Bismillah

609

۲۳تا۲۹ذی الحجہ۱۴۳۸ھ   بمطابق  ۱۵تا۲۱ستمبر۲۰۱۷ء

ایسے کاموں میں ایسا تو ہوتا ہے (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 573 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Aise Kamon mein aisa to hota hay

ایسے کاموں میں ایسا تو ہوتا ہے

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 573)

ساری دنیا کو بہت مبارک ہو کہ آج رات اُن لوگوں کی انسانیت بھی جاگ اٹھی ہے جو گزشتہ کئی ماہ سے شام پر ہونے والی خوفناک اور انسانیت کش بمباری پر گہری نیند سو رہے تھے ۔ روسی سفیر کا قتل صحیح ہوا یا غلط ؟یہ الگ بات ہے لیکن ہوا بہت اچھا کہ :

ایں خطا از صد صواب اولیٰ تر است 

( یہ غلطی ، سو درست کرنے سے بہتر ہے)

آخر دنیا اتنی واضح اور دو ٹوک بات کو سمجھنے کیلئے کیوں تیار نہیں کہ ہر عمل کا رد عمل ہوتا ہے ۔ آپ چیونٹی جیسی معمولی مخلوق کو بھی مارنے کی کوشش کریں تو وہ بھی اپنے دفاع میں آپ کو کاٹنے کی کوشش ضرور کرتی ہے ۔

پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ملک تباہ کر دئیے جائیں ، بستیاں اجاڑ دی جائیں  عمارتیں منہدم کر دی جائیں ، بچے ذبح کر دئیے جائیں ، عصمتیں تار تار کر دی جائیں اور پوری ایک نسل کا مستقبل دائو پر لگا دیا جائے اور اس ظلم  و ستم کا کوئی رد عمل نہ ہو ، کوئی بدلہ نہ ہو اور کوئی جواب دینے کیلئے نہ اٹھے ۔

مسلمانوں کو آزادی کے ساتھ ، اُن کے نظام اور افکار کے مطابق زندگی گزارنے دیں تو یقینا دنیا امن کا گہوارہ بن جائے گی لیکن اگر آپ اپنے کٹھ پتلی لوگوں کو ان پر مسلط کر کے ، اُن کی آزادی سلب کر کے ، اُن سے قرآن و سنت کے مطابق زندگی گزارنے کا حق چھین کر یہ سوچیں گے کہ آپ کے ملک اور شہر جنت کا نمونہ بن جائیں تو :

ایں خیال است و محال است و جنوں

یہ بات اہلِ دنیا کو جتنی جلدی سمجھ میں آجائے گی ، سارے مسائل اتنے ہی جلدی حل ہو جائیں گے ورنہ ترکی کے پولیس افسر کا وار تو شام پر ہونے والے ظلم کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں یورپ اور روس میں وہ آگ لگے گی کہ ایک دنیا دیکھے گی۔

شام کا تاریخی شہر حلب اور امت مسلمہ کے دل ، سب ہی زخمی اور لہو لہان ہیں ۔ حلب اور قلب ، دونوں ہی خون کے آنسو رو رہے ہیں ۔ تاریخ میں جن لوگوں کو ہمیشہ ایک ظالم اور قاتل کے روپ میں دکھا یا جاتا ہے  جیسے ہلاکو خان اور چنگیز خان وغیرہ ، ہم نے انہیں دیکھا نہیں لیکن شام کی اسدی حکومت اور اس کی پشت پر موجود روسی اور ایرانی افواج نے جو مظالم ڈھائے ہیں ، اُن کی تصاویر دیکھ کر صاف پتہ چلتا ہے کہ عالمی برادری ، عالمی ضمیر اور انسانیت و ترقی کی سب باتیں محض مسلمانوں کے بے وقوف بنانے کیلئے ہیں ، ورنہ ہم آج بھی ہلاکو اور چنگیز کے دور میں کھڑے ہیں ۔

عالم اسلام کے اس تاریخی شہر حلب  میں آج اہل ایمان جس صورت حال سے دو چار ہیں ، اس پر صدمے کی کیفیت کو قلم یا زبان سے بیان کرنا ممکن نہیں ہے ۔عمارتوں کے ملبے تلے دبی معصو م بچوں کی لاشیں دیکھ کر تو پتھر سے پتھر دل بھی موم ہو جاتے ہیں اور وہاں کے مظالم مسلمانوں کی وہ فریادیں ، جو ہم تک پہنچ رہی ہیں اُنہیں سننے کیلئے بھی بڑا دل گردہ چاہیے ۔

یہ سب کچھ ایک دن میں نہیں ہوا ۔ اس کے پیچھے صدیوں پر پھیلی ہوئی ایک تاریخ ہے ۔ وہ امت جس کے تابناک دور میں ایک سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین ؓ کی شہادت کا بدلہ لینے کیلئے  رحمتِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چودہ سو جا نثاروں سے موت پر بیعت لی تھی اور جس کے متقی پرہیزگار ہی نہیں ، عیش پرست حکمران بھی صرف ایک مسلمان بیٹی کی رہائی کیلئے بڑے بڑے لشکر روانہ کر دیتے تھے پھر یہ امت ایسی اجتماعی بے حسی تک کیسے پہنچی کہ آج ایک علاقے کے مسلمان موت کے دروازے پر کھڑے ہوتے ہیں لیکن دوسرے علاقے کے مسلمان خوشی کے شادیانے بجانے میں مست ہوتے ہیں اور اپنے دل میں وہ کوئی درد و کرب محسوس نہیں کرتے ۔

اب تو معاملہ اس سے آگے بڑھ کر نوبت یہاں تک آچکی ہے کہ بہت سے مسلمان کہلانے والوں کو کفار کے قتل پر شدید غم ہوتا ہے اور وہ اپنی زبان سے اظہار ِ مذمت بھی کرتے ہیں لیکن اہل اسلام پر مصائب کے پہاڑ بھی ٹوٹ پڑیں تو اُن کے کانوں پر جوں بھی نہیں رینگتی ۔

قرآن مجید نے ایسی صورت حال کیلئے پہلے ہی یہ تنبیہ اور وارننگ جاری کر دی تھی :

والذین کفر وابعضہم اولیاء بعض الا تفعلوہ تکن فتنۃ فی الارض و فساد کبیر

(اور جو لوگ کافر ہیں ، وہ ایک دوسرے کے مددگار ہیں ۔ اگر تم یوں نہ کرو گے ( کہ ایک دوسرے کے مدد گار اور معاون بن جائو ) تو زمین میں فتنہ پھیلے گا اور بڑا فساد ہو گا۔(الانفال )

اس آیت کی تفسیرمیں امام قرطبیؒ نے امام ابن اسحق کا یہ بصیرت افروز ارشاد نقل کیا ہے:

 یعنی اگر مسلمانوں نے مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں سے یاری کی تو شدید فتنہ آئے گا ، جنگ مسلط ہو گی اور مسلمانوں کو لوٹ مار ، جلاوطنی اور قید کا سامنا ہو گا

کچھ عرصے پہلے سر زمین عرب پر مسلم ممالک کا ایک فوجی اتحاد بنا تھا ، جس میں وطن عزیز پاکستان کی بھی نمائندگی تھی ، تو کچھ موہوم سی امید کی کرن نظر آئی تھی کہ شاید اب کم از کم اس خطہ عرب کے مسلمان ہی محفوظ ہو جائیں گے لیکن موجودہ صورت حال نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ جب تک مسلمان ، مختلف کفریہ طاقتوں کی چاکری کرتے رہیں گے اور اپنے آپ کو ہر چیز میں عالمی طاقتوں کا دست نگر اور محتاج بنائے رکھیں گے ، تب تک فتح اور غلبے کے بلند و بالا دعوے بھی ہو سکتے ہیںاور زور دار نعرے بھی لگائے جا سکتے ہیں لیکن اس تما م نقل و حرکت کی حیثیت بچوں کے کھیل چورسپاہی سے زیادہ نہیں ہو گی ۔ فلسطین کے قضیے سے بڑھ کر اور اس کیلئے کیا دلیل درکار ہے ۔

حلب کے تاریخی شہر سے ہم جیسے طالب علموں کی وابستگی ، اُن عظیم ہستیوں کی وجہ سے بھی ہے ، جنہوں نے اس علاقے کو عالم اسلام میں ایک ممتاز مقام بخشا ہے ۔ پھر ان تاریخی شخصیات میں سے ایک نام تو ایسا ہے کہ جن کے احسانات کے بوجھ سے ہمیشہ ہماری گردنیں جھکی رہیں گی ۔ ان کے مفصل تذکرے سے پہلے آئیں ایک نظر حلب کی تاریخ پر ڈالتے ہیں ۔

حلب ( انگریزی:Aleppo) شمال مغربی شام کا ایک پرانا اور مشہور شہر ہے جو قدیم زمانے میں بہت بڑا تجارتی مرکز تھا۔ بغداد جانے والے تجارتی قافلے یہیں سے ہو کر جاتے تھے۔ ایک ہزار سال قبل مسیح میں بھی اس کو خاص اہمیت حاصل تھی۔ بازنطینی عہد حکومت نے اس کو بڑی ترقی دی۔ ساتویں صدی میں اس پر عربوں نے قبضہ کیا۔ دسویں صدی میں یہ پھر بازنطینیوں کے قبضہ میں چلا گیا۔ گیارہویں صدی کے آخر میں اس پر سلجوق ترک قابض ہوگئے۔ 1124ء میں صلیبیوں نے اس کا محاصرہ کر لیا۔ 1183ء میں سلطان صلاح الدین ایوبی نے اس پر قبضہ کرکے اس کو خوب مضبوط کیا۔ 1260ء میں اس میں ہلاکو خان اور 1401ء میں۔ امیر تیمور نے قبضہ کیا۔ 1517ء میں پھر عثمانی ترکوں کے قبضہ میں آیا۔ چند سال اس پر مصر کا بھی تسلط رہا۔ یہاں ریشمی اور سوتی کپڑے کے کارخانے ہیں۔ کسی زمانے میں یہاں کا آئینہ بہت مشہور تھا۔

موجودہ شامی مزاحمت کے آغاز میں حلب میں بشار حکومت کے خلاف پہلا بڑا مظاہرہ جمعہ 25 مارچ 2011ء کو ہوا جسے "جمعہ عزۃ" کے نام سے موسوم کیا گیا۔اس کے بعد مظاہروں کا سلسلہ ہر جمعے کو جاری رہنے لگا حتیٰ کہ ہر روز مظاہرے شروع ہو گئے جن میں شدت اور پھیلاو میں اضافہ ہوتا گیا۔اسی دوران مجموعی طور پر اسدی نظام کے 30 ہزار اہلکاروں کو جن میں ریگولر آرمی اور انتہائی ظالم شبیحہ ملیشیا شامل تھے شہر میں تعینات کر دیا گیا۔ 12 اگست 2011ء کے مظاہروں کا نعرہ "ہم اللہ کے سوا کسی کے سامنے نہیں جھکتے" رکھا گیا۔ان مظاہروں میں ابتدائی طور پر تین افراد فائرنگ سے شہید ہوئے جس کے بعد اشتعال میں مزید اضافہ ہو گیا۔ 6 ستمبر کو تاریخی مسجد اموی میں ایک تاریخی مظاہرہ ہوا جس کی وہ مفتی حلب ابراہیم السلقینی کا قتل تھا جن کے بارے میں شنید تھی کہ انہیں شامی خفیہ ایجنسیوں نے شہید کر دیا ہے۔ اس واقعے کے بعد جامعہ اموی مظاہروں کا مرکز بن گئی۔

2012ء میں بھی مظاہرے جاری رہے یہاں تک کہ 20 جولائی 2012ء کو جیش الحر کی پہلی مڈبھیڑ شامی افواج سے ہوئی اور یوں معرکہ حلب کا آغاز ہو گیا۔ اس کے فورا بعد اس معرکہ حلب کا آغاز ہو گیا جوکئی سالوں سے جاری ہے اور اس معرکے میں اہل شہر پر کیا گزررہی ہے اور کچھ اندازہ ان تصاویر کو دیکھ کر لگایا جا سکتا ہے جو عالمی میڈیا میں شائع ہو چکی ہیں۔

حلب کی تاریخ میں غالباًسب سے نامور شخصیت نور الدین ابو القاسم محمود ابن عماد الدین زنگی کی ہے۔جو زنگی سلطنت کے بانی عماد الدین زنگی کے بیٹیتھے۔ نور الدین فروری 1118ء میں پیدا ہوئے اور 1146ء سے 1174ء تک 28 سال حکومت کی۔انہوں  نے عیسائیوں سے بیت المقدس واپس لینے کے لیے پہلے ایک مضبوط حکومت قائم کرنے کی کوشش کی اور اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے گرد و نواح کی چھوٹی چھوٹی مسلمان حکومتوں کو ختم کرکے ان کو اپنی مملکت میں شامل کرلیا۔ شروع میں نورالدین کا دارالحکومت حلب تھا۔ 549ھ میں انہوں نے دمشق پر قبضہ کرکے اسے دارالحکومت قرار دیا۔انہوں  نے صلیبی ریاست انطاکیہ پر حملے کرکے کئی قلعوں پر قبضہ کرلیا اور بعد ازاں ریاست ایڈیسا پر مسلمانوں کا قبضہ ختم کرنے کے لیے عیسائیوں کی کوشش کو بھی ناکام بنا دیا۔ دوسری صلیبی جنگ کے دوران دمشق پر قبضہ کرنے کی کوششیں بھی سیف الدین غازی اور معین الدین کی مدد سے ناکام بنا دیں اور بیت المقدس سے عیسائیوں کو نکالنے کی راہ ہموار کردی۔

دوسری صلیبی جنگ میں فتح کی بدولت ہی مسلمان تیسری صلیبی جنگ میں فتح یاب ہوکر بیت المقدس واپس لینے میں کامیاب ہوئے۔ اس زمانے میں مصر میں فاطمی حکومت قائم تھی لیکن اب وہ بالکل کمزور ہوگئی تھی اور مصر چونکہ فلسطین سے ملا ہوا تھا اس لیے عیسائی اس پر قبضہ کرنا چاہتے تھے۔ یہ دیکھ کر نورالدین نے ایک فوج بھیج کر 564ء میں مصر پر بھی قبضہ کرلیا اور فاطمی حکومت کا خاتمہ کردیا۔فاطمی حکومت چونکہ ان لوگوں کی تھی جنہوں نے ہر دور میں حضرات اہل بیت کرام کے مقدس نام استعمال کر کے مسلمانوں کو بے وقوف بنایا ہے اور کفار کے ساتھ مل کر اہل ایمان کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے ،اس لیے یہ لوگ آج تک حلب سے اپنی دشمنی نہیں بھلا سکے اور اہل حلب پر ان تازہ مظالم میں بھی حزب الشیطان پیش پیش ہے۔

مصر پر قبضہ کرنے کے بعد نورالدین نے بیت المقدس پر حملہ کرنے کی تیاریاں شروع کردیں۔ بیت المقدس کی مسجد میں رکھنے کے لیے انہوں نے اعلیٰ درجے کا منبر تیار کروایا۔ ان کی خواہش تھی کہ فتح بیت المقدس کے بعد وہ اس منبر کو اپنے ہاتھوں سے رکھیںگے لیکن اللہ تعالیٰ کو یہ منظور نہ تھا۔ نورالدین ابھی حملے کی تیاریاں ہی کررہے تھے کہ ان کو حشاشین نے زہر دیا۔ جس سے ان کے گلے میں سوزش پیدا ہو گئی جو ان کی موت کا باعث بنی۔ 15 مئی 1174ء کو ان کا انتقال ہوگیا۔ انتقال کے وقت نورالدین کی عمر 58 سال تھی۔

نور الدین بہادری میں اپنے باپ کی طرح تھے۔ ایک مرتبہ جنگ میں انہیں دشمنوں کی صف میں بار بار گھستے دیکھ کر اس کے ایک خاص ساتھی قطب الدین نے کہا : اے ہمارے بادشاہ! اپنے آپ کو امتحان میں نہ ڈالئے اگر آپ مارے گئے تو دشمن اس ملک کو فتح کرلیں گے اور مسلمانوں کی حالت تباہ ہوجائے گی۔

 نورالدین نے یہ بات سنی تو اس پر بہت ناراض ہوئے اور کہا :قطب الدین!زبان کو روکو، تم اللہ کے حضور گستاخی کررہے ہو۔ مجھ سے پہلے اس دین اور ملک کا محافظ اللہ کے سوا کون تھا؟۔ نور الدین نے شریعت کی خود پابندی کی اور اپنے ساتھیوں کو بھی پابند بنایا۔ انہیں دیکھ کر دوسروں نے تقلید کی جس کی وجہ سے عوام میں اسلام پر عمل کرنیکا جذبہ پیدا ہوگیا اور لوگ خلاف شرع کاموں کے ذکر سے بھی شرمانے لگے۔

نور الدین صرف ایک فاتح نہیں تھے بلکہ ایک شفیق حکمران اور علم پرور بادشاہ بھی تھے۔ انہوں نے سلطنت میں مدرسوں اور ہسپتالوں کا جال بچھا دیا۔ ان کے انصاف کے قصے دور دور تک مشہور تھے۔ وہ بڑی زہد و قناعت والی زندگی گزار تے تھے، بیت المال کا روپیہ کبھی ذاتی خرچ میں نہیں لائے۔ مال غنیمت سے انہوں نے چند دکانیں خرید لیں تھیں جن کے کرائے سے وہ اپنا خرچ پورا کرتے تھے۔ انہوں نے اپنے لیے بڑے بڑے محل تعمیر نہیں کئے بلکہ بیت المال کا روپیہ مدرسوں، شفاخانوں اور مسافر خانوں کے قائم کرنے اور رفاہ عامہ کے دیگر کاموں میں صرف کرتے۔ دمشق میں اس نے ایک شاندار شفاخانہ قائم کیا تھا جس کی دنیا میں مثال نہ تھی۔ اس میں مریضوں کو دوا بھی مفت دی جاتی تھی اور کھانے کا، رہنے کا خرچ بھی حکومت کی طرف سے ادا کیا جاتا تھا۔ نور الدین نے تمام ناجائز ٹیکس بندکردیئے تھے۔ وہ مظلوموں کی شکایت خود سنتے اور اس کی تفتیش کرتے تھے۔ نور الدین کی ان خوبیوں اور کارناموں کی وجہ سے اس زمانے کے ایک  عظیم مورخ  اور مشہور محدث ابن اثیر نے لکھا ہے کہ:

 میں نے اسلامی عہد کے حکمرانوں سے لے کر اس وقت تک کے تمام بادشاہوں کی تاریخ کا مطالعہ کیا لیکن خلفائے راشدین اور عمر بن عبدالعزیز کے سوا نور الدین سے زیادہ بہتر فرمانروا میری نظر سے نہیں گزرا۔

اللہ تعالیٰ اہل حلب سمیت پوری امت مسلمہ کی تکالیف کو دور فرمائیں اور ہمیں نور الدین زنگی جیسے کامیاب حکمران نصیب فرمائیں۔ آمین ثم آمین

 ٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online