Bismillah

681

۹تا۱۵ جمادی الثانی۱۴۴۰ھ  بمطابق ۱۵تا۲۱ فروری۲۰۱۹ء

دو تاریخی مغالطے (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 676 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Do Tareekhi Mughalte

دو تاریخی مغالطے

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 676)

کچھ تاریخی مغالطے ایسے ہوتے ہیں جو غالب کے بالکل اس شعر کے مصداق نظر آتے ہیں :

ہیں کواکب کچھ ، نظر آتے ہیں کچھ

دیتے ہیں دھوکا یہ بازی گر کھلا

ہمارے ہاں عصری تعلیم گاہوں میں جو تاریخ پڑھی اور پڑھائی جا رہی ہے ، اس میں دو شخصیات کو بہت ہی تقدس اور عظمت کے ساتھ پیش کیا گیا ہے ۔ ان میں سے ایک کا تعلق سرزمین ہند سے ہے اور دوسری شخصیت کا تعلق ترکی سے ہے ۔ ہم نے بھی جب تک نصابی تعلیم میں شامل تاریخ کی کتابیں پڑھیں تب تک ہم بھی ان دونوں شخصیات کے سحر میں مبتلا رہے لیکن جب بعد میں آزاد مطالعہ کا موقع ملا اور تحقیق و جستجو نے ابھارا تو پتہ چلا کہ حقائق وہ نہیں ہیں جو ہم رسمی طور پر پڑھتے چلے آرہے ہیں بلکہ تصویر کا دوسرا رخ بہت ہی افسوسناک اور المناک ہے ۔ پاکستان کے وزیراعظم جب حالیہ دورئہ ترکی پر گئے تو وہاں انہوں نے تحریک خلافت اور مصطفی کمال پاشا اتاترک کے بارے میں جن خیالات کا اظہار کیا وہ یقینی طور پر تاریخی حقائق کے بالکل برخلاف تھے لیکن ہمارا مسئلہ یہی ہے کہ ہم مسخ شدہ تاریخی حقائق آسانی سے صرف اس لیے قبول کر لیتے ہیں تاکہ ہماری عقیدت کے تاج محل پر کوئی زدنہ پڑے

مصطفی کمال پاشا وہی شخصیت ہیں جنہیں اقبال مرحوم نے اپنے اس شعر میں ’’ ترک ناداں‘‘ کے لقب سے یاد کیا ہے :

چاک کر دی ترک ناداں نے خلافت کی قبا

سادگی مسلم کی دیکھ ، اوروں کی عیاری بھی دیکھ

یہی وہ انتہا پسند شخصیت ہیں جنہوں نے صرف ترکی میں سر پر ہیٹ پہننے کے معاملے میں سینکڑوں افراد کو قتل کروایا ، انہوں نے ہی ترکی کے قرآن و سنت پر مبنی آئین کو منسوخ قرار دے کر سوئٹررلینڈ کے قانون کو جبری طور پر نافذ کیا ۔ انہوں نے ہی ترکی کے تمام مسلمانوں کے حقوق سلب کرتے ہوئے نہ صرف عربی خطبہ اور عربی اذان پر پابندی عائد کی بلکہ ترکی سے حج و عمرہ کی ادائیگی کیلئے جانا بھی قانونی طور پر جرم قرار دیا۔ انہوں نے ہی ملک بھر میں دینی مدارس پر پابندی عائد کر کے ہر قسم کی قرآن و سنت پر مبنی تعلیم کو خلاف قانون قرار دیا ۔ انہوں نے ہی ترکی بھر میں مسلم خواتین کے پردہ کرنے کو قانونی جرم قرار دیا ۔ انہوں نے یورپی لباس پہننے اور ننگے سر رہنے کو قانونی طور پر لازمی قرار دیا ۔ اسی طرح ہجری کلینڈر ختم کر کے شمسی کلینڈر کا اعلان کیا اور صدیوں سے رائج ترکی زبان کے عربی رسم الخط کو ختم کر کے رومن رسم الخط جاری کیا ۔ صرف اسی پر بس نہیں کیا گیا بلکہ نماز ، دعا اور قرآن مجید کی تلاوت ترکی زبان میں لازمی قرار دیتے ہوئے قرآن مجید کی عربی زبان میں اشاعت پر پابندی عائد کر دی ۔ ظاہر ہے کہ ایسے اقدمات نے ترک مسلمانوں کی نسلوں کو ایمان کی دولت سے محروم کر دیا اور آج اسی احساس کی وجہ سے ترک معاشرہ دین اسلام کی طرف تیزی سے واپس پلٹ رہا ہے۔

یہ بات اب بہت سے ترک محققین ثابت کر چکے ہیں کہ ان کا تعلق یہودیوں کی خفیہ جماعت سے تھا اور انہی کی ایماء پر ترک معاشرے کے اسلامی رخ کو بدلنے کیلئے مصطفی کمال پاشا نے ظلم و ستم اور جبر و تشدد کا ہر حربہ استعمال کیا ۔

اس تاریخی داستان کا مختصر پس منظر یوں سمجھنا چاہیے کہ یہ سلطان عبدالحمید ثانی مرحوم کی خلافت کا دور تھا جب یورپ کے صنعتی اور فکری و ثقافتی انقلاب سے متاثر ہو کر ترکی میں ترک قومیت کے رجحانات کے ساتھ ساتھ آزاد طرز زندگی اختیار کرنے کا ذوق بھی ابھر رہا تھا ۔ اور خلافت عثمانیہ کے نظام کو جمہوری اصولوں کے دائرہ میں لانے اور کسی باضابطہ دستور کا پابند بنانے کے لیے مختلف اطراف سے کوششیں ہو رہی تھیں ۔ ان کوششوں میں ایسے افراد اور حلقے بھی شریک تھے جو خلوص دل سے یہ چاہتے تھے کہ خلافت کا نظام خاندانی بادشاہت کے دائرہ سے نکل کر ایک باضابطہ دستوری نظام کی حیثیت اختیار کر لے تاکہ وہ زیادہ استحکام اور اعتماد کے ساتھ عالم اسلام کی قیادت کر سکے ۔ جبکہ ایسے افراد و گروہ بھی اس میں سرگرم تھے جو ان قومی رجحانات کی آڑ میں یورپ کے سیاسی فلسفہ و ثقافتی ڈھانچے کو مکمل طور پر ترکی میں کارفرما دیکھنے کے خواہشمند تھے ۔چنانچہ اس ماحول میں مصطفی کمال نے فوجی خدمات کے آغاز میں ہی ’’ جمعیۃ وطن وحریت‘‘ کے نام سے ایک خفیہ تنظیم قائم کر لی اور ہم خیال فوجی افسروں کے ساتھ رابطے شروع کر دیے جو آگے چل کر ’’ انجمن اتحاد و ترقی‘‘ کے نام سے ایک مضبوط سیاسی قوت کی حیثیت اختیار کر گئی اور خلافت کو جمہوریت میں تبدیل کرنے میں سب سے اہم کردار اسی پارٹی نے ادا کیا ۔ مصطفی کمال کو اس مہم میں دیگر دو افسروں عصمت پاشا اور انور پاشا کی حمایت حاصل تھی ۔ مگر آگے چل کر انور پاشا ان کے ساتھ نہ رہے جبکہ عصمت پاشا نے یہ رفاقت آخر دم تک نبھائی حتیٰ کہ جب ۱۹۲۴ء میں جمہوریہ ترکیہ کا اعلان ہوا تو اس کے صدر مصطفی کمال اتاترک اور وزیر اعظم عصمت پاشا بنے جواب عصمت انونو کا لقب اختیار کر چکے تھے ۔

مصطفی کمال رفتہ رفتہ افواج کے کمانڈر انچیف کے منصب تک پہنچے اور ان کے ساتھ ساتھ ان کی درپردہ سیاسی جدوجہد بھی جاری رہی ۔ انہوں نے مختلف محاذوں پر جنگی خدمات سرانجام دیں اور ایک کامیاب جرنیل اور مدبر کے طور پر ان کا تعارف نمایاں ہوتا گیا ۔ یہی وہ زمانہ ہے کہ جب ہندوستان اور دنیا کے دیگر مسلم ممالک کے بہت سے علماء اور زعماء نے ان کی وقتی شہرت سے متاثر ہو کر ان کے لیے تعریفی کلمات کہے اور لکھے ۔بہرحال! انہوں نے خلافت عثمانیہ کے مرکز استنبول کی بجائے انقرہ کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنایا اور پورے استقلال کے ساتھ اپنے مشن میں سرگرم رہے ۔

پہلی عالمی جنگ میں خلافت عثمانیہ نے جرمنی کا ساتھ دیا تھا اس لیے جرمنی کی شکست کے اثرات اس پر بھی پڑے اور یورپی قوتوں نے شکست خوردہ ممالک کے حصے بخرے کیے تو اسی بندر بانٹ میں استنبول پر بھی قبضہ کر لیا ۔ اس وقت کے عثمانی خلیفہ سلطان عبدالوحید تھے ۔ مصطفی کمال نے قابض متحدہ فوجوں کے خلاف علم بغاوت بلند کر دیا اور یورپی ملکوں سے مطالبہ کیا کہ ان کی فوجیں ترکی کی حدود سے باہر نکل جائیں اور ترکی کی خود مختاری اور وحدت و آزادی کو تسلیم کیا جائے ۔ اس مقصد کے لیے مصطفی کمال نے یونان کے ساتھ جنگ بھی لڑی اور اس مہارت کے ساتھ ترک فوجوں کی کمان کی کہ یونانی فوج کو پسپائی اختیار کرنا پڑی ۔ یوں مصطفی کمال اتاترک قوم کے ظاہری طور پر نجات دہندہ اور آزادی کی علامت کے طور پر ترک قوم کے ہیرو بن گئے ۔

اس دوران نومبر ۱۹۲۲ء میں ترکی کے بارے میں فیصلہ کرنے کے لیے پورپی ملکوں کی کانفرنس ہوئی جس میں مصطفی کمال اتاترک کی طرف سے عصمت انونو نے شرکت کی ۔ اس کانفرنس میں برطانوی وفد کے لیڈ ر لارڈ کرزن نے ترکی کی آزادی اور خود مختاری کو تسلیم کرنے کے لیے چار شرائط پیش کیں :

خلافت کے نظام کو مکمل طور پر ختم کیا جائے

خلیفہ کو ملک بدر کر دیا جائے

خلیفہ کے تمام اموال قومی تحویل میں لیے جائیں

ترکی کے سیکولر ریاست ہونے کا اعلان کیا جائے

اس وقت عصمت انونوان شرائط کو تسلیم کیے بغیر کانفرس سے واپس آگئے مگر بعد میں ترکی کی نئی قومی لیڈر شپ نے ان تمام شرائط کو تسلیم کر لیا ۔ چنانچہ تین مارچ ۱۹۲۴ء کو خلافت کا نظام ختم کر کے خلیفہ کے خاندان کو جلاوطن کر دیا گیا اور جمہوریہ ترکیہ کے قیام کا اعلان کر کے اسے سیکولر ریاست بنانے کے لیے جو اہم اقدامات کیے گئے ان کی طرف ہم پہلے اشارہ کر چکے ہیں ۔ یہ تمام معلومات انتہائی مستند کتابوں سے یہاں نقل کر کے فیصلہ ہم اپنے قارئین پر چھوڑتے ہیں کہ کیا ایسے ’’ کارنامے‘‘ سرانجام دینے والی شخصیت کو اسلام اور مسلمانوں کا ہیرو قرار دیا جا سکتا ہے ۔

ہندوستان کی مشہور شخصیت سرسید احمد خان سے وابستہ پورا ایک مکتب فکر موجود ہے جن کے نزدیک وہ ہر قسم کی تنقید سے بالا تر ہستی ہیں لیکن تاریخ کا وہ طالب علم جس نے مقالات سرسید کی کچھ ورق گردانی کی ہو وہ کبھی بھی اس بات سے اتفاق نہیں کر سکتا ۔

تاریخی واقعات اس پر گواہ ہیں کہ ہندوستان میں مرزا غلام احمد قادیانی اور سر سید احمد خان کو عیار و مکار انگریزوںنے صرف اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے کھڑا کیا  تھا ‘ ان دونوں سے انہوں نے وہ کام لیے جو وہ اپنے ملکوں کی ساری دولت خرچ کر کے بھی نہیں کر سکتے تھے ۔ ان دونوں کو سفید فام دشمنان اسلام نے یہ خدمت سونپی تھی کہ دین اسلام میں اپنے باطل نظریات اور خرافات کے ذریعہ شگاف ڈال کر اہل اسلام کو ذہنی اور مذہبی جنگ میں جھونک دیں ‘ تاکہ وہ بے فکر ہو کر ہندوستان پر حکومت کے مزے لوٹتے رہیں ۔  سرسید نے بہت سارے مضامین ، مقالات اور کتب تحریر کی ہیں‘ مگر سب سے ان کا مقصد اپنے غلط نظریے کی ترویج و اشاعت ہے ۔ سرسید نے ایک کتاب ’’ خلق الانسان‘‘ یعنی انسانی پیدائش سے متعلق لکھی ہے ‘ جس میں ڈارون کے اس نظریہ کی تصدیق و توثیق کی گئی ہے کہ انسان پہلے بندر تھا پھر بتدریج انسان بنا‘ حالانکہ قرآن و سنت کی نصوص سے واضح طور پر ثابت ہے کہ انسان حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد ہے اور آدم علیہ السلام کو مٹی سے پیدا کیا گیا تھا ۔ سرسید ان صریح نصوص کے منکر تھے۔

انگریزوں نے سرسید سے جو سب سے بڑی خدمت لی وہ یہ ہے کہ انہوں نے ایک کتاب’’ اسباب بغاوت ہند‘‘ کے نام سے لکھی ۔۱۸۵۷ء میں مسلمانوں نے انگریزوں کے خلاف مسلح جدوجہد کرتے ہوئے علم جہاد بلند کیا تھا ، سرسید کو اس سے بہت دکھ ہوا کہ انگریزوں کے خلاف مسلمان کیوں اٹھ کھڑے ہوئے ، انہوں نے اس جہاد کو بغاوت کا نام دیا ، اور بغاوت کے اسباب بیان کر کے ’’ اسباب بغاوت ہند‘‘ نامی کتاب لکھی ‘ جس میں مسلمانوں کو انگریز حکومت کے تابع فرمان رہنے کا مشورہ دیا ۔ نیز مسلمانوں کو مشورہ دیا کہ تمہاری کامیابی اس میں ہے کہ انگریزی زبان اور علوم سیکھو اور انگریزی تہذیب و تمدن کے رنگ میں رنگ جائو تاکہ کوئی فرق باقی نہ رہے اور دوریاں ختم ہوں ۔

سرسید کی طرف ایک کتاب ’’ آثار الصنادید‘‘ منسوب کی جاتی ہے جو دہلی کے اکابر ، علماء اور امراء کے حالات اور ان کے مزارات کی نشاندہی پر مشتمل ہے ۔ مولانا عبدالحق حقانی  ؒ تحریر فرماتے ہیں کہ آثار الصنادید سرسید کی تالیف نہیں ہے ‘ بلکہ شاہ جہان آباد کے رہنے والے مرزا بخشی محمود نے ایک کتاب سیر المنازل لکھی تھی

 جو فارسی زبان میں تھی‘ آثار الصنادید اسی کا اردو ترجمہ ہے جسے سرسید کی ذاتی تالیف کی شہرت دی گئی ہے ۔

سرسید نے تفسیر القرآن کے نام سے پندرہ پاروں کی تفسیر لکھی ہے جو درحقیقت تحریف القرآن ہے ۔ اس کی چھ جلدیں سورئہ فاتحہ سے لے کر سورئہ اسراء تک سرسید کی زندگی ہی میں علی گڑھ کالج سے شائع ہوئیں ، ساتویں جلد سورئہ کہف سے سورئہ طٰہٰ تک ان کی وفات کے بعد علی گڑھ بک ڈپو نے شائع کی ۔ سرسید نے تفسیر القرآن کے لیے یہ معیار مقرر کیا کہ ان کی زندگی تک تاریخ اسلام کے تیرہ سو سال کے عرصہ میں توارث اور تواتر کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ،صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ، تابعین ؒ اور علماء و اولیاء امت سے قرآن کریم کی جو تفسیر منقول چلی آرہی تھی سرسید نے اس صراطِ مستقیم کو چھوڑ کر اپنی محدود عقل اور بے علمی کا سہارا لیا اور ایک خانہ ساز تفسیر مرتب کی ۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی حفاظت کی خود ذمہ داری لی ہے چنانچہ سرسید کے باطل نظریات کی سرکوبی کے لیے اللہ تعالیٰ نے علماء حق کو پیدا فرمایا ۔ اس سلسلے میں سرسید کے غلط افکار و نظریات کو جس شخصیت نے سب سے زیادہ ہدف تنقید بنا کر طشت از بام کیا ‘ وہ حضرت مولانا عبدالحق دہلوی ؒ ہیں ۔ آپ ؒ ہندوستان کے ضلع انبار میں ۱۸۴۹ء کو پیدا ہوئے اور دہلی میں ۱۹۱۶ء کو وفات پائی ۔ آپ نے قرآن کریم کی تفسیر فتح المنان لکھی جو تفسیر حقانی کے نام سے مشہور ہے ، اس تفسیر میں آپ نے قرآنی آیات کے اصلی مقاصد و مطالب کھول کر بیان کیے اور اس کی ابتداء میں ایک طویل مقدمہ لکھ کر سرسید کے تمام لغویات کو کھول کر بیان کیا اور اس کی تردید مسکت جوابات کے ذریعہ کی ۔

خود سرسید کے پیرو کارو معتقد مولانا الطاف حسین حالی‘ مؤلف مسدس تحریر فرماتے ہیں کہ :

’’ سرسید نے اس تفسیر میں جا بجا ٹھوکریں کھائی ہیں اور ان سے رکیک لغزشیں سرزد ہوئی ہیں۔‘‘( حیات جاوید مطبوعہ آگرہ ، ص ۱۸۴)

اس کے علاوہ مولانا محمد علی مراد آبادی نے ’’البرہان علی تجہیل من قال بغیر علم فی القرآن‘‘ میں سرسید کے غلط نظریات پر خوب پکڑ کی ہے ، نیز عبداللہ یوسف علی نے اپنی انگریزی تفسیر قرآن میں لکھا ہے کہ سرسید کی تفسیر قرآن ، علماء امت کے مسلمہ اصول و نظریات سے متصادم ہے ۔

مصطفی کمال پاشا اتاترک اور سرسید احمد خان جیسی کئی شخصیات صرف تاریخی مغالطوں کی حیثیت رکھتی ہیں اور ہمیں چاہیے کہ ہم ایسی شخصیات کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے تاریخی حقائق کو غیر جانبدارانہ طور پر پڑھ لیں اور انہی کی بنیاد پر ان کو پرکھیںورنہ کئی طرح کی غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں اور انسان عقائد و نظریات میں کئی گمراہیوں کا شکار ہو جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہر قسم کی گمراہیوں سے ہماری اور پوری امت مسلمہ کی حفاظت فرمائے (آمین ثم آمین)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online