Bismillah

681

۹تا۱۵ جمادی الثانی۱۴۴۰ھ  بمطابق ۱۵تا۲۱ فروری۲۰۱۹ء

ہر مسافر کیلئے انمول تحفہ (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 679 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Her Musafir k Liye Anmol Tuhfa

ہر مسافر کیلئے انمول تحفہ

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 679)

سفر انسانی زندگی کا حصہ ہے اور جب تک انسان نے اس زمین پر رہنا ہے‘ سفر کا سلسلہ چلتا رہے گا ، اسی لیے عقل مند لوگ کہتے ہیں زندگی بذات خود ایک سفر کا نام ہے اور اقبال مرحوم نے بھی کہا تھا:

کس کا خیال ، کونسی منزل نظر میں ہے

صدیاں گزر گئیں کہ زمانہ سفر میں ہے

سفر کے ذرائع اور طور طریقوں میں وقت گزرنے کے ساتھ آسمان و زمین کا فرق پڑ گیا ہے ۔ کبھی مسافتیں لمبی ، راہیں کٹھن اور وسائل محدود تھے لیکن دنیا آزاد تھی تو لوگ :

زمین خدا تنگ نیست

پائے یار لنگ نیست

کا نعرئہ مستانہ بلند کرتے ہوئے بغیر کسی سفری دستاویز کے ملکوں ملکوں کی خاک چھانتے پھرتے تھے ۔ والیانِ مملکت اور سربراہانِ ریاست باہر سے آنے والے مہمانوں کی عزت و تکریم کو شاہی فرائض کا حصہ سمجھتے تھے ۔ باصلاحیت اور ہنر مند افراد کو ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا ‘ ابن بطوطہ اور مسعودی کے سفر نامے پڑھیں، لگتا ہی نہیں کہ انسان سفر کے معاملے میں کبھی اتنا با اختیار تھا کہ جب چاہا ‘ جہاں چاہا ‘ منہ اٹھا کر چل دیا ۔ اسی لیے تو آپ دیکھیں گے کہ لوگ پیدا ایک براعظم میں ہوتے تھے اور ان کی نسلیں آج دوسرے براعظموں میں آباد ہیں ۔

آج کا انسان زندگی کے دیگر معاملات کی طرح سفر کے لیے بھی جکڑ بندیوں کا شکار ضرور ہے ‘ جگہ جگہ روک ٹوک ‘ بار بار پوچھ تاچھ اور ’’براہ کرام اپنی شناخت کروائیں‘‘ کے سلسلے نے سفر کے مزے کو کسی حد تک کر کرا بھی کر دیا ہے لیکن وسائل سفر کی تیزی ‘ منزل بہ منزل آرام گاہوں کی کثرت ‘ کشادہ اور ہموار راستے ‘ ان سب نے مل کر انسان کے سفر کو ایک نئی جہت بخشی ہے اور آج لاکھوں انسان روزانہ ایسا شاہانہ سفر کرتے ہیں کہ آج سے صرف ایک صدی پہلے تک اس کا تصور بھی ممکن نہیں تھا۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اپنے احسانات کے سلسلے میں وسائل سفر کا بار بار تذکرہ فرمایا ہے ۔ سورۃ الملک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے :

ھُوَالَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلاً فَامْشُوْافِیْ مَنَا کِبِھَا وَکُلُوْا مِن رِّزْقِہٖ وَاِلَیْہِ النُّشُوْر ( الملک :۱۵)

’’ وہ ہی ہے جس نے زمین کو تمہارے لیے تابع کر دیا ہے‘تو تم اس کے راستوں میں چلو اور اللہ کے دئیے ہوئے رزق میں سے کھائو اور اُسی کی طرف دوبارہ زندہ ہو کر جانا ہے‘‘۔

بہر حال سفر ماضی کا ہو یا حال کا ‘ آسان ہو یا مشکل ‘ کسی دینی خدمت کے سلسلے میں ہو یا روزگار و سیاحت کیلئے‘ انسان جب اس کیلئے روانہ ہو تا ہے تو لازمی طور پر دل میں کچھ امنگیں ہوتی ہیں اور کچھ وساوس اور خدشات ۔ منزل تک پہنچنے کی جستجو بھی ہوتی ہے اور راستے کی مشکلات کا ڈر بھی دامن گیر ہوتا ہے ۔ ایسی صورت حال میں جب بھی سوچا اور جتنا بھی سوچا‘ سب سے زیادہ تسلی و تشفی ان مبار ک کلمات میں ملی جو سرورِ کائنات ‘ رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع کیلئے اپنی امت کو سکھائے ہیں ۔

انسان جتنا بھی غور و فکر کر لے لیکن اتنے مختصر اور جامع الفاظ میں ایک مسافر کی آرزو ئوں اور اس کے دل میں کھٹکنے والے خطرات کو سمیٹنا کسی اور کیلئے ممکن نہیں ہے۔ گزشتہ دنوں جب انتہائی افسوسناک ‘ کربناک اور المناک ’’سانحۂ ساہیوال‘‘ پیش آیا تو سوچا کہ ان دعائوں کا تحفہ قارئین کی خدمت میں پیش کر دیا جائے کہ جن کا تعلق خاص طور پر سفر سے ہے کہ اگر ہم اپنے ہر سفر میں ان دعائوں کا اہتمام کر لیں تو ہمیں روحانی سکون بھی نصیب ہو گا ‘ اللہ تعالیٰ کی حفاظت بھی رہے گی اور سفر کے مقاصد میں کامیابی بھی نصیب ہو گی ۔ ان شاء اللہ تعالیٰ

سفر کی مسنون دعائیں اور اہم معمولات :

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کا ارادہ فرماتے اور سواری کے رکاب پر اپنے قدم مبارک رکھتے تو آپﷺ بسم اللّٰہ فرماتے ، پھر جب سواری پر اچھی طرح بیٹھ جاتے تو یہ دعاء فرماتے :

سُبْحَانَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا ھٰذَا وَمَا کُنَّا لَہٗ ُمقْرِنِیْنَ وَ اِنَّا اِلٰی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْن

الحمد للّٰہ (تین مرتبہ ) اللّٰہ اکبر (تین مرتبہ)

 لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ سُبْحَانَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْن

 سُبْحَانَکَ اِنِّی ظَلَمْتُ نَفْسِیْ فَاغْفِرْلِیْ فَاِنَّہٗ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوبَ اِلَّا اَنْتَ (  زاد المعاد ، 245:3، ابو داؤد )

’’ وہ ذات پاک ہے جس نے ہمارے لیے اسے قابو میں کیا ، ورنہ ہم اسے تابع نہ کر سکتے تھے اور ہم اپنے پروردگار کی جانب ہی لوٹنے والے ہیں ۔

 تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں ، اللہ سب سے بڑا ہے ، کوئی معبود نہیں ۔

تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ہے ، بے شک میں ظالم ہوں تو پاک ہے ، میں نے خود پر ظلم کیا تو میرا گناہ بخش دے ، اس لیے کہ تیرے سوا کوئی گناہ نہیں بخش سکتا۔‘‘

اسی روایت میں یہ اضافہ بھی ہے کہ ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس دعا کے بعد مسکرائے ، پوچھا گیا تو فرمایا ـ:

’’ اللہ تعالیٰ اپنے اس بندے کو پسند فرماتا ہے جو یہ کہتا ہے (اے رب!) میرے گناہوں کی مغفرت فرما ، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس کے سوا کوئی گناہوں کو نہیں بخش سکتا۔‘‘ (الترمذی ، حدیث 3446)

حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم سواری پر بیٹھ جانے کے بعد یہ دعا پڑھتے :

اللّٰہ اکبر (تین مرتبہ )

 سُبْحَانَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا ھٰذَا وَمَا کُنَّا لَہٗ ُمقْرِنِیْنَ وَ اِنَّا اِلٰی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْن۔

 اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَسْأَلُکَ فِیْ سَفَرِ نَا ھٰذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوٰی وَ مِنَ الْعَمَلِ مَاتَرْ ضٰی ۔

 اَللّٰھُمَّ ھَوِّنْ عَلَیْنَا سَفَرَ نَا ھٰذَا وَاطْوِعَنَّا بُعْدَہٗ۔

 اَللّٰھُمَّ اَنْتَ الصَّاحِبُ فِی السَّفَرِ وَالْخَلِیْفَۃُ فِی الْاَھْلِ۔

 اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ وَّعَثَا ئِ السَّفَرِ وَ کَآبَۃِ الْمَنْظَرِ وَسُوْئِ الْمُنْقَلَبِ فِی الْمَالِ وَالْاَھْلِ ۔

’’ پاک ہے وہ ذات جس نے ہمارے لیے اسے تابع کیا ورنہ ہم اسے قابو کرنے والے نہ تھے اور ہم اپنے پروردگار کی طرف ہی لوٹنے والے ہیں ۔

اے اللہ ہم اپنے اس سفر میں نیکی اور تقویٰ اور تیرے پسندیدہ عمل کا سوال کرتے ہیں ۔

 اے اللہ ہمارے لیے اس سفر کو آسان فرما ۔ اس کی دوری کو لپیٹ دے ۔

 اے اللہ تو ہی سفر میں ہمارا ساتھی ہے ، گھر والوں میں ہمارا نائب ہے ۔

اے اللہ میں سفر کی مشکلات ، برے منظر اور گھروالوں اور مال میں برے حالات سے تیری پناہ چاہتا ہوں‘‘۔

جب سفر سے واپسی ہوتی تو یہ اضافہ فرماتے : 

آئبُونَ اِنْ شَائَ اللّٰہُ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُوْن ( مسلم ، حدیث 1342)

’’ ہم لوٹنے والے ہیں ، اگر اللہ نے چاہا توبہ کرنے والے ہیں ، عبادت کرنے والے ہیں ا ور اپنے پروردگار کی تعریف کرنے والے ہیں ‘‘۔

 دوران سفر ہر بلندی پر چڑھتے اور ہر نشیب کی طرف اترتے ہوئے تکبیر کاوردجاری رکھتے تھے ۔(الترمذی ، حدیث 3445)

جب کسی جگہ پڑائو کرتے تو فرماتے : 

اَعُوْذُبِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّمَا خَلَق  ( الترمذی ، حدیث 3437)

’’ میں تمام کامل کلمات کے ساتھ ، ہر اس چیز کے شر سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں جو اس نے پیدا کی ‘‘۔

ان مسنون دعائوں کے ساتھ امت کے اسلاف کی چند مجرب دعائیں بھی پیش خدمت ہیں۔

سفر میں حضرت علاء بن الحضرمی ؓ کے کلمات :

 یہ مشہور صحابی ہیں اور جہاد فی سبیل اللہ کے سلسلے میں ان کی عظیم خدمات ہیں ۔ جب حضرت ابو بکر صدیق  ؓ نے ان کو بحرین کی جانب بھیجا تو وہ روانہ ہوئے ‘ یہاں تک کہ جب وہ دریا کے کنارہ پر پہنچے تاکہ کشتیوں میں سوارہوں تو انہوں نے مسافت کو بہت دور محسوس کیا ۔

 آپ ؓ نے سوچا کہ کشتیوں کے ذریعے پہنچنے سے تو پہلے ہی دشمن وہاں سے نکل جائیں گے ‘ چنانچہ آپ نے یہ کہتے ہوئے اپنا گھوڑا اس دریا میں ڈال دیا :

یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْن ‘ یَا حَکِیْمُ یَا کَرِیْمُ ‘ یَا اَحَدُ ‘ یَا صَمَدُ ‘ یَا حَیُّ ‘ یَا مُحْیِی ‘ یَا قَیُّومُ ‘ یَا ذَا الْجَلَالِ وَالْاِکْرَامْ ‘ لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ ‘ یَا رَبَّنَا ۔

’’ اے تمام رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والے ۔اے حکمت والے! اے کرم والے! اے تنہا ذات ‘ اے بے نیاز ذات ! اے ہمیشہ زندہ رہنے والے ‘ اے زندگی عطا کرنے والے۔ اے سب کو سنبھالنے والے ، اے بزرگی اور عزت کے مالک ۔ آپ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔ اے ہمارے پروردگار!

اور لشکر کو بھی حکم دیا کہ وہ بھی یہ کہتے ہوئے دریا میں گھس جائیں ،چنانچہ ان سب نے ایسا ہی کیا تو اللہ کے حکم سے وہ دریا پار کر لیا ‘ حال یہ تھا کہ ان کے اونٹوں کے پائوں تک پانی سے گیلے نہیں ہوئے اور دشمن سے قتال ہوا تو فتح یاب ہوئے ۔( تاریخ الطبری ۲؍ ۳۰۴)

سفر میں خطرہ کے وقت ابراہیم بن ادھمؒ کی دعا:

ابراہیم بن ادہم ؒ ایک سفر میں تھے کہ اچانک ایک شیر سامنے آگیا ۔ آپ نے اپنے ساتھیوں سے کہا : یہ پڑھو:

اَللّٰھُمَّ احْرُ سْنَا بِعَیْنِکَ الَّتِیْ لَا تَنَامُ وَاحْفِظْنَا بِرُکْنِکَ الَّذِیْ لَا یُرَام ‘ وَارْحَمْنَا بِقُدْرَتِکَ عَلَیْنَا ‘ لَا نَھْلِکُ وَاَنْتَ رَجَاوُ نَا یَا اللّٰہ یَا اللّٰہ۔

’’اے اللہ ! ہمیں اپنی اُس آنکھ کی حفاظت میں لے لے جو کبھی نہیں سوتی ۔ہماری حفاظت آپ اپنی اُس قوت کے ذریعے فرمائیں جس کو ختم کرنے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ۔ اپنی قدرت کے ذریعے ہم پر اپنا رحم فرما ۔جب تک آپ ہماری امید ہیں ہم ہلاک نہیں ہو سکتے ۔اے اللہ ! اے اللہ ! ‘‘

جب انہوں نے یہ کلمات پڑھے تو شیر چلا گیا ۔( ’’الارج فی الفرج‘‘ للسیوطیؒ )

اس دعا کی برکت سے سفاک قاتل سے نجات مل گئی:

ایک مرتبہ حضرت ابو معلق  ؓ تجارت کے لئے سفر پر نکلے۔فاصلہ طویل تھا اور وہ اکیلے ہی سفر کر رہے تھے۔ راستے میں انہیں ایک ڈاکو ملا،جس کے پاس اسلحہ بھی تھا۔اس ڈاکو نے ابو معلق  ؓ سے کہا:’’اپنا سامان یہاں رکھ دو…اور اب میں تمہیں قتل کروں گا۔‘‘

ابو معلق رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’میرا مال لے لو، لیکن مجھے چھوڑدو۔میں واپس مدینہ چلا جائوں گا۔‘‘

’’نہیں !…میں تو صرف اور صرف تمہیں قتل کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ڈاکو نے جواب دیا۔’’اچھا…تو پھر مجھے ذرا سی مہلت دے دو،تاکہ میں دو رکعت نماز پڑھ لوں…‘‘حضرت ابو معلقؓ نے اپنی آخری خواہش ظاہر کی،جسے ڈاکو نے مان لیا۔ کہنے لگا:’’ہاں!ٹھیک ہے…جتنی چاہے نمازپڑھ لو…لیکن پھر میں نے تمہیں ہر حال میں قتل کرنا ہے۔‘‘اب حضرت ابو معلق  ؓ نے وضو کیا اور نماز پڑھی۔نماز کے بعد آپ نے اپنے رب کے سامنے ہاتھ اٹھائے اور ان الفاظ میں دعاکی:

یَاوَدُوْدُ یَا ذَا الْعَرْشِ الْمَجِیْدِ  یَا فَعّالًا لِمَا یُرِیْدُ  أَسْاَ لُکَ بِعِزَّتِکَ الَّتِی لَا تُرَامُ وَمُلْکِکَ الَّذِیْ لَایُضَامُ  وَ بِنُوْرِکَ الَّذِیْ  مَلَأَ  اَرْکَانَ عَرْشِکَ اَنْ تَکْفِیَنِیْ شَرَّ ھٰذَااللِّصِّ یَا مُغِیْثُ اَغِثْنِیْ

 ’’ اے محبت کرنے والے رب! اے عزت والے عرش کے مالک! اے وہ ذات جو چاہے کر دے ! میں آپ کی اُس عزت کے ذریعے سوال کرتا ہوں جس کے بارے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا ۔اور آپ کی اس بادشاہت کے ذریعے سوال کرتا ہوں جہاں کوئی ذلیل نہیں کیا جا سکتا ۔ اور آپ کے اس نور کے ذریعے سوال کرتا ہوں‘ جس نے آپ کے عرش کے ستونوں کو روشن کر دیا ہے ۔آپ ہی اس چور کے شر سے میرے لیے کافی ہو جائیں ۔ اے مددگار ! میری مدد فرمائیں ‘‘۔

ابو معلق  ؓ نے یہ دعا تین بار ہی پڑھی تھی کہ اچانک انہیں ایک شہسوار اپنی طرف آتا دکھائی دیا۔اس شہسوار نے ہاتھ میں ایک نیزہ تھاما ہوا تھا۔قریب آتے ہی اس نے وہ نیزہ ڈاکو کو مارا،جس سے ڈاکو گر کر وہیں مرگیا۔(الاصابۃ، ابن حجرؒ)

اللہ کریم ہم سب کی ہر برائی ، ہر آفت اور تکلیف سے حفاظت فرما کر دنیا و آخرت کی عافیت عطا فرمائے ۔ (آمین ثم آمین)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online