Bismillah

595

۲۹شعبان تا۵رمضان المبارک ۱۴۳۸ھ        بمطابق       ۲۶مئیتا۱جون۲۰۱۷ء

شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 570 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Shah se Ziada Wafadar

شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 570)

باب الاسلام ’’سندھ‘‘ اپنی ایک شاندار اسلامی تاریخ رکھتا ہے اور اس دھرتی سے بہت عظیم شخصیات نے جنم لیا ہے ۔ جس زمانے میں باقی دنیا ‘ جہالت کے اندھیروں میں ڈوبی ہوئی تھی ، اُس دور میں بھی سندھ کی سر زمین اسلامی علوم و فنون کا مرکز رہی ہے اور پورے ہندوستان ہی نہیں‘ عرب اور افریقہ تک سے لوگ یہاں اپنی علمی پیاس بجھانے آتے تھے ۔

افسوس کہ شیخ محمد ہاشم سندھی ؒ ، شیخ محمد عابد سندھیؒ اور مولانا عبید اللہ سندھیؒ کی پہچان رکھنے والے صوبے کی اسمبلی نے وہ شرمناک اور غیر اسلامی بل منظور کیا ہے‘ جسے قانون بنانے کی ہمت آج تک کسی لا دین ریاست نے بھی نہیں کی ۔

کون نہیں جانتا کہ صوبہ سندھ کئی دہائیوں سے ایک خاص سیاسی پارٹی کے زیر اثر ہی نہیں بلکہ اُس کی موروثی جائیداد بنا ہوا ہے ۔ کپڑا ، روٹی اور مکان کا نعرہ لگا کر ‘ صحرائِ تھر کے غریبوں کی لاشوں پر پائوں رکھ کر مسندِ اقتدار تک پہنچنے والوں نے صرف صوبہ سندھ ہی کو نہیں ، موقع ملنے پر پورے پاکستان کو جس بے دردی سے لوٹا ہے ‘ وہ تاریخ کا ایک عبرت ناک باب ہے ۔

سیاست کے الجھائو ، سلجھائو میں پڑنا ہمارے بس کی بات نہیں لیکن یہ ایک کھلی ہوئی حقیقت ہے کہ جب ہمارے ملک میں کوئی سیاسی لیڈر یا سیاسی پارٹی کے لوگ عوام کی خدمت اور رفاہِ عامہ کے میدان میں چاروں شانے چت ہو جاتے ہیں اور ان لوگوں کو اپنی ناکامی کھلی آنکھوں نظر آنے لگتی ہے تو وہ اپنے بیرونی آقائوں کو خوش کرنے کیلئے انتہائی بھونڈی حرکتیں شروع کر دیتے ہیں ۔

کبھی ہولی اور دیوالی کے نام پر بتوں کو پوجنے کی ہندووانہ رسموں میں شرکت ، کبھی دینی مدارس کے خلاف قانون سازی ، کبھی دہشت گردی کے خاتمے کو بہانہ بنا کر پر امن لوگوں کو مختلف حیلوں بہانوں سے ستانا اور کبھی اسمبلی میں اپنے ہی مذہب ‘ تہذیب اور اخلاق و اقدار کے خلاف بل منظور کروانا ۔ یہ سب ان کی وہ ’’ادائیں‘‘ ہیں ‘ جن کے ذریعے یہ اپنے آپ کو دشمنانِ اسلام کی نظر میں قابل قبول بناتے ہیں ۔

سندھ اسمبلی کے پاس کردہ بل میں یہ قرار دیا گیا ہے کہ اٹھارہ سال سے کم عمر لڑکا یا لڑکی قبولِ اسلام کا اعلان نہیں کر سکتے اور اٹھارہ سال کے بعد بھی اگر وہ اسلام قبول کرنا چاہتا ہے تو مزید اکیس دن اُسے انتظار کرنا ہو گا ۔ یہ انتظار کیا صرف اس لیے رکھا گیا ہے کہ اس مدت کے دوران اُس کے غیر مسلم رشتے دار اُسے ظلم و ستم کا نشانہ بنا کر اسلام سے منحرف کرنے میں کامیاب ہو جائیں ۔ اس طرح کیا یہ بل اسلامی قوانینِ کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کے بھی خلاف نہیں ہے ۔

یہ بات ہر شخص اچھی طرح جانتا ہے کہ جب بھی کوئی لڑکا یا لڑکی اسلام قبول کرنے کا اعلان کرتے ہیں تو اُنہیں اپنے رشتے داروں کی طرف سے بے پناہ تشدد اور اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ اُنہیں نفسیاتی اور جسمانی طور پر ایسے خوفناک سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، جس کا تصور بھی ہم خاندانی مسلمانوں کیلئے بہت مشکل ہے ۔ بچپن میں محترم جناب پروفیسر غازی احمد صاحبؒ کی کتاب’’ من الظلمات الی النور‘‘ پڑھی تھی ‘ جس میں انہوں نے تفصیل سے اپنے حالات تحریر فرمائے ہیں اور وہ چشم کشاواقعات بھی لکھے ہیں‘ جن سے پتہ چلتا ہے کہ نو مسلم بچوں کو قبول اسلام کی کتنی بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے ۔ اسی طرح پچیس ‘ تیس سال پہلے ایک اور کتاب بھی مشہور ہوئی تھی ‘ جس کا نام تھا ’’ انیل کمار سے مجاہدِ اسلام تک‘‘ اُس میں بھی کچھ اسی طرح کے حالات تحریر تھے ۔ پھر بھارت میں ایک معصوم بچی’’حرا‘‘ کی کہانی‘ جسے حلقۂ بگوشِ اسلام ہونے کے جرم میں اُس کے باپ اور چچا نے خود اپنے ہاتھوں سے قبرمیں زندہ دفن کر دیا تھا ‘ وہ بھی بہت مشہور ہوئی تھی۔

اس سب جبرو تشدد کے باوجود دورِ رسالت سے لے کر آج تک کی سب سے بڑی اور واضح حقیقت یہ ہے کہ اسلام کی شمع جب کسی دل میں روشن ہوئی تو پھر دنیا کی کوئی طاقت اُسے نہیں بجھا سکی اور اس میں عمر یا سال کا کوئی فرق نہیں ہے ۔ معصوم بچوں نے اسلام قبول کرنے کی پاداش میں بھوک اور پیاس برداشت کی، سخت کوڑے اپنی نازک جلد پر سہے  ۔یہ بچے گھروں سے نکالے گئے ، عیش و عشرت سے محروم کیے گئے اور زندگی ان پر تنگ کر دی گئی لیکن یہ وہ نشہ ہے ہی نہیں جو صعوبتوں اور تکلیفوں سے اتر جائے ۔

یہ سیدنا حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ ہیں ۔ اسلام لانے سے پہلے بڑے نازو نعم کے پلے ہوئے اور مال دار لڑکوں میں سے تھے ۔ ان کے والد ان کیلئے دو دو سو درہم کا کپڑوں کا جوڑا خرید کر پہناتے تھے ۔ یہ نو عمر تھے اور بڑی آسائش میں پرورش پاتے تھے ۔ اسلام کے شروع ہی زمانے میں گھروالوں سے چھپ کر مسلمان ہو گئے اور اسی حالت میں رہتے ۔ کسی نے ان کے گھر والوں کو بتا دیا ‘ انہوں نے ان کو باندھ کر قید کر دیا ۔ کچھ دن اسی قید کی حالت میں گزارے اور جوں ہی موقع ملا تو یہ گھر سے بھاگ گئے اور جو مسلمان ، ملکِ حبشہ کی طرف ہجرت کر کے جا رہے تھے ، اُن کے ساتھ شامل ہو گئے ۔

وہاں سے واپس آکر مدینہ منورہ ہجرت کی اور اپنی پرانی زندگی کے برعکس زہد و فقر کی زندگی گزارنے لگے ۔ ایسی تنگی کے حالات تھے کہ ایک مرتبہ رحمت ِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے ‘ یہ سامنے سے گزرے تو ان کے جسم پر صرف ایک چادر تھی جو کئی جگہ سے پھٹی ہوئی تھی اور ایک جگہ تو کپڑے کے بجائے چمڑے کا پیوند لگا ہوا تھا ۔ پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اس حالت اور پہلی حالت کا تذکرہ فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں مبارک سے آنسو جاری ہو گئے ۔

اسلام پر پختگی اور استقامت ایسی تھی کہ غزوئہ اُحد میں مہاجرین کا جھنڈا ان کے ہاتھ میں تھا ۔ جب مسلمان نہایت پریشانی کی حالت میں اِدھر اُدھر بکھر رہے تھے تو یہ جم کر کھڑے ہوئے تھے ۔ ایک کافر نے قریب سے ان پر حملہ کیا اور تلوار سے ایسا بھر پور وار کیا کہ ان کا ہاتھ کاٹ دیا تاکہ مسلمانوں کا جھنڈا گر جائے اور مسلمانوں کو گویا کھلی شکست ہو جائے ۔ انہوں نے جھنڈا فوراً دوسرے ہاتھ میں لے لیا ‘ اس کافر نے وہ ہاتھ بھی کاٹ دیا ۔ انہوں نے دونوں کٹے ہوئے بازوئوں کو جوڑ کر جھنڈے کو سینے سے چمٹا لیا تاکہ نیچے نہ گرنے پائے ۔ اس کافر نے تیر ‘ مارا جس سے یہ شہید ہو گئے ‘ مگر جب تک زندگی رہی جھنڈے کو گرنے نہیں دیا ۔

جنگ کے بعد جب ان کو دفن کرنے لگے تو صرف ایک چادر ان کے پاس تھی ، جو پورے بدن پر نہیں آتی تھی ، اگر سر کی طرف سے ڈھانپا جاتا تو پائوں کھل جاتے اور پائوں کو ڈھانپتے تو سر کھل جاتا ۔ تب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ چادر کو سر کی طرف کر دیا جائے اور پائوں پر اِذ خرگھاس کے پتے ڈال دئیے جائیں ۔

یہ تو مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کی دین اسلام پر پختگی کی ایک جھلک ہے ۔ آپ نے سیدنا معاذ بن عمرو بن جموح  ؓ اور سیدنا معوذ بن عفراءؓ  کا نام تو سن رکھا ہو گا

حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ مشہور اور بڑے صحابہؓ میں ہیں ۔ فرماتے ہیں کہ میں بدر کی لڑائی میں میدان میں لڑنے والوں کی صف میں کھڑا تھا ۔ میں نے دیکھا کہ میرے دائیں اور بائیں جانب انصار کے دو کم عمر لڑکے ہیں ۔ مجھے خیال ہوا کہ میں اگر قوی اور مضبوط لوگوں کے درمیان ہوتا تو اچھا تھا کہ ضرورت کے وقت ایک دوسرے کی مدد کر سکتے ۔ میرے دونوں جانب بچے ہیں یہ کیا مدد کر سکیں گے  ۔اتنے میں ان دونوں لڑکوں میں سے ایک نے میرا ہاتھ پکڑ کر کہا چچا جان! تم ابو جہل کو بھی پہچانتے ہو ۔ میں نے کہا ہاں پہچانتا ہوں ۔ تمہاری کیا غرض ہے ۔ اس نے کہا مجھے یہ معلوم ہوا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گالیاں بکتا ہے ۔ اُس پاک ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر میں اس کو دیکھ لوں تو اس وقت تک اُس سے جدا نہ ہوں گا کہ وہ مر جائے یا میں مرجائوں ۔ مجھے اس کے اس سوال اور جواب پر تعجب ہوا۔

اتنے میں دوسرے نے یہی سوال کیا اور جو پہلے نے کہا تھا وہی اس نے بھی کہا ۔ اتفاقاًمیدان میں ابو جہل دوڑتا ہوا مجھے نظر پڑ گیا ۔ میں نے ان دونوں سے کہا کہ تمہارا مطلوب جس کے بارے میں تم مجھ سے سوال کر رہے تھے وہ جا رہا ہے ۔ دونوں یہ سن کر تلواریں ہاتھ میں لئے ہوئے ایک دم بھاگ چلے گئے اور جا کر اُس پر تلوار چلانی شروع کر دی یہاں تک کہ اس کو گرادیا

لگتا یوں ہے کہ وقت کا ابو جہل ‘ اس دور کے معاذ و معوذ سے خوفزدہ ہے اور اب فضا ایسی بنائی جا رہی ہے کہ مسلم معاشروں میں ایسے کردار پیدا ہی نہ ہو سکیں ۔ پہلے تو کم عمر لڑکوں اور لڑکیوں کے اسلام قبول کرنے پر پابندی ‘ پھر جو پیدائشی مسلمان ہیں ان کو گمراہ کرنے کیلئے سکول و کالج میں باقاعدہ موسیقی کی تعلیم اور گانے بجانے کی تربیت ۔ تاکہ ’’ اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ کی درسگاہوں سے بجائے ملک و ملت کے محافظین تیار ہونے کے ‘ ایک ایسی نسل جنم لے جس کی شکل دیکھ کر یہ بھی پتہ نہ چل سکے کہ یہ ’’باجی ‘‘ ہیں یا ’’باجا‘‘ ۔

 وہ مسلمان جو واقعی اسلام پر یقین رکھتے ہیں اور ایک اسلامی ملک میں مسلمان بن کر زندگی گزارنا چاہتے ہیں‘ انہیں بھی چاہیے کہ وہ ہر قسم کے تعلقات کو بلائے طاق رکھ کر ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے ایسے مسائل پر سوچیں ۔ ہم سب سے پہلے مسلمان ہیں‘ پھر کسی سیاسی جماعت کے کارکن یا ذمہ دار ہو سکتے ہیں ۔ جو لوگ ہم سے ہمارا مذہب‘ ہماری تہذیب‘ ہمارے اخلاق اور ہماری نسل تک چھین لینا چاہتے ہیں‘ بھلا وہ ہمارے لیڈ ر کیسے ہو سکتے ہیں ۔

یہ لوگ جو خود تو کسی کو مسلمان کیا بناتے ، جو اپنی رضا و رغبت سے اسلام قبول کرنا چاہتا ہے ‘ اس کی راہ بھی رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں‘ یہ محض دشمنان اسلام کیلئے ’’ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار ‘‘ کا کردار ادا کر رہے ہیں اور ان کی ایسی تمام مذموم کاوشوں سے کوئی مسلمان ہونے سے نہیں رکے گا ‘ البتہ یہ غیر ممالک میں اپنے ٹھکانے پکے کر لیں گے ‘ جہاں یہ پاکستان سے لوٹ مار کر بآسانی بقیہ زندگی گزار سکیں ۔

ایسے لوگوں کے ہاتھوں استعمال ہونا ‘ ان کے حق میں نعرے لگانا اور قصیدے پڑھنا اور ان کو ان کے مشن میں کامیاب کروانا ‘ مسلمانانِ پاکستان کیلئے اپنے پائوں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہے ۔

اللہ کریم ملک و قوم کو ہر شریر کے شر سے بچائے او راسلام کے ساتھ ہم سب کو سچی وابستگی نصیب فرمائے۔(آمین)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online