Bismillah

689

۶تا۱۲شعبان المعظم۱۴۴۰ھ  بمطابق ۱۲تا۱۸۱اپریل۲۰۱۹ء

سانحۂ ساہیوال اور تاریخ کے دو سبق (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 678 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Saniha e Lahore

سانحۂ ساہیوال اور تاریخ کے دو سبق

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 678)

اللہ تعالیٰ ہمارے اہل وطن اور پوری امت کے ساتھ خاص کرم کا معاملہ فرمائے ۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ’’ سانحہ ساہیوال‘‘ اپنی طرزکا پہلا واقعہ ہے نہ ہی آخری لیکن اس کے باوجود ہمارے دل زخمی ہیں اور آنکھیں پرنم ہیں ، ہر شخص چاہتا ہے کہ ماورائے عدالت قتل کا سلسلہ ختم ہو ‘ آئندہ کیلئے ایسے واقعات کا سدباب ہو اور پھر کوئی معصوم بچہ اپنے سامنے اپنے ماں باپ اور بہن کی تڑپتی ‘ سسکتی اور دم توڑتی لاشیں نہ دیکھے ۔ لیکن ایسا کیسے ممکن ہے اور اس نظام میں خرابی کی بنیاد کہاں ہے جس کو ٹھیک کیے بغیر کوئی قدم بھی صحیح سمت میں نہیں اُٹھ سکتا ۔

اس نکتے کو سمجھنے کیلئے ہمیں کچھ دیر اپنے ماضی میں جھانکنا ہو گا ۔ مصر کے لوگوں نے فرعون کے دور سے لے کر جنرل سیسی کے زمانے تک بے شمار ظالموں کا سامنا کیا ہے مگر ایک نام خاص طور پر آج بھی ان کے درمیان نفرت کا استعارہ ہے ۔ اسامہ بن زید تنوخی کو مشہور اموی خلیفہ سلیمان بن عبدالملک نے ۹۶ ھ میں مصر کے خراج(ٹیکس) کا افسر اعلیٰ مقرر کیا تھا ۔ یہ شخص مصر کیا پہنچا ‘ ایسا لگتا تھا کہ اہل مصر پر کوئی عذاب نازل ہو گیا ہے ۔ اس نے ہمیشہ اہل مصر کے ساتھ انتہائی سختی اور درشتی کا معاملہ کیا اور اس نے اپنے ظلم کو منظم کرنے کیلئے ہر چیز پر ٹیکس نافذ کر دیا ‘ٹیکس بھی اتنا زیادہ کہ چند دنوں میں اہل مصر کی چیخیں نکل گئیں ۔ دریائے نیل کے راستے بھی اس ظالم شخص کے کارندوں سے محفوظ نہ رہے اور اس کی ہدایت کے مطابق دریائے نیل کے آرپار جانے والوں کو دس دینار ٹیکس ادا کرنا پڑتا تھا ‘ یہ ٹیکس ادا کرنے پر اُنہیں ایک ٹکٹ تھما دیا جاتا تھا‘ جسے آپ پروانہ راہداری کہہ سکتے ہیں ۔ اس اجازت نامہ کے بغیر کسی کیلئے دریائے نیل عبور کرنا ممکن نہیں تھا ۔

عبدالملک بن مروان کے دور میں جو دینار کے سکے رائج رہے‘ وہ آج دریافت ہو چکے ہیں اور ماہرین کے مطابق اس ایک دینار کا وزن ۲۵. ۴ گرام ہے ۔ اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ایک مرتبہ دریا ئے نیل پار کرنے کیلئے اہل مصرکو چالیس گرام سے زیادہ سونا ان ظالموں کی نذر کرنا پڑتا تھا ۔ جن لوگوں کی دریا کے راستے روزانہ کی آمدورفت تھی ان کیلئے یہ ظلم کس قدر سنگین تھا ‘ اس کا اندازہ لگانا بھی شاید ہمارے لیے ممکن نہیں ۔

جو کارندے یہ ٹیکس وصول کرنے پر مقرر تھے‘ وہ اتنے سنگدل اور بے مروّت تھے کہ الفاظ میں اس کا بیان ممکن نہیں‘ البتہ اس کا ہلکا سا اندازہ اس واقعہ سے لگایا جا سکتا ہے جو مؤرخین نے نقل کیا ہے ۔ ایک بیوہ خاتون جس کے ساتھ اس کا نو عمر بیٹا تھا ‘ اُس نے اپنی غربت کی وجہ سے بڑی مشکل سے مقررہ دینار ادا کر کے اجازت نامہ حاصل کیا ۔ جب ماں بیٹا دریا کے درمیان میں پہنچے تو بیٹے نے دریا کا پانی پینے کی کوشش کی ۔ اسی کوشش میں اُس کا پائوں پھسلا اور دریا کی لہریں اُسے بہا کر لے گئیں۔ بیوہ خاتون غم کے مارے چیختی چلاتی رہ گئی لیکن کوئی بھی اس بچے کو نہ بچا سکا ۔ مزید اُس کی بد قسمتی یہ ہوئی کہ دریا سے گزرنے کا اجازت نامہ اُس کے بیٹے کی جیب میں تھا ‘ جو اُسی کے ساتھ دریا میں بہہ گیا تھا ۔

جب وہ بیوہ خاتون دوسرے کنارے پہنچی تو ٹکٹ چیک کرنے والے کارندے نے اُس سے ٹکٹ دکھانے کا مطالبہ کیا ۔ اُس نے بڑی بے بسی کے ساتھ اپنا واقعہ سنایا اور لوگوں نے بھی گواہی دی کہ ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے اس کا بچہ ابھی دریا کی لہروں کی نذر ہو ا ہے‘ اس لیے اس پر رحم کیا جائے لیکن اس ظالم کو ذرا ترس نہ آیا اور اُس نے بغیر اجازت نامہ دکھائے ‘ اس بیوہ خاتون کو آگے جانے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ۔ بے چاری کاتون کے رونے دھونے کا بھی جب کوئی اثر نہ ہوا تو جو کچھ اس خاتون کے پاس تھا‘ وہ اس نے بیچا اور ٹکٹ کی قیمت ادا کی تب اُسے آگے جانے کی اجازت مل سکی ۔

اُسامہ بن زید تنوخی نے صرف عام مسلمانوں کو ہی اپنے ظلم کا نشانہ نہیں بنایا بلکہ ذمی لوگ یعنی وہ غیر مسلم شہری جو مصر میں باقاعدہ رہائش پذیر تھے‘ انہیں بھی خوب ستایا ۔ ہر ایک پر اُس کی طاقت سے زیادہ ٹیکس عائد کیا گیا اور ہر راہب کو حکم دیا گیا کہ وہ ایک ہزار دینار سرکاری خزانے میں جمع کروائے ورنہ اُس کا گرجا گھر بند کر دیا جائے گا ۔

اُسامہ بن زید تنوخی کے سیاہ کارناموں کی معمولی سی جھلک دکھانے کے بعد اصل سوال جس کی طرف ہم اپنے قارئین کو متوجہ کرنا چاہتے ہیں‘ وہ یہ ہے کہ مصر کے اس افسر اعلیٰ کو یہ سب کچھ کرنے کی ہمت کیسے ہوئی ۔ کیا کوئی ایسی عدالت یا کوئی ایسا دربار نہیں تھا جہاں مصر کے لوگ فریاد کرتے اور اس ظالم کا ہاتھ روک لیا جاتا۔ جب ہم اس کا جواب حاصل کرنے کیلئے تاریخ کی طرف دیکھتے ہیں تو ہمیں یہ عبرت انگیز اور سبق آموز منظر نظر آتا ہے کہ جس وقت اموی حکمران سلیمان بن عبدالملک اس کو مصر کیلئے نامزد کر کے روانہ کر رہا تھا ‘ اُس وقت سلیمان نے یہ جملہ کہا تھا :

’’ احلب الدرحتی ینقطع ‘ ثم احلب الدم حتی ینصرم‘‘

’’ مصر کے لوگوں سے اتنا ٹیکس لینا‘ جیسے جانور سے دودھ دوہتے ہیں‘ جب دودھ ختم ہو جائے تو خون کے آخری قطرے تک اُنہیں نچوڑ لینا۔‘‘

تاریخ کا یہ منظر ہمیں یہ پہلا سبق سمجھانے کیلئے کافی ہے کہ عام طور پر ایسا ہی ہوتا ہے کہ جب حکمران سلیمان جیسے لوگ ہوں تو افسران اسامہ بن زید تنوخی جیسے ہی ہوا کرتے ہیں اور مظلوم عوام کا واویلا اُن کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتا ۔

اب ذرا اس منظر کو کچھ مزید آگے بڑھاتے ہیں ۔ خلیفہ سلیمان بن عبدالملک کی موت کا وقت آجاتا ہے ۔ اُس کی اولاد ابھی کم عمر ہے اور یہ بھاری ذمہ داری سنبھالنے کے قابل نہیں ۔ اُس کے خصوصی مشیر’’ رجاء بن حیوۃ‘‘ اُسے بڑی دل سوزی سے عرض کرتے ہیں کہ اے سلیمان! اگر آپ اپنی زندگی کے سارے گناہوں کا کفارہ ادا کرنا چاہتے ہیں تو اپنے بعد اپنے چچا زاد بھائی اور بہنوئی عمر بن عبدالعزیز کو خلیفہ مقرر کر دیں اور لوگوں سے ان کی خلافت بیعت لے لیں ۔ قصہ طویل ہے‘ مختصر یہ کہ سلیمان کو موت سامنے نظر آتی ہے تو وہ یہ نیکی کر گزرتا ہے لیکن ساتھ ہی عمر بن عبدالعزیز کے بعد اپنے بھائی یزید بن عبدالملک کی ولی عہدی کی بھی وصیت کر جاتا ہے۔

یہ امت جس مشورہ کا قرض کبھی نہیں اتار سکتی وہ’’ رجاء حیوۃ کندی ‘‘کا مشورہ ہے‘ جس کی بدولت امت کو عمر بن عبدالعزیز جیسا حکمران نصیب ہوا ۔ عمر بن عبدالعزیز خلافت کے منصب پر فائز ہونے سے پہلے عیش و راحت کی زندگی گزارتے تھے ۔ لباس بہت عمدہ استعمال فرماتے اور خوشبو ایسی لگاتے کہ جس گلی سے گزر جاتے گھنٹوں بعد بھی وہاں خوشبو مہکتی رہتی ، آنے جانے والے سمجھ جاتے کہ عمر بن عبدالعزیز یہاں سے گزر کے گئے ہیں ۔ لیکن جب خلافت کی ذمہ داری آپ کے کندھوں پر ڈالی گئی تو زندگی کے سارے رنگ ڈھنگ ہی بدل گئے ۔ اپنا تمام اضافی مال مسلمانوں کے خزانے میں جمع کروادیا ۔ اپنی اہلیہ فاطمہ بنت عبدالملک جن کے بارے میں عربی کا یہ مشہور شعر ہے :

بنت االخلیفۃ والخلیفۃ جدھا

اخت الخلائف والخلیفۃ زوجھا

’’ وہ خاتون جو ایک خلیفہ ( عبدالملک ) کی بیٹی ہیں اور ان کا دادا (مروان) بھی خلیفہ تھا ۔ یہ چار خلفاء ( ولید ،سلیمان ، ہشام ، یزید بن عبدالملک) کی بہن ہیں اور ان کے شوہر ( عمر بن عبدالعزیز ) بھی خلیفہ ہیں‘‘۔

عمر بن عبدالعزیز ؒنے ان کو کہا کہ جو زیورات آپ کے والد نے شادی کے وقت آپ کو دئیے تھے‘ وہ سب مسلمانوں کے خزانے میں جمع کروادیں یا مجھ سے الگ ہو جائیں ۔ اس نیک بخت خاتون نے بھی فوراً اپنے شوہر کا ساتھ دیا اور اپنے قیمتی زیورات بیت المال میں جمع کروا دئیے ۔ بعد میں جب ان کا بھائی یزید منصب خلافت پر بیٹھا تو اس نے اپنی بہن کو پیش کش کی کہ وہ زیورات واپس لے لیں لیکن فاطمہ بنت عبدالملک نے عجیب جواب دیا‘فرمایا:

’’ عمر بن عبدالعزیز ایسے شخص نہیں کہ اُن کی زندگی میں تو ان کی بات مانی جائے اور اُن کے مرنے کے بعد اُن کی نافرمانی کی جائے۔‘‘

یہ کہہ کر زیورات واپس لینے سے انکار کر دیا ۔ بہرحال عمر بن عبدالعزیز ؒ نے خلافت سنبھالتے ہی جو اصلاحات کیں ان کا نتیجہ یہ ہوا کہ صرف اڑھائی برس کے زمانے میں مال و دولت کی ایسی عام فراوانی ہوئی کہ لوگ زکوٰۃ کی رقم ادا کرنے کیلئے لے کر نکلتے تھے لیکن دور دور تک کوئی مستحق نظر نہیں آتا تھا ۔ آپ کا دور ہر اعتبار سے اس امت کا سنہرا اور یاد گار دور تھا ۔ آپ کی اصلاحات میں سر فہرست یہ کام تھا کہ آپ نے اپنے سے پہلے حکمرانوں کے مقرر کردہ ظالم افسروں سے لوگوں کو نجات دلائی۔

اسامہ بن زید تنوخی کو بھی فوری طور پر مصر کی نگرانی سے برطرف کیا اور حکم دیا کہ اس کو ہر علاقے کی جیل میں ایک ایک سال قید رکھا جائے ۔ پہلا سال اُس نے مصر  کے جیل میں گزارا ، دوسرے سال فلسطین کی جیل میں بند رہا اور پھر جب حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒ دنیا سے رخصت ہوئے تو یزید بن عبدالملک نے اُسے رہا کر دیا۔

اس کے علاوہ حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒ نے مشہور ظالم گورنر عراق حجاج بن یوسف کے مقررہ کردہ تمام افسران اور قاضی بھی برطرف کر دئیے ۔ ایک شخص نے عرض کیا کہ میں نے تو صرف ایک ماہ ہی حجاج کے ساتھ کام کیا ہے ‘ پھر آپ مجھے یوں اپنے عہدے سے معزول کر رہے ہیں؟ حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒ نے جواب میں فرمایا کہ میرے نزدیک تیری بد بختی کیلئے یہی کافی ہے کہ حجاج جیسا ظالم تجھ سے خوش تھا اور تو اُس سے راضی تھا ۔

آپ نے خلیفہ سلیمان عبدالملک کے چیف سیکورٹی گارڈ خالد بن ریان کو بھی اس کے ظلم و ستم کی وجہ سے معزول کر دیا ۔ اسی طرح یزید بن مہلب جو معروف عرب سالار مہلب بن ابی صفرہ کا بیٹا تھا ‘ اُسے بھی فضول خرچی اور عیاشی کی وجہ سے خراسان کی حکومت سے برخاست کر دیا ۔

 بات کچھ لمبی ہو گئی لیکن تاریخ کا دوسرا سبق یہی ہے کہ اکثر و بیشتر جب حکمران عمر بن عبدالعزیز ؒ جیسے ہوں تو افسران بھی خدا ترس ‘ نیک دل ‘ جذبۂ ہمدردی سے سرشار ‘ عوام کیلئے رحمت ِ خداوندی کا مظہر اور متقی پرہیز گار ہوتے ہیں ۔

سانحہ ٔ ساہیوال سے جو درد اور کرب سب اہل وطن نے محسوس کیا ، ہمارے صدمے کی کیفیت اُس سے کچھ زیادہ بڑھ کر ہے کیونکہ جب برادرِ عزیز مولانا محمد مقصود احمد شہید ؒ ،سانحۂ لال مسجد میں جاں بحق ہوئے تو اگلے ہی دن اُس وقت کے وفاقی وزیر اعجاز الحق نے جھوٹ کے تمام ریکارڈ توڑتے ہوئے یہ بیان داغ دیا کہ ہم نے القاعدہ کے ایک اہم رابطہ کار اور وزیر اعظم شوکت عزیز پر حملے میں ملوث خطرناک دہشت گرد کو نشانہ بنایا ہے ۔ تب حضرت والد محترم دامت برکاتہم کو مجبوراً جوابی پریس کانفرنس کرنی پڑی اور انہوں نے یہ حقائق میڈیا کے سامنے رکھے کہ میرا بیٹا مستند عالم دین اور باقاعدہ صحافی تھا ۔ وہ مسلسل قومی سطح کے روزنامہ اخبارات میں کالم لکھتا تھا اور پریس کلب کے کارڈ کے ذریعے کئی مرتبہ پارلیمنٹ بھی پہنچا ۔ پورے ملک کے کسی تھانے میں اُس کے خلاف کوئی پرچہ نہیں درج تھا نہ ہی اُس کا کبھی کسی غیر ملکی تنظیم سے کسی قسم کا کوئی تعلق رہا ، پھر آخر کس مقصد کیلئے وفاتی وزیر ہمارے زخموں نمک چھڑک رہا ہے ۔ معلوم نہیں اس طرح ظلم و ستم کے بعد دہشت گرد قرار دے کر مزید ستانے کا سلسلہ اس ملک میں کب تک چلتا رہے گا ۔

سانحہ ٔ ساہیوال کے متاثرین تو اس لحاظ سے خوش نصیب کہلانے چاہئیں کہ اُن کے بارے میں جتنے جھوٹے دعوے کیے گئے وہ سب بہت جلد غلط ثابت ہو گئے اور عوامی رد عمل کی وجہ سے کچھ لوگوں کے کان پر جوں بھی رینگی لیکن خدارا ذرا سوچیں کہ اگر یہ واقعہ رات کی تاریکی میں پیش آتا ، اگر زندہ بچ جانے والے تینوں بچے بھی شہید ہو جاتے ، اگر کوئی شخص موقع کی ویڈیو نہ بنا سکتا ، اگر اہل محلہ شہداء کی صفائی پیش نہ کرتے اور اگر ان سب کا تعلق بھی کسی دینی سلسلے سے نکل آتا تو قوم کے سامنے یہ منظر کیسے پیش کیا جاتا ، اس پر کیسے کامیابی کے جھنڈے گاڑھے جاتے اور میڈیا میں اس پر کیسے تبصرے نشر ہوتے ، یہ سوچ کر بھی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگتا ہے۔

جس ملک کے حکمران سیکورٹی اداروں کو اپنی سیاسی اغراض کیلئے استعمال کرتے ہوں‘ جہاں اعلیٰ عدلیہ کے جج حکمرانوں کے گرد منڈلاتے ہوں‘ جہاں پسندیدہ مناصب پر تقرری کیلئے حکمرانوں کو بھاری رشوتیں دی جاتی ہوں‘ جہاں حکمرانوں کے خلاف اربوں کے کیس داخل دفتر اور مخالفین کے خلاف بھینس چوری کے مقدمے کھل جاتے ہوں،

 جہاں تھانوں کی بولی لگتی ہو اور عہدے نیلام ہوتے ہوں‘ وہاں سانحہ ساہیوال جیسے افسوسناک واقعات کو کوئی انسانی تدبیر نہیں روک سکتی ۔ وہاں قومیں صرف دعائوں کی بدولت ہی بچ سکتی ہیں ‘ اس لیے آئیں بارگاہ الٰہی میں دعا کریں کہ آئندہ وطن عزیز کا کوئی بد نصیب خاندان ، اپنے ہی محافظوں کا نشانہ نہ بنے اور اگر بن بھی جائے تو اُسے کم از کم پس از مرگ دہشت گرد نہ قرار دیا جائے ۔

اے اللہ ! فریاد ہے …

اے اللہ ! التجاء ہے …

اے اللہ ! دعا ہے …

کروڑوں بے بس اور بے کس لوگوں کی کہ تو ہی ہمارا آخری سہارا ہے ۔

فاللّٰہ خیرحافظاً وھوارحم الراحمین

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online