Bismillah

609

۲۳تا۲۹ذی الحجہ۱۴۳۸ھ   بمطابق  ۱۵تا۲۱ستمبر۲۰۱۷ء

یقین کے کرشمے (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 568 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Yaqeen k Karishme

یقین  کے کرشمے

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 568)

تدبیر اور احتیاط اچھی بات ہے لیکن یہ خوف اور گھبراہٹ کیسی ؟

امریکہ کے صدارتی انتخابات میں  ٹرمپ کیا جیتا ہے ، صحافیوں اور دانشوروں کو مسلمانوں میں دہشت پھیلانے کا ایک اور زریں موقع مل گیا ہے ۔ عجیب و غریب تبصرے اور بے سرو پا تجزیوں سے آسمان سر پر اٹھا رکھا ہے کہ نہ جانے اب مسلمانوں کو پوری دنیا میں سانس لینے کا موقع بھی مل سکے گا یا نہیں ۔ افسوس کہ جس قوم نے ماضی میں بڑے فرعونوں کو غرقِ آب کیا ہو ، اپنے زمانے کے نمردوں کو خاک چٹائی ہو اور بڑے بڑے سور مائوں کے سرِ پُر غرور کو جھکایا ہو اور مستقبل میں بھی جس نے دجال جیسی ظاہری سپرپاور کا مقابلہ کرکے اُسے صفحہ ہستی سے مٹانا ہو ، اُس قوم کا دجالی قوتوں کے ایک معمولی نمائندے سے خوف زدہ ہو جانا کتنا بڑا المیہ ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ مغربی میڈیا بہت زیادہ دیکھتے ہیں وہ بہت جلد اسلام اور مسلمانوں کے مستقبل کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار ہو جاتے ہیںاور جو افراد قرآنِ مجید ، احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور تاریخِ اسلام کے پُر رونق صفحات کا مطالعہ کرتے ہیں ، وہ اس بارے میں یقین کی دولت سے مالا مال ہوتے ہیں اور اقبال مرحوم نے کہا تھا :

 جو پیدا ہو ذوقِ یقیں تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں 

بے شک اس زندگی میں کامیاب وہ ہی ہے جو یقین کی دولت سے مالا مال ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی ذات پر یقین اللہ تعالیٰ کی قدرت پر یقین اللہ تعالیٰ کی طاقت پر یقین  امام الانبیاء حضرت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول اور راہنما ہونے پر یقین اور اسلام کے کامل و مکمل ضابطہ حیات ہونے پر یقین۔

 یقین جب دل میں سما جاتا ہے تو دنیا کی کوئی سپر پاور ہو یا شکوک و شبہات اور توہم پرستی ، سب سے مرعوبیت اور غلامی کی زنجیریں کٹ جاتی ہیں ۔ اسی لیے تو قرآنِ مجید ہمیں بتاتا ہے کہ اہل ایمان کے عقائد وخیالات کی بنیاد  یقین پر ہوتی ہے اور اہل باطل محض ظن  گمان  خیال  اٹکل اور اندازوں کی پیروی کرتے ہیںیقین اہل ایمان کو بے پناہ اعتماد سے نوازتا ہے اور شکوک و شبہات اہل باطن کو اندر اندر سے کھوکھلا کر دیتے ہیں ۔

کسی نے بالکل درست کہا :

جو یقیں کی راہ پر چل پڑے  انہیں منزلوں نے پناہ دی

جنہیں وسوسوں نے ڈرا دیا  وہ قدم قدم پر بہک گئے

 یقین  میں بڑی قوت ہے  طاقت ہے ، تاثیر ہے اور شفا ہے ۔ نماز ہم بھی پڑھتے ہیں اور صحابہ کرامؓ بھی پڑھتے تھے ۔ بارگاہِ الٰہی میں ہم بھی دست بد ُعا ہوتے ہیں اور صحابہ کرامؓ بھی خالقِ کائنات کے سامنے اپنے دامن پھیلاتے تھے ۔ تلاوتِ قرآن مجید ہم بھی کرتے ہیں اور صحابہ کرامؓ  بھی اس نعمت سے سرفراز تھے ۔ مگر پھر کیا بات ہے کہ ہماری نمازیں  ہماری دعائیں اور ہماری تلاوت ہمیں بھی نہیں بدل سکتی  جب کہ صحابہ کرامؓ کی نمازوں  دعائوں اور تلاوت نے پوری دنیا کا نقشہ بدل دیا تھا ۔ فرق صرف یقین کے درجات اور مراتب کا ہے کہ چہ نسبت خاک رابعالَم پاک ۔

یقین کی اہمیت کی بناء پر ہی احادیث صحیحہ میں  نظر  کے اتارنے کا جو عمل آیا ہے اس کی شرح میں علامہ ابن قیم ؒ  تحریر فرماتے ہیں:

 جو شخص اس کی تاثیر کا انکار کرے  اس کا مذاق اڑائے ، اس کی تاثیر میں شک کرے یا بغیر اعتقاد کے صرف آزمانے کیلئے یہ عمل کرے تو اُسے اس عمل کا کوئی فائدہ نہ ہو گا  ( تکملۃ فتح الملھم )

اسلام ہمیں یقین کے کس اعلیٰ درجے پر دیکھنا چاہتا ہے اور ہم شکوک و شبہات کی کن وادیوں میں بھٹک رہے ہیں ، اس کا کچھ اندازہ آپ کو تب ہو گا جب آپ موجودہ حالات کا اس حدیث ِ پاک سے موازنہ  کریں گے ۔ حدیث ِ پاک کا عربی متن اور مفہوم یہ ہے : 

عن عبداللہ بن عباسٍ رضی اللہ عنہما قال:

کنت خلف النبی صلی اللہ علیہ وسلم یومًا، فقال:

یا غلام، إنی اعلمک کلماتٍ: احفظ اللہ یحفظک، احفظ اللہ تجدہ تجاہک، إذا سالتَ فاسال اللہ، وإذا استعنت فاستعن باللہ، واعلم ان الامۃ لو اجتمعت علی ان ینفعـوک بشیء ٍ لم ینفعوک إلا بشیء ٍ قد کتبہ اللہ لک، وإن اجتمعوا علی ان یضروک بشیء ٍ لم یضروک إلا بشیء ٍ قد کتبہ اللہ علیک، رُفعت الاقلام، وجفَّت الصحف؛

رواہ الترمذی وقال: حدیث حسن صحیحٌ.

اس حدیث پاک کا مفہوم یہ ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کہتے ہیں کہ ایک دن سفر کے دوران میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سواری پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا۔ لڑکے! اللہ تعالیٰ کے تمام احکام امر و نہی کا خیال رکھو۔ اللہ تعالیٰ تمہارا خیال رکھے گا .اگر تم اللہ تعالیٰ کے احکام کی فرمانبرداری کرتے ہوئے ان چیزوں پر عمل کرو گے جن پر عمل کرنے کا اس نے حکم دیا ہے اور ان چیزوں سے اجتناب کرو گے جن سے اجتناب کرنے کا اس نے حکم دیا۔ نیز تم ہر وقت اور ہر معاملہ میں اسی کی رضا وخوشنودی کے طالب رہو گے تو یقینا اللہ تعالیٰ بھی تمہارا خیال رکھے گا کہ تمہیں دنیا میں بھی ہر طرح کی آفات اور مصیبتوں سے بچائے گا اور آخرت میں بھی ہر عذاب وسختی سے محفوظ رکے گا. تم اللہ تعالیٰ کے حق کا خیال رکھو گے تو تم اللہ تعالیٰ کو اپنے ساتھ پاو گے یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ کے حقوق کی ادائیگی کو ہر لمحہ یاد رکھو گے، تو تم اس کی بے پایاں رحمتوں اور اس کے انعامات کو اپنے سامنے پاو گے. جب تم سوال کا ارادہ کرو تو صرف اللہ تعالیٰ کے آگے دست سوال دراز کرو، جب تم دنیا وآخرت کے کسی بھی معاملہ میں مدد چاہو تو صرف اللہ تعالیٰ سے مدد مانگو۔ اور یہ جان لو کہ اگر تمام مخلوق کہ خواہ عوام ہوں یا خواص، مل کر بھی تمہیں نفع پہنچانا چاہیں یعنی اگر یہ ساری مخلوق اس بات پر اتفاق کر لے کہ وہ سب مل کر تمہیں کسی دنیاوی یا اخروی معاملہ میں کوئی فائدہ پہنچا دے تو ہرگز تمہیں نفع نہیں پہنچا سکے گی، علاوہ صرف اس چیز کے جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے مقدر میں لکھ دیا ہے اور اگر دنیا کے تمام لوگ مل کر بھی تمہیں کسی طرح کا کوئی نقصان وضرر پہنچانا چاہیں تو وہ ہرگز تمہیں کوئی نقصان وضرر نہیں پہنچا سکیں گے علاوہ صرف اس چیز کے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے مقدر میں لکھ دیا ہے، تقدیر کے قلم اٹھا کر رکھ دئیے گئے اور صحیفے خشک ہو گئے۔ (ترمذی)

یہ نہ سوچیں کہ یقین کے اس بلند و بالا معیار تک کون پہنچ سکتا ہے ۔ الحمد للہ ! مسلمانوں کے ماضی کا قریبی دو ربھی ایسا تابناک ہے کہ ہم نے اپنی مختصر زندگی میں ہی دنیا کے سپر پاورز کہلانے والے ممالک کو درویشانِ خدا مست کے سامنے ناک رگڑتے ہوئے دیکھا ہے ۔ پھر اگر ماضی بعید  یعنی کچھ صدیاں پہلے کی بات کریں تو اہلِ ایمان یقین کی اُن بلندیوں پر فائز نظر آتے ہیں کہ دوسری قومیں اُن کے پائوں کی خاک تک بھی شاید نہ پہنچ سکیں ۔

یہ بربر قبیلے کا نو عمر سپاہی طارق بن زیاد ؒ ہے ، جسے شمالی افریقہ میں مسلمانوں کے امیرِ لشکر موسیٰ بن نصیر نے اندلس کی مہم پر بھیجا ہے ۔ سامنے عیسائیوں کا لاکھوں پر مشتمل لشکر ہے اور یہ اپنے چند ہزار ساتھیوں کے ساتھ اندلس (موجودہ اسپین) کے ساحل پر لنگر انداز ہوتے ہیں ۔ یقین کا یہ عالم ہے کہ واپسی کے سارے راستے ذہنوں سے نکالنے کے لیے حکم دیتے ہیں کہ تمام کشتیوں کو جلا ڈالا جائے ۔ اقبال مرحوم نے اہلِ لشکر کے اعتراض اور اِن کے جواب کو بڑی خوبصورتی کے ساتھ یوں بیان کیا ہے :

طارق چو برکنارہ اندلس سفینہ سوخت

گفتند کار تو بہ نگاہِ خرد خطاست

دوریم از سوادِ وطن باز چوں رسیم؟

ترک سبب زروئے شریعت کجا رو است

خندید و دستِ خویش بہ شمشیر برد و گفت

ہر ملک ملکِ ماست کہ ملکِ خدائے ماست

طارق نے جب ساحلِ اندلس پر اپنی کشتیاں جلا ڈالیں تو اس کے ہمراہیوں نے کہا کہ:

تیرا یہ کام عقل و شعور کے لحاظ سے غلط ہے۔

ہم اپنے وطن کی سرزمین سے بہت دور ہیں، واپس کیسے پہنچیں گے؟

شریعت میں اسباب کو ترک کرنے کی اجازت کہاں ہے؟

طارق مسکرایا اور اس نے اپنا ہاتھ تلوار کے قبضے پر رکھا اور یوں گویا ہوا:

ہر ملک ہماری مِلک میں ہے کیونکہ ہمارے خدا کا ملک ہے

یہ وہی طارق بن زیاد ہیں جن کو اپنے تو خراجِ تحسین پیش کرتے ہی ہیں ، لیکن جبرالٹر(جبل الطارق) کی مقامی حکومت نے بھی اُن کی جرات و شجاعت کی یاد میں اپنے ایک کرنسی نوٹ پر اُن کی تصویر شائع کر رکھی ہے ، اس موقع پر تاریخِ اسلام کے اس عظیم جرنیل نے ایک بہت عظیم الشان خطبہ دیا تھا جس کا عربی متن ، عربی ادب کے شاہکاروں میں سے سمجھا جاتا ہے ۔ اس خطبے کا ایک ایک حرف آج کے خوف زدہ مسلمانوں کیلئے تازیانہ ہے ۔ یقین کے جذبات سے مالا مال اس خطبے کا کچھ ترجمہ یہ ہے:

اے لوگو! اب راہ فرار کہاں ہے؟ سمندر تمہارے پیچھے ہے اور دشمن تمہارے آگے۔ اللہ کی قسم! تمہارے لیے صدق و صبر کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ جان لوتم اس جزیرہ نما میں اس قدر بے وقعت ہو کہ کم ظرف لوگوں کے دسترخوان پر یتیم بھی اتنے بے وقعت نہیں ہوتے۔ تمہارا دشمن اپنے لشکر، اسلحے اور وافر خوراک کے ساتھ تمہارے مقابلے میں نکلا ہے۔ ادھر تمہارے پاس کچھ نہیں سوائے اپنی تلواروں کے۔ یہاں اگر تمہاری اجنبیت کے دن لمبے ہو گئے تو تمہارے لیے خوراک بس وہی ہے جو تم اپنے دشمن کے ہاتھوں سے چھین لو۔ اگر تم یہاں کوئی معرکہ نہ مار سکے تو تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی اور تمہاری جرات کے بجائے تمہارے دلوں پر دشمن کا رعب بیٹھ جائے گا۔ اس سرکش قوم کی کامیابی کے نتیجے میں جس ذلت و رسوائی سے دوچار ہونا پڑے گا اس سے اپنے آپ کو بچاو۔ دشمن نے اپنے قلعہ بند شہر تمہارے سامنے ڈال دیے ہیں۔ آکر تم جان کی بازی لگانے کو تیار ہو جاو تو تم اس موقع سے فائدہ اٹھا سکتے ہو۔ میں تمہیں ایسے کسی خطرے میں نہیں ڈال رہا جس میں کودنے سے خود گریز کروں۔ اس جزیرہ نما میں اللہ کا کلمہ بلند کرنے اور اس کے دین کے فروغ دینے پر اللہ کی طرف سے ثواب تمہارے لیے مقدر ہو چکا ہے۔ یہاں کے غنائم خلیفہ اور مسلمانوں کے علاوہ خاص تمہارے لیے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے کامیابی تمہاری قسمت میں لکھ دی ہے، اس پر دونوں جہانوں میں تمہارا ذکر ہوگا۔ یاد رکھو! میں تمہیں جس چیز کی دعوت دیتا ہوں اس پر خود لبیک کہہ رہا ہوں۔ میں میدان جنگ میں اس قوم کے سرکش راڈرک پر خود حملہ آور ہوں گا اور ان شاء اللہ اسے قتل کر ڈالوں گا۔ تم سب میرے ساتھ ہی حملہ کر دینا۔ اگر اس کی ہلاکت کے بعد میں مارا جاوں تو تمہیں کسی اور ذی فہم قائد کی ضرورت نہیں رہے گی اور اگر میں اس تک پہنچنے سے پہلے ہلاک ہو جاوں تو میرے عزم کی پیروی کرتے ہوئے جنگ جاری رکھنا اور سب مل کر اس پر ہلہ بول دینا۔ اس کے قتل کے بعد اس جزیرہ نما کی فتح کا کام پایہ تکمیل کو پہنچانا۔ راڈرک کے بعد اس کی قوم مطیع ہو جائے گی۔

جب دنیا بھر کا میڈیا اور دانشور ہمیں اہل کفر کی دھمکیوں سے مرعوب کرنا چاہیں تو ہمیں بھی چاہیے کہ دل کی گہرائیوں سے صحابہ کرام ؓ کا بتایا ہوا وہ وظیفہ کثرت سے پڑھیں ، جسے اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں ان الفاظ میں نقل فرمایا ہے:

حسبنا اللہ و نعم الوکیل۔حسبنا اللہ و نعم الوکیل۔حسبنا اللہ و نعم الوکیل۔

اس کو پڑھتے ہی آپ کو اپنے دل میں عزم و یقین کے جذبات امڈتے ہوئے محسوس ہوں گے۔

اللہ کریم ہم سب کو یقین کی نعمت عطا فرمائے اور ہر قسم کے شرور و آفات سے ہمیں بچائے ۔(آمین ثم آمین)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online