Bismillah

606

۲۵ذیقعدہ تا۱ذی الحجہ۱۴۳۸ھ  بمطابق    ۱۸تا۲۴ اگست ۲۰۱۷ء

عشر … ایک اہم فریضہ (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 590 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Ushar aik aham Fariza

عشر … ایک اہم فریضہ

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 590)

اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ انسان اگر صرف اپنے سراپے کا جائزہ لے تو اُسے معلوم ہوگا کہ اُس کا رواں رواں انعامات الٰہی سے لبریز ہے اور پورا جسمِ انسانی رحمتِ خداوندی کا شاہکار ہے۔ پھر ان جسمانی صلاحیتوں کے علاوہ مال و دولت بھی، اگر حلال ذرائع سے حاصل کی جائے اور جائز مصارف میں خرچ کی جائے، تو یہ ایک بہت عظیم الشان نعمت ہے۔

یہ بھی اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اُس نے انسان کو ایک خاص مقدار اپنی راہ میں خرچ کرنے کا حکم دیا کیونکہ درحقیقت یہ مال جو راہ خدا میں خرچ کیا جارہا ہوتا ہے بظاہر کم ہوتا ہوا محسوس ہوتا ہے لیکن دنیا اور آخرت میں اس خرچ کرنے کے جو یقینی مفید نتائج ہیں، اور اِس عمل پر جو بے شمار اجر وثواب ہے اُن کو دیکھتے ہوئے انسان کا دل خود پکار اٹھتا ہے کہ بلاشبہ اللہ کی طرف سے ہمارے معمولی اور حقیر مال کو قبول کرلینا اور اُس کے بدلے ہمیں رحمتوں سے مالا مال کردینا، ہمارے لئے ایک بہت بڑی نعمت اور رحمت ہے۔

آج کل گندم کی کٹائی کے دن ہیں، چاروں طرف لہلہاتی فصلیں ایک عجیب وغریب دلربا منظر پیش کررہی ہیںگویا کسان کی محنت وصول ہونے اور امیدیںپوری ہونے کے دن آپہنچے ہیں ’’الرحمت ٹرسٹ‘‘ کے رضا کار بھی انہی دنوں اسی فریضے کی یاد دہانی لے کر آپ کے آئیں گے‘ اسی مناسبت سے ہم اس اہم دینی فریضے کے اہم مسائل آسان ترتیب سے پیش کرتے ہیں تاکہ ہمارے زمیندار اور کسان بھائی ان پر عمل کرتے ہوئے اپنی زمینوں کی پیداوار کو پاک حلال بنالیں۔

٭ عشر ایک اسلامی فریضہ ہے۔ چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد ِ باری تعالیٰ ہے:

یاایھاا لذین امنوا انفقوا من طیبٰت ماکسبتم ومما اخرجنا لکم من الارض۔

(البقرۃ: ۲۶۷)

’’اے ایمان والو! اپنی پاکیزہ کمائی میں سے اور زمین میں سے جو چیزیں ہم نے تمہارے لئے نکالیں ہیں ، خرچ کرو۔‘‘

اس آیت میں چونکہ اہل ایمان کو حکم دیا گیا ہے اس لئے بالاتفاق عشر صرف مسلمانوں پر ہی لازم ہوتا ہے۔ اسلامی ریاست کے غیر مسلم شہری سے ’’خراج‘‘ تو وصول کیا جاتا ہے جو ایک ٹیکس ہے لیکن وہ عشر ادا کرنے کی اہلیت سے محروم ہے کیونکہ عشر ایک عبادت ہے اور صحیح عبادت صرف مسلمان ہی ادا کر سکتا ہے۔

٭ عشر انسان کے ذمہ ایک اہم ترین حق ہے جس کی ادائیگی ضروری ہے، چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

وھو الذی انشأ جنت معروشت وغیر معروشت والنخل والزرع مختلفا اکلہ والزیتون والرمان متشابہا وغیر متشابہط کلوامن ثمرہٖ اذا اثمر وا توا حقہ یوم حصادہ ولا تسرفوا۔(الانعام: ۱۴۱)

’’اور وہی ذات ہے جس نے وہ باغ پیدا کئے ہیں جو چھتوں پر چڑھائے جاتے ہیں(جیسے انگور کی بیل) اور جو نہیں چڑھائے جاتے(جیسے خربوزہ کی بیل) اور کھجور کے درخت اور کھیتی جن کے پھل مختلف ہیں اور زیتون اور انار پیدا کئے جو ایک دوسرے سے ملتے جلتے بھی ہیں اور جدا جدا بھی ہیں۔ ان کے پھل کھائو جب وہ پھل لائیں اور جس دن (اس کھیتی وغیرہ کو) کاٹو، اُس کا حق ادا کرو اور بے جا خرچ نہ کرو۔‘‘

٭ عشر زمین کی زکوٰۃ ہے جیسے سونے چاندی، مال تجارت، مویشی وغیرہ پر زکوٰۃ فرض ہے جس طرح سونے چاندی اور مال تجارت پر چالیسواں حصہ بطور زکوٰۃ نکالنا فرض ہے اور مویشی کا الگ قانون ہے اسی طرح عشر کا قانون ان سب سے مختلف ہے بعض صورتوں میں پیداوار کا عشر یعنی دسواں حصہ واجب ہوتا ہے بعض میں نصف عشر یعنی بیسواں حصہ مگر ان دونوں کو فقہاء کی زبان میں بغرض سہولت عشر ہی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

٭ عشر واجب ہونے کی پہلی شرط مسلمان ہونا ہے کیونکہ عشر میں ایک حیثیت عبادت کی بھی ہے اور کافر عبادت کا اہل نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کسی مسلمان کی عشری زمین کو کوئی کافر خریدے تو اس زمین پر بجائے عشر کے خراج عائد کردیا جاتا ہے کیونکہ عشر ایک اسلامی عبادت ہے، کافر اس کا اہل نہیں۔

٭ دوسری شرط زمین کا عشری ہونا ہے۔ خراجی زمین پر عشر واجب نہیں ہوتا کیونکہ حدیث میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک زمین پر دو وظیفے عشر اور خراج کے جمع نہیں ہو سکتے۔(بدائع وغیرہ)

٭ تیسری شرط زمین سے پیداوار کا حاصل ہونا ہے اگر کسی وجہ سے پیداوار نہ ہو خواہ کسی نامعلوم سبب سے یا اس کی کوتاہی اور غفلت سے کہ زراعت ہی نہیں کی یا اس کی خبر گیری اور حفاظت نہیں کی بہر صورت عشر ساقط ہو جائے گا۔(بدائع)

٭ چوتھی شرط یہ ہے کہ پیداوار کوئی ایسی چیز ہو جس کو اگانے اور پیدا کرنے کا رواج ہو اور عادۃً اس کی کاشت کرکے نفع اٹھایا جاتا ہو۔ خودرو گھاس یا بیکار قسم کے خودرو درخت اگر کسی زمین میں ہو جائیں تو ان میں عشر نہیں۔ گھاس اور بانس کو اگر آمدنی کی غرض سے اگایا گیا ہو تو ان میں بھی عشر ہے اور ویسے ہی خود بخود کوئی درخت اُگ گیا ہے تو نہیں۔(بدائع)

٭ عام احکام شرعیہ میں عاقل اور بالغ ہونا بھی شرط ہوتا ہے مگر زمین پر عشر کے وجوب میں یہ دونوں شرطیں نہیں زمین کا مالک اگربچہ یا مجنون ہو مگر زمین سے پیداوار حاصل ہوتی ہے تو اس میں عشر واجب ہوگا۔ ان دونوں کے اولیاء پر اس کا ادا کرنا فرض ہوگا۔ بخلاف زکوٰۃ کے کہ وہ بچہ اور مجنون کے مال میں واجب نہیں ہوتی۔(بدائع)

٭ اسی طرح ملکیت زمین بھی وجوب عشر کے لئے شرط نہیں اس لئے اراضی وقف جن کا کوئی مالک نہیں ہوتا ان پر بھی عشر لازم ہے۔ نیز جس شخص کی زمین اپنی نہیں کسی سے بطور رعایت کے لے لی ہے یا اجارہ اور کرایہ پر لے لی ہے اور اس میں زراعت کرتا ہے تو پیداوار کا عشر اسی شخص کے ذمہ ہے جو پیداوار حاصل کرتا ہے، مالک زمین کے ذمہ نہیں۔

٭ مسئلہ…اس سے معلوم ہو اکہ اگر کسی شخص نے اپنی زمین کو نقد روپیہ کے عوض کرایہ یامقاطعہ پر دے دیا اور کرایہ بہت زیادہ مقرر نہیں کیا گیا تو اس کی پیداوار کا عشر (بقول مفتی )بہ مالک زمین کے ذمہ نہیں بلکہ مقاطعہ دار کے ذمہ ہے جو زمین میں کاشت کرکے پیداوار حاصل کرتاہے۔

٭مسئلہ… اگر زمین دوسرے شخص کو مزارعت یعنی بٹائی پر دی ہے کہ پیداوار میں ایک معین حصہ مالک زمین کا اور دوسرا معین حصہ کاشتکار کا مثلاً دونوں نصفانصف ہو یا ایک تہائی ہو اور دو تہائی ہو اس صورت میں عشر دونوں پر اپنے اپنے حصہ پیداوار کے مطابق لازم ہوگا۔(بدائع)

٭ مسئلہ… اگر کسی شخص نے کوئی زمین تجارت کی نیت سے خریدی اور اس زمین میںکاشت کررہا ہے تو اس کی پیداوار پر عشر واجب ہوگا زکوٰۃ تجارت واجب نہیں ہوگی کیونکہ زمین کی اصل زکوٰۃ عشر ہے نیت تجارت کی وجہ سے اس پر دوسری زکوٰۃ لازم نہیں آئے گی جیسے مویشی اگرتجارت کی نیت سے پالے ہوں تب بھی ان کی زکوٰۃ وہی رہے گی جو مویشی کے لئے مقرر ہے تجارتی زکوٰۃ عائدنہیں ہوگی۔

(بدائع الصنائع )

٭ عشر کا ضابطہ شرعی امام اعظم ابو حنیفہؒ کے نزدیک یہ ہے کہ پیداوار کم ہو یا زیادہ ہر حال میں اس کا عشر نکالنا واجب ہے اس کے لئے زکوٰۃ کی طرح کوئی خاص نصاب نہیں جس سے کم ہونے پر عشر ساقط ہوجائے۔

٭ لفظ عشر کے معنی یہ ہیں دسواں حصہ لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقدار واجب میں یہ تفصیل بیان فرمائی ہے:

’’جو زمین آسمانی پانی سے سیراب ہو اس میں عشر ہے اور جس کو بڑے ڈول یا ہرٹ وغیرہ کے ذریعہ سیراب کیا جائے اس میں نصف عشر یعنی بیسواں حصہ ہے۔‘‘

اس سے معلوم ہوا کہ جس زمین کی آب پاشی پر کچھ محنت یا خرچ کرنا پڑتا ہے جیسے چاہی زمینوں میں یا نہری زمینوں میں جن کے پانی کی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے تو ان میں پیداوار کابیسواں حصہ ادا کرنا واجب ہوتا ہے۔

اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اصطلاح میںعام طور پر جس کو عشر(دسواں حصہ) کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے اس کے ضمن میںنصف عشر (بیسواں حصہ) بھی داخل ہے۔

٭ مسئلہ… اگر کسی زمین کی آب پاشی کچھ بارش سے کچھ کنویں وغیرہ سے ہو تو اس میں اکثر کا اعتبار کیا جائے گا کہ زیادہ آب پاشی بارانی ہے تو عشر واجب ہوا اور اگر کنویں یا نہر یا تالاب وغیرہ سے سیراب کرنا زیادہ ہے تو نصف عشر واجب ہوگا۔

٭ مسئلہ جس زمین کی آبپاشی بارش اور کنوئیں یا نہر وغیرہ دونوں طریقوں سے برابر برابر ہو تو اس میں آدھی پیداوار کا عشر واجب ہوگا۔ آدھی کا نصف عشر۔

٭ مسئلہ… عشر یا  نصف عشر پوری پیداوار میں سے نکالا جائے۔ بونے کاٹنے اور حفاظت کرنے کے اور بیلوں اور مزدوروں وغیرہ کے جو اخراجات ہیں وہ ادائے عشر کے بعد نکالے جائیں۔ اگر اخراجات بہت زیادہ ہوں تو بعض علماء کے نزدیک اس میں گنجائش ہے ، جسے زبانی طور پر معلوم کر لینا چاہیے ۔

یاد رکھیں! جس مال میں سے اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کا ح ادا کر دیا جائے ، اُس کی برکات نسلوں تک باقی رہتی ہے اور جو مال اللہ تعالیٰ کے حقوق اور بندوں کے حقوق سے آلودہ ہو ، وہ بظاہر بہت زیادہ ہو کر بھی بے برکت اور بے فائدہ رہتا ہے ۔ مؤرخین نے اس بارے میں یہ عجیب سبق آموز واقعہ لکھا ہے:

جس دن خلیفہ منصور کی بیعت کی گئی اسی دن مقاتل بن سلیمان ان کے پاس اائے تو منصور نے کہا : اے مقاتل مجھے نصیحت کیجئے ! مقاتل نے کہا: جو کچھ میں نے سنا ہے اس کے ذریعے تمہیں تمہیں نصیحت کروں یا جو کچھ میں نے دیکھا ہے اس کے ذریعے؟

خلیفہ منصور نے کہا : جو کچھ تم نے دیکھا ہے سلیمان نے کہا : اے امیر المومنین عمر بن عبدالعزیز ؒکے 11بچے تھے جب عمر ؒکا انتقال ہوا ان کا کل ترکہ 18دینار تھے ، 5دینار میں ان کے لیے کفن اور 4دینار میں قبر خریدی گئی ، باقی 9دینار کو 11بچوں میں تقسیم کیا گیا ۔

 ہشام بن عبدالمالک کے بھی 11بچے تھے جب ان کا انتقال ہوا تو ان کے ترکہ میں سے ہر بچے کو ایک ملین دینار ملے ۔ اللہ کی قسم… اے امیر المومنین ایک دن میں نے دیکھا کہ عمر بن عبدالعزیزؒ کا ایک بیٹا 100گھوڑے لا کر اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے صدقہ کر رہا ہے اور ہشام کا ایک بیٹا بازار میں بھیک مانگ رہا ہے ۔

مرض الموت میں لوگوں نے عمر بن عبدالعزیزؒ سے پوچھا کہ : عمر اپنے بیٹوں کے لیے کیا چھوڑا ہے ؟

کہا … تقوی، اگر یہ صالح ہیں تو اللہ صالحین کا نگہبان ہے ، اگر یہ صالحین میں سے نہیں تو میں ان کے لیے کچھ چھوڑ کر گناہ میں ان کا معاون نہیں بننا چاہتا ۔

٭ عشر کے مصارف وہی ہیں جو زکوٰۃ کے ہیں اور جس طرح ادائے زکوٰۃ کیلئے یہ ضروری ہے کہ کسی مستحق زکوٰۃ کوبغیر کسی معاوضہ خدمت وغیرہ کے مالکانہ طور پر دے کر قبضہ کرادیا جائے اسی طرح عشر کی ادائیگی کا بھی یہی طریقہ ہے۔

٭ جب اوپر معلوم ہوگیا کہ عشر زمین زکوٰۃ  کی طرح ایک مالی عبادت ہے اور اس کا مصرف بھی وہی ہے جو زکوٰۃ کا مصرف ہے تو اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ کوئی حکومت خواہ وہ مسلم ہو یا غیر مسلم اگر زمینداروں یا کاشتکاروں سے کوئی سرکاری ٹیکس وصول کرتی ہے تو اس ٹیکس کی ادائیگی سے عشر ادا نہ ہوگا بلکہ مسلم مالکان کے ذمہ واجب ہوگا کہ وہ بطور خود عشر نکالیں اور اس کے مصرف پر خرچ کریں۔(مزید تفصیلات کیلئے جواہر الفقہ جلد دوم از حضرت مفتی محمد شفیع   ؒ کا مطالعہ فرمائیں)

اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کے جان ، مال اور اولاد میں برکت عطا فرمائے (آمین)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online