Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

اہل ایمان پر قرآن مجید کے کیا حقوق ہیں؟ (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد بن محمود)

Kalma-e-Haq 693 - Maulana Muhammad bin Mahmood - Quran Majeed k Huqooq

اہل ایمان پر قرآن مجید کے کیا حقوق ہیں؟

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد بن محمود (شمارہ 693)

رمضان ‘ ماہِ قرآن ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے بھی سورۃ البقرۃ میں رمضان کا تعارف کرواتے ہوئے اس ماہِ مبارک کی یہی خصوصیت بیان فرمائی ہے کہ اس میں قرآن مجید ‘ فرقانِ حمید جیسی عظیم الشان کتاب نازل فرمائی گئی ۔ اس طرح یہ مہینہ قرآن مجید کی سالگرہ کا مہینہ بنتا ہے ۔ پھر سورۃ القدر سے اس کی مزید تفصیل یہ معلوم ہوئی کہ رمضان المبارک کی بھی مبارک اور مقدس شبِ قدر کو یہ سعادت حاصل ہے کہ اس میں قرآن مجید لوحِ محفوظ سے آسمانِ دنیا پر نازل ہوا اور پھر حسبِ ضرورت ۲۳ سال کے عرصے میں مختلف اوقات اور مختلف مقامات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوتا رہا ہے ۔

اہلِ ایمان کے ذمے قرآن مجید کے بہت سے حقوق ہیں ۔ پہلا حق تو یہ ہے کہ قرآن مجید پر کامل طور پر ایمان لایا جائے ۔ اس کو اللہ تعالیٰ کی آخری اور مکمل کتاب تسلیم کیا جائے ۔ اس کے فرامین اور مضامین کی دل و جان سے تصدیق کی جائے ۔ صبح قیامت تک کیلئے اس کو تمام انسانوں کیلئے ذریعہ نجات سمجھا جائے ۔ یہ عقیدہ رکھا جائے کہ جتنی بھی آسمانی کتابیں اور صحیفے نازل ہوئے ‘ وہ سب اپنی اپنی جگہ برحق تھے لیکن وہ سب چند علاقوں اور مخصوص زمانے تک کیلئے تھے ۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان میں تحریف اور تبدیلی کردی گئی ۔ اب صرف قرآن مجید ہی ناقابل ترمیم اور نا قابل تنسیح کتاب ہے ۔ دنیا کا کوئی قانون ، جو قرآن مجید کے خلاف ہو ‘ وہ قابلِ تسلیم نہیں ۔ یہ سب باتیں کہنا تو بہت آسان ہیں مگر ان سب پر بوقتِ امتحان پورا اترنا بہت مشکل ہے ۔ بڑے بڑے حاجی اور نمازی بھی دو چار پیسے کا فائدہ دیکھ کر انگریزی قوانین کے مطابق فیصلوں پر راضی ہو جاتے ہیں اور قرآن مجید کے صریح احکامات کو نظر انداز کر دیتے ہیں ۔

ہمارے اکابر میں سے حضرت مولانا شمس الحق افغانی  ؒ ایک بہت عظیم بزرگ گزرے ہیں ۔ آپ دارالعلوم دیوبند کے فیض یافتہ تھے اور دارالعلوم دیوبند میں شیخ التفسیر کے منصب پر بھی فائز رہے ۔ آپ برسوں ریاست ِ قلات کے قاضی القضاۃ (چیف جسٹس) رہے ۔ صدر ایوب کے دور میں جب ریاستوں کو پاکستان کا باقاعدہ حصہ بنانے کا سلسلہ شروع ہوا تو ریاست قلات کے بارے میں یہ فیصلہ بھی ہوا کہ یہاں کی شرعی عدالتوں کے فیصلے پاکستان کے سپریم کورٹ میں چیلنج کیے جا سکیں گے ۔ اس پر حضرت مولانا شمس الحق افغانی  ؒ نے فرمایا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ قرآن وسنت پر مبنی فیصلوں کو انگریزی قوانین پر مبنی عدالتوں میں چیلنج کیا جا سکے اس کے بعد آپ نے مزید وہاں رہنا گوارا نہیں فرمایا اور اپنے عہدے سے استعفاء دے کر تشریف لے آئے ۔

مسلمانوں کے ذمے قرآن مجید کا دوسرا حق یہ ہے کہ وہ اس کی صحیح تلاوت کریں ۔ قرآن مجید عربی زبان میں نازل ہوا ہے اور عربی زبان اپنے اندر بہت سی نزاکتیں رکھتی ہے ۔ اردو کے لہجے میں ہم اگر قلب ‘ کلب یا ذلّ ‘ ضَلَّ،ذلَّ اور ظلَّ جیسے الفاظ بولیں تو ان میں کوئی خاص فرق محسوس نہیں ہتا لیکن عربی میں یہ تمام الفاظ بالکل جدا جدا ہیں اور ان کے معنی و مفہوم میں تو یوں کہنا چاہیے کہ آسمان و زمین کا فرق ہے ۔ مدارسِ دینیہ کی کثرت کی وجہ سے عام طور پر لوگوں کا تلفّظ اتنا غلط نہیں لیکن پھر بھی جن لوگوں نے قرآن مجید کو باقاعدہ پڑھنا نہیں سیکھا ‘ وہ جب تلاوت کرتے ہیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مندرجہ ذیل فرمان کی عملی تعبیر نظر آتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

’’ بہت سے قرآن پڑھنے والے ایسے ہوتے ہیں ‘ جو قرآن پڑھ رہے ہوتے ہیں اور قرآن اُن پر لعنت کر رہا ہوتا ہے ‘‘۔ (مشکوٰۃ شریف )

اللہ کے بندو ! کتنی بڑی بد قسمتی کی بات ہے کہ ہم نے اپنی زندگی میں انگریزوں کی طرح منہ بگاڑ بگاڑ کر انگریزی بولنا تو سیکھ لی اور نجانے کیا کیا خرافات سیکھنے میں زندگی کھپا دی لیکن جس اللہ نے یہ زندگی بخشی ، یہ زبان جیسی نعمت عطا فرمائی اور رنگا رنگ نعمتیں عطا فرمائیں ‘ ہم نے اُس کا پاک کلام پڑھنا ہی نہیں سیکھا ۔ کہیں بچپن میں بے بے جی سے غلط سلط قرآن پڑھ لیا اور پھر زندگی بھر ایک لمحہ کیلئے رک کر نہ سوچا کہ میں قرآن پاک کے ساتھ کتنا بڑا ظلم کر رہا ہوں ۔ پاکستان کی تو یہ سعادت ہے کہ گلی گلی قریہ قریہ حفاظِ کرام اور قرّائِ کرام کی ایک بڑی تعداد موجود ہے ‘ اس رمضان المبارک میں ہی آپ کسی حافظ صاحب یا قاری صاحب سے باقاعدہ قرآن پڑھنا سیکھ لیں تب ان شاء اللہ دنیا میں بھی تلاوت کا لطف لیں گے اور آخرت کی رسوائی سے بھی بچ جائیں گے ۔

جامعہ اشرفیہ لاہور کے بانی حضرت اقدس مفتی محمد حسن امرتسری ؒ  جب باقاعدہ فارغ التحصیل عالم بننے کے بعد حضرت حکیم الامت مولانا اشر ف علی تھانوی  ؒ کی خدمت میں بیعت کیلئے حاضر ہوئے تو حضرت حکیم الامت ؒ کو آپ کی تلاوت اور تجوید میں کچھ کمی محسوس ہوئی اس لیے بیعت کیلئے یہ شرط بھی لگا دی کہ پہلے کسی اچھے قاری صاحب سے اپنی تجوید ٹھیک کریں تب بیعت کیا جائے گا ۔ وہ بھی ایسے طالبِ صادق تھے کہ اپنے ظاہری مقام و مرتبہ کی ذرا پرواہ نہیں کی اور قرآن مجید دوبارہ پڑھ کر حاضر ہوئے اور بیعت کی سعادت حاصل کی ۔

یہاں اس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ اگر کوئی شخص صحیح تلاوت کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اس کیلئے وہ تمام ضروری تقاضے پورے کرتا ہے مگر اس کے باوجود وہ الفاظ کے صحیح تلفّظ پر قادر نہیں ہوتا تو ایسے شخص پر نہ صرف یہ کہ کوئی پکڑ نہیں بلکہ حدیث پاک میں ایسے مشقت اٹھا کر تلاوت کرنے والے کو دگنے اجرو ثواب کی بشارت دی گئی ہے ۔

قرآن مجید کا ایک حق یہ بھی ہے کہ اس کو سمجھا جائے ۔ قرآن مجید کتابِ ہدایت ہے اور اس سے ہدایت تب ہی ملے گی جب اس کا معنی و مفہوم معلوم ہوگا۔ دنیا میں ہر شخص مفسر بن سکتا ہے نہ ہی اُسے بننا چاہیے جیسے ہر شخص خود ڈاکٹر اور حکیم نہیں بن سکتا ۔ اس لیے قرآن مجید سمجھنے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ مستند تفاسیر کا مطالعہ کیا جائے اور ان علماء کرام سے اس کو سمجھا جائے جن کی اپنی زندگیاں قرآن مجید کی عملی تفسیر ہوں ورنہ آج کل مارکیٹ میں ایسے بہت سے ’’مفسرین ‘‘ کی بھی ایک کھیپ آئی ہوئی ہے جن کی شکل قرآن مجید کے مطابق ہے نہ کوئی عمل ۔ ظاہر میں اتباع سنت کا اہتمام ہے نہ باطن میں اصلاح کا کوئی گزر ۔ ان میں سے اکثریت ’’جیل مرکب‘‘ میں گرفتار ہے اور حدیث پاک کے الفاظ ’’ ضلّوا فاضلّوا ‘‘ (خود گمراہ اور دوسروں کو گمراہ کرنے والے ) کا مصداق ہیں ۔ اس لیے ان سے بچنا چاہیے کہ کہیں ’’ کوّا چلا ہنس کی چال اور اپنی چال بھی بھول گیا ‘‘والا مسئلہ نہ ہو جائے ۔

قرآن مجید کا ایک حق یہ بھی ہے کہ اس کو دنیا میں نافذ کیا جائے ۔ قرآن مجید صرف اس لیے نازل نہیں ہوا تھا کہ مساجد میں اس کی تلاوت کر لی جائے اور سال میں ایک مرتبہ تراویح میں اس کو سن کر پھر پورے سال کیلئے فراغت اور چھٹی ۔ یہ کتابِ الٰہی تو ایوانہائے حکومت کا قانون بننے کیلئے نافذ ہوئی ‘ اس لیے آپ مضامین ِ قرآن کی کوئی فہرست بھی دیکھ لیں آپ کو نماز ‘ روزہ ‘زکوٰۃ ‘ حج جیسی عبادات کے ساتھ نکاح و طلاق کے احکام ‘ خریدو فروخت کے احکام ‘ اسلامی سزائوں کے احکام ‘ کفار کے ساتھ مقابلہ کرنے کے احکام اور بے شمار دیگر ایسے احکامات ملیں گے جن کا تعلق انسان کی جیتی جاگتی زندگی سے ہے ۔

ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے مقدس صحابہ کرام ؓ نے جہاں قرآن مجید کی تلاوت فرمائی وہاں قرآن مجید کو کائنات میں غالب کرنے کیلئے اس کو دنیا بھر میں نافذ کرنے کیلئے عملی کوششیں بھی فرمائیں ۔ اگر مسجد نبوی شریف کے درو دیوار تلات ِ قرآن مجید کی مسحور کن آوازوں سے گونج رہے تھے تو ساتھ ہی اسی مسجد شریف سے قرآن مجید کے غلبہ اور نفاذ کیلئے احکامات جاری ہو رہے ہوتے اور پوری دنیا میں یلغار کیلئے مجاہدین کے لشکر روانہ ہوتے ۔ یہ کوئی ایسی بات نہیں جس کیلئے مفصل دلائل کا سہارا لینے کی ضرورت محسوس کی جائے ۔ صرف رمضان کے مقدس مہینے میں جن غزوات و سرایا کا پتہ چلتا ہے ‘ وہ یہ ہیں :

۱) اسلامی تاریخ کا سب سے اہم معرکۂ حق وباطل یعنی غزوۂ بدر، رمضان ۲ھ میں پیش آیا۔

۲) فتح مکہ جس کے بعد مسلمانوں کو مرکز انسانیت بیت اﷲ پر قبضہ نصیب ہوا، رمضان ۸ھ میں پیش آیا۔

۳) سریہ عمیرؓ بن عدی : رمضان ۲ھ میں روانہ کیا گیا۔

۴)سریہ عبداﷲ بن عتیک انصاریؓ: رمضان ۶ھ میں روانہ کیا گیا۔

۵)سریہ غالب ؓ بن عبداﷲ اللیشی: رمضان ۷ھ میں روانہ کیا گیا۔

۶) سریہ حضرت ابوقتادہؓ : یہ بطن اضم کی طرف رمضان ۸ھ میں روانہ کیا گیا۔

۷) سریہ اسامہ ؓ بن زید: یہ حرقات جہینہ کی طرف رمضان ۸ھ میں روانہ کیا گیا۔

۸)سریہ سعدؓ بن زید: یہ منات بت کو توڑنے کیلئے رمضان ۸ھ میں روانہ کیا گیا۔

۹)سریہ خالدؓ بن ولید: یہ عزّٰی بت توڑنے کیلئے رمضان ۸ھ میں روانہ کیا گیا۔

۱۰) سریہ عمروؓ بن العاص: یہ سواع بت توڑنے کیلئے رمضان ۸ھ میں روانہ کیا گیا۔

۱۱)سریہ زیدؓ بن حارثہ: یہ رمضان ۶ھ میں روانہ کیا گیا۔

۱۲) سریہ علی ؓ بن ابی طالب: یہ یمن کی طرف ۱۰ھ میں روانہ کیا گیا۔

اﷲ تعالیٰ اس رمضان المبارک کو بھی مسلمانوں کی فتح ونصرت اور کافروں کیلئے ذلت ورسوائی کا مہینہ بنادے۔ آمین

کس قدر حسرت اور افسوس کی بات ہے کہ آج دنیا کے نقشے پر ‘ستاون سے زائد اسلامی ممالک موجود ہیں لیکن ان سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں جس میں قرآن مجید کا نظام نافذ ہو ‘ جہاں قرآن مجید کو سپریم لاء مانا جاتا ہو ‘ جہاں قرآن مجید صرف منبر و محراب کی زینت نہ ہو بلکہ اُس کے ایوانہائے اقتدار اور عدالتیں بھی اس کی روشنی سے منور ہوں ۔ اب تو حالت یہ ہے کہ دنیا بھر کے باطل نظاموں کے دعویدار پوری قوت اور محنت کے ساتھ اپنے بنائے ہوئے منشور کیلئے کام کرتے ہیں لیکن اگر مسلمان ‘ رب کے قرآن کی بات کرتا ہے ‘ اُس کے غلبہ اور نفاذ کیلئے جدو جہد کرتا ہے اور قرآن پر ہی زندگی بھر عمل پیرا ہونا چاہتا ہے تو غیروں سے پہلے اپنے ہی اُس کی راہ میں روڑے اٹکاتے ہیں ۔

رمضان میں مساجد کی یہ رونقیں اہل ایمان کو مبارک ہوں ‘ ماہِ مبارک میں قرآن مجید کی یہ بہاریں مبارک ہوں ۔ یہ تلاوتیں ‘ یہ سعادتیں اور یہ تراویح مبارک ہوں۔ مگر ایک لمحے کیلئے یہ بھی سوچتے جائیے گا کہ قرآن مجید کے غلبہ اور نفاذ کا حق کون ادا کرے گا اور جو لوگ یہ کاوشیں کر رہے ہیں آپ نے اُن کے ساتھ کتنا تعاون کیا ہے ؟ اپنی جان سے ‘ اپنے مال سے ‘ اپنی جوانی سے ‘ اپنی صلاحیتوں سے ‘ اپنی شان و شوکت سے ‘ اپنی طاقت و قوت سے یا کچھ بھی نہیں ؟

اللہ تعالیٰ ہم سب کو قرآن مجید کے تمام حقوق سمجھ کر انہیں ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے ،تاکہ ہم صحیح معنی ٰ میں قرآن مجید کے ماننے والے بن جائیں ۔

٭٭٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor