Bismillah

586

۲۴تا۳۰جمادی الثانی۱۴۳۸ھ       بمطابق  ۲۴تا۳۰مارچ۲۰۱۷ء

ہم کیا دیکھ رہے ہیں؟ (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 567 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Hum kia Dekh rahe hein

ہم کیا دیکھ رہے ہیں؟

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 567)

ہر گناہ آگ کا ایک انگارہ ہے ، جس سے انسان اپنی زندگی کو، اپنے جسم کو ، اپنی عقل کو اور پھر اپنی قبر و آخرت کو نذر ِ آتش کرتا ہے ۔ پھر انسان جس گناہ کو گناہ سمجھتا ہے ، اس کو کرتے وقت دل و دماغ کراہت محسوس کرتا ہے ۔ ضمیر احتجاج کرتا ہے او رکبھی نہ کبھی ، اگر توفیق الٰہی شامل حال ہو تو ایسے گناہ سے توبہ کی توفیق بھی نصیب ہو جاتی ہے ۔

لیکن اگر خدانخواستہ ماحول کی خرابی ، گناہوں کی کثرت یا گمراہ کن دلائل کی وجہ سے کسی گناہ کا گناہ ہونا ہی ذہن سے نکل جائے تو یہ بہت پریشان کن مرحلہ ہوتا ہے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے دنیاوی اعتبار سے کوئی بیمار شخص اُسی وقت اپنا علاج کرواتا ہے  جب اُسے اپنی بیماری کا شعور اور احساس ہوتا ہے لیکن اگر وہ اپنی بیماری کو تفریح یا کمال سمجھنے لگے تو پھر وہ بھلا کیوں علاج کروائے گا ؟ ایسا مریض تو الٹا اُس شخص کو جو اُسے علاج کی طرف متوجہ کرے اپنا دشمن سمجھے گا اور اُسی پر لعن طعن شروع کر دے گا ۔

ایسے گناہوں میں سے جن کا مضبوط  محکم اور ٹھوس دلائل سے گناہ ثابت ہے اور مسلمان بھی ہمیشہ سے اُنہیں گناہ ہی سمجھتے ہیں لیکن اب رفتہ رفتہ ہمارے دل و دماغ سے اُس کی برائی ختم ہوتی جا رہی ہے سرِ فہرست بد نظری کا گناہ ہے ۔ یہ گناہ ایک مسلسل عذاب اور منہ زور سیلاب کی طرح ہمارے معاشرے پر مسلط ہوتا جا رہا ہے ۔

آج ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں جو برسرِ عام اور کھلم کھلا اس گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں لیکن اب تو انٹرنیٹ ، سوشل میڈیا اور دیگر فحش آلات کی وجہ سے ایک طبقہ ایسا پیدا ہو گیا ہے جو اعلانیہ تو بد نظری کا گناہ نہیں کر سکتا لیکن موبائل فون اور کمپیوٹر کی سکرین پر ہر چیز دیکھنا وہ جائز سمجھتا ہے ۔ اُن کے خیال میں راستوں اور بازاروں میں تو یہ حرکت معیوب اور قابلِ گرفت ہے لیکن کمروں اور پردوں کے اندر چھپ کر ایسا کرنے میں کوئی گناہ نہیں ۔

پھر اس گناہ کی تاویلات الگ الگ ہیں ۔ کوئی اسے ضرورت زمانہ کہتا ہے تو کوئی تفریح طبع خیال کرتا ہے ۔ کوئی کسی طرح اپنے آپ کو دھوکہ دیتا ہے اور کوئی مزید نت نئے بہانے اور حیلے تراشتا ہے لیکن یہ حقیقت کیسے فراموش کی جا سکتی ہے کہ جس چیز کو باہر کی دنیا میں دیکھنا ہمارے لیے حلال اور جائز نہیں  اُسے صرف سکرین پر آجانے سے دیکھنا کیسے جائز اور درست ہو جائے گا ۔

یاد رکھیں! اسلام دین ِ فطرت ہے اور اس نے کسی بھی ایسے کام سے ہمیں منع نہیں کیا جس میں ہمارے لیے کوئی فائدہ ہو یہ تو ہمیں صرف انہی کاموں اور باتوں سے روکتا ہے جن سے ہماری قبر و آخرت کے ساتھ ساتھ دنیا بھی تباہ ہوتی ہے ، ہماری صحت بھی برباد ہوتی ہے، ہمارا دل بھی افسردہ ہوتا ہے ، ہمارا ضمیر بھی مردہ ہوتا ہے ہمارے روز مرہ کے حالات ِ زندگی بھی بری طرح متاثر ہوتے ہیں اور صرف چند لمحوں کے نفسانی اور شیطانی مزے کے علاوہ کچھ ہاتھ نہیں آتا ۔

 بد نظری خواہ کھلے عام بازاروں میں ہو یا بند کمروں میں  اس کی تباہی اور ہولنا کی میں کوئی فرق نہیں آتا ۔ اس کے نتیجے میں انسان کی توجہ تقسیم ہو جاتی ہے اور یادداشت کمزور ہو جاتی ہے ۔ ایسا انسان بے خوابی اور نیند کی کمی کا شکار ہو جاتا ہے ۔ یہ دیمک جس شخص کو لگ جائے ، وہ اندر اندر سے ایسا کھوکھلا ہو جاتا ہے کہ کاہلی ، سستی اور اجتماعی کاموں سے دور رہنا اُس کی طبعیت بن جاتی ہے اور وہ انفرادی زندگی کا عادی بنتا چلا جاتا ہے ۔ ایسے انسان کو غیر محسوس طریقے سے ذہنی پریشانیاں جکڑ  لیتی ہیں جس کے نتیجے میں مزاج کی سختی ، جلدی غصہ آنا اور بات بات پر مشتعل ہو جانا اُس کا معمول بن جاتا ہے ۔ پھر صرف ذہنی اور نفسیاتی بیماریوں پر بات ختم نہیں ہوتی ، یہ گناہ اپنے ساتھ بے شمار جسمانی بیماریاں بھی لے کر آتا ہے ۔

بحیثیت ایک مسلمان کے ہمیں سوچنا چاہیے کہ آخر کوئی تو بات ہے کہ قرآن مجید اور احادیث ِ طیبہ میں ہمیں بار بار نگاہوں کی حفاظت کا حکم دیا گیا ہے ۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

قُل لِّلْمُوْمِنِینَ یَغُضُّوا مِنْ اَبْصَارِہِمْ وَیَحْفَظُوا فُرُوجَہُمْ  ذَٰلِکَ اَزْکَیٰ لَہُمْ  إِنَّ اللَّہَ خَبِیرٌ بِمَا یَصْنَعُونَ وَقُل لِّلْمُوْمِنَاتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِہِنَّ وَیَحْفَظْنَ فُرُوجَہُنَّ

ترجمہ:مومن مردوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں۔ یہ ان کے لئے بڑی پاکیزگی کی بات ہے اور جو کام یہ کرتے ہیں خدا ان سے خبردار ہے، اور مومن عورتوں سے بھی کہہ دو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں۔ (سورۃ النور۳۰،۳۱)

ابن قیم ؒ اپنی کتاب" الجواب الکافی "میں لکھتے ہیں:

’’زنا کا آغاز نظروں سے ہوتا ہے، اسی لئے شرمگاہ کی حفاظت سے پہلے نگاہوں کی حفاظت کی تاکید کی گئی، چونکہ تمام واقعات کا آغاز نگاہوں سے ہوتا ہے۔ جس نے اپنی نگاہوں کو آزاد چھوڑ دیا، اس نے اپنے آپ کو ہلاکت کے منہ میں ڈالا، انسان کو پہنچنے والی عام مصیبتوں اور آفات میں سب سے پہلے نظر کے ذریعے ہی مصیبت اور پریشانیاں پہنچتی ہیں، جب انسان نظروں کی لاپرواہی کے سبب مصیبت میں پڑ جاتا ہے تو پھر اسے سوائے افسوس کے کچھ حاصل نہیں ہوتا، وہ ایسی حالت میں پہنچ جاتا ہے کہ اس پر اسے نہ صبر کرنے کی طاقت ہوتی ہے اور نہ اسے چھوڑنے کی، اور یہ انسان کے لئے سب سے بڑا عذاب ہوتا ہے‘‘۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

ذَٰلِکَ اَزْکَیٰ لَہُمْ

یہ ان کے لئے بڑی پاکیزگی کی بات ہے(سورۃ النور:۳۰)

یعنی نگاہوں اور شرمگاہ کی حفاظت انسان کے لئے زیادہ پاکیزہ اور دین کے لئے زیادہ مفید اور مومن کے لئے دنیا و آخرت میں زیادہ کارآمد ہے۔

اللہ تعالیٰ نے غض بصر یعنی نگاہوں کو نیچی رکھنے اور شرم گاہ کی حفاظت کا حکم بندوں پر مشقت کے طور پر ہرگز نہیں دیا، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندوں کے لئے ایک عظیم رحمت ہے۔

مسلم شریف میں حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا:

" آنکھوں کا زنا (شہوت سے) دیکھنا ہے۔ زبان کا زنا (شہوت کی بات) بولنا ہے۔ کانوں کا زنا (شہوت کی بات) سننا ہے۔ ہاتھوں کا زنا (شہوت سے) تھامنا ہے اور پیروں کا زنا (شہوت کی ناجائز تکمیل کے لیے) چلنا ہے۔ دل خواہش، تمنا اور آرزو کرتا ہے۔ پھر شرم گاہ یا تو سب کو سچا کر دیتی ہے یا جھوٹا بنا دیتی ہے"۔

حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آنکھ کے زنا سے آغاز فرمایا، اس لئے کہ ہاتھ، پیر، دل، اور شرمگاہ سب کی اصل آنکھ ہے۔

مسلم شریف میں حضرت جریر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں میں نے نبی کریمﷺ سے اچانک پڑنے والی نظر کے بارے میں دریافت کیا، آپ نے فرمایا:اپنی نظروں کو پھیر دیا کرو اور ایک روایت میں اس طرح ہے:  آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے نگاہوں کے پھیرنے کا حکم دیا۔

نبی کریم ﷺنے نگاہوں کو نیچی رکھنے کے عمل کو راستے کے حقوق میں شامل فرمایا، راستے میں بیٹھنے والے ہر مسلمان پر اپنی نگاہوں کو جھکائے رکھنا ضروری ہے، اس لئے کہ یہ راستے کا حق ہے، مسلم شریف میں حضرت ابوسعید خدری ؓ کی روایت ہے:آپ ﷺنے ارشاد فرمایا": راستوں میں بیٹھنے سے بچو" صحابہ نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول"راستے میں ہمارے بیٹھنے سے کیا فرق پڑتا ہے,ہم تو بیٹھے بیٹھے بات چیت کرتے ہیں" آپ نے فرمایا: اگر تم بیٹھنا ہی چاہتے ہو تو راستے کو اس کا حق دو، صحابہ نے پوچھا : راستے کے کیا حقوق ہیں ؟ آپ نے فرمایا: نگاہوں کو جھکائے رکھنا، تکلیف دہ چیز کو ہٹانا، سلام کا جواب دینا، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا۔

حضرت انسؓ کہتے ہیں : جب تمہارے پاس سے کوئی (غیر محرم )عورت گذرے تو تم اپنی نگاہوں کو نیچے کر دو، یہاں تک کہ عورت تمہارے پاس سے گذر جائے۔

ربیع ابن خیثم ایک مرتبہ راستے سے گذر رہے تھے، تو ان کے پاس سے چند عورتیں گذریں، آپ نے اپنی نگاہوں کو جھکا دیا، عورتوں نے جب انہیں دیکھا تو سمجھنے لگی کہ وہ نابینا ہے، تو ان خواتین نے نابینا آدمی کو دیکھ کر اندھے پن سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگی۔

یہ تھے وہ لوگ جن کے دل حرام سے پاک تھے، جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے انہیں حلاوت ایمانی سے نوازا اور دنیا و آخرت میں کامیابی و کامرانی سے سرفراز فرمایا۔

 دنیا میں آج تک رونما ہونے والے تمام فحش و فجور کا اصل سبب نگاہ کا فتنہ ہے۔

یقینا اللہ رب العزت کان، آنکھ، اور دل کے بارے میں بندے سے سوال کریں گے، ارشاد باری تعالیٰ ہے:

إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُوَادَ کُلُّ اُولَٰئِکَ کَانَ عَنْہُ مَسْئُولًا (سورۃ الإسراء:۳۶)

بلکہ یہ آنکھ کل روز قیامت بندے کے خلاف گواہی دیں گی، فرمان الہٰی ہے:

(حَتَّیٰ إِذَا مَا جَاء ُوہَا شَہِدَ عَلَیْہِمْ سَمْعُہُمْ وَاَبْصَارُہُمْ وَجُلُودُہُم بِمَا کَانُوا یَعْمَلُونَ (سورۃ فصلت:۲۰)

ترجمہ:یہاں تک کہ جب اس کے پاس پہنچ جائیں گے تو ان کے کان اور آنکھیں اور چمڑے (یعنی دوسرے اعضا) ان کے خلاف ان کے اعمال کی شہادت دیں گے۔

اللہ تعالیٰ نظروں اور دلوں کے تمام بھیدوں کو جاننے والے ہیں، فرمان الہٰی ہے:

یَعْلَمُ خَائِنَۃَ الْاَعْیُنِ وَمَا تُخْفِی الصُّدُور

ترجمہ: وہ آنکھوں کی خیانت کو جانتا ہے اور جو (باتیں ) سینوں میں پوشیدہ ہیں (ان کو بھی) )سورۃ غافر:۱۹)

آیت بالا کی تفسیر میں حضرت ابن عباس فرماتے ہیں : یہ وہ آدمی ہے جو لوگوں کے درمیان میں ہو، اس کے پاس سے عورت گذرتی ہے، تو وہ لوگوں کو یہ دکھاتا ہے کہ اس کی نگاہیں نیچی ہیں اور وہ عورت کو دیکھ نہیں رہا ہے، وہ لوگوں کو اگر غفلت میں دیکھتا ہے تو پھر عورت پر نظریں ڈالنے لگتا ہے، اگر اسے خدشہ ہوتا ہے کہ لوگ اسے سمجھ جائیں گے تو اپنی نظروں کو جھکا دیتا ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ اس کے دل کے بھید سے بخوبی واقف ہے کہ وہ آدمی نہ صرف عورت کو دیکھنا چاہتا ہے بلکہ اس کی خواہش تو اس کی ستر بھی دیکھنے کی ہے۔

جنید بغدادی سے پوچھا گیا: نگاہوں کی حفاظت کا کیا علاج ہے؟ فرمایا: یہ یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ کی نظر تمہاری نظر سے تیز ہے۔

بلاشبہ حضرت جنید بغدادی ؒ نے جو کچھ فرمایا وہ سولہ آنے درست ہے ۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس گناہ کا علاج سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ انسان سب سے پہلے اس بات کا علم حاصل کرے کہ میرے لیے کیا دیکھنا جائز ہے اور کیا دیکھنا ناجائز ہے ؟ پھر اُن دنیاوی اور دینی نقصانات اور آخرت کے درد ناک عذاب کو سوچے جو اس گناہ پر پہنچ کر رہیں گے لیکن اس کے بعد بھی وہ گناہ سے رک تب ہی سکتا ہے  جب دل میں خوفِ خدا اور فکرِ آخرت پیدا ہو جائے …

ورنہ نفس و شیطان سارے علم اور فلسفے کو چند لمحوں میں نمٹا کر طبیعت میں ایسا تقاضا پیدا کر دیتے ہیں کہ انسان گناہ کر کے ہی رہتا ہے ۔

بد نظری کا گناہ ایسا سنگین جرم ہے کہ اس سے دل کی سختی پیدا ہوتی ہے اور جب دل سخت ہو جائے تو پھر کسی نیکی میں مزہ آتا ہے اور نہ ہی کسی گناہ میں جھجک محسوس ہوتی ہے ۔ تب کوئی وعظ و نصیحت کارگر ہوتی ہے اور نہ ہی برے انجام کا ہوش باقی رہتا ہے ۔جب ہم رات کی تاریکیوں میں یا دن کی تنہائیوں میں چھپ کر یہ گناہ کرتے ہیں تو شاید گناہ لکھنے والے فرشتے بھی ہم پر ہنستے ہوں گے اور کہتے ہوں گے کہ تو کچھ اہل جہاں سے چھپ کر رہا ہے  تجھے اتنا خیال نہیں کہ کوئی ذات پاک تجھے دیکھ رہی ہے ۔

آج کے مسلمان کو بد نظر اور آوارہ نظر بنانے پر جتنی محنت دشمنان ِ اسلام نے کی ہے  ہم اُس کا تصور بھی نہیں کر سکتے ۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ گھر گھر بے سکونی  عادات کا لطف ختم اور بے حسی کی وبا عام ہو گئی ۔ آج امت مسلمہ جیسے گرداب میں پھنسی ہوئی ہے اور اس کے معصوم بچے بھی خون میں تڑپ رہے ہیں  چاہیے تو یہ تھا کہ مسلمان نوجوان ایک مرتبہ پھر محمد بن قاسمؒ ، طارق بن زیادؒ اور صلاح الدین ایوبیؒ کی یادیں تازہ کر دیتے اور الحمد للہ ! جو جوان اس بیماری سے دور ہیں  وہ اپنے مقدس لہو سے یہ داستان رقم بھی کر رہے ہیں لیکن حکمرانوں سے لے کر عوام تک کی اکثریت پر بے حسی کی جو کیفیت طاری ہے  اُس میں بڑا ہاتھ اسی بد نظری کے گناہ کا ہے ۔

آئیں!آج عہد کریں کہ بازاروں سے گزرتے ،کمپیوٹر کے سامنے بیٹھے اور موبائل کو ہاتھ میں پکڑے ہم ہمیشہ اس بات کا لحاظ رکھیں گے کہ ہم کیا دیکھ رہے ہیں؟

اللہ تعالیٰ تمام گناہوں سے ہم سب کی حفاظت فرمائے۔ (آمین)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online