Bismillah

586

۲۴تا۳۰جمادی الثانی۱۴۳۸ھ       بمطابق  ۲۴تا۳۰مارچ۲۰۱۷ء

مال ایک بیماری اور اُس کا علاج (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 575 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Maal Aik Beemari aur Iska Ilaj

مال ایک بیماری اور اُس کا علاج

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 575)

دنیا میں بیماریاں تو بہت سی ہیں ۔ کچھ جان لیوا اور کچھ ایمان لیوا ۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہہ لیں کہ کچھ بیماریاں جسمانی ہیں اور کچھ بیماریاں روحانی ہیں ۔ جسمانی بیماریاں ‘ مثلاً نزلہ ‘ زکام ‘ بخار اور شوگر وغیر ہ تو ہمیں تکلیف اور درد میں مبتلا کر دیتی ہیں لیکن روحانی بیماریاں تو انسان کو بسا اوقات انسانیت سے ہی محروم کر دیتی ہیں اور اُس کو جہنم کا ایندھن بنا کر ہی چھوڑتی ہیں ۔

آج کل جسمانی بیماریوں سے اپنے آپ کو بچانے کا تو بہت اہتمام ہے ۔ میڈیکل سائنس بھی اب اتنی ترقی کر چکی ہے کہ ڈاکٹر صاحبان قصائی بن چکے ہیں اور ہسپتال مذبح خانے ۔ علاج کے بابرکت اور گھریلو طریقے چھوڑ دینے کی وجہ سے کئی لوگوں کے جسم تو پورے میڈیکل سٹور بن چکے ہوتے ہیں لیکن پھر بھی وہ اپنی صحت کیلئے مارے مارے پھرتے ہیں ۔

ابھی ہمارا موضوع جسمانی علاج کے لیے تجاویز دینا نہیں لیکن پھر بھی ایک حدیث پاک ‘اُن حضرات کے لیے جو اپنے علاج سے مایوس ہو چکے ہوں ‘ عرض کر دیتے ہیں تاکہ وہ اس پر بھی عمل کر کے نتائج اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں ‘ رحمت ِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے :

حصنوا اموالکم بالزکوٰۃ وداووامر ضا کم بالصدقۃ واعد وللبلاء الدعا ( مجمع الزوائد ۳؍ ۶۳)

’’ لوگو! اپنے مالوں کی حفاظت زکوٰۃ کے ذریعے کرو ۔ اپنے مریضوں کا علاج صدقات و خیرات کے ذریعے کرو ۔ آنے والی پریشانیوں کا مقابلہ دعائوں کے ذریعے کرو ‘‘۔

آج جس بیماری کے بارے میں عرض کرنا ہے ‘ وہ انتہائی خوفناک روحانی بیماری ہے اور رمضان المبارک اس کے علاج کاخاص موسم ہے ‘ جب کہ انفاق فی سبیل اللہ مہم اس سے جان چھڑانے کا بہترین موقع ہے۔ اللہ تعالیٰ کے راستے میں مال خرچ کرنے کا جہاں بے شمار اجرو ثواب ہے ‘ وہیں اس کا بہت بڑا فائدہ یہ بھی ہے کہ اس بیماری سے انسان کو شفا نصیب ہوتی ہے ۔

مال کی حرص و ہوس ‘ یہ وہ تباہ کن بیماری ہے جو انسان کو کہیں کا نہیں چھوڑتی ۔ جو اس میں مبتلا ہو جائے پھر اس کے پاس نماز کے لیے وقت ہوتا ہے نہ تلاوت کیلئے ۔ یہ مال پھر اس کو اس کی قبر کے بارے میں سوچنے دیتا ہے نہ دیگر ضروری امور کے بارے میں ۔ دنیا میں کئی لوگ ایسے ہیں جن کے پاس ضرورت سے زائد بے شمار مال موجود ہے لیکن وہ اس بیماری میں اس بری طرح مبتلا ہیں کہ اُن کی اولادیں ‘ اُن کی شکل دیکھنے اور اُن سے بات کرنے کیلئے ترستی ہیں ۔ بچپن میں ہم بے سرو پا کہانیوں میں پڑھتے تھے کہ جادو گر کی جان اُس کے طوطے میں ہوتی تھی ۔ اِدھر طوطے کی گردن شہزادے نے موڑی‘ اُدھر جادو گر کی روح پرواز کر گئی اور وہ مر گیا ۔ یہ تو یقینا جھوٹی اور من گھڑت باتیں ہیں لیکن یہ بالکل سچ ہے کہ ایسے مالداروں کی روح اُن کے مال میں ہوتی ہے اور جونہی کوئی مالی نقصان کی اطلاع اُن کو ملی فوراً ہی دل تھام کے بیٹھ گئے ۔

مال کے حرص و ہوس ایسی بیماری ہے کہ انسان اس کے ہاتھوں بسا اوقات اپنا ایمان بھی لٹا دیا کرتا ہے اور جب اس کا نشہ سر چڑھ کر بولتا ہے تو انسان کو ہر طرف بس یہی مال نظر آتا ہے ۔

ایک حدیث پاک میں ارشاد ہے :

ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال :بادروا بالا عمال الصالحۃ فتکون فتن کقطع اللیل المظلم یصبح الرجل مومنا و یمسی کافرا و یمسی مؤمنا و یصبح کافراً یبیع دینہ بعرض من الدنیا(صحیح مسلم ،کتاب الایمان۱۸۶ )

اس کا مفہوم یہ ہے کہ نیک عمل جلدی جلدی کرلو ‘ جتنا وقت مل رہا ہے ‘ اس کو غنیمت جانو ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ بڑے فتنے آنے والے ہیں ‘ ایسے فتنے جیسے اندھیری رات کے ٹکڑے ۔ صبح کو انسان مؤمن ہو گا اور شام کو کافر ہو جائے گا یعنی ایسے فتنے آنے والے ہیں جو انسان کے ایمان کو سلب کر لیں گے ‘ صبح کو مؤمن بیدار ہو ا تھا ‘ لیکن فتنے کا شکار ہو کر شام کے وقت کافر ہو گیا ‘ اور شام کو مؤمن تھا ‘ صبح کو کافر ہو گیا ‘ اور یہ کافر اس طرح ہو جائے گا کہ اپنے دین کو دنیا کے تھوڑے سے سازو سامان کے بدلے میں بیچ ڈالے گا ۔ صبح کو مؤمن اٹھا تھا اور جب کاروبار زندگی میں پہنچا تو فکر لگی ہوئی تھی دنیا جمع کرنے کی ‘ مال و دولت جمع کرنے کی ‘ اور اس دوران مال حاصل کرنے کا ایک ایسا موقع سامنے آیا جس کے ساتھ شرط یہ تھی کہ دین چھوڑو تو تمہیں دنیا مل جائے گی ۔ اب اس وقت دل میں کش مکش پیدا ہوئی کہ اپنے دین کو چھوڑ کر یہ مال حاصل کر لوں ‘ یا اس مال پر لات مار کر دین کو اختیار کر لوں ۔ لیکن چونکہ وہ شخص پہلے ہی مال کے حرص کی بیماری میں مبتلا تھا اس لیے اس نے مال کی خاطر اپنا دین و ایمان تک چھوڑ دیا اور ( نعوذ باللہ ) اس بات نے اس کو کافر بنا ڈالا ۔

ایسے مریضوں کی ایک مخصوص ذہنیت ہوتی ہے کہ ان کو صرف روپے پیسے کی باتوں میں ہی مزا آتا ہے ۔ اس کے علاوہ آپ جتنی بھی اہم ‘ ضروری اور نصیحت آموز بات کر لیں ‘وہ اُن کے سر کے اوپر سے گزر جائے گی ۔ فارسی زبان کے مشہور شاعر و ادیب اور عظیم مصلح حضرت شیخ سعدیؒ نے اپنی شہرہ آفاق کتاب ’’گلستان‘‘ میں ایسی ہی ایک بیمارکی دلچسپ داستان لکھی ہے … وہ فرماتے ہیں :

’’ میں نے ایک تاجر کو دیکھا جس کے پاس ڈیڑھ سو اونٹ سامان کے تھے اور چالیس غلام اور خدمت گار جو اس زمانہ میں بہت بڑا تاجر ہونے کی علامت تھی ۔ شیخ فرماتے ہیں کہ ایک رات وہ مجھے جزیرئہ کیش میں اپنے ایک چھوٹے سے کمرے میں لے گیا ۔ رات بھر وہ بہکی بہکی باتیں کرتا رہا ۔ نہ وہ خود سویا اور نہ ہی اس نے مجھے سونے دیا ۔ اس نے کہا میرا فلاں سامان ترکستان میں ہے اور فلاں مال ہندوستان میں ، اور یہ فلاں زمین کی دستاویز ہے ، اور فلاں چیز کا فلاں شخص ضامن ہے ۔ کبھی کہتا کہ میں اسکندریہ جانے کا ارادہ رکھتا ہوں کیونکہ وہاں کی آب و ہوا نہایت اچھی ہے ۔ پھر کہتا کہ نہیں کیونکہ دریائے مغرب میں طغیانی ہے ۔ پھر کہتا :’’ اے سعدی! ایک دوسرا سفر بھی درپیش ہے ۔ اگر وہ بھی کر لیا جائے تو باقی تمام عمر کے لیے گوشہ نشین اور خلوت گزین ہو جائوں گا اور پھر نہایت قناعت و سکون کے ساتھ اپنی زندگی کے باقی ماندہ دن گزار دوں گا ‘‘ ۔ میں نے تعجب سے پوچھا کہ وہ کون سا سفر ہے ؟ اس تاجر نے کہا کہ میں ایرانی گندہک چین لے جائوں گا کیونکہ مجھے پتہ چلا ہے کہ چین میں اس کا اچھا بھائو ہے اور وہاں سے چین کے پیالے روم لے جائوں گا ، روم کا ریشم ہندوستان اور ہندوستان کا لوہا حلب لے جائوں گا ۔ حلب سے آئینے یمن لے جائوں گا اور یمنی چادریں فارس لے جائوں گا ۔ بس پھر اس سفر کے بعد وطن میں ایک دوکان پر بیٹھ جائوں گا اور پھر کہیں کا کوئی سفر نہیں کروں گا ‘‘ ۔

شیخ سعدیؒ فرماتے ہیں کہ انصاف کی بات ہے کہ اس سودا گرنے یہ احمقانہ گفتگو اور پاگل پن کی باتیں اس قدر کیں کہ اس سے زیادہ کہنے کی اُس میں طاقت نہ رہی ۔ تاجر نے مجھ سے کہا :

’’سعدی !تم بھی کچھ کہو جو تم نے دیکھا یا سنا ہو ؟‘‘ سعدیؒ فرماتے ہیں :میں نے کہا :

آن شنید ستی کہ در صحرائے غور

بار سلارے بیفتا د ازستور

گفت چشم تنگ دنیا دار را

یا قناعت پر کند یا خاک گور

’’ تو نے سنا ہے کہ غور کے صحرا میں ایک سردار گھوڑے سے گر پڑا ، اور گرتے ہوئے اس نے کہا : دنیا دار کی تنگ آنکھ کو یا تو قناعت بھر سکتی ہے یا پھر قبر کی مٹی ‘‘۔

درحقیقت اس تاجر کی یہ داستان ایک حدیث پاک کی عملی تعبیر و تشریح ہے ‘ جس میں دولت ِ و دنیا کی حرص میں مبتلا شخص کی یہ سوچ بتائی گئی ہے کہ

لو کان لا بن آدم و ادیاً من ذھب احب ان یکون لہ وادیان ( صحیح بخاری ‘ الرقاق ۶۴۳۹)

’’ اگر ابن آدم کو ایک وادی سونے کی بھر کر مل جائے تو وہ یہ چاہے گا کہ دو وادیاں مل جائیں ‘‘۔(بخاری)

دیکھا جائے تو آج ہمارا حال بھی اسی تاجر جیسا ہو رہا ہے کہ لاکھ کے بعد دو لاکھ ‘ دو کے بعد چار اور چار کے بعد آٹھ کے چکر میں ہم نے سب کچھ بھلا رکھا ہے ۔ یہاں تک کہ ہم یہ بھی بھول گئے کہ ہمارا انجام ایک دن موت ہی ہے ۔ حضرت خواجہ عزیز الحسن مجذوبؒ نے کیا خوب ہماری غفلت کا نقشہ کھینچا ہے :

یہی تجھ کو دھن ہے رہوں سب سے بالا

ہو زینت نرالی ‘ ہو فیشن نرالا

جیا کرتا ہے کیا یوں ہی مرنے والا

تجھے حسن ظاہر نے دھوکے میں ڈالا

جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے

یہ عبرت کی جا ہے تماشہ نہیں ہے

یہ دنیائے فانی ہے محبوب تجھ کو

ہوئی واہ کیا چیز مرغوب تجھ کو

نہیں عقل اتنی بھی مجذوبؔتجھ کو

سمجھ لینا اب خوب چاہیے تجھ کو

جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے

یہ عبرت کی جا ہے تماشہ نہیں ہے

آج ہم دوسروں کو اپنے کندھوں  پر اٹھا کر قبرستان لے جاتے ہیں ایک روز ایسا آئے گا کہ ہم کفن میں لپٹے ہوئے دوسرے کا ندھوں پر سوار اسی طرح اس قبرستان میں آئیں گے ۔  ؎

و اذا حملت الیٰ القبور جنازۃ

فاعلم بانک بعد ھا محمول

اور پھر جیسا کہ حدیث میں آتا ہے کہ جب میت کو دفن کر کے لوگ واپس جاتے ہیں تو میت ان کے قدموں کی آواز سنتی ہے اور اس سے اس کی قبر سے پہلے کوئی ہم کلام نہیں ہوتا … قبر کہتی ہے :

’’ اے ابن آدم !کیا تونے میرے حالات نہ سنے تھے ؟ کیا تجھے میری تنگی ، بد بو ، ہولناکی اور کیڑوں سے نہ ڈرایا گیا تھا ؟۔ اگر ایسا تھا تو پھر تونے کیا تیاری کی ؟‘‘(شرح الصدور للسیوطی : ص ۱۶۶)

اللہ تعالیٰ ہم سب کو فکرِ آخرت عطا فرمائے ‘مال کے حرص و ہوس کی خوفناک بیماری اور اس کے برے نتائج سے محفوظ فرمائے (آمین ثم آمین)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online