Bismillah

614

۲۹محرم الحرام تا۵صفر۱۴۳۸ھ   بمطابق ۲۰تا۲۶اکتوبر۲۰۱۷ء

قرآن مجید کی حفاظت کریں! (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 589 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Quran Majeed ki Hifazat Karein

قرآن مجید کی حفاظت کریں!

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 589)

جدید دور کی ایجادات سے انسانوں کیلئے اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہیں کہ اُن کے ذریعہ انسان زیادہ مشقت اور محنت سے بچ جاتا ہے اور وہ کام جن میں پہلے گھنٹوں لگتے تھے ، اب وہ چٹکی بجانے کی دیر میں انجام پاتے ہیں ۔ انسان ہر شعبۂ زندگی میں ایسی سہولتوں سے استفادہ کر رہا ہے اور اپنے وقت اور محنت کی بچت کر رہا ہے ۔

یہ ایجادات اس کثرت سے ہو رہی ہیں کہ انسان اپنی آج کی زندگی کا موازانہ اگر آج سے صرف سو سال پہلے کی زندگی سے بھی کرے تو کھانے پکانے کے آلات سے لے کر آمدورفت کے ذرائع تک ہر چیز بدلی ہوئی ملے گی ۔ یہ حیرت انگیز ایجادات انسانی معاشرے کا خاصہ ہیں اور دنیا میں جب بھی جس قوم نے ترقی کی ، اس نے انسانیت کو ایسی ایجادات کا تحفہ دیا ہے ۔ جب مسلمانوں کا دورِ عروج تھا اور مشرق سے مغرب تک اسلامی حکومت کا پرچم لہراتا تھا ، تب مسلمان سائنس دانوں نے بھی اس انسانی فریضہ کی تکمیل کی اور ایسے حیرت انگیز نظریات دریافت کیے ، جن سے آج تک سائنس کی دنیا میں استفادہ کیا جا رہا ہے ۔ اس سے پتہ چلا کہ ان ایجادات کا کسی خاص مذہب یا معاشرے سے کوئی تعلق نہیں ، یہ انسان کی مشترکہ میراث ہے اور جو قوم بھی اس میدان میں محنت کرے گی ، وہ آگے نکل جائے گی ۔

تمہید کچھ طویل ہو گئی لیکن درحقیقت یہ بھی آج کل کے ایک عمومی مغالطے کا جواب ہے جو کچھ ناپختہ ذہن اہل قلم کو اُس وقت پیش آتا ہے ، جب وہ آج کل اپنی ہر سمت یورپین اقوام کی ایجادات پھیلے ہوئے دیکھتے ہیں تو وہ اس بات سے اُن لوگوں کے نظریات کی سچائی اور تہذیب و ثقافت کی برتری پر استدلال شروع کر دیتے ہیں۔ یہاں پہلے مرحلے میں وہ اپنی لا علمی کی وجہ سے یہ سمجھتے ہیں کہ مسلمانوں نے کوئی نئی اور مفید چیز ایجاد نہیں کی اور پھر اس بنیاد پر وہ اپنی تحریروں کے ذریعہ عام مسلمانوں کو ان کے سو فیصد صحیح نظریات کے بارے میں بھی احساسِ کمتری میں مبتلا کرنے کی کوشش کرتے ہیں

بہر حال ان ایجادات کے بارے میں اگر ہم غور کریں تو سب سے زیادہ تیزی سے پھیلنے والی چیز موبائل فون ہے ۔ پھر چند سالوں میں ہی اس کے سائز اور وزن میں تیزی سے تخفیف ہوئی ہے اور اس کا دائرہ کار بھی اب بہت وسیع ہو گیا ہے ۔ پہلے یہ صرف آپس میں بات کرنے کا ایک آلہ تھا ، پھر اس نے گھڑی اور الارم کی جگہ لے لی ۔ اب تو رفتہ رفتہ یہ سوشل میڈیا ، کیمرہ ، لائبریری اور نہ جانے کن کن چیزوں کا متبادل بنتا جا رہا ہے ۔

یہ موبائل فون سچ مچ دو دھاری تلوار کی طرح ہے  کچھ لوگ اس کو مفید کاموں میں ایسا استعمال کرتے ہیں کہ دیکھ کر رشک آتا ہے اور کچھ لوگ اس میں ایسے مصروف ہوتے ہیں کہ اپنی نظروں کی پاکیزگی ، دل کی صفائی ، ایمانی نور ، جسمانی صحت اور قیمتی وقت سب کچھ ہی برباد کر ڈالتے ہیں ۔

بہت سے باہمت حضرات اپنے موبائل فون میں قرآن مجید اور دعائوں کی کتابیں ڈائون لوڈ کر کے ان سے استفادہ کرتے رہتے ہیں ۔ جب اور جہاں اُنہیں وقت ملتا ہے ، وہ بآسانی تلاوت اور دیگر معمولات پورے کر لیتے ہیں ۔ یہ ایک اچھی اور خوش آئند بات ہے لیکن اس میں بھی ایک خاص احتیا ط درکار ہے ۔

انٹرنیٹ پر اس وقت جو مواد دستیاب ہے ، اُس میں انتہائی مستند مصاحف ، تراجم اور تفاسیر بھی ہیں اور ساتھ ہی بہت سے گمراہ لوگوں کے پیش کردہ نسخے بھی ۔ ایک عام مسلمان کیلئے یہ پتہ چلانا کہ میں جو اپلیکیشن ڈائون لوڈ کر رہا ہوں ، یہ حر ف بحرف صحیح ہے یا اس میں کسی بد عقیدہ شخص نے تحریف و ترمیم کر دی ہے ، بہت مشکل کام ہے ۔ اس کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بہت سے گمراہ لوگوں نے قرآن مجید کے تحریف و تبدیل شدہ نسخے بھی انٹرنیٹ پر ڈائون لوڈ کرنے کیلئے ڈال رکھے ہیں ۔

اب جو سادا دل مسلمان اُسے اپنے موبائل فون پر محفوظ کر کے برسوں تک اُس کی تلاوت کرتا رہے گا تو اُسے کبھی یہ احساس بھی نہیں ہو گا کہ میں کتنی بڑی اور سنگین غلطی کا ارتکاب کر رہا ہوں ۔

آپ اس گمراہی کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ ایپل فون کے سٹور پر ایک یہودی کی بنائی ہوئی اپلیکیشن برائے فروخت موجود ہے ، جس کا عنوان ’’القرآن‘‘ ہے اور اس کو تشکیل دینے والے کا نام A.S.Hلکھا ہوا ہے ۔ دھوکہ بازی کی انتہاء یہ ہے کہ اس ایپلی کیشن کے ٹائٹیل پر ’’ مجمع خادم الحرمین الشریفین الملک فھد لطباعۃ المصحف الشریف‘‘ کے شائع کردہ مشہور و معروف قرآن مجید کے نسخہ ’’ مصحف المدینۃ المنورۃ‘‘ کا حوالہ دیا گیا ہے۔

جب اس کا تفصیلی جائزہ لیا گیا تو پتہ چلا کہ اس میں جا بجا آیات ِ قرآنی میں کمی پیشی کی گئی ہے ۔ پارہ نمبر ۱۶کی’’ سورۂ طٰہٰ ‘‘ کی آیت نمبر ۱۴ کا ایک حصہ غائب ہے ۔ اسی طرح اسی سورت کی آیت نمبر ۲۷ سے آیت نمبر ۳۱ کے ایک حصے تک عبارت غائب ہے ۔

ایک اور ایپلی کیشن جو گزشتہ دنوں بہت مشہور ہوئی ’’quran360‘‘ اس میں دئیے گئے قرآن مجید کے متن میں زبر ، زیر ، پیش اور حروف کو آپس میں ملا دینے کی بے شمار غلطیاں نوٹ کی گئی ہیں ۔

ایک ایپلی کیشن جس کا عنوان ’’القرآن الکریم‘‘ ہے ، جب اُسے دیکھا گیا تو پتہ چلا کہ آیت الکرسی کے فوراً بعد سورۃ البقرہ کی پوری آیت نمبر ۲۵۶ غائب ہے ۔

رابطہ عالم اسلامی کے ذیلی ادارہ ’’ الھیئۃ العالمیۃ لتحفیظ القرآن الکریم‘‘ نے اہل ایمان کو ایسی گمراہ کن اور خطرناک ایپلی کیشن سے بچانے کیلئے مستند اور صحیح نسخوں پر مشتمل ایپلی کیشن کی نشاندہی بھی کی ہے ، جن میں سے چند یہ ہیں:

(۱)… مصحف المدینۃ المنورۃ

http://mushaf-services.

qurancomplex.sa

(۲)… جامعہ ملک سعود کا تیار کردہ ’’المصحف الالکترونی‘‘

(https://quran.ksu.edu.sa)

(۳)… قرآن فلیش کی ویب سائٹ

(www.quranflash.com)

قرآن مجید ہم سب کے ایمان کا حصہ ہے اور بلاشبہ ہر مسلمان یہ سمجھتا ہے کہ اس کی زندگی کا بہترین وقت وہ ہی ہے ، جو قرآن مجید کی تلاوت اور اس کی خدمت میں گزر جائے ۔ اللہ تعالیٰ نے خود اس پاک کلام کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے اور اسی کا نتیجہ یہ ہے کہ صدیاں بیت جانے کے باوجود اور دشمنانِ اسلام کی ہر طرح مذموم کوششوں کے باوجود بھی قرآن مجید آج بھی مکمل طور پر بغیر کسی تبدیلی کے محفوظ ہمارے سامنے موجود ہے اور ان شاء اللہ تعالیٰ قیامت تک یہ اسی طرح موجود رہے گا ۔

یہ قرآن مجید کی صداقت اور ابدیت کا ایسا پہلو ہے کہ جس سے متاثر ہو کر کئی منصف مزاج کافر مسلمان ہو چکے ہیں ۔ حال ہی میں کولمبیا کے سفر سے واپس آئے ہوئے ایک عالم دین نے مجھے یہ دلچسپ واقعہ سنایا کہ وہاں ایک مجلس میں ان کا واسطہ ایک عیسائی مبلغ سے پڑ گیا ، جو اپنے ہاتھ میں بائبل تھامے ہم سب کو عیسائیت قبول کرنے کی دعوت دینے لگا ۔ سامعین میں کافی سادہ مزاج لوگ بھی تھے جو اُس کی چکنی چپڑی باتوں سے متاثر ہو رہے تھے ۔ تب میں نے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگی اور آگے بڑھ کر اُس مبلغ سے پوچھا کہ آپ کے ہاتھ میں یہ کون سی کتاب ہے؟

اُس نے کہا کہ میرے ہاتھ میں مقدس کتاب بائبل ہے ۔ میں نے اُس سے پوچھا کہ کیا آپ کو یقین ہے کہ اس وقت آپ کے ہاتھ میں جو بائبل ہے ، یہ بالکل ویسی ہی ہے ، جیسی بائبل ایشیاء ، یورپ اور دنیا کے دوسرے ممالک میں ہے؟

تب وہ کچھ سوچنے لگا اور اُس نے کہا کہ نہیں ، ایسا تو نہیں ۔ ہر ملک اور علاقے کی بائبل میں کافی تبدیلیاں اور فرق موجود ہیں ۔ تاریخی اعتبار سے بھی بائبل میں وقتاً فوقتاً تبدیلیاں ہوتی رہی ہیں ۔

وہ عالم کہتے ہیں کہ پھر میں نے اپنے ہاتھ میں قرآن مجید اٹھایا اور اس عیسائی مبلغ کو اسلام کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے سامنے اس وقت ہمارے مذہب ، اسلام کی مقدس کتاب قرآن مجید ہے اور میں ’’ الحمد للّٰہ تعالیٰ ‘‘ پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ پوری دنیا میں قرآن مجید کے تمام مستند نسخے ایسے ہی ہیں اور نہ صرف یہ کہ اُن کا آپس میں کوئی فرق نہیں بلکہ آج سے کئی سو سال پہلے جو تفاسیر لکھی گئی ہیں اور اُن کے کئی نسخے یورپ اور امریکہ کے مختلف ممالک کی لائبریریوں میں موجود ہیں ، اُن کے متن اور اس قرآن مجید میں بھی کوئی بنیادی فرق نہیں ہے ۔

اس پر وہ عیسائی مبلغ حیرت زدہ رہ گیا اور بعد میں جب اُس نے میری بات کی مکمل تحقیق کر لی تو میری موجودگی میں ہی اسلام قبول کرنے کا اعلان کر دیا ۔

اللہ تعالیٰ نے جب قرآن مجید کی حفاظت کا اعلان فرمایا تو اس کا انتظام یہ نہیں فرمایا کہ قرآن مجید کے لکھے ہوئے نسخے آسمان سے نازل کیے ہوں اور فرشتے اُن نسخوں کے ارد گرد پہرہ دے رہے ہوں ۔ بلکہ اس کے بجائے اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں اور ہر علاقے میں ایسے خوش قسمت انسان پیدا فرمائے جنہوں نے اپنی زندگی سے بھی زیادہ قرآن مجید کی حفاظت کا فریضہ سر انجام دیا ، یقینا ایسے مخلص قرآن مجید کے خدام کا سلسلہ تو کبھی ختم نہیں ہو گا لیکن سعادت مند ہے وہ شخص جسے اس صف میں کہیں جگہ مل جائے ۔

اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ایسے ہی لوگوں میں شامل فرمائے (آمین ثم آمین)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online