Bismillah

591

۳۰رجب تا۶شعبان ۱۴۳۸ھ        بمطابق       ۲۸اپریل تا۴مئی۲۰۱۷ء

سیرت ِطیبہ کا ایک اہم باب (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 572 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Seerat e Tayyiba ka aik Aham Baab

سیرت ِطیبہ کا ایک اہم باب

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 572)

اگر کوئی ماہر ڈاکٹر آپریشن تھیٹر میں انتہائی غور و خوض کے بعد یہ رائے دے کہ اس مریض کے جسم میں جراثیم اس طرح پھیل گئے ہیں کہ اب اس کی زندگی بچانے کیلئے ضروری ہے کہ اس شخص کی ٹانگ کاٹ دی جائے ورنہ ممکن ہے کہ خراب اور سڑی ہوئی ٹانگ کے اثراتِ بد پورے جسم کو اپنی لپیٹ میں لے لیں اور یہ آدمی اپنی زندگی سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے تو مریض کے رشتہ داروں عزیز و اقارب اور بہی خواہوں میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں ہوگا جو ایک زندہ شخص کی چیر پھاڑ کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دے۔ کوئی ایک زبان ایسی نہیں ملے گی جو اس سنگدلی پر صدائے احتجاج بلند کرے۔ البتہ یہ ضروری ہوگا کہ اپنے مریض کی ٹانگ کاٹنے پر ڈاکٹر کے شکر گزار ہوں گے، اس کی مہارت کے قصیدے پڑھیں اور آخر کار اسے بھاری فیس بھی ادا کریں گے۔

کیا وجہ ہے کہ جو لوگ ڈاکٹر کی اس نشتر زنی کو درست سمجھتے ہیں وہ جہاد کو اﷲ کی رحمت باور کرنے کیلئے تیار نہیں ہوتے۔ جب اﷲ تعالیٰ کا برگزیدہ پیغمبر (ضلی اﷲ علیہ وسلم) اپنے تجربے اور وحی الٰہی کے ذریعے یہ سمجھ لیتا ہے کہ یہ لوگ اب کفر و ظلم میں اتنے آگے بڑھ گئے ہیں کہ ان کیلئے نصیحت کی کوئی بات اور ہدایت کا کوئی طریقہ کارگر نہیں ہوسکتا، اب یہ لوگ انسانی معاشروں کیلئے ایسا ناسور بن چکے ہیں جنہیں اگر بروقت کاٹ کر جدا نہ کر دیا گیا تو ان کے زہریلے اثرات پوری انسانیت متاثر ہوگئی اور کفر و شرک‘ ظلم و شقاوت کے جراثیم پوری انسانی سوسائٹی میں پھیل جائیں گی تو وہ حکم ربانی کے تحت اپنے جانبازوں کو ساتھ لے کر میدان جہاد میں آجاتا ہے تاکہ مسلمانوں میں سے خوش بخت اور سعادت مند لوگ شہادت اور غازی ہونے کا شرف حاصل کرسکیں، کافروں کی شان و شوکت ختم ہو اور انسانی معاشرہ کفر و ظلم کے بڑھتے ہوئے جراثیم سے پاک ہو جائے۔

جہاد کا فریضہ ‘ جو اﷲ کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنے قول و عمل سے ہمیں سکھلایا‘ ایسا سراپا رحمت اور شفاء سے بھرپور نسخہ ہے کہ جب بھی مسلمانوں نے اس کا استعمال کیا تو اس کا فائدہ نہ صرف خود ان تک پہنچا بلکہ اس کی رحمت سے کفار بھی محروم نہ رہے۔ انہیں ظالم و جابر حکمرانوں کے بجائے رحمدل اور احسان صفت حکمران میسر آئے اور لوٹ کھسوٹ کے نظام کی جگہ عدل و انصاف اور امن و سکون کے نظام نے لے لی۔

آئیے! سیرت طیبہ کی روشنی میں دیکھتے ہیں کہ جہاد کی رحمت کو عام کرنے کیلئے اﷲ کے رسول  صلی اﷲ علیہ وسلم نے کیا عملی اقدامات فرمائے اور امت کیلئے کیا اسوئہ حسنہ قائم فرمایا:

رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کے عملی جہاد اور کفار کے ساتھ عسکری مقابلے کا آغاز ہجرت مدینہ کے بعد سے ہوتا ہے۔ صرف دس سالوں کے اندر آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ۲۷ یا ۲۸ (سیرت نگاروں کے اختلاف کے مطابق) مرتبہ بہ نفس نفیس میدان جہاد کا رخ فرمایا اور اپنے عشاق کیلئے ایک واضح راستہ متعین فرما دیا۔ آپ ا نے جن غزوات میں شرکت فرمائی ان کی اجمالی فہرست مندرجہ ذیل ہے:

الابواء ‘ بواط ‘ العشیرہ‘ ذات الرقاع‘ بدر صغریٰ‘ بنی سلیم‘ بنی قینقاع‘سویق‘ غطفان‘ احمد‘ حمراء الاسد‘ بنی نضیر‘ ذات الرقاع‘ بدر صغری‘ دومۃ الجندل‘ خندق یا احزاب‘ بنی قریظہ‘ بنی لحیان‘ ذی قرد‘ بنی مصطلق‘ حدیبیہ‘ خیبر‘ عمرۃ الفضاء‘ فتح مکہ‘ حنین طائف اور آپ ا کی زندگی کا سب سے آخری غزوہ ‘ غزوہ تبوک تھا۔

آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ان غزوات کے علاوہ تقریباً چھپن مرتبہ اپنے صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کو کفار کے مقابلے میں بھیجا جنہیں سیرت کی اصطلاح میں سرایا کہتے ہیں اور تاریخ و حدیث کی کتب میں باقاعدہ ان سب کی تفاصیل اور واقعات موجود ہیں۔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کا جہاد سے یہ تعلق عارضی اور معمولی نہیں بلکہ مستقل اور دائمی تھا۔ چنانچہ آپ ا نے خود ہی ارشاد فرمایا:

’’میں قیامت سے پہلے تلوار دے کر بھیجا گیا ہوں تاکہ صرف اکیلے اﷲ کی عبادت کی جائے جس کا کوئی شریک نہیں اور میری روزی میرے نیزے کے سائے کے نیچے رکھ دی گئی ہے اور ذلت و پستی ان لوگوں کا مقدر بنا دی گئی ہے جو میرے لائے ہوئے دین کی مخالفت کریں اور جو کسی عبادت کے ساتھ مشابہت اختیار کرتا ہے وہ انہی میں سے ہوگا‘‘ (مسند احمد، فضائل جہاد ۳۰۰)

احادیث شریفہ کی کتابیں جن میں آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے اقوال و اعمال کا مبارک تذکرہ ہوتا ہے اس میں کتنی کثرت سے جہاد کے واقعات و احکامات موجود ہیں اس کیلئے مندرجہ ذیل فہرست ملاحظہ فرمائیے:

۱) صحیح بخاری شریف میں کتاب الجہاد کے عنوان سے ۲۴۱ ابواب ہیں۔

۲) صحیح مسلم شریف میں کتاب الجہاد کے عنوان سے ۱۰۰ ابواب ہیں۔

۳) ترمذی شریف میں کتاب الجہاد کے عنوان سے ۱۵۵ ابواب ہیں۔

۴)ابودائود شریف میں کتاب الجہاد کے عنوان سے ۱۷۶ابواب ہیں۔

۵) نسائی شریف میں کتاب الجہاد کے عنوان سے ۱۴۸ابواب ہیں۔

۶) ابن ماجہ شریف کی کتاب میں الجہاد کے عنوان سے ۱۴۶ ابواب ہیں۔

۷) مشکوٰۃ شریف میں کتاب الجہاد کے عنوان سے ۲۶ صفحات ہیں۔

۸) الترغیب و الترہیب میں کتاب الجہاد کے عنوان سے ۹۰ صفحات ہیں۔

۹)مصنف ابن ابی شیبہ میں کتاب الجہاد کے عنوان سے ۳۳۴ صفحات ہیں۔

۱۰) سنن کبریٰ بیہقی میں کتاب الجہاد کے عنوان سے ۳۵۹ صفحات ہیں۔

۱۱)کنز العمال میں کتاب الجہاد کے عنوان سے ۳۵۹ صفحات ہیں۔

۱۲) اعلاء السنن میں کتاب الجہاد کے عنوان سے ۶۷۴ صفحات ہیں۔(بحوالہ فضائل جہاد مختصر)

حقیقت یہ ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کے کسی گوشے میں بھی آپ ا کی سیرت اور جہاد کو جدا نہیں کیا جاسکتا۔ کوئی شخص جہاد کے معنی میں کتنی تحریف کیو ںنہ کرے اور اس کیلئے من گھڑت تاویلیں پیش کرے لیکن سیرت طیبہ کا ایک ایک ورق اس کی تردید کر دے گا اور مسلمانو ںکو بتائے گا کہ تمہارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے جہاد کس کو کہا تھا؟ خود جہاد کس طرح کیا تھا اور دوسروں کیلئے کس جہاد کی ترغیب دی تھی؟

مندرجہ بالا حقائق کی روشنی میں سیرت مبارکہ میں جہاد کی اہمیت خوب واضح ہوچکی ہے لیکن یہاں ہم یہ بھی بتانا چاہتے ہیں کہ رحمتوں اور برکتوں والا یہ عمل جہاد صرف آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنے زمانے کے ساتھ خاص نہیں رکھا بلکہ اپنی امت کو ہمیشہ اس کے قائم رکھنے کا حکم فرمایا اور قیامت تک اس کے جاری رہنے کی پیشین گوئی فرمائی۔

حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنی حیات طیبہ کے بالکل آخری دنوں میں حضرت اسامہ رضی اﷲ عنہم کی سرگردگی میں لشکر اسلام کو روانہ فرما کر مسلمانوں کو اس بات کی عملی تعلیم دی تھی کہ جہاد کا عمل صرف اس وقت تک محدود نہیں جب تک اﷲ کے نبی امت کے درمیان موجود ہوں‘ بلکہ اس عمل کو ہمیشہ قائم و دائم رہنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خلفائے راشدین نے جہاد کے میدانوں کو آباد رکھتے ہوئے اسلام کو جزیرہ نما عرب سے نکال کر شمالی افریقہ اور افغانستان جیسے دور دراز علاقوں میں پہنچا دیا۔ اپنے وقت کی دو عظیم طاقتوں روم اور ایران کو اس فریضۂ جہاد کے ذریعے مسلمانوں کے سامنے ناک رگڑنے پر مجبو رکر دیا اور دنیا میں کوئی طاقت ایسی نہ رہی جو اسلام کی شان و شوکت اور مسلمانوں کے جان و مال کیلئے خطرہ بن سکے۔

آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اس عملی ترغیب کے ساتھ مختلف احادیث میں صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کو جہاد جاری رکھنے کا حکم فرمایا اور اس کی مختلف عملی شکلیں بطور معجزے کے آپ ا نے خود بیان فرمائیں۔

حضرت انس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم حضرت ام حرام بنت ملحان رضی اﷲ عنہا کے گھر جایا کرتے تھے وہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کو کھلایا پلایا کرتی تھیں ( کیونکہ وہ آپ ا کی رضاعی خالہ ہونے کی وجہ سے مَحرَم تھیں) حضرت ام حرام رضی اﷲ عنہا ‘ حضرت عبادہ بن صامت رضی اﷲ عنہ کی اہلیہ تھیں۔ ایک مرتبہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم ان کے گھر تشریف لے گئے۔ حضور ا اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کو نیند آگئی، پھر آپ ا ہنستے ہوئے بیدار ہوئے۔ ام حرام رضی اﷲ عنہا نے عرض کیا : ’’اے اﷲ کے رسول (صلی اﷲ علیہ وسلم) آپ کے ہنسنے کی کیا وجہ ہے؟‘‘ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’مجھے میری امت کے کچھ لوگ دکھائے گئے جو سمندر میں اس طرح سوار ہو کر جہاد کریں گے جس طرح بادشاہ اپنے تخت پر بیٹھتے ہیں۔‘‘ ام حرام رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں میں نے عرض کیا اے اﷲ کے رسول (صلی اﷲ علیہ وسلم) آپ دعا فرمائیے کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی ان میں شامل فرما دے پھر آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے سر مبارک رکھا اور سوگئے، پھر آپ صلی اﷲ علیہ وسلم ہنستے ہوئے بیدار ہوئے تو ام حرام رضی اﷲ عنہا نے عرض کیا کہ کس چیز نے آپ کو ہنسایا؟ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے پہلے جیسی بات ارشاد فرمائی کہ مجھے میری امت کے کچھ لوگ سمندر میں جہاد کرتے ہوئے دکھائے گئے۔ ام حرام رضی اﷲ عنہا نے کہا کہ اﷲ کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم میرے لئے دعا فرمائیے کہ اﷲ تعالیٰ مجھے ان میں شامل فرما دے۔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا تم پہلے لشکر والوں میں سے ہو۔ حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کے زمانے میں حضرت ام حرام رضی اﷲ عنہا بحری جہاد میں تشریف لے گئیں مگر سمندر سے نکلنے کے بعد اپنی سواری سے گر کر انتقال فرما گئیں۔(بخاری ۔ مسلم)

ظاہر ہے کہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں بحری جہاد کا کوئی امکان نہیں تھا۔ پہلی مرتبہ سمندر میں جہاد کی سعادت حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ نے حضرت عثمان رضی اﷲ عنہ کے دور خلافت میں حاصل کی تھی۔ صدیوں بعد عثمانی ترکوں کے بحری بیڑوں نے دنیا کے معروف بحری راستوں پر مسلمانوں کا تسلط قائم کرکے اس پیشین گوئی کو عملی شکل دی تھی۔

رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’میری امت میں سے دو گروہ ایسے ہیں جنہیں اﷲ نے آگ سے بچا لیا ہے، ایک وہ جماعت جو ہندوستان میں جہاد کرے گی اور دوسری وہ جماعت جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہوگی۔‘‘ (نسائی شریف ج ۲ صفحہ ۶۳)

اس حدیث کے ذریعے اﷲ کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنی امت کو غزوۂ ہند کی فضیلت بتائی ہے اور ساتھ ہی اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ کر دیا کہ غزوئہ بدر میں حق و باطل اور کفر و اسلام کے درمیان برپا ہونے والا معرکہ ختم نہیں ہوگا بلکہ مسلمان‘ مشرکین مکہ کی طرح ایک دن مشرکینِ ہند کے خلاف بھی نبرد آزما ہوں گے اور فریضۂ جہاد جاری و ساری رہے گا۔ ہندوستان پر سب سے پہلے کامیاب حملے کا اعزاز محمد بن قاسم کو حاصل ہے۔ ان کے بعد سترہ مشہور حملوں کیلئے سلطان محمود غزنویؒ کا نام لیا جاتا ہے۔ لیکن کشمیر اور احمد آباد میں مسلمانوں کے قتل عام اور ان کے زندہ آگ میں جلائے جانے کے واقعات مسلمانوں کو بتا رہے ہیں کہ بشارت کا یہ دروازہ ابھی بند نہیں ہوا ، خوش بخت لوگ اب بھی عزوئہ ہند کی سعادت کو حاصل کرسکتے ہیں اور کر رہے ہیں۔

رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جہاد اس وقت تک جاری ہے جب سے اﷲ نے مجھے بھیجا یہاں تک کہ اس امت کا آخری حصہ دجال سے قتال کرے گا۔ (اس جہاد کو) کسی ظالم کا ظلم یا کسی عادل کا عدل ختم نہیں کرسکے گا۔‘‘  (ابو دائود بحوالہ مشکوٰۃ)

اس حدیث شریف میں محبوب خدا صلی اﷲ علیہ وسلم نے واضح طور پر بتا دیا کہ سعادت مندوں اور خوش بخت لوگوں کیلئے جہاد کا راستہ ہمیشہ کیلئے کھلا ہوا ہے اور اسے کوئی شخص بند نہیں کرسکتا۔ مسلمانوں میں سے روح جہاد ختم کرنے کیلئے جو کوششیں ہوئیں ان کی داستان بہت طویل اور دردناک ہے۔ متحدہ ہندوستان کے زمانے میں انگریز کے پروردہ ایک شخص غلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا اور جہاد کی حرمت کا فتویٰ دیا۔ علمائے حق کی جدوجہد سے قادیانی فتنہ تو بے نقاب ہو گیا لیکن بعد ازاں کچھ ایسے لوگوں نے مسلمانوں کو جہاد سے روکنے کی ذمہ داری سنبھالی جو بظاہر تو جہاد کا انکار نہیں کرتے تھے لیکن  وہ جہاد کی محض ایسی تشریح کرتے جس کا سیرت طیبہ سے کوئی تعلق نہیں ہوتا تھا۔ ایسا جہاد جس میں نہ تیر و تفنگ کی ضرورت پڑے ‘ نہ اس میں زخم لگیں اور نہ اس میں شہادت کی سعادت میسر آئے۔ ظاہر ہے کہ ایسے جہاد کا قرآن و سنت میں ذکر کردہ جہاد سے فرق بالکل واضح ہے۔  آج بھی مسلمانوں کے درمیان ایسے نام نہاد دانشور موجود ہیں جن کے خیال میں کفار اپنے مظالم میں بالکل برحق ہیں اور ان کے خلاف فلسطین و کشمیر میں برسرپیکار مجاہدین دہشت گرد ہیں۔

جہاد کو ختم کرنے کی یہ سب کوششیں اپنی جگہ ہوتی رہیں گی لیکن حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے واضح طور پر بتا دیا کہ کسی کا ظلم یا کسی کا عدل اﷲ کے اس فریضے کو ختم نہیں کرسکتا۔ اس لئے اﷲ اور اس کے رسول ا کے عشاق ‘ مسلمان مائوں‘ بہنوں کے محافظ اور قرآن و سنت پر پختہ یقین رکھنے والے نوجوان آج اس مادی دور میں بھی اپنا سب کچھ لٹا کر اس فریضے کا احیاء کر رہے ہیں۔

رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے : ’’یہ دین ہمیشہ قائم رہے گا اس پر مسلمانوں کی ایک جماعت قتال کرتی رہے گی یہاں تک کہ قیامت آجائے گی۔‘‘ (مسلم بحوالہ مشکوٰۃ)

اس حدیث شریف کا مطلب بالکل واضح ہے کہ اس دین کی بقاء اور تحفظ کیلئے اﷲ تعالیٰ ہر دور اور ہر زمانے میں ایسے مجاہدین کو پیدا فرماتا رہے گا جو اس کے راستے میں کفار سے لڑیں گے اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔ اسی لئے دیکھیں کہ مسلمان جب مایوسی کے گہرے اندھیروں میں گھرنے لگتے ہیں، وسائل ان کا ساتھ چھوڑ جاتے ہیں اور دنیا والے ان کو ختم کرنے پر متفق و متحد ہو جاتے ہیں تو اﷲ تعالیٰ غیب سے کسی مجاہد کو کھڑا کر دیتا ہے اور وہ دوبارہ سے امت میں فریضہ جہاد کا احیاء کرکے امت مسلمہ میں ایک نئی روح پھونک دیتا ہے۔

آجکل حالات کا عذر پیش کرکے جہاد جیسے عظیم فریضے کو ترک کرنے والے ذرا سوچیں کہ کیا اس وقت جب پوری دنیا پر دجال کا طوطی بول رہا ہوگا حالات کیسے شدید تر ہوں گے، مگر مسلمان اس کے خلاف جہاد کریں گے اور آخر کار فتح یاب ہونگے۔ اسی طرح حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم نے جن حالات میں جہاد کیا وہ بھی اپنی سختی اور مشکلات میں آج سے کہیں زیادہ بڑھ کر تھے۔ اس لئے نیک بخت لوگ ہمیشہ یہ فریضہ سرانجام دیتے رہیں گے یہاں تک کہ اﷲ تعالیٰ کی طرف سے فتح یا شہادت کی مبارک موت ان کا مقدر بنے۔ یہی کامیابی کا راستہ ہے اور دنیا و آخرت میں سرخروئی کا ذریعہ‘ خصوصاً جب کہ یہ بھی طے ہے کہ:

جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا

وہ شان سلامت رہتی ہے

یہ جان تو آنی جانی ہے

اس جان کی کوئی بات نہیں

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online