Bismillah

576

۱۴ تا۲۰ربیع الثانی۱۴۳۸ھ  ۱۳تا۱۹جنوری۲۰۱۷ء

اپنی محبت کو پرکھیں (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 571 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - apni-muhabbat-ko-parkhein

اپنی محبت کو پرکھیں

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 571)

رسول اکرمﷺ کی محبت بلا شبہ ایمان کی بنیاد ہے اور اس بارے میں کسی مسلمان کو کبھی اختلاف نہیں ہو سکتا لیکن اس محبت کے اظہار کیلئے بھی صرف وہ ہی طریقے درست اور مستند مانے جائیں گے جن کی تعلیم خود محبوبِ دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہو ۔ ظاہر ہے کہ ایسے طریقے جن سے خود محبوب کی ناراضگی یقینی ہو‘ اُن کے اپنانے کو ’’اظہار محبت‘‘ کیسے کہا جا سکتا ہے ۔

افسوس کہ آج ہمارے معاشرے میں زیادہ اہمیت اظہارِ محبت کے ایسے ہی غلط طریقوں کو دی جا رہی ہے اور چونکہ ایسے کاموں میں نفس کو بڑا مزہ آتا ہے‘ اس لیے اچھے خاصے سمجھدار لوگ بھی سب کچھ جاننے کے باوجود انہیں اپناتے ہیں ۔

علمائِ امت نے ہمیشہ سے اپنی کتابوں میں بڑی اہمیت کے ساتھ رسولِ اکرمﷺ سے سچی اور حقیقی محبت کی علامات ذکر فرمائی ہیں تاکہ ہم میں سے ہر شخص اپنے گریبان میں جھانک کر اپنے آپ کو پرکھ سکے کہ وہ محبوبِ دو جہاںﷺسے محبت کا دعویٰ کرنے میں کتنا سچا ہے ۔

پھر ان محبت کی نشانیوں اور علامات کا ذکر کرنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ کہیں مسلمان اپنے من گھڑت طریقوں کو ہی دین بنا کر نہ بیٹھ جائیں اور یہاں بھی وہ ہی صورت حال نہ پیش آجائے ، جیسے عیسائیوں نے سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے یوم پیدائش (کرسمس ڈے) کے ساتھ کیا کہ پوری عیسائی دنیا میں اتنے گناہ اور غلط کام پورے سال نہیں ہوتے جتنے صرف اس ایک دن میں کیے جاتے ہیں ۔ ہر وہ بد کاری جو اُن کے مذہب میں بھی ممنوع ہے ‘ اس دن ’’ عید مسیح‘‘ کا لیبل لگا کر جائز کر لی جاتی ہے ۔

مشہور محدث ، فقیہ اور سچے عاشق رسول حضرت قاضی عیاض مالکیؒ (۴۷۶،۵۴۴ھ) کی کتاب ’’ الشفاء بتعریفِ حقوق المصطفیٰﷺ ‘‘ سے سیرت پاک کا کوئی طالب علم بے نیاز نہیں ہو سکتا ۔ ہم نے اسی کتاب سے علامات ِ محبت کا خلاصہ معمولی اضافے کے ساتھ اپنے الفاظ میں یہاں نقل کر دیا ہے تاکہ ہم لوگ حقیقی محبت اور صرف دعویٰ محبت میں فرق کر سکیں اور خود اپنی زندگی بھی ان ہی علامات کے سانچے میں ڈھال سکیں ۔

بے شک سچ ہے کہ :

’’محبت تجھے خود آداب محبت سکھا دے گی‘‘

(۱)آنحضرتﷺ سے حقیقی اور سچی محبت کی پہلی علامت یہ ہے کہ آپﷺ کے طریقے کی پیروی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم کا اتباع اور آپﷺکی ہر سنت مطہرہ پر دل و جاں سے مر مٹنا ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ِ گرامی ہے:

’’آپ کہہ دیجئے ! اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا۔‘‘(آل عمران۔۳۱)

خود رسول اللہﷺ نے بھی اپنی سنت کی پیروی کرنے کو اپنی محبت کا معیار قرار دیا:اے پیارے بیٹے! اگر تمہیں اس پر قدرت ہو کہ اس طرح صبح و شام کرو کہ تمہارے دل میں کسی کیلئے کھوٹ نہ ہو تو ایسا ضرور کرو۔

پھر مزید ارشاد فرمایا:’’اے پیارے بیٹے !یہ میری سنت ہے اور جس نے میری سنت کو زندہ کیا اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی، وہ میرے ساتھ جنت میں ہو گا۔ــ ‘‘

(۲) محبت رسولﷺ کی ایک اہم علامت یہ ہے کہ آپ ﷺکا ذکر مبارک کثرت سے کرے کیونکہ جب انسان کے دل میں کسی کی محبت سمائی ہوئی ہوتی ہے تو وہ بہانے سے اس کا ذکر چھیڑ دیتا ہے۔ سچ ہے:

ماہر آنچہ خواندیم ، فراموش کردہ ایم

الا حدیث یار کہ تکرار می کنیم

(ہم نے جو کچھ پڑھا تھا، سب بھلا دیا سوائے محبوب کی باتوں کے، وہی دہراتے رہتے ہیں)

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے قبیلہ والے جب مدینہ کی طرف چلے تو بار بار یہ جملہ ان کی زبانو ں پر ہوتا تھا۔

غداًنلقی الاحبۃ …محمداً وصحبہ

(کل ہم اپنے محبوبوں یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے صحابہ سے ملیں گے)

(۳) آپ ﷺ کی محبت کی ایک علامت یہ ہے کہ آپﷺ کا ذکر انتہائی عظمت، توقیر اور احترام کے ساتھ کرے۔

اسحق یحییٰ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنہم آپﷺ کے بعد جب بھی آپﷺ کو یاد کرتے تو ان کی کھال کے بال کھڑے ہو جاتے اور وہ خشوع کے ساتھ آپﷺ کا ذکر کرتے۔

حضرت امام مالک رحمہ اللہ سے ایک مرتبہ ابن مہدی نے چلتے راہ کسی حدیث کے بارے میں پوچھ لیا تو آپ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ افسوس ہے کہ آپ جیسا آدمی بھی چلتے چلتے حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں گفتگو کرنا چاہتا ہے۔

آپﷺ کے ذکر کے وقت ادب، احترام اور توقیر کا خیال کرنا انتہائی ضروری ہے ، ورنہ بسا اوقات انتہائی سخت گناہ کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔قرآنِ مجید نے ان لوگو کو حبط اعمال (نیک اعمال ضائع ہونے) کی وعید سنائی تھی جو آپ ﷺ کے سامنے اونچا اونچا بولتے تھے اور آپﷺ کو عام لوگوں کی طرح مخاطب کرتے تھے۔ ان کے مقابلے میں ان لوگوں کو دلی تقویٰ کا اعزاز بخشا ہے، جو آپﷺ کے سامنے اپنی آواز پست رکھتے ہیں۔ (الحجرات)

(۴)رسول اللہﷺ کی محبت کی ایک لازمی علامت یہ بھی ہے کہ آپﷺ سے متعلقہ دیگر تمام اشخاص اور اشیاء کی محبت انسان کے دل میں ہو۔

اسی لئے جناب نبی اکرمﷺ کا ارشادِ گرامی ہے:

’’جس نے صحابہ ؓ سے محبت کی اس نے در حقیقت میری محبت کی وجہ سے ایسا کیا اور جس نے ان سے بغض رکھا، اس نے درحقیقت میرے بغض کی وجہ سے ایسا کیا

اسی طرح ایک روایت میں حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا:

’’اے اﷲ ! میں اس سے محبت کرتا ہوں، جو اس سے محبت کرے ، تو اس سے محبت فرما‘‘۔

جب کسی کی محبت دل میں بسی ہوئی ہوتو ناممکن ہے کہ اس کی متعلقہ چیزوں اور اس سے وابستہ افراد سے محبت نہ ہو۔ عربی کا ایک دلچسپ شعرہے:

امرّ علی الدیار دیار لیلٰی

اقبل ذاالجدار وذاالجدار

بقیہ صفحہ ۵ پر

وما حب الدار شغفن قلبی

ولکن حب من سکن الدیار

(میں لیلیٰ کے محلے سے گزراتو کبھی ایک دیوار کوچومتا، کبھی دوسری دیوار کو۔ اس گھر کی محبت میرے دل میں نہیں ، بلکہ میں تو اس مکان کے مکین کی محبت میں گرفتار ہوں)

عربی کے مشہور قصائد ’’السبع المعلقات‘‘ میں امراء القیس کا قصیدہ تو شروع ہی اسی سے ہوتا ہے کہ وہ ان کھنڈرات پر جہاں کبھی محبوب کا گزر ہوا تھا ، خود بھی روتا ہے اوردوسروں کو بھی رلانا چاہتا ہے۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیںکہ میں نے جب سے یہ دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پیالے کے کناروں سے کدو اٹھا اٹھا کر تناول فرما رہے ہیں ، اس دن سے کدو مجھے سب کھانوں میں زیادہ محبوب ہوگیا۔یہ فطرتی بات ہے کہ محبوب کی ہر ادا اور ہر چیز انسان کو دلپسند لگتی ہے۔

(۵)آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کی علامت یہ بھی ہے کہ اللہ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بغض رکھنے والے سے بغض رکھے۔

قرآن مجید میںاللہ تعالیٰ نے ان ایمان والوں کی تعریف فرمائی ہے جو اپنے ایسے رشتے داروں سے بھی محبت و مودّت کاتعلق نہیں رکھتے جو اللہ اور اس کے رسول کے مخالف ہوں۔ (المجادلۃ۔۲۲)

حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے ایک صاحبزادے اسلام لانے کے کافی عرصے بعد آپ رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے کہ ابا جان غزوۂ بدر میں آپ کئی مرتبہ میری تلوار کے سامنے آئے لیکن میں نے احتراماً اپنی تلوار روک دی۔ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ بیٹا اگر اس دن تم میری تلوار کے نیچے آجاتے تو میں کبھی بھی تلوار نہ روکتا۔

رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی کے بیٹے حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے کئی مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پیشکش کی کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں تو میں اپنے والد کا سرکاٹ کر آپ کے پاس لے آئوں!

(۶)حب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی علامت یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین کیلئے بے لوث اور انتھک محنت کی جائے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پوری زندگی اس پیغام کو پھیلانے میں صرف کی اس کیلئے طرح طرح کی اذیتیں برداشت کیںاور ہر طرف سے آنے والے مصائب کے طوفانوں کا مقابلہ کیا، یہ کیسے ممکن ہے کہ ان سے محبت کا دعویدار اس دین حق کی تبلیغ واشاعت کیلئے بیقرار نہ ہو۔

(۷) آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کی ایک علامت یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت سے شفقت و رحم کا سلوک کیا جائے۔ ان کی ہدایت کیلئے کوششیں کی جائیں، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنی امت کا بہت زیادہ خیال فرماتے تھے۔ اسی لئے قرآن مجید میں فرمایا گیا:

بالمؤمنین رؤف رحیم(التوبہ۱۲۸)

(اور مومنوں پر بڑے شفیق، بے حد مہربان ہے)

حجۃ الوداع کے موقع پر قربانی کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مینڈھا اپنی امت کی طرف سے ذبح فرمایا تھا۔

حضرت سہیل بن عبداللہ ؒنے بہت جامع انداز میں علاماتِ محبت بیان فرمائی ہیں، فرماتے ہیں:

’’اللہ تعالیٰ سے محبت کی علامت ، قرآن کریم سے محبت ہے اور قرآن کریم سے محبت کی علامت نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کی علامت ان کی سنت سے محبت ہے اور سنت سے محبت کی علامت آخرت کی محبت سے ہے اورآخرت سے محبت کی علامت دنیا سے بغض سے ہے اور دنیا سے بغض کی علامت یہ ہے کہ اس سے صرف اتنا ہی لیا جائے جتنا آخرت تک پہنچنے کیلئے زادراہ بن سکے۔‘‘

رسول اللہ صلی علیہ وسلم سے والہانہ محبت اہل ایمان کی وہ متاع گراں مایہ ہے جس کا احساس ان سے زیادہ ان کے دشمنوں کو ہے۔ اسی لئے مختلف حیلے بہانوں اورشکوک وشبہات کے ذریعے مسلمانوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک طریقوں، لباس، شکل وصورت اورعادات و اطوار سے دور کرنے کی کوششیں عالمی سطح پر کی جا رہی ہیں، بلکہ یوںکہنا چاہیئے کہ عشاق و محبین کی ایک ایسی برانڈ مارکیٹ میں متعارف کروائی جارہی ہے کہ جس کا کسی قسم کا عملی تعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ ہو، بلکہ اس سے بڑھ کر وہ اتباع سنت کو (نعوذباﷲ) دقیانوسیت اورتاریک خیالی سمجھتے ہوں۔ ایسے خیالات و نظریات کے بعد عشق ومحبت تو کجا اصل ایمان و اسلام ہی خطرے میں پڑ جاتے ہیں۔

اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت جیسی عظیم نعمت کی قدر اور حفاظت کی کوشش کرنی چاہیئے ، جس کا سب سے آسان طریقہ درود شریف کی کثرت ہے اور دوسری ضروری چیز یہ ہے کہ اپنی ذات کے بعد پھر اس دولت کو نئی نسل تک منتقل کرنے کی فکر بھی کرنی چاہئے۔ ایک عرب ادیب ڈاکٹر محمد عبدہ یمانی نے اپنی کتاب کانام بہت سبق آموز رکھا ہے یعنی:

علموا اولادکم محبۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

(اپنی اولاد کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سکھائیں)

آئیں! اپنے سینوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی محبت کی شمع روشن کریں ، تاکہ ظلمت کدۂ دوراں ایک مرتبہ پھر اس اجالے سے منور ہوجائے، جو بطحاء کے افق سے پھیلا اور پھر اس نے ہر چہار سو عالم کو چمکادیا۔

٭…٭…٭

 

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online