Bismillah

681

۹تا۱۵ جمادی الثانی۱۴۴۰ھ  بمطابق ۱۵تا۲۱ فروری۲۰۱۹ء

صاحب اولاد اہل ایمان توجہ فرمائیں (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 677 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Saheb e Aulad Ahl e Eman

صاحب اولاد اہل ایمان توجہ فرمائیں

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 677)

گزشتہ ہفتے سعودی عرب سے تعلق رکھنے والی ایک کم عمر لڑکی نے جوں ہی دین اسلام کو چھوڑنے کا اعلان کیا تو دنیا بھر کے کفریہ اداروں اور حکومتوں نے جس طرح اُس کا خیر مقدم کیا اور اُس کو پذیرائی بخشی ، اس نے قرآن مجید کی اس آیت مبارکہ کی عملی تفسیر ہمارے سامنے پیش کر دی ہے ـ ـ :

ودّ کثیر من اہل الکتب لو یردونکم من بعد ایمانکم کفارا حسدا من عند انفسھم من بعد ما تبین لھم الحق (البقرہ ۔۱۰۹)

’’اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) میں سے بہت سے لوگ دل سے یہ چاہتے ہیں کہ کاش تمہیں تمہارے ایمان لانے کے بعد کافر بنا کر واپس پھیر دیں۔ یہ اُن کے اُس حسد کی وجہ سے ہے جو اُن کے دلوں میں بیٹھا ہوا ہے ، اس کے بعد کہ حق بات اُن کے سامنے واضح ہو چکی ہے ‘‘۔

دوسری جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :

ولا یزالون یقاتلونکم حتی یردوکم عن دینکم ان استطاعوا ومن یرتدد منکم عن دینہ فیمت وھو کافر فاولئک حبطت اعما لھم فی الدنیا والاخرۃ والئک اصحب النار ھم فیھاخلدون(البقرہ۔ ۲۱۷)

’’اور وہ کافر تم سے مسلسل لڑتے ہی رہیں گے یہاں تک کہ اگر اُن کا بس چلے تو وہ تمہیں تمہارے دین سے پھیر دیں ۔ اور جو شخص تم میں سے اپنے دین سے پھر گیا اور وہ اس حال میں مرا کہ وہ کافر تھا تو ایسے لوگوں کے اعمال دنیا و آخرت میں ضائع ہو جائیں گے ۔اور یہی لوگ جہنمی ہیں جو اس میں ہمیشہ رہیں گے‘‘۔ 

تحقیقات سے اب یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ مختلف ممالک کی حمایت اور مدد سے عالمی سطح کے کئی ادارے باقاعدہ طور پر مسلم ممالک کی بچیوں کو اپنے ملک ، اپنے مذہب اور اپنی اقدار سے بغاوت کی دعوت ، ترغیب اور تربیت دے رہے ہیں ۔ اس مذموم مقصد کو حاصل کرنے کیلئے بچیوں سے مختلف ذرائع کے واسطے سے رابطے کر کے اس بغاوت کے بدلے انہیں پُرکشش پیکج پیش کیے جا رہے ہیں۔ تاریخ میں اہل کفر کے یہ اُوچھے ہتھکنڈے کوئی نئی بات نہیں لیکن سوچنے اور فکر کرنے کی اصل بات یہ ہے کہ اس آزمائش اور امتحان میں اہل ایمان کہاں کھڑے ہیں اور ہم سب کو بحیثیت ایک مسلمان اپنی ذمہ داری کا کتنا احساس ہے ۔

سعودی عرب سے آئی اس خبر نے جہاں یہود و نصاریٰ اور ملحدین کو خوشی کے شادیانے بجانے کا موقع فراہم کیا وہاں اس نے تمام اہل ایمان بالخصوص صاحب اولاد مسلمانوں کے دل بھی زخمی کیے ۔ اس وجہ سے نہیں کہ اسلام کو ایک کم عقل ، ناسمجھ ، ناتجربے کار اور وقتی لالچ کا شکار کسی لڑکی کی تصدیق اور تائید کی ضرورت ہے بلکہ صرف اس وجہ سے کہ اہل کفر نے کتنی مہارت کے ساتھ یہ پورا ڈرامہ سٹیج کیا اور ایک مسلمان گھرانے کی آبرو ، یوں برسر بازار رسوا ہونے کے لیے تیار ہو گئی ۔ بچی کے والد اور دیگر اہل خاندان کے غم اور تکلیف کو ہر دردِ دل رکھنے والا صاحب اولاد مسلمان سمجھ سکتا ہے ۔

اﷲ تعالیٰ نے انسان کو بے شمار نعمتیں عطا فرمائی ہیں۔ اگر ہم ان نعمتوں کو شمار رکرنا چاہیں تو شمار نہیں کر سکتے۔ زندگی اﷲ تعالیٰ کی نعمت ہے، سورج، چاند، ستارے، نباتات، جمادات، پھل، پھول، گرمی، سردی، صحت و تندرستی، علم و عقل، سمجھ و شعور ،ہاتھ پائوں تمام اعضاء اﷲ پاک کی نعمت ہیں۔ ایمان اس کی نعمت ہے، قرآن مجید اس کی نعمت ہے، غرضیکہ اس کی نعمتیں اور احسانات بے شمار ہیں لیکن ان تمام نعمتوں میں سے ایک بڑی نعمت خداوندی ’’اولاد‘‘ بھی ہے۔

 اولاد کو نور چشم بھی کہتے ہیں، لخت جگر بھی اور رونق خانہ بھی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر اولاد نیک ہو تو وہ آنکھوں کا نور بھی ہے ،دل کا سرور بھی ،جگر کا ٹکڑا بھی اور اس کے وجود سے گھر کی ویرانیاں بھی ختم ہو جاتی ہیں ۔

نیک صالح اولاد والدین کے لئے صدقہ جاریہ ہوتی ہے لیکن اس کو صدقہ جاریہ بنانے کے لئے اس کی تربیت بہت ضروری ہے۔ حدیث پاک میں آتا ہے :

لِاَنْ یُوَدِّبْ الرَجُلْ وَلدَہٗ خَیْرٌ مِن اَنْ یَتصَدَّقَ بِصَاعٍ (ترمذی)

’’ انسان کا اپنے بیٹے کو ادب سکھانا ایک صاع صدقہ کرنے سے بہتر ہے‘‘۔

آج کل ہمارے ہاں اس چیز پر توجہ بہت کم ہے ۔ آج کے مشینی دور میں والدین نے اپنے لیے اتنی زیادہ ضروری اور غیر ضروری مصروفیات پیدا کر لی ہیں کہ اُن کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا کہ وہ بچوں کو کچھ سکھا سکیں، ادب و تعلیم تو دور کی بات ہے، ان کے پاس اتنا وقت بھی نہیں ہوتا کہ اپنے جگر گوشوں کی مشغولیات پر ہی نظر رکھیں کہ آیا ہمارے بچے جن دوستوں کے ساتھ کھیلتے ہیں، ان کی عادتیں اچھی ہیں یا نہیں؟ کیا وہ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کا استعمال درست طریقے سے کر رہے ہیں یا لوگوں کے لئے پریشانی کا سبب اور اپنے مستقبل اور دنیا و آخرت کی بربادی کا سامان کر رہے ہیں ۔

بچے گلشن کے پھول ہیں، ان کو ہر وقت کانٹ چھانٹ کی ضروت ہوتی ہے۔ اگر پودے کو کاٹا نہ جائے ،اس کی کانٹ چھانٹ نہ کی جائے تو وہ جنگل کے درخت بن جاتے ہیں۔ اسی طرح اگر بچوں کی تربیت پر توجہ نہ دی جائے ان کی مناسب دیکھ بھال نہ کی جائے، ان کی عادات و اطوار کو سنوارا نہ جائے تو و ہ اولاد جو آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کا سکون ہوتی ہے، و ہ ہی اولاد رحمت کی بجائے زحمت بن جاتی ہے ،والدین کی شاہراہ حیات پر پھولوں کی بجائے کانٹے بکھیر دیتی ہے ، جو امیدیں والدین اس سے وابستہ کرتے  ہیں ان پر پانی پھیر دیتی ہے اور جو خواب والدین دیکھتے ہیں اس کو چکنا چور کر دیتی ہے، والدین کی زندگی اجیرن کر دیتی ہے، ان کے دن کا سکون اور رات کی نیند حرام کر دیتی ہے یہاں تک کہ بسا اوقات تنگ آکر والدین کہتے ہیں کہ کاش تو نے جنم ہی نہ لیا ہوتا اور کبھی دلبرداشتہ ہو کر بد دعا کرنے لگتے ہیں۔

لیکن بد دعا کرنے سے پہلے والدین نے کبھی یہ سوچنے کی زحمت گوارا کی کہ اولاد کا بگاڑ کہیں ہماری غلط تربیت کا نتیجہ تو نہیں۔ اگر ان کی تربیت درست اور اسلام کے قواعد اور احکامات کے مطابق کی ہوتی تو یہ دن نہ دیکھنا پڑتے۔ بچپن میں ان کی الٹی سیدھی حرکتوں پر ان کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور پھر کسی تعلیمی ادارے میں داخل کروا کر والدین خود تربیت سے بے فکر اور آزاد ہو جاتے ہیں ۔ اگر کوئی ہمدرد اس طرف توجہ بھی دلادے تو یہ عذر پیش کیا جاتا ہے کہ ہماری مصروف زندگی میں اس روک ٹوک اور پکڑ دھکڑ کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔

یہ صورتِ حال اتنی افسوسناک ہے کہ اس کی برائی بیان کرنے کے لیے الفاظ کم پڑ جاتے ہیں ۔ جو بچہ یتیم ہو اور تربیت سے محروم رہ جائے ، اس کی حالت بھی قابل افسوس ہے لیکن وہ اولاد جس کے والدین زندہ ہوں لیکن وہ اپنی ذاتی مصروفیات کی وجہ سے اس کی تعلیم و تربیت پر توجہ نہ دے سکیں ، ایسی اولاد تو بہت ہی زیادہ قابل افسوس ہے ۔ عربی کے مشہور شاعر شوقی نے اس بات کو کتنے پُردرد انداز سے کہا ہے:

لَیْسَ الْیَتِیمُ مَنِ انْتَھَیٰ اَبَوَاہٗ

مِنْ ھَمِّ الْحَیَاۃِ خَلَّفَاہٗ ذَلِیْلاً

اِنَّ الْیَتِیمَ ھُوَالَّذِی تَلْقیٰ لَہُ

امًا تَخَلتْ اَوْ ابًا مَشْغُوْلاً

’’وہ بچہ درحقیت یتیم نہیں جس کے والدین

 دنیا کے غم سے آزاد ہو کر اسے بے یارو مددگار چھوڑ گئے ہوں بلکہ حقیقت میں وہ یتیم ہے جس کو ایسی ماں ملے جو اس سے بے توجہ ہو اور اس کا باپ بھی مشغول ہو‘‘۔

یہاں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اسلام بچوں اور بچیوں کے درمیان مکمل مساوات اور عدل کی دعوت دیتا ہے اور بچوں پر رحم و شفقت کے سلسلے میں اسلام نے مرد و عورت یعنی مذکر و مؤنث میں کوئی تفریق نہیں کی ہے تاکہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان مبارک پر عمل ہو۔

 ’’عدل کرو یہی تقویٰ کے قریب ہے‘‘ (المائدہ)

 اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ حکم نافذ ہو جو آپ نے اس حدیث کے ذریعہ دیا ہے جسے اصحاب سنن ،امام احمد و ابن حبان رحمہم اللہ نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کے ذریعہ روایت کیا ہے:

’’تم اپنی اولاد کے درمیان عدل و مساوات کرو، تم اپنی اولاد میں عدل سے کام لو، تم اپنی اولاد میں عدل و انصاف سے کام لو‘‘

چنانچہ قرآن کریم کے اس حکم اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس رہنمائی کے مطابق تاریخ اسلام کی ابتدا اور ہر زمانے میں والدین نے اپنی اولاد کے سلسلہ میں اس بنیادی نقطۂ نظر کو سامنے رکھا جس نے عدل و مساوات، محبت و الفت، شفقت و رحم اور برابری کا سبق دیا تاکہ لڑکے اور لڑکیوں میں کوئی امتیاز اور تفریق نہ برتی جائے۔

اگر کسی اسلامی معاشرے میں کچھ ایسے والدین نظر آتے ہیں جو لڑکے کی بنسبت لڑکی سے امتیازی سلوک روا رکھتے ہیں تو اس کا سبب وہ گندہ اور فاسد معاشرہ ہے جس سے گھٹی میں انہیں و ہ عادات ملی ہیں جن کا دین سے دور کا بھی واسطہ نہیں بلکہ وہ محض زمانہ جاہلیت کی عادات، رواج ہیں اور ایسی ناپسندیدہ اور مبغوض رسمیں ہیں جن کی کڑی دور جاہلیت سے جاملتی ہے ۔اس پریشانی کا اصل سبب ایمان کی کمزوری اور یقین کا عدم استحکام ہے اس لئے کہ اس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے اس فیصلہ سے خوش نہیں جو اللہ نے انہیں لڑکی دے کر کیا ہے۔ان کو یہ بات خوب ذہن نشین کرلینا چاہئے کہ وہ اور ان کا خاندان اور تمام مخلوق مل کر بھی اللہ کے فیصلے کو نہیں بدل سکتے۔ اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمانہ جاہلیت کی ان رسوم کی جڑیں اکھاڑنے اور ان کی بیخ کنی کرنے کے لیے بچیوں کے ساتھ شفقت کا خصوصی تذکرہ کیاہے۔

بچیوں کی دیکھ بھال حسن، سلوک اور خصوصی توجہ سے متعلق دو ارشادات نبوی آپ کے سامنے پیش ہیں۔امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

’’جو شخص دو بچیوں کی بالغ ہونے تک کفالت کرے گا تو وہ قیامت میں اس طرح آئے گا کہ میں اور وہ اس طرح ہوںگے اور آپﷺ نے اپنی انگلیوں کو ملا کر اشارہ کرکے بتلایا۔‘‘

اسی طرح امام احمد رحمہ اللہ اپنی مسند میں حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

’’جس شخص کی تین لڑکیاں ہوں اور وہ ان کو خوش دلی سے برداشت کرے اور اپنے مال سے ان کو کھلائے پلائے اورپہنائے تو وہ لڑکیاں اس شخص کیلئے دوزخ سے بچانے کا ذریعہ بنیں گی۔‘‘

اس لئے تربیت کرنے والے حضرات کو چاہئے کہ ان ارشادات نبویہ اور تعلیمات اسلامیہ کو اپنا رہنما بنائیں اور بچیوںکا خصوصی خیال رکھیں۔ ان کے اور بچوں کے درمیان شفقت و محبت، تحائف کے لین دین اور میراث کی تقسیم وغیرہ میں اسلامی تعلیمات پردل کی خوشی کے ساتھ مکمل عمل کریں تاکہ اس جنت کے مستحق بن سکیں جو آسمان و زمین سے بڑی ہے، اللہ کی اس رضا و خوشنودی کو حاصل کرسکیں جو سب سے بڑی دولت ہے اور روز قیامت اللہ جل شانہٗ کے قرب کو حاصل کر سکیں۔

بچوں اور بچیوں کی تعلیم و تربیت تو ہر دور میں ہی بہت اہم معاملہ رہا ہے لیکن موجودہ دور میں تو اس کی اہمیت اس لیے بھی بہت بڑھ گئی ہے کہ والدین کی معمولی سی غفلت انہیں بہت بڑی شرمندگی سے دوچار کر سکتی ہے ۔ پہلے دور میں گمراہ اولاد اکثر و بیشتر کوئی پناہ گاہ اور ٹھکانہ نہ پا کر واپس والدین کے پاس ہی آجاتے تھے اور باقی زندگی اچھائی کے ساتھ گزار دیتے تھے لیکن اب تو معاشرے میں بے شمار شیطانی قوتیں آپ کی اولاد کو آپ کے ہاتھوں سے چھین لینے کیلئے تیار بیٹھی ہیں ۔ اس مقصد کیلئے تمام جدید آلات ٹی وی ، سمارٹ فون ، لیپ ٹاپ وغیرہ ، اخبارات و رسائل اور عصری تعلیمی ادارے سب ہی ان کے زبردست معاون ہیں ۔ اس لیے اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت پر توجہ فرمائیں اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے ۔

اللہ کریم تمام اہل ایمان کی اولاد کو آنکھوں کی ٹھنڈک اور دنیا و آخرت کی خوشیوں کا ذریعہ بنائے ۔ (آمین ثم آمین)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online