Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

۵فروری اور عملی اظہارِ یکجہتی (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 680 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - 5 Feb aur Amli Izhar e Yakjehti

۵فروری اور عملی اظہارِ یکجہتی

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 680)

۵فروری کا دن پورے پاکستان میں انتظامی طور پر یومِ یکجہتی کشمیر کے عنوان سے منایا جاتا ہے ۔ اور پورے ملک میں اس سلسلے کے اجتماعات منعقد ہوتے ہیں ۔ سیاست دان اور دیگر حلقے اپنے اپنے انداز میں یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں ۔ مجاہدین اسلام بھی اس موقع سے فائدہ اٹھا کر اہل پاکستان کو مظلوم کشمیری عوام کا پیغام پہنچانے کے ساتھ قرآن و سنت پر مبنی دعوت ِ جہاد بھی ان کے سامنے پیش کرتے ہیں ۔

اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان سے آج صوابی میں بھی بلند حوصلہ اہل ایمان نے ایک ایسے ہی اجتماع کی ترتیب بنائی ہوئی تھی ، جس میں حاضری کی سعادت نصیب ہوئی ۔ وہاں جو باتیں احباب کے سامنے کہی گئیں ، معمولی اضافہ و ترمیم کے ساتھ پیش خدمت ہیں :

’’آج الحمدللہ! ہم سب مجاہدین کشمیراور اہل کشمیر کے ساتھ یکجہتی کے لیے یہاں جمع ہوئے ہیں ،امت مسلمہ کی مظلوم ، مردوں ، عورتوں اور بچوں کے ساتھ یکجہتی کا سبق ہمیں اللہ تعالیٰ کے پاک کلام قرآن مجید نے دیا ہے ۔ یہ یکجہتی کا درس ہمیں کسی سیاست دان یا دانش ور نے نہیں بلکہ ر ب کریم نے سکھایا ہے ۔اللہ تعالیٰ کا قرآن مسلمانوں کو جھنجوڑ جھنجوڑ کر بیدار کر رہا ہے :

وما لکم لا تقاتلون فی سبیل اللہ (الایۃ)

اللہ تعالیٰ کا قرآن غیرت مند مسلمانوں کو اس آیت کے ذریعے مظلوم مسلمانوں کے ساتھ یکجہتی کا درس دے رہا ہے کہ تمہیں کیا ہوا کہ تم اللہ کے راستے میں قتال نہیں کرتے ، حالانکہ کمزور مسلمان مرد عورتیں بچے اللہ سے فریاد کررہے ہیں کہ اللہ ہمیں ان ظالم لوگوں کی بستی سے نکال ، ہمارے لیے اپنے پاس سے کوئی ولی بھیج اور ہمارے لیے اپنے پاس سے کوئی مدد گار بھیج ۔

آج 5فروری کا دن ہے اور پورے پاکستان میںغیور مسلمان اپنے کشمیری مسلمان بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کر رہے ہیں ،یہ یکجہتی سیاسی اور وقتی نعروں پر مبنی نہیں ہے یہ یکجہتی صرف 5فروری کے لیے نہیں ہے ۔ اہل کشمیر سے ہمارا رشتہ سال کے صرف ایک دن کے لیے نہیں ہے ۔ یہ تو خونی رشتوں سے بھی زیادہ مضبوط رشتہ ہے ۔ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا رشتہ پہاڑوں سے زیادہ بلند رشتہ ہے ۔ یہ سمندروں سے زیادہ گہرا رشتہ ہے اور یہ شہد سے زیادہ میٹھا رشتہ ہے ۔

الحمد للہ ! مجاہدین کی تاریخ گواہ ہے کہ انہوں نے ہر دور میں امت مسلمہ کے ہر مظلوم طبقہ کے ساتھ عملی اظہار یکجہتی کیا ہے اور اسی عملی اظہار یکجہتی کی وجہ سے آج کفر کے ایوانوں میں زلزلہ برپا ہے ۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں مظلوم مسلمانوں کے ساتھ عملی اظہار یکجہتی سکھا کر گئے اوراس یکجہتی کا انداز بھی بتا کر گئے۔

 آج بھی مجاہدین اسی انداز سے دنیا بھر کے مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہیں ۔ آج ہم بھی یہاں کشمیر کے مسلمانوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے جمع ہیں ۔ یہ فروری کا مہینہ ہے اور ایک ۶۲۸ ء کے فروری کا مہینہ تھا ، جس میں صلح حدیبیہ کا واقعہ پیش آیا تھا جس کا ایک منظر یہ بھی تھا کہ جب حدیبیہ میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ملی کہ مشرکین مکہ نے میرے لاڈلے عثمانؓ کو شہید کر دیا ہے ۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کیکر کے درخت کے نیچے بیٹھ کر چودہ سو صحابہ سے جن میں ابو بکر ؓ  بھی تھے ، عمرؓ  بھی تھے ، علی المرتضیؓ  بھی تھے ، عبداللہ ابن عمرؓ  بھی تھے ، سلمہ بن اکوع  ؓ بھی تھے ، ان سب سے انتقام لینے پر بیعت لی تھی ۔ اس بات کی بیعت لی تھی کہ ہم سب مل کر عثمانؓ کا انتقام لیں گے ۔ یا لڑتے لڑتے مر جائیں گے یا عثمانؓ  کا بدلہ چکا دیں گے ، کوئی ہم میں سے یہاں سے واپس نہیں جائے گا ۔

اماالفتح واماالشہادہ

یا تو اللہ ہمیں فتح عطا کریں گے اور یا ہم اپنی جانوں کے نذرانے راہ خدا میں اللہ کے حوالے کر دیں گے اور اللہ کو حضرت عثمانؓ کے ساتھ اظہار یکجہتی کا یہ انداز اتنا پسند آیا ، اتنا پیارا لگا کہ اُسی وقت اللہ کی طرف سے آیاتِ مبارکہ نازل ہونے لگی :

لقد رضی اللہ عن المومنین اذ یبایعونک تحت الشجرہ(الایۃ)

اللہ راضی ہو گیا ان لوگوں سے جنہوں نے آپ سے بیعت کی تھی ،جہاد کی بیعت کی تھی ، بدلہ لینے کی بیعت کی تھی ، انتقام کی بیعت کی تھی ۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے لیے کہ جو اس بیعت میں شریک تھے یہ بشارت دی تھی ۔

لا یدخل النار احد ممن بایع تحت شجرہ 

جس نے درخت کے نیچے میرے ہاتھ پر جہاد کی بیعت کی وہ کبھی جہنم میں داخل نہیں ہو گا ۔ہم بھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ پڑھنے والے ہیں ، ہم بھی حضرات صحابہ کرامؓ ، اہل بیت عظامؓ کے ماننے والے ہیں ، اس لیے ہم بھی دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کے ساتھ اسی شان سے اظہار یکجہتی کرتے ہیں ۔

اماالفتح واماالشہادہ

کہ یا تو اللہ فتح عطا فرمائیں گے یا ہم خون کے آخری قطرے تک اہل کشمیر کے ساتھ عملی یکجہتی کا مظاہرہ کریں گے ۔

سپاہیوں سے جب بھی پیمبر کا پوچھئے

خندق کا ذکر کیجئے خیبر کا پوچھئے

بدر و احد کے قائد لشکر کو پوچھئے

یا غزوئہ تبوک کے سرور کو پوچھئے

ہم کو حنین و مکہ و موتہ بھی یاد ہیں

ہم امتی بانیٔ رسمِ جہاد ہیں

ماں ہے ہماری ام عمارہ سی ذی وقار

ہم ہیں ابو دجانہ ؓ و طلحہؓ کی یاد گار

توپ و تفنگ و دشنہ و خنجر ، صلیب و دار

ڈرتے نہیں کسی سے محمد  ﷺ کے جانثار

میرے مسلمان بھائیو!کشمیر کی وہ دھرتی جو کبھی اپنی خوبصورتی کے لیے مشہور تھی ، جسے جنت نظیر کہا جاتا ہے ، جہاں کی آبشاریں ، جہاں کے تالاب ، جہاں کی جھیلیں ، جہاں کے دریا بے مثل ہیں ۔ آج وہ کشمیر کی دھرتی مسلمان مائوں ، بہنوں اور بیٹیوں ،بھائیوں ،بزرگوں اور بچوں کے خون سے لالہ زار ہے۔ انڈیا کی طرف سے ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جانے کے باوجود آج بھی کشمیر کے مسلمانوں کی اہل پاکستان کے ساتھ محبت ایسی بے مثال ہے کہ وہ جب اپنے شہیدوں کو دفن کرتے ہیں تو کفن بھی پاکستانی پرچم میں د یتے ہیں ۔

کشمیر کا نام سنتے ہی جنگ ، لاشیں ، حراستیں ، جبری گمشدگیاں ، حراستی قتل ، املاک کی تباہی و بربادی ، پیلٹ گن سے چھلنی ، بے بینائی لوگ ، ظلم و جبر کے سائے میں پلتی ہوئی زندگیاں ، لاپتہ شوہروں کی منتظر ’’نصف بیوہ خواتین‘‘ انتظار میں بیٹھی وہ ماں جس کا بیٹا قابض فوج کے تاریک عقوبت خانوں میں مار دیا گیا ، اجتماعی قبریں اور عصمت دری کا شکار زندہ لاشیں ذہن میں آتی ہیں ۔ کشمیر جسے کبھی ایشیاء کا سوئٹزر لینڈ کہا جاتا تھا آج دنیا کے خطرناک ترین مظالم کا مرکز بن چکا ہے ۔

ذرا سوچیں! آپ بھی سوچیں ،حکمران بھی سوچیں اور پاکستان میں زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی سوچیں کہ اہل کشمیر سے بے وفائی کرنے والے ان محبتوں کا قرض کیسے چکائیں گے ۔ اہل کشمیر تو آدھی صدی سے زیادہ ہو گیا پاکستان کی محبت کافرض ادا کررہے ہیں ، جیلیں بھر گئی ہیں ، نسلیں کٹ گئی ہیں ، خون بہہ رہا ہے ، گھر اجڑ رہے ہیں ۔ لیکن وہ اسلام اور پاکستان پر معاہدہ اور سمجھوتہ کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں ، یہ محبتوں کا قرض کون چکائے گا ، یہ قرض صرف اور صرف مجاہدین ہی چکائیں گے ۔

اہل ایمان کے ذمے افضل گورو شہید ؒ کی شہادت کا قرض بھی ابھی باقی ہے اور یہ شہادت بھی فروری کے مہینے میں ہوئی تھی ۔ کشمیری نوجوان افضل گرو ایک میڈیکل کے طالبعلم رہ چکے تھے اور وہ مقابلے کے امتحان کی تیاری کر رہے تھے ۔ ان کو 13دسمبر 2001ء کو بھارتی پارلیمنٹ پر ہونے والے مبینہ حملے میں ملوث ہونے کے نام نہاد الزام میں گرفتار کیا گیا تھا ۔ بھارتی سیکیورٹی اداروں کے مطابق وہ مبینہ طور پر اس حملے کے منصوبہ کار تھے ۔ طویل عدالتی کاروائی کے دوران ان کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت بھی بھارتی حکومت پیش نہ کر سکی ۔ مگر انتہا پسند ہندو تنظیموں کی جانب سے سزا کا مطالبہ زور پکڑتا گیا ۔ جس کا اعتراف خود بھارتی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں ان الفاظ کے ذریعے کیا ’’ اگرچہ افضل گرو کے خلاف اس جرم میں ملوث ہونے کی کوئی ٹھوس شہادت یا ثبوت استغاثہ فراہم نہیں کر سکا مگر بھارتی عوام کے اجتماعی احساسات اور خواہشات کی تسکین کی خاطر انہیں پھانسی دینا ضروری ہے ۔ 9فروری 2013ء کو افضل گورو کو پھانسی دے دی گئی ۔ انہیں ان کے خاندان سے آخری ملاقات کا حق دیا گیا نہ ان کی میت خاندان کے حوالے کی گئی ، کہا جاتا ہے کہ انڈیا کشمیر کو ایک اور شہید نہیں دینا چاہتا تھا ۔ یا پھر وہ متوقع عوامی ردعمل سے خائف تھا۔بہر حال ! مجاہدین نے تو اس قرض کو ادا کرنے کیلئے اپنے جگر کے ٹکڑے کشمیر کی دھرتی پر نچھاور کر دیے ہیں لیکن ہم اور آپ کہاں کھڑے ہیں یہ ہے اصل سوچنے اور سمجھنے کی بات ۔

 اس سال الحمد للہ!5 فروری کا دن ایسے حوصلہ افزاء موقع پر آرہا ہے کہ ہمارے پڑوس میں دنیا کی سب سے بڑی سپر پاور کہلانے والا ملک، وہ پھٹے ہوئے کپڑے اور ٹوٹے ہوئے جوتے پہننے والے امارتِ اسلامیہ کے مجاہدین سے امن کی بھیک مانگ رہا ہے ۔ دنیا بھر کا میڈیا چیخ و پکار کر رہا ہے کہ اکیسویں صدی کی سب سے بڑی ٹیکنالوجی امارتِ اسلامیہ کے سامنے تھک چکی ہے ، دم توڑ چکی ہے ،ان شاء اللہ تعالیٰ اگر آپ کے عزائم ایسے ہی بیدار رہے اور اہل پاکستان اہل کشمیر کی پشت پر کھڑے رہے تو ان شاء اللہ بہت جلد وہ وقت آنے والا ہے کہ جب انڈیا کی حکومت بھی مجاہدین کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو گی ۔

 آج اہل کشمیر ، اہل پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ آج کا یہ مجمع اور پاکستان میں ہونے والے بھرپور اجتماعات یہ اہل کشمیر کے لیے پیغام ہیں کہ ہم نے آپ  سے جو رشتہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی بنیاد پر قائم کیا تھا ہم وہ رشتہ نہیں بھولے ، اگر ابھی حنظلہ شہید ، طلحہ شہید ؒ ، عثمان شہیدؒ اور درجنوں شہداء آپ کے پاس پہنچ چکے ہیں تو الحمد للہ سینکڑوں نوجوان ان کے نقش قدم پر چلنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں ۔

 آج کشمیر کی دھرتی کشمیر کے مظلوم مسلمان اور سب سے بڑھ کر جیش محمد ﷺ کے شہداء ، امیر المجاہدین حضرت مولانا محمد مسعود ازہر حفظہ اللہ تعالیٰ کے لشکر کے وہ سپاہی جنہوں نے اپنی قبریں اپنے علاقوں میں نہیں بننے دیں ، جنہوں نے اپنی قبریں کشمیر جا کر بنوائی ہیں وہ مجھے اور آپ کو پکار رہے ہیں ، وہ مجھے اور آپ کو دعوت دے رہے ہیں کہ صرف ۵فروری تک کشمیروں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے محدود نہ رہنا۔ آگے بڑھو ، غزوئہ ہند کے میدان سج چکے ہیں ، اللہ کی رحمت اترنے کے لیے بیتاب ہے :

شہداء نے پکارا ہے تم کو فردوس کے بالا خانوں سے

ہم راہِ وفامیں کٹ آئے

تمہیں پیار ابھی تک جانوں سے

اللہ کریم اہل کشمیر سمیت پوری امت مسلمہ کے مظلوم مسلمانوں کو آزادی عطا فرمائے اور ہم سب کو ان کے ساتھ عملی اظہار یکجہتی کی توفیق عطا فرمائے اور آپ سب کی  یہاں آمد کو اللہ کریم قبول فرمائے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor