Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

ماہنامہ ’’ المرابطون‘‘ کی سعادت (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 682 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Al Murabitoon ki Saadat

ماہنامہ ’’ المرابطون‘‘ کی سعادت

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 682)

اللہ تعالیٰ کے فضل واحسان سے ماہنامہ ’’ المرابطون‘‘ آپ کی خدمت میں 9واں خصوصی شمارہ پیش کر رہا ہے ، جس کی پیشانی پر استقامت کے پہاڑ‘ عاشقوں کے سردار‘ دربار رسالت کے مؤذن ، کاشانۂ نبوت کے خادم خاص اور امت مسلمہ کے سردار‘ سیدنا حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ کا نام نامی اسمِ گرامی چمک رہا ہے۔

’’ بلال ‘‘ کتنا پیارا ہے یہ نام اور کتنا اجالا ہے اس نام میں ، گزشتہ دنوں ایک عالم دین بتا رہے تھے کہ برطانیہ کی ایک مسجد میں ایک سفید فام یعنی گورے شخص نے اسلام قبول کیا تو کلمہ پڑھا نے والے مفتی صاحب نے اس سے پوچھا کہ آپ کا اسلامی نام کیا رکھا جائے ۔

اس گورے شخص نے جواب دیا کہ میں نے یہ طے کر لیا ہے کہ اب مرتے دم تک اپنی اس مسجد میں اذان دینے کی سعادت میں حاصل کروں گا اور اسی مناسبت سے میں چاہتا ہوں کہ میرا نام‘ اسلام کے پہلے مؤذن سیدنا حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے نام پر ’’ بلال‘‘ رکھا جائے ۔ تب میری زبان سے بلا اختیار نکلا کہ قربان جائوں بلالؓ آپ کی عظمت پر کہ آپ حبشی نسل سے تعلق رکھتے تھے لیکن چودہ سو سال بعد بالکل الگ قوم ، رنگ ، نسل اور زبان سے تعلق رکھنے والا سعادت مند مسلمان ، آپ کے نام پر اپنا نام رکھتے ہوئے خوشی اور فخر محسوس کر رہا ہے ۔

سیدنا بلالؓ بنو جمح کے غلام تھے لیکن جب مکہ کی سر زمین پر آفتابِ نبوت طلوع ہوا تو بلالؓ کی قسمت کا ستارہ بھی چمک اٹھا ۔ بنو جمح کی غلامی میں تو وہ اپنی قسمت سے آگئے تھے کہ ان کے والد ’’رباح‘‘ جاہلیت کے دور میں کسی جنگی معرکے سے غلام بنا کر لائے گئے تھے لیکن بلالؓ اس غلامی کو چھوڑ کر رحمۃ للعالمین‘ راحت العاشقین‘ محبوب رب العالمین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی کو اپنی مرضی اور اپنے اختیار سے اپنا کر ’’ السابقون الاولون‘‘ میں شامل ہو گئے ۔

یہی وہ ’’غلامی ‘‘ تھی جس نے بلالؓ  کو دائمی سرداری عطا کر دی ‘ لازوال اور بے پناہ سرداری ۔ بھلا اُس کی سرداری کا اندازہ کون کر سکتا ہے‘ جسے حضرت عمر رضی اللہ عنہ جیسا عظیم حکمران اپنا سردار قرار دے ۔ بائیس لاکھ مربع میل کے وہ خلیفۃ المسلمین جن کے نام سے وقت کی سپرپاورز قیصر وکسریٰ کے دربار پر لرزہ طاری ہو جاتا تھا ‘ فرمایا کرتے تھے:

’’ ابو بکر سیدنا وأعتق سیدنا ‘‘ (صحیح بخاری)

’’ ابو بکرؓ ہمارے سردار ہیں‘ جنہوں نے ہمارے سردار یعنی بلالؓ  کو خرید کر آزاد کیا ‘‘ ۔

مشہور صحابی حضرت عمار بن یاسرؓ نے چند اشعار کہے ہیں جن میں انہوں نے حضرت بلالؓ اور ان کے ساتھیوں کے تکلیفیں اٹھانے کا اور حضرت ابو بکر صدیق  ؓ کے حضرت بلالؓ  کو آزاد کرنے کا ذکر کیا ہے ۔ حضرت ابو بکر صدیق ؓ کا لقب عتیق تھا یعنی ’’ دوزخ سے آزاد ‘‘ ۔

جزی اللہ خیرا عن بلال و صحبہٖ

عتیقا واخز ی فاکھا و ابا جھل

اللہ تعالیٰ حضرت بلال ؓ اور ان کے ساتھیوں کی طرف سے عتیق (حضرت ابو بکر صدیق  ؓ) کو جزائے خیر عطا فرمائے اور فاکہ اور ابو جہل کو رسوا کرے‘‘۔

عشیۃ ھما فی بلال بسوئۃ

ولم یحذر اما یحذربہ المرء ذوالعقل

’’ میں اس شام کو نہیں بھولوں گا جس شام کو یہ دونوں حضرت بلالؓ  کو سخت تکلیف دینا چاہتے تھے اور عقلمند آدمی جس تکلیف دینے سے بچتا ہے یہ دونوں اس سے بچنا نہیں چاہتے تھے‘‘۔

بتو حیدہ رب الانام و قولہ

شھدت بان اللہ ربی علی مھل

’’وہ دونوں حضرت بلالؓ  کو اس وجہ سے تکلیفیں دینا چاہتے تھے کیونکہ حضرت بلالؓ لوگوں کا ایک خدا مانتے تھے اور کہتے تھے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ میرا رب ہے اور اس پر میرا دل مطمئن ہے‘‘۔

فان یقتلوا نی یقتلوانی فلم اکن

لا شرک بالرحمن من خیفۃ القتل

’’ اگر یہ مجھے مارنا چاہتے ہیں تو ضرور ماردیں ۔ میں قتل کے ڈر سے رحمن کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کر سکتا ہوں‘‘۔

فیا رب ابراھیم والعبد یونس

و موسیٰ و عیسیٰ نجنی ثم لا تبل

لمن ظل یھدی الغی من ال غالب

علیٰ غیر برکان منہ ولا عدل

’’ اے ابراہیم ، یونس ، موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام کے رب! مجھے نجات عطا فرما اور پھر مجھے آل غالب کے ان لوگوں کے ذریعہ آزمائش میں نہ ڈال جو گمراہ ہونا چاہتے ہیں اور نہ وہ نیک ہیں اور نہ انصاف کرنے والے‘‘۔

ہمارے سردار بلالؓ  ہمیں بہت یاد آتے ہیں ۔ جب بھی کانوں میں اذان کی آواز گونجتی ہے‘ جب بھی مؤذن اللہ تعالیٰ کی توحید اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہی دیتے ہیں‘ جب بھی اللہ کے منادی اللہ کے بندوں کو اللہ کے دربار کی طرف بلاتے ہیں اور جب بھی نغمۂ اذان فضا میں بلند ہوتا ہے تو بلالؓ  آپ بہت یاد آتے ہیں ۔ اقبال مرحوم نے سچ کہا تھا:

اذان ازل سے ترے عشق کا ترانہ بنی

نماز اس کے نظارے کا اک بہانہ بنی

اس دنیائے فانی نے بڑے بڑے ناموروں کے نام و نشان مٹا ڈالے‘ بڑے بڑے بادشاہ اور فاتحین جن کا اپنے زمانے میں سکہ چلا کرتا تھا‘ آج کوئی ان کا نام بھی نہیں جانتا مگر بلالؓ آپ تو ہمارے دلوں میں رہتے ہیں‘ ہم دل کی گہرائیوں سے آپ سے محبت کرتے ہیں‘ ہم اپنی اولادوں کا نام آپ کے نام پر رکھتے ہیں‘ ہم آپ کی سیرت سے روشنی پاتے ہیں اور آپ کی استقامت سے سبق حاصل کرتے ہیں ۔

وہ سکندر رومی جو آندھی اور طوفان کی طرح یونان سے اٹھا اور مصر و فارس کے ساتھ ہندوستان فتح کرتے ہوئے ملتان پر اپنی حکومت کا پرچم لہرانے میں کامیاب ٹھہرا ‘ آج ان مفتوحہ علاقوں کے اکثر لوگ اُس کے نام سے بھی ناواقف ہیں لیکن سیدنا بلال  ؓ جیسی ہستیاں ‘ جو غلام ابن غلام تھے لیکن دامن ِ نبوت کے ساتھ وابستہ ہو گئیں ‘ وہ صبح قیامت تک آسمان کے درخشندہ ستاروں کی طرح جگمگاتی رہیں گی ۔ اقبال مرحوم نے سکندر رومی اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے اسی موازنہ کو اپنے مخصوص انداز میں یوں پیش کیا ہے: 

لکھا ہے ایک مغربی حق شناس نے

اہل قلم میں جس کا بہت احترام تھا

جولاں گہ سکندر رومی تھا ایشیا 

گردوں سے بھی بلند تر اس کا مقام تھا

تاریخ کہہ رہی ہے کہ رومی کے سامنے

دعوی کیا جو پورس و دارا نے خام تھا

دنیا کے اس شہنشہ انجم سپاہ کو

حیرت سے دیکھتا فلک نیلی فام تھا

آج ایشیاء میں اس کو کوئی جانتا نہیں

تاریخ داں بھی اسے پہچانتا نہیں

لیکن بلالؓ وہ حبشی زادہ حقیر

فطرت تھی جس کی نور نبوت سے مستنیر

جس کا امیں ازل سے ہوا سینہ بلالؓ

محکوم اس صدا کے ہیں شہنشہ و وزیر

ہے تازہ آج تک وہ نوائے جگر گداز

صدیوں سے سن رہا ہے جسے گوش چرخ پیر

اقبال کس کے عشق کا یہ فیض عام ہے

رومی فنا ہوا حبشی کو دوام ہے

سیدنا حضرت بلالؓ کے فضائل و مناقب اور آ پ کے گفتارو کردار سے سجا روحانی خوان قارئین ’’المرابطون‘‘ کی نذر ہے ۔ پڑھتے جائیں اور دعا کرتے جائیں کہ جسد ِ ملت کو پھر روحِ بلالی نصیب ہو اور ہماری یہ کاوش و محنت ‘ ہم سب کیلئے باعث ِ مغفرت اور ذخیرئہ آخرت بنے۔ (آمین ثم آمین)

و صلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ محمد و آلہ و صحبہ اجمعین

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor