Bismillah

595

۲۹شعبان تا۵رمضان المبارک ۱۴۳۸ھ        بمطابق       ۲۶مئیتا۱جون۲۰۱۷ء

بے حسی کا عذاب (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 569 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Be hisi ka Azab

بے حسی کا عذاب

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 569)

ہر سمت خاموشی ہی خاموشی ہے۔ہر طرف بے حسی کا راج ہے۔کہنے کو تو ایک ارب سے زائد مسلمان ، ستاون سے زائد مسلم ممالک ، وسائل سے مالا مال زمینیں ، لاکھوں پر مشتمل باقاعدہ فوجیں اور شان و شوکت کے پُرفریب اور عجیب نظارے لیکن …

شام جل رہا ہے اور اُس کے شہر کھنڈرات میں بدل رہے ہیں…

مقبوضہ کشمیر ایک وسیع و عریض جیل میں تبدیل ہو چکا ہے ۔

قبلۂ اول یہودیوں کے پنجۂ ستم میں سسک رہا ہے ۔

اراکان، برما میں اہلِ ایمان پر ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں ۔

اس کے علاوہ بھی دنیا کے کئی خطوں کے مسلمان آج کفار کے مظالم کا شکار ہیں ۔ پھر جیسے مظلوموں کی فہرست طویل ہے ، اسی طرح ظالموں کی فہرست میں بھی بہت سے نام شامل ہیں ۔ کہیں امریکہ حملہ آور ہے تو کہیں روس بمباری کر رہا ہے ۔ کہیں اسرائیل قتل و غارت گری کا بازار گرم کیے ہوئے ہے تو کہیں بھارت مسلمانوں کی نسل کشی میں مصروف ہے ۔

جب بھی بات مسلمانوں پر ظلم و ستم کی آتی ہے تو ہم ظالموں کو چند برے القابات سے نواز کر فارغ ہو جاتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ ہماری ذمہ داری ختم ہو گئی ۔ حالانکہ یہ کفار تو ہیں ہی دشمن ، اُن سے تو اچھائی اور خیر خواہی کی توقع کرنا ہی فضول ہے ۔ اصل سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ ہم مسلمان خود اپنے مظلوموں کے بارے میں کتنے بے حس ہو چکے ہیں ۔ اچھے وقتوں میں کہا جاتا تھا :

گر تومی خواہی تازہ داشتن داغہائے سینہ را

گاہے گاہے باز خواں ایں قصہ پار یندرا

یعنی’’ اگر تو چاہتا ہے کہ تیرے سینے میں سلگتے ہوئے داغ تازہ رہیں تو کبھی کبھی گزرے ہوئے حالات اور واقعات کو دہراتے رہا کرو‘‘۔

مگر اب تو مظلوم مسلمانوں کا تذکرہ کرنا ، ان پر ہونے والے مظالم کی مذمت کرنا ، اُن کی نجات کیلئے دعا اور دوا کرنا ، یہ سب وقت کا ضیاع اور بیکار کی بات سمجھا جاتا ہے ۔ کہاں ہماری خود ساختہ دینداری کے تقاضے ہیں اور کہاں رب کریم جل شانہ کے پاک کلام کا اسلوب کہ وہ ہمیں یوں جھنجوڑ رہا ہے:

وَمَا  لَکُمْ  لَا  تُقَاتِلُوْنَ  فِیْ   سَبِیْلِ اللّٰہِ  وَالْمُسْتَضْعَفِیْنَ  مِنَ  الرِّجَالِ  وَالنِّسَآئِ وَالْوِلْدَانِ  الَّذِیْنَ  یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اَخْرِجْنَا مِنْ  ھٰذِہِ الْقَرْیَۃِ  الظَّالِمِ اَھْلُھَا ج  وَاجْعَلْ  لَّنَا مِنْ  لَّدُنْکَ وَلِیًّا  جلا   وَّ  اجْعَلْ   لَّنَا  مِنْ   لَّدُنْکَ  نَصِیْرًا(النساء،۷۵)

’’ اور (اے مسلمانو!) تمہارے پاس کیا جواز ہے کہ اللہ کے راستے میں اور اُن بے بس مردوں‘ عورتوں اور بچوں کی خاطر نہ لڑو‘ جو یہ دعا کر رہے ہیں کہ ’’ اے ہمارے پروردگار ! ہمیں اس بستی سے نکال لے جس کے باشندے ظلم توڑ رہے ہیں ، اور ہمارے لیے اپنی طرف سے کوئی حامی پیدا کر دے اور ہمارے لیے اپنی طرف سے کو مدد گار کھڑا کر دے‘‘۔

تعجب ہے کہ جس قوم کے معصوم بچوں کے جسم بموں سے چھلنی کیے جا رہے ہیں ، جس قوم کی مائوں ، بہنوں اور بیٹیوں سے کفار کے جیل بھرے پڑے ہیں اور جس قوم کے بزرگوں اور جوانوں سے دشمنوں کے عقوبت خانے آباد ہیں ، اُن کے ہاتھ کبھی ان پریشان حال مظلوموں کیلئے بارگاہ الٰہی میں نہیں اٹھتے ، کبھی اُن کے حلق سے ان کیلئے صدائے احتجاج بلند نہیں ہوتی اور کبھی ان کے قلم اُن کے تحفظ اور دفاع میں نہیں چلتے ۔ جو بات خارجہ پالیسی کا بنیادی نکتہ ہونا چاہیے تھی آج پوری مسلم دنیا کے کسی ملک کی پالیسی میں شامل نہیں ۔ جو فکر ہر مسلمان حکمران کی ہونی چاہیے تھی ، آج کسی مسلمان حکمران کو اس بارے میں دو لفظ بولنے کی بھی توفیق نہیں ۔ وہ نظریہ جو جماعتوں کا بنیادی منشور ہونا چاہیے تھا ، آج دل و دماغ سے ہی مٹ چکا ہے ۔ وہ فریاد جو ہر دعا کا حصہ ہونی چاہیے تھی ، آج کسی کے لبوں پر وہ صدا نہیں ۔

اس تحریر کا مقصد کسی پر تنقید نہیں کہ تنقید تو وہ کرے کہ جو عملی نمونے پیش کر سکے لیکن یہ ضرور ہے کہ کبھی اپنی بے حسی دل میں کانٹا بن کر چبھتی ہے اور اپنی بے بسی آنکھوں کے نمکین پانی کا روپ اختیار کر لیتی ہے ۔

یہ نبیٔ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہے ، جسے آپ ایک جسم کی مانند بنا کر گئے تھے ، کیسے اتنے ٹکڑوں میں بٹی اپنے اور گروہوں میں تقسیم ہوئی کہ اپنی شناخت ہی بھلا بیٹھی ۔ اب تو نوبت یہاں تک آپہنچی ہے کہ ایک علاقے اور ملک میں جو خونِ مسلم سے اپنے ہاتھ رنگین کر رہا ہے اور جس کے جبڑوں سے معصوم لوگوں کا لہو ٹپک رہا ہے ، دوسرے علاقوں اور ملکوں میں وہ ہی مسلمانوں کا سب سے بڑا ہمدرد ، خیر خواہ اور اتحادی بنا بیٹھا ہے ۔

ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کے ایک ایک فرد کے بارے میں کتنے حساس تھے ، اس کا کچھ اندازہ سیرت طیبہ کی ہر کتاب میں مذکوربیعت ِ رضوان کے واقع سے لگایا جا سکتا ہے کہ جس میں ایک سیدنا حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا انتقام لینے کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تیرہ سو صحابۂ کرام ؓ سے موت پر بیعت لی تھی ۔ غزوہ بنی قینقاع بھی ایک روایت کے مطابق ایک خاتون کی عزت و حرمت پر آنچ آنے کے نتیجے میں پیش آیا ۔ سیرت کی کتابوں میں آپ کو ایسے بہت سے واقعات مل جائیں گے جن سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہم ہر مسلمان کے دکھ درد کو محسو س کریں اور جہاں تک اپنے بس میں ہو ہر مسلمان کے لیے راحت اور آسانی کا ذریعہ بنیں ۔ اسی سلسلے کا ایک واقعہ ، جسے جتنی مرتبہ پڑھا ، دل پر اُس کا عجیب اثر ہوا ، وہ یہ ہے :

 صحیح احادیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں بیٹھے صحابۂ کرام سے باتوں میں مشغول تھے کہ دور سے چند لوگ آتے دکھائی دیے ۔ وہ فقراء و مساکین تھے جو نجد کی جانب سے آئے تھے ۔ اُن کا تعلق قبیلۂ مضر سے تھا۔ ناداری کی انتہا یہ تھی کہ انہیں کپڑے سلائی کرنے کو سوئی دھاگا بھی میسر نہیںتھا اور انہوں نے کپڑے درمیان سے چاک کرکے گردنوں میں لٹکا رکھے تھے ۔ تلواریں ان کے پاس تھیں ۔ اس ایک کپڑے کے علاوہ ان میں سے کسی کے پاس کوئی تہمد ، عمامہ ، شلوار یا چادر نہیںتھی ۔

رسول اللہ ﷺ نے ان کی یہ عریانی ، تنگدستی اور بھوک دیکھی تو آپ کا رنگ فق ہو گیا ۔ فوراً کھڑے ہوئے ، گھر تشریف لے گئے لیکن ان لوگوں کے لیے کوئی شے نہ ملی ۔ آپ اس گھر سے نکلے اور دوسرے گھر میں داخل ہو گئے ۔ ادھر بھی کچھ نہیں تھا ، پھر مسجد کی طرف چل پڑے ۔ ظہر کی نماز پڑھائی اور منبر پر تشریف فرما ہوئے ۔ اللہ کی حمدو ثنابیان کی اور کہا : اما بعد ، اللہ نے اپنی کتاب میں یہ آیت اتاری ہے :

ٰٓیاَیُّھَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ  خَلَقَکُمْ  مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ  وَّ خَلَقَ مِنْھَا زَوْجَھَا وَبَثَّ مِنْھُمَا رِجَالًا کَثِیْرًا وَّنِسَآئً ج وَاتَّقُوا اللّٰہَ  الَّذِیْ  تَسَآئَلُوْنَ  بِہٖ  وَالْاَرْحَامَ  ط اِنَّ  اللّٰہَ  کَانَ عَلَیْکُمْ رَقِیْبًا(النساء ۔۱)

ترجمہ :’’ اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کی بیوی پیدا کر کے ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں ۔ اللہ سے ڈرو جس کے نام پر ایک دوسرے سے مانگتے ہو اوررشتے ناتے توڑنے سے بچو ، بے شک اللہ تم پر نگہبان ہے ۔ ‘‘

ٰٓیاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَلْتَنْظُرْنَفْس’‘ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ ج وَاتَّقُوا اللّٰہَ ط اِنَّ اللّٰہَ خَبِیْر’‘م بِمَا تَعْمَلُوْن(الحشر۔۱۸)

ترجمہ :’’ اے لوگو جوا یمان لائے ہو ! اللہ سے ڈرتے رہو اور ہر شخص دیکھ (بھال ) لے کہ کل (قیامت) کے لیے اس نے (اعمال کا ) کیا (ذخیرہ) بھیجا ہے ۔ اور (ہر وقت) اللہ سے ڈرتے رہو ۔ یقینا اللہ تمہارے سب اعمال سے باخبر ہے ۔ ‘‘

آپ اسی طرح آیات سنا سنا کے نصیحت کرتے رہے ، پھر فرماما:

’’صدقہ کرو ،اس سے پہلے کہ تم صدقہ نہ کر سکو ۔ صدقہ کرو ، اس سے پہلے کہ تمہیں صدقہ کرنے سے روک دیا جائے ۔ ہر آدمی اپنے درہم و دینار ، گندم اور جوکا صدقہ کرے اور کوئی صدقے کی کسی چیز کو حقیر نہ جانے ۔ ‘‘

پھر آپ صدقے کی انواع گنواتے رہے ، آخر میں فرمایا :

’’صدقہ کرو ، خواہ آدھی کھجور ہی کا ہو ۔ ‘‘ اس پر انصار کا ایک آدمی اپنے ہاتھ میں تھیلی لیے کھڑا ہوا ۔ اس نے وہ تھیلی منبر پررسول اللہ ﷺ کو پکڑا دی ۔ آپ کے مبارک چہرے پر خوشی کے آثار دکھائی دیے ۔ اُن صاحب کے دیکھا دیکھی پھر اور لوگوں نے بھی صدقات پیش کرنا شروع کیے ، یہاں تک کہ فقراء و مساکین کے لیے کافی مقدار میں سامان جمع ہو گیا ۔

تب آپ ﷺ نے فرمایا :

’’جس نے کوئی اچھاطریقہ جاری کیا اور اس پر عمل کیا گیا تو اسے اس کا اور ان افراد کا اجر بھی ملے گا جنہوں نے اس پر عمل کیا لیکن اس کے اپنے اجر میں بھی کمی نہیں کی جائے گی ۔ اور جس نے کوئی بُرا طریقہ جاری کیا اور اس پر عمل کیا گیا تو اس کا گناہ اور ان لوگوں کا گناہ جنہوں نے اس پر عمل کیا ، اسی پر ہو گا ۔ ان لوگوں کے اپنے گناہ بھی کم نہیں ہوں گے ۔ ‘‘ (مسلم)

ذرا سوچیں ! ہمارے پیارے آقاﷺنے مسلمانوں کے صرف بھوک اور فاقے پر جتنی پریشانی محسوس فرمائی ، کیا ہمارے دلوں میں بھی ، خون بہنے اور لاشیں گرنے پر ہی ایسی ہمدردی اور غمخواری کے جذبہ کی کوئی رمق موجود ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں بے حسی کے عذاب سے بچائے اور پوری امت مسلمہ کی حفاظت فرمائے۔(آمین ثم آمین)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online