Bismillah

606

۲۵ذیقعدہ تا۱ذی الحجہ۱۴۳۸ھ  بمطابق    ۱۸تا۲۴ اگست ۲۰۱۷ء

اسوئہ صدیقی اور ہمارا فرض (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 591 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Uswa siddiqi aur Hamara Farz

اسوئہ صدیقی اور ہمارا فرض

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 591)

آج کا مسلمان عجیب اضطراب کا شکار ہے ۔

ایک طرف وہ قرآن مجید کھولتا ہے تو سینکڑوں آیات ِ مبارکہ میں اُس کو فریضۂ جہاد فی سبیل اللہ کا واضح تذکرہ ملتا ہے ۔

کہیں جہاد کرنے پر اجر و ثواب کا بیان ہے تو کہیں جہاد نہ کرنے پر خوفناک وعیدوں کا تذکرہ ۔

کہیں مجاہدین کے مقام و مرتبے کا ذکر ہے تو کہیں شہداء کو ملنے والے انعامات کا بیان ۔

کہیں گزشتہ انبیاء علیہم السلام کے جہادی واقعات کے تذکرے ہیں تو کہیں خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوات کا مفصل بیان۔

کہیں جہاد کے اسباب و علل کا ذکر ہے تو کہیں جہاد کے مقاصد اور اہداف کا بیان ۔

وہ قرآن مجید کی تلاوت کرتا ہے تو پورے پورے رکوع ہی نہیں ، مکمل سورتیں اُسے جہاد کے موضوع پر نظر آتی ہیں ۔

اب اُسے یقین ہو جاتا ہے کہ واقعی جہادفی سبیل اللہ قرآنی حکم ہے اور اس کے مانے بغیر قرآن مجید پر ایمان مکمل ہو ہی نہیں سکتا ۔

پھر جب وہ اپنے پیغمبر رحمت دو عالم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کو پڑھتا ہے تو اس کا یقین مزید مستحکم ہونے لگتا ہے ۔

وہ بدر کا واقعہ پڑھتا ہے تو اُس کا دل ایمانی جذبات سے لبریز ہو جاتا ہے ۔

وہ اپنے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو احد پہاڑ کے دامن میں لہو لہان حالت میں دیکھتا ہے تو وہ سمجھ لیتا ہے کہ ظاہری فتح ہو یا شکست ، مسلمان کیلئے اپنے نظریات بدلنے کی گنجائش نہیں ہے ۔

جب وہ ہادیٔ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو سیرت کے اوراق میں ، کئی دن کے فاقے سے پیٹ پر پتھر باندھے ، گہری خندق خود کھودتے ہوئے دیکھتا ہے تو وہ اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ اسلام اپنی بقاء اور تحفظ کیلئے قربانی مانگتا ہے ۔ جب وہ نبی ٔاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قریظہ کے یہودیوں کے بارے میں ،  تورات کے مطابق یہ حکم جاری کرتے ہوئے دیکھتا ہے کہ ان شر پسندوں کے سر تن سے جدا کر دئیے جائیں ، تب وہ جان لیتا ہے کہ بد فطرت لوگوں کا قلع قمع کیے بغیر اسلام کی سر بلندی کا خواب دیکھنا محض خام خیالی ہے ۔

اسی طرح وہ غزوئہ خیبر ، غزوئہ حنین اور غزوئہ تبوک جیسے واقعات پڑھتا ہے تو اس کا دل بلا اختیار پکاراٹھتا ہے:

جب بھی سپاہیوں سے پیمبرؐ کا پوچھئے

خندق کا ذکر کیجئے ، خیبر کو پوچھئے

بدر و احد کے قائدِ لشکر کو پوچھئے

یا غزوئہ تبوک کے سرور کو پوچھئے

ہم کو حنین و مکہ و موتہ بھی یاد ہیں

ہم امتیٔ بانیٔؐ رسمِ جہاد ہیں

رسمِ جہاد، حق کی اقامت کے واسطے

کمزور و ناتواں کی حمایت کے واسطے

انصاف ، امن اور عدالت کے واسطے

خیر الممات مرگِ شہادت کے واسطے

لڑتے ہیں جس کے شوق میں ہم جھوم جھوم کر

پیتے ہیں جامِ مرگ کو بھی چوم چوم کر

لاکھوں درود ایسے پیمبرؐ کے نام پر

جو حرف ’’ لا تَخَف ‘‘ سے بناتا ہو نڈر

ہم کو یقین ہے کبھی مرتے نہیں ہم

اور اس لیے کسی سے بھی ڈرتے نہیں ہم

توپ و تفنگ و دشنہ و خنجر ، صلیب و دار

ڈرتے نہیں کسی سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جانثار

ماں ہے ہماری ام عمارہؓ سی ذی وقار

ہم ہیں ابو دجانہؓ و طلحہؓ کی یادگار

جب سپاہیوں سے پیمبرؐ کاپوچھئے

خندق کا ذکر کیجئے ، خیبر کو پوچھئے

قرآن مجید کی آیات ِ مبارکہ اور سیرت طیبہ کے واقعات کے بعد جب ایک مسلمان کی نظر ذخیرئہ احادیث پر پڑتی ہے تو وہ ششدر رہ جاتا ہے کہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم سمیت کوئی معتبر اور مستند حدیث کی جامع کتاب ایسی نہیں ہے جس میں جہاد کے مختلف گوشوں کے بارے میں فرامینِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ موجود نہ ہو ۔

یہ سب کچھ سننے اور پڑھنے کے بعد جب وہ اس امت کے خیر القرون یعنی بہترین زمانے پر نظر ڈالتا ہے تو اُسے صحابہ کرامؓ کبھی یرموک میں اور کبھی قادسیہ میں دادِ شجاعت دیتے نظر آتے ہیں ۔ تابعین اور تبع تابعین بھی اللہ کے دین کی سربلندی کیلئے مسلسل معرکہ آرائیوں میں مصروف دکھائی دیتے ہیں ۔وہ جب تاریخ اسلام کی کتابوں کا مطالعہ کرتا ہے تو خالد بن ولیدؓ ، ابو عبیدہ بن جراحؓ ، موسی بن نصیر ؒ، قتیبہ بن مسلمؒ ، محمد بن قاسمؓ، نور الدین زنگیؒ، صلاح الدین ایوبی ؒ، شہاب الدین غوری ؒاور محمود غزنوی ؒ جیسے اسلام کے جرنیلوں کے قابل احترام نام نظر آتے ہیں ۔

اب تو اُسے اس بات میں کوئی شک نہیں رہتا کہ جہاد ہی عزت و شوکت کا راستہ ہے اور اسلام کی سربلندی اور مسلمانوں کا تحفظ جہاد کے ذریعے ہی ممکن ہے ۔

ان خیالات و نظریات کے بعد آج کا مسلمان جب کچھ دانشوروں اور مغرب کے ذہنی غلاموں کی باتیں سنتا ہے تو اس پر انکشاف ہوتا ہے کہ جہاد بمعنیٰ قتال فی سبیل اللہ تو (نعوذ باللہ) امن پسندی کے خلاف ہے ، جہاد سے تو (العیاذ باللہ) اسلام اور مسلمان بد نام ہوتے ہیں اور جہاد تو (معاذ اللہ) دہشت گرد پیدا کرتا ہے وغیرہ وغیرہ ۔ ساتھ ہی اُس کے سامنے کچھ ایسے لوگ بھی آتے ہیں

 جنہوں نے جہاد کے نام پر مسلمانوں کو ہی قتل کیا ہوتا ہے ، مسلم ممالک میں ہی فساد پھیلایا ہوتا ہے اور ایسی سنگین غلطیاں کی ہوتی ہیں جن کا خمیازہ تمام اہل اسلام کو بھگتنا پڑتا ہے ۔ پھر اُسے اسلامی ممالک کے وہ ’’انتہاء پسند‘‘ حکمران بھی نظر آتے ہیں جو کفار کی خوشنودی کیلئے اپنوں پر ظلم و ستم کا بازار گرم رکھتے ہیں ، جو مسلمانوں کے قتل عام پر توٹس سے مس نہیں ہوتے لیکن غیروں کا کتا بھی مر جائے تو ان کے مذمتی بیانات ختم نہیں ہوتے اور ان کے نزدیک کفریہ طاقتیں جتنی چاہیں انسانیت سوز حرکتیں کر لیں ،اصل مجرم صرف اور صرف جہاد کے نام لیوا ہوتے ہیں ۔

یہ سب کچھ دیکھ کر وہ ایسے اضطراب کا شکار ہو جاتا ہے جسے آپ ’’جائے ماندن نہ پائے رفتن‘‘ سے تعبیر کر سکتے ہیں ۔ آیات ِ جہاد اور احکامِ قتال اُس سے کچھ کر گزرنے کا مطالبہ کرتے ہیں،جب کہ وساوس و شبہات کی یلغار اُس کے پائوں جکڑ لیتی ہے ۔

ایسی صورت حال میں اضطراب سے نکلنے کا راستہ کیا ہے؟ اندھیروں میں امید کا چراغ کہاں سے روشن ہو گا ؟ اور شکوک و شبہات کے بجائے عزم و یقین کی دولت سے مالا مال کیسے ہوا جا سکتا ہے ۔

سیدنا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بتاتے ہیں کہ رحمت ِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

’’ ستکون فتنۃ ‘‘

( عنقریب بڑا فتنہ آنے والا ہے)

میں نے پوچھا :

’’ اے اللہ کے رسول! اُس سے نکلنے اور بچنے کا راستہ کیا ہو گا؟‘‘

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

’’ کتاب اللّٰہ ‘‘

(اللہ تعالیٰ کی کتاب)

یعنی فتنوں کی یلغار کے دور میں … وساوس اور شبہات کی یلغارمیں اور گمراہیوں کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں … روشنی کا مینارہ … عزم و یقین کی منزل … اور کامیابی کی ضمانت صرف کتاب اللہ ہی ہے۔

ایسے حالات میں جب جہاد اور فساد باہم مشتبہ ہو رہے ہوں ، جب انکارِ جہاد کا فتنہ پورے جوبن پر ہو اور جب شرعی جہاد کو ایک جرم بنا کر پیش کیا جا رہا ہو، تب علمائِ امت کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ قرآن مجید کو تھامیں اور امت کو بتائیں کہ …

جہاد اللہ تعالیٰ کا حکم ہے ، فساد نہیں ۔

جہاد رحمت ِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے ، دہشت گردی نہیں ۔

جہاد مظلوم مسلمانوں کی حمایت میں ظالم کفار کے خلاف کیا جاتا ہے ، اپنوں کے خلاف نہیں ۔

جہاد مسلم ممالک کو کفریہ طاقتوں سے آزاد کروانے کیلئے کیا جاتا ہے ، مسلم ممالک کو مزید ویران کرنے کیلئے نہیں ۔

جہاد اسلامی شعائر کی حفاظت و تحفظ کیلئے کیا جاتا ہے ، انہیں تباہ و برباد کرنے کیلئے نہیں ۔

جب کسی علاقے میں جعلی ڈاکٹروں کی بھرمار ہو جائے اور اتائی حکیم لوگوں کی زندگیوں سے کھیلنے لگ جائیں تو اس کا حل یہ ہرگز نہیں کہ ماہر اور قابل ڈاکٹر اور حکیم چپ سادھ لیں اور عام لوگ ہر قسم کے صحیح علاج کا بھی انکار کر بیٹھیں ۔ اگر ایسا کیا گیا تو سب انسانوں کا مقدر سوائے موت کے اور کچھ نہیں ہو گا ۔ ایسے وقت میں تو اس بات کی ضرورت زیادہ بڑھ جائے گی کہ لوگوں کو اصل اور جعلی معالج کی پہچان کروائی جائے ۔ انہیں صحیح اور غلط کا فرق سمجھایا جائے اور انہیں اچھے اور برے کی علامات بتائی جائیں ۔ ماہر اور مستند ڈاکٹر اور حکیم اپنی محنت کو بڑھا دیں اور گلی گلی ، کوچہ کوچہ میں عوام کو علاج کی آسان اور سستی سہولیات فراہم کریں ۔ اسی میں سب کیلئے خیر اور بھلائی ہے

اسی طرح اگرجہاد کا نام غلط استعمال کر کے جذباتی نوجوانوں کو غلط استعمال کیا گیا ہے تو اس کا حل یہ نہیں کہ قرآن مجید کی پانچ سو سے زائد آیاتِ جہاد کوچھپانے کی کوشش کی جائے ، رحمت للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے ستائیس غزوات کو بیان کرنا چھوڑ دیا جائے اور امت مسلمہ کے نوجوانوں کو شرعی جہاد سے بھی آگاہ نہ کیا جائے ۔ اگر خدانخواستہ ایسا کیا گیا تو پھر سب اسلامی ممالک ، کفریہ طاقتوں کیلئے لقمۂ تر ثابت ہوں گے ‘ کیونکہ جنگیں جذبات سے لڑی جاتیں ہیں تنخواہوں سے نہیں ۔

سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے صرف حکمِ زکوٰۃ سے پیچھے ہٹنے والوں سے قتال کا حکم دیتے ہوئے فرمایا تھا :

اینقص الدین و انا حیّ؟

(کیا میرے جیتے جی دین میں کمی کر دی جائے گی ؟)

پھر دنیا نے دیکھا کہ زکوٰۃ کا حکم قیامت تک محفوظ ہو گیا ۔ اسوئہ صدیقی کا یہ عمل ہی ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے ۔

جہاد کے خلاف موجودہ روشن خیالوں کے پھیلائے ہوئے وساوس کے کاٹھ کباڑ کو تو اقبال مرحوم نے انگریز کے دورِ حکومت میں ہی بڑی خوبی سے آگ لگائی تھی ۔ وہ کہتے ہیں:

تعلیم اُس کو چاہیے ترکِ جہاد کی

دنیا کو جس کے پنجۂ خونیں سے ہو خطر

باطل کے فال و فر کی حفاظت کے واسطے

یورپ زرہ میں ڈوب گیا دوش تا کمر

ہم پوچھتے ہیں شیخ کلیسا نواز سے

مشرق میں جنگ شر ہے

تو مغرب میں بھی ہے شر

حق سے اگر غرض ہے تو زیبا ہے کیا یہ بات

اسلام کا محاسبہ ، یورپ سے درگزر

اور اکبر الہ آبادی مرحوم نے جہاد کی مخالفت کرنے والوں کو اپنے مخصوص طنزیہ انداز میں کہا تھا :

یہی فرماتے رہے تیغ سے پھیلا اسلام

یہ نہ ارشاد ہوا توپ سے کیا پھیلا ہے؟

دورئہ تفسیر آیات ِ جہاد ، آج کے دور میں اسی فریضے کی تکمیل ہے کہ ملت اسلامیہ کے مضطرب اور شبہات میں گھرے ہوئے جوان کو حقیقی اور شرعی جہاد کا راستہ دکھایا جائے ۔ اللہ تعالیٰ ان کاوشوں کو قبول فرما کر مزید کامیابیوں سے ہمکنار فرمائے ۔ (آمین ثم آمین)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online