوجھ اٹھانا مشکل ہو جا تا ہے۔

یہ بچے تعلیم وتربیت اور مناسب سہولیات نہ ملنے کے باعث معاشرتی اور سماجی محرمیوں کا شکار ہو جاتے ہیں ۔بلکہ کئی تو بے راہ روی تک کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ توجہ اور بنیادی سہولیات نہ ملنے کے باعث یہ یتیم بچے معاشرے کے بے رحم تھپیڑوں کی نذر ہو جاتے ہیں اور پھر انکی تعلیم وتربیت ایک سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔

ٰٰٰیتیم کے حقوق پر اسلام نے بہت زیادہ زور دیا ہے جس کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ قرآن مجید فرقان حمیدمیں۲۳ مختلف مواقع پریتیم کا ذکر کیا گیا ہے۔ان آیات مبارکہ میں جہاںپر یتیم کے ساتھ حسن و سلوک اور ان کے حق ادا کرنیکا حکم دیا گیا ہے وہاں پر یتیم کے ساتھ زیادتی کرنے والے،ان کے حقوق ومال غصب کرنے والے پر سخت ترین وعید کی گئی ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے  :

  ’’بے شک وہ لوگ جو ظلم کرتے ہوٍئے یتیموں کا مال کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میںبالکل آگ بھرتے ہیں اور عنقریب یہ لوگ بھڑکتی ہوئی آگ میں جائیں گے ‘‘ (النساء :۱۰)

ارشاد باری تعالیٰ ہے  :

  ’’اور مت قریب جائو یتیم کے مال کے مگر اس طریقہ سے جو بہت اچھا ہو، یہاں تک کہ وہ  اپنی جوانی کو پہنچے۔‘‘ (انعام :۱۵۳)

مزیدارشاد باری تعالیٰ ہے  : 

’’اور پوچھتے ہیں آپ سے یتیموں کے بارے میں،فرمائیے(ان سے الگ تھلگ رہنے سے )ان کی بھلائی کرنا بہتر ہے اور اگر تم انہیں ساتھ ملا لوتو وہ تمھارے بھائی ہیں اور اللہ خوب جانتا ہے بگاڑنے کو سنوارنے والے سے‘‘(البقرہ:۲۲۰)

 یتیم ہونا کوئی نقص نہیں بلکہ منشا ء خداوندی ہے۔ خالق کائنات ،مالک ارض وسماوات جو چاہتا ہے وہی کرتاہے ۔اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے حبیب ،سرکار دو عالم ،تاجدار ختم نبوت ،امام الانبیاء ﷺ کو حالت یتیمی میں پیدا فرمایا ۔امام الانبیاء ،خاتم النبیینﷺکی ولادت باسعادت سے قبل آپ ﷺ کے والد ماجد حضرت عبداللہ انتقال فرما چکے تھے پھر چھ سال کی عمر میں ہی آپ ﷺکی والدہ ماجدہ بھی انتقال فرما گئیں ۔اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے حبیب ﷺ کی اس کیفیت کا ذکر قرآن مجید میں یوں کیا ہے:

’’کیا اس نے تمہیں یتیم نہ پایا ،پھر جگہ دی‘‘ (الضحیٰ)

پھر اس دُر یتیم ﷺ نے یتامیٰ کی محبت ، ان کے ساتھ حسن سلوک اور ان کے حقوق کی ادائیگی کی نہایت اعلیٰ مثالیں قائم کیں ۔آپ ﷺ نے یتامیٰ کی اچھی کفالت کرنے والے کو جنت کی خوشخبری دی اور ان کے حقوق پامال کرنے والے کو دردناک عذاب کی وعید سنائی۔

امام عبد الرزاق الصنعانی ؒ نے’’ مصنف عبد الرزاق کتاب العلم ‘‘ میں حضرت سیدنا دائود علیہ السلام کے قول کے طور پر اسے نقل کیا اور چند ایک محدثین کرام نے اسے آقا ﷺ کی حدیث کے طور پر بھی نقل کیا ہے۔

’’کن للیتیم کأب رحیم‘‘

یتیم پر اس کے والد کی طرح شفقت فرمائیے

یعنی جب کسی یتیم کو دیکھو تو اس یتیم کے لیے محبت کرنے والے باپ بن جایا کرو ،جس طرح اپنے بیٹے کو گود میں اٹھا لیتے ہو اسی طرح کوئی یتیم سامنے آئے تو  اسے اٹھا لیا کرو۔ جس طرح اپنی اولاد کو سینے سے لگا لیتے ہو اسی طرح کسی یتیم کو پاؤ تو اسے بھی اپنے سینے سے لگا لیا کرو جس طرح اپنے بچوں کے لیے کھلونا یا کھانے پینے کی چیز بازار سے خرید کر لاتے ہو ۔اسی طرح جو بھی تمہارے ارد گرد ،گلی ،محلے ،عزیز واقارب اور رشتہ داروں میں اگر کوئی یتیم بچہ ہو تو اس کے لیے بھی وہ چیز لے کر آؤ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کا باعث بنتا ہے اور جنت میں لے جانے والا کام ہے۔( المصنف ،کتاب العلم ، ج۱۰ ، ۲۶۸)

یتیم کی اچھی پرورش کے فضائل

جس کے زیر سایہ یتیم ہو تو اسے چاہیے کہ وہ اس یتیم کی اچھی پرورش کرے،احادیث مبارکہ میں یتیم کی اچھی پرورش کرنے کے بہت فضائل بیان کئے گئے ہیں ،ان میں سے چند فضائل درج ذیل ہیں ۔

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے۔پھر اپنی شہادت والی اور درمیان والی انگلی سے اشارہ فرمایا اور انہیں کشادہ کیا ۔‘‘ (بخاری)

حضرت ابو ہریرہ  رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’ مسلمانوں میں سے سب سے اچھا وہ گھر ہے جس میں کوئی یتیم ہواوراس کے ساتھ اچھا سلوک کیا جاتا ہواور سب سے برا گھر وہ ہے جس میں یتیم کے ساتھ برا سلوک کیا جاتا ہو۔(مشکوٰۃ،ابن ماجہ)

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرمﷺ نے فرمایا:

’’جس نے یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرا اور اس کا مقصداللہ تعالیٰ کی رضاحاصل کرنا تھاتو اس کے لئے ہر اس بال کے بدلے نیکیاں ہیںجس جس بال کو اس کا ہاتھ لگا تھا۔ جس نے اپنی زیر کفالت کسی یتیم بچی یا بچے کے ساتھ اچھا سلوک کیاتو وہ اور میںجنت میں اس طرح ہوں گے۔آپ ﷺ نے اپنی شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی میں تھوڑا فاصلہ رکھا۔‘‘(مسنداحمد بن حنبل ، طبرانی فی المعجم الکبیر،درمنثور)

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سرکار مدینہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’جنت میں ایک گھر ایسا ہے جس کا نام دار الفرح(خوشی کا گھر )ہے۔اس گھر میںوہی لوگ داخل ہوں گے جنہوں نے دنیا میں مسلمانوں کے یتیم بچوں کا دل خوش کیا ہو گا۔‘‘(کنزالعمال ج۳)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا :

’’یتیم کی پرورش کرنے والا اگرچہ وہ اس کا رشتہ دار ہو یا نہ ہو وہ اور میں جنت میں اس طرح ہوں گے راوی نے درمیان والی انگلی اور شہادت کی انگلی ملا کر اشارہ کیا ‘‘ (مسلم شریف ،مسند احمد بن حنبل)

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہماسے روایت ہے کہ سرکار مدینہ ﷺ نے فرمایا :

جو شخص یتیم کو ٹھکانہ (گھر) دے کر اس کے کھانے پینے کا انتظام کر دے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت واجب کردے گا ۔ہاں ! مگر یہ کہ وہ کوئی ایسا گناہ (شرک وکفر ) کرے جو معافی کے لائق نہیں۔(تو وہ جنت میں نہ جا سکے گا)(سنن ترمذی )

یتیموں کا مال ناحق کھانے کی وعیدیں

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

’’بے شک وہ لوگ جو ظلم کرتے ہوئے یتیموں کا مال کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میںبالکل آگ بھرتے ہیں اور عنقریب یہ لوگ بھڑکتی ہوئی آگ میں جائیں گے۔ ‘‘ (النساء :۱۰)

اس آیت کریمہ میں یتیموں کا مال ناحق کھانے پر سخت وعید بیان کی گئی ہے اور یہ سب یتیموں پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے کیونکہ وہ انتہائی کمزور اور عاجز ہونے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی مزید لطف وکرم کے حق دار تھے ۔ اس آیت میں جو یہ ارشاد فرمایا گیا کہ’’ وہ اپنے پیٹ میں بالکل آگ بھرتے ہیں ‘‘

اس سے مراد یہ ہے کہ یتیموں کا مال ناحق کھانا گویا آگ کھانا ہے کیونکہ یہ مال کھانا جہنم کی آگ کے عذاب کا سبب ہے۔(تفسیر کبیر ، النساء: ۱۰ )

احادیث مبارکہ میں بھی یتیموں کا مال ناحق کھانے پر کثیر وعیدیں بیان کی گئی ہیں ۔ان میں سے تین وعیدیں درجہ ذیل ہیں:

۱)حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :

’’قیامت کے دن ایک قوم اپنی قبروں سے اس طرح اٹھائی جا ئے گی کہ ان کے منہ سے آگ نکل رہی ہو گی ۔

عرض کیاگیا: یا رسول اللہ ! وہ کون لوگ ہوں گے؟

ارشاد فرمایا :’’کیا تم نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کو نہیں دیکھا:

’’  اِنَّ  الَّذِیْنَ  یَاْکُلُوْنَ  اَمْوَالَ  الْیَتٰمٰی  ظُلْمًا   اِنَّمَا  یَاْ کُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِھِمْ نَارًا ط وَسَیَصْلَوْنَ  سَعِیْرًا‘‘

بے شک وہ لوگ جو ظلم کرتے ہوئے یتیموں کا مال کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں بالکل آگ بھرتے ہیں اور عنقریب یہ لوگ بھڑکتی ہوئی آگ میں جائیں گے۔(کنزالعمال)

۲)حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشادفرمایا :

’’میں نے معراج کی رات ایسی قوم دیکھی جس کے ہونٹ اونٹوں کے ہونٹو ں کی طرح تھے اور ان پر ایسے لوگ مقرر تھے جو ان کے ہونٹوں کو پکڑتے پھر ان کے منہ میں آگ کے پتھر ڈالتے جو ان کے پیچھے سے نکل جاتے۔میں نے پوچھا: اے جبرئیل !یہ کون لوگ ہیں؟

 عرض کی :یہ وہ لوگ ہیں کہ جو یتیموں کا مال ظلم سے کھاتے تھے ۔‘‘(تہذیب الآثار ،مسند عبداللہ بن عباس )

۳) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا:

’’چار شخص ایسے ہیں جنہیں جنت میں داخل نہ کرنااور اس کی نعمتیں نہ چکھانا اللہ تعالی پر حق ہے:

(۱)شراب کا عادی (۲)سود کھانے والا (۳)ناحق یتیم کا مال کھانے والا(۴)والدین کا نافرمان (مستدرک ،کتاب البیوع )  

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online