Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

ابو بکر ؓ … با وفا ہم سفر (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 683 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Abu Bakar Bawafa Hamsafar

ابو بکر ؓ … با وفا ہم سفر

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 683)

ازل سے جن لوگوں کیلئے اللہ تعالیٰ نے یہ سعادت مقرر کر رکھی تھی کہ وہ رحمت ِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم پر جان و مال نچھاور کریں‘ آپ کے لائے ہوئے دین کی مضبوطی کا ذریعہ بنیں اور ہر مشکل وقت میں آپ کے قدم سے قدم ملا کر کھڑے ہوں ‘ ایسے خوش بخت انسانوں کو اہل ایمان انتہائی محبت واحترام سے ’’ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم‘‘ کہتے ہیں ۔

اس جماعت کے ایک ایک فرد نے جیسے انتہائی خلوص کے ساتھ عشق و وفا سے تاریخ کی مانگ بھر دی ‘ اُس کے مقابلے میں زمانے بھر کی مشہور داستانیں بہت معمولی محسوس ہوتی ہیں ۔ ایسا کیوں نہ ہوتا کہ سیدنا حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں :

ان اللّٰہ نظر فی قلوب العباد ‘ فوجد قلب محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم خیر قلوب العباد ‘ فاصطفاہ لنفسہ ، فابتعثہ برسالتہ ، ثم نظر فی قلوب العباد بعد قلب محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم ، فوجد قلوب اصحابہ خیر قلوب العباد ، فجعلھم و زراء نبیہ ، یقاتلون علی دینہ( المسند للامام احمد بن حنبل ، رقم الحدیث ۳۴۶۸)

’’ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے دل دیکھے تو ان میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دل کو سب سے بہتر پایا ، اس لیے ان کو اپنے لیے چن لیا اور ان کو پیغمبر بنا کر مبعوث فرمایا ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دل کے بعد اپنے بندوں کے دلوں پر نظر فرمائی تو آپ کے صحابہ کے دلوں کو سب سے بہتر پایا ‘ اس لیے ان کو آپ کا وزیر اور مدد گار بنا دیا ‘ جو آپ کے دین کیلئے کفار سے جنگ کرتے رہے‘‘ ۔

اسی باوفا جماعت کی سب سے ممتاز ترین ہستی سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ہے ‘ جنہوں نے اپنے آپ کو سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس پر ایسا فناء کر دیا کہ فارسی کا یہ شعر بالکل آ پ کے حالات اور اوصاف پر پورا اترتا ہے :

من تو شدم تو من شدی ‘ من تن شدم تو جاں شدی

تا کس نہ گوید بعد ازیں ‘ من دیگرم تو دیگری

( میں تُو بن گیا ہوں اور تُو میں بن گیا ہے‘ میں جسم ہوں اور تو جان ہے ۔ پس اس کے بعد کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں اور ہوں اور تو اور ہے )

اسی فنائیت کا ایک ہلکا سا عکس یہ ہے کہ پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے باد فا ہم سفر ابو بکر رضی اللہ عنہ زندگی کے واقعات میں تو کیا ‘ اپنے ذاتی اوصاف میں ایک جیسے نظر آتے ہیں ۔ اس کی ایمان افروز مثال دیکھیں کہ جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر غارِ حرا میں پہلی وحی نازل ہوتی تو آپ گھر تشریف لاتے ہیں ۔ ام المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ کے سامنے تسلی کی باتیں کرتی ہیں اور یوں کہتی ہیں:

’’فواللّٰہ لا یخزیک اللّٰہ ابدا، انک لتصل الرحم  و تصدق الحدیث  و تحمل الکل  وتکسب المعدوم  وتقریٰ الضیف  و تعین علی نوائب الحق‘‘

’’ اللہ کی قسم! وہ آپ کو کبھی کسی برائی میں مبتلا نہیں کرے گا کیونکہ آپ تو اپنے رشتے داروں سے صلہ رحمی کرتے ہیں‘ آپ گفتگو میں ہمیشہ سچ بولتے ہیں‘آپ عاجز لوگوں کے بوجھ کو اٹھا لیتے ہیں ‘ آپ محتاجوں کو مال کما کر دیتے ہیں‘ آپ مہمانوں کی مہمان نوازی کرتے ہیں اور آ پ تو صحیح معاملات میں لوگوں کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔ ‘‘

یہ روایت صحیح بخاری کے بالکل شروع ’’ باب کیف کان بد ء الوحی‘‘ میں ہے ۔ اب صحیح بخاری کی پہلی جلد ‘ صفحہ ۵۵۳ پر ایک روایت دیکھیں ‘ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ جب مکہ کے مشرکین نے ظلم و ستم کی انتہاء کر ڈالی تو اہل ایمان کو حبشہ کی طرف ہجرت کی اجازت مل گئی ۔ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بھی مصائب و آلام سے تنگ آکر ہجرت کے ارادے سے روانہ ہو گئے ۔ جب آپ ؓ ’’ برک الغماد‘‘ پہنچتے ہیں تو قبیلہ قارہ کے سردار ابن الدغنہ سے ملاقات ہوتی ہے ۔ وہ پوچھتا ہے کہ کہاں کا ارادہ ہے ؟ آپؓ کہتے ہیں کہ قوم نے مجھے ہجرت پر مجبور کر دیا ہے‘ اب کہیں اور جا کر آباد ہونے کا ارادہ ہے کہ آزادی کے ساتھ وہاں اپنے رب کی عبادت کر سکوں ۔

جواب میں وہ مشرک سردار کہتا ہے کہ ابو بکر یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں‘ بھلا آپ جیسے شخص کو بھی کوئی وطن سے نکلنے پر مجبور کر سکتا ہے کیونکہ:

’’ انک تکسب المعدوم ، و تصل الرحم و تحمل الکل و تقری الضیف و تعین علی نوائب الحق ، فأنا لک جار ‘ ارجع ‘‘

’’ آپ تو محتاج لوگوں کو کما کر دیتے ہیں‘ اپنے رشتے داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرتے ہیں ‘ آپ عاجز لوگوں کا بوجھ اٹھا لیتے ہیں‘ آپ مہمان نوازی کرتے ہیں اور آپ تو صحیح معاملات میں لوگوں کے ساتھ تعاون کرتے ہیں ‘ اس لیے آپ واپس مکہ چلیں میں آپ کو اپنی پناہ میں لیتا ہوں۔‘‘

اندازہ لگائیں کہ ام المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے سروردو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے جو اوصاف بتائے اور قبیلہ قارہ کے سردار ابن الدغنہ نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی جو خوبیاں گنوائیں ‘ ان میں کتنی مشابہت اور یکسانیت ہے۔

اقبال مرحوم نے ’’ صدیقؓ ‘‘ کے عنوان سے ایک بے مثال نظم لکھی ہے ‘ جو مکمل ہی پڑھنے کے لائق ہے لیکن اس کا آخری شعر تو گویا سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی پوری زندگی کا عطر اور نچوڑ ہے ۔ اقبال کہتے ہیں:

پروانے کو چراغ ہے ، بلبل کو پھول بس

صدیق کے لیے ہے خدا کا رسول بس

یہی وہ فنائیت کا مقام اور مرتبہ تھا ، جس کی بناء پر رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس جہانِ فانی سے پردہ فرما لینے کے بعد تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بشمول اہل بیت عظام رضی اللہ عنہم نے متفقہ طور پر سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بلا فصل منتخب کر کے ان کی اطاعت کو اپنے لیے باعث ِ سعادت سمجھا ۔ ان حضرات کے سامنے سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی کتاب ِ زندگی کا ایک ایک ورق تھا اور وہ جانتے تھے :

٭…صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ہی آزاد مردوں میں سب سے اول مشرف بہ اسلام ہوئے ہیں اور کسی دوست کے ساتھ بغیر مشورہ اور صلاح کے ایمان لائے ہیں ۔

٭… نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر جماعت کی صورت میں سب صحابہ سے پہلے نماز پڑھنے کی سعادت حاصل کرنے والے صدیق اکبر ہیں ۔ (تاریخ الخلفاء سیوطی ص ۳۱ )

٭… حضرت علی رضی اللہ عنہ ذکر کرتے ہیں کہ اللہ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ پر رحمت فرمائے ، وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے قرآن مجید کو دو تختیوں کے درمیان جمع کیا ۔

٭… پہلا حج جو اسلام میں ہوا ہے اس میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو پہلا امیر حج بنا کر روانہ فرمایا پھر آئندہ سال حضور ﷺ حج کو خود تشریف لے گئے ۔ ( طبقات ابن سعد ص ۱۳۵ ، ج ۳ )

٭… حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں پہلا شخص ہوں گا قیامت میں جو زمین سے اٹھوں گا ، پھر ابو بکر رضی اللہ عنہ اٹھیں گے ۔ ( مشکوٰۃ، ص ۵۵۲ بحوالہ ترمذی)

٭… نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو بکر رضی اللہ عنہ کو فرمایا کہ یقینا تو وہ پہلا شخص ہو گا جو میری امت میں سے جنت میں داخل ہو گا ۔ (مشکوٰۃ ،ص ۵۵۲ بحوالہ ابی دوائود)

٭… تمام صحابہ کرام میں سے صرف صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ہیں جن کی چار پشتیں صحابی ہیں ، ابو عتیق محمد بن عبدالرحمن بن ابی بکر الصدیق بن ابی قحافہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم ۔ (ازالۃ الخفاء فارسی ، مقصد دوم ، ص ۱۶)

٭… واقعہ ہجرت جو اسلام میں بہت بڑی فضیلت اور اہمیت رکھتا ہے اس میں ابتدائے ہجرت سے آخری اوقات تک حضرت ِ صدیق رضی اللہ عنہ آنحضورﷺ کی معیت اور رفاقت میں رہے ہیں۔ (الاصابہ ص ۳۳۵ ج ۲ ، استیعاب ص ۲۳۴، ج ۲ )

٭… قیام غارِ ثور کا شرفِ معیت اور حاضری صدیق  ؓ کو ہی حاصل ہوئی ہے جس کا ذکر قرآن مجید نے ثانی اثنین اذھما فی الغار سے فرمایا ہے ۔

٭… صدیق اکبر سردارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمام غزوات اور تمام خطرات میں سب جگہ حاضر رہے ہیں ۔

٭… نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مال و دولت خرچ کرنے کے اعتبار سے تمام لوگوں میں مجھ پر زیادہ احسان کرنے والے ابو بکر ہیں ۔ یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے زیادہ محسن ابو بکر ہیں ۔ (بخاری ص ۵۱۶، ج ۱)

٭… ’’ عتیق ‘‘ (آگ سے آزاد شدہ) کا لقب خصوصی حضرت صدیق ؓ کو ہی حاصل ہے ۔ حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’ جس شخص کو پسند ہے کہ آگ سے آزاد شدہ انسان کو دیکھے وہ ابو بکر کی طرف نظر کرے‘‘۔ (اصابہ ص ۳۳۴، ج ۲، استیعاب ص ۲۳۵، ج ۲)

٭… نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مرض الوفات کے دوران میں آپ نے مسلمانوں کی نماز کے لیے ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ہی امام بنایا ۔ حضور کے حکم سے حضور کے مصلیٰ پر حضور کی حیات میں صدیق ہی امام قرار دئیے گئے ہیں ۔(صحیح بخاری)

٭… حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات جیسے ہوش رُبا حادثہ اور قیامت خیز واقعہ کے وقت بھی باہوش اور با استقلال رہنے والے صرف صدیق اکبرؓ ہیں جنہوں نے سب کو صبر کی تلقین کر کے سنبھالا ۔

فنائیت کی انتہاء دیکھیں کہ خود فرماتے تھے: ’’ اللہ کی قسم! حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رشتہ داری اور قرابت والوں سے صلہ رحمی کرنا ‘ مجھے اپنے رشتے داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرنے سے زیادہ محبوب ہے‘‘ ( البدایۃ والنہایۃ ۵؍۲۸۶)

کتنی غلیظ اور ناپاک سوچ ہے کہ صحابہ کرام ؓ ، رحمت ِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے بعد بدل گئے تھے حالانکہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے تو اپنے دورِ خلافت میں بھی قدم قدم پر فناء فی الرسول ہونے کا ثبوت دیا ۔ سیدنا ابو بکر صدیق  ؓ کا طرز ِ حکمرانی دیکھیں ، جیش اسامہ ؓ کی روانگی کا واقعہ پڑھیں یا مرتدین و منکرین ختم نبوت اور مانعین زکوٰۃ کے خلاف ان کی بروقت اور برمحل کاروائیوں کے احوال سنیںہر موڑ پر آپ کو یہی احساس ہو گا کہ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ہر لمحہ یہی فکر دامن گیر تھی کہ جس ’’صراط مستقیم‘‘ پر رحمت ِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم ان کو چھوڑ کر گئے ہیں ‘ اُس سے ذرہ برابر بھی وہ اِدھر اُدھر نہ ہوں۔

اللہ کریم امت مسلمہ کے اس عظیم محسن کو ہماری طرف سے بہترین جزائے خیر عطا فرمائے اور ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنا نصیب فرمائے ۔ (آمین ثم آمین)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor