Bismillah

599

۲۷رمضان المبارک تا۳شوال المکرم ۱۴۳۸ھ        بمطابق      ۲۳تا۲۹جون۲۰۱۷ء

ایک یاد دہانی (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 592 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Aik Yaad Dihani

 ایک یاد دہانی

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 592)

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وذکر فان الذکری تنفع المؤمنین

( اور نصیحت کرتے رہیں کہ نصیحت ، ایمان لانے والوں کو فائدہ دیتی ہے)(الذاریات )

نصیحت کا سب سے پہلا فائدہ خود لکھنے اور کہنے والے کو ہوتا ہے کہ اُسے با آسانی عمل کی توفیق مل جاتی ہے ۔ وہ جب یہ سوچتا ہے کہ میں دوسروں کو کیا کہہ رہا ہوں اور خود میرا عمل کیا ہے تو دل میں خود ہی احساس ندامت پیدا ہوتا ہے اور اصلاح احوال کی صورت پیدا ہو جاتی ہے ۔

پھر انسان فطرتاً بھی ایسا کمزور واقع ہوا ہے کہ جب تک اُس کے سامنے کوئی بات بار بار سلیقے سے دہرائی جاتی رہے تو اسے یاد رہتی ہے اور اگر کسی کام کا بالکل تذکرہ ہی چھوڑ دیا جائے تو اُس کے بھولنے میں دیر نہیں لگتی ۔ عربی میں کہتے ہیں:

’’ اذا تکررتقرر‘‘

( جب کوئی بات بار بار کہی جائے تو وہ دل میں بیٹھ جاتی ہے)

ہم میں سے ہر شخص خوب جانتا ہے کہ نماز کا فریضہ کتنی اہمیت اور عظمت کا حامل ہے اور اسلام میں اس کا کیا مقام و مرتبہ ہے لیکن چونکہ آج کل ہماری دنیاوی مصروفیات ، جن میں بہت سی لغویات اتنی بڑھ چکی ہیں کہ سب کچھ جاننے کے باوجود بھی عملی اعتبار سے ہم نماز کے ساتھ غفلت اور سستی کا معاملہ کرتے ہیں ۔

اسی غفلت کو دور کرنے اور اپنی سستی کو چستی سے بدلنے کی نیت سے پہلے ہم چند احادیث مبارکہ پڑھتے ہیں :

گناہ جھڑتے ہیں:

مسلمان بندہ جب اخلاص سے اللہ کے لئے نماز پڑھتا ہے تو اس سے اس کے گناہ ایسے ہی جھڑتے ہیں جیسے یہ پتے درخت سے گر رہے ہیں۔ (مسند احمد)

روزانہ پانچ مرتبہ غسل:

پانچوں نمازوں کی مثال ایسی ہے کہ کسی کے دروازے پر ایک نہر ہو جس کا پانی جاری ہو اور بہت گہرا ہو۔ اس میں روزانہ پانچ دفعہ غسل کرے۔ (مسلم)

اللہ کی ذمہ داری میں:

حق تعالیٰ شانہ ٗ نے یہ فرمایا کہ میں نے تمہاری امت پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں اور اس کا میں نے اپنے لئے عہد کر لیا ہے کہ جو شخص ان پانچوں نمازوں کو ان کے وقت پر ادا کرنے کا اہتمام کرے اس کو اپنی ذمہ داری پر جنت میں داخل کروں گا اور جو ان نمازوں کا اہتمام نہ کرے تو مجھ پر اس کی کوئی ذمہ داری نہیں۔ (مسنداحمد، ابوداؤد، ابن ماجہ)

نماز اور کفر:

نماز چھوڑنا آدمی کو کفر سے ملا دیتا ہے۔ ایک جگہ ارشاد ہے کہ بندہ کو اور کفر کو ملانے والی چیز صرف نمازچھوڑنا ہے۔ ایک جگہ ارشاد ہے کہ ایمان اور کفر کے درمیان نماز چھوڑنے کا فرق ہے۔ (ابوداؤد، نسائی)

دس باتوں کی وصیت:

حضرت معاذؓ فرماتے ہیں کہ مجھے حضور ﷺ نے دس باتوں کی وصیت فرمائی:

۱۔ یہ کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا گو تو قتل کر دیا جائے یا جلا دیا جائے ۔

۲۔ والدین کی نافرمانی نہ کرنا گو وہ تجھے اس کا حکم کریں کہ بیوی کو چھوڑ دے یا سارا مال خرچ کر دے۔

 ۳۔ فرض نماز جان کر نہ چھوڑنا جو شخص فرض نماز جان کر چھوڑ دیتا ہے اللہ کا ذمہ اس سے بری ہے ۔

۴۔ شراب نہ پینا کہ یہ ہر برائی اور فحش کی جڑ ہے

 ۵۔ اللہ کی نافرمانی نہ کرنا کہ اس سے اللہ تعالیٰ کا غضب اور قہر نازل ہوتا ہے۔

 ۶۔ لڑائی میں نہ بھاگنا چاہے سب ساتھی مر جائیں

۷۔ اگر کسی جگہ وبا پھیل جاوے (جیسے طاعون وغیرہ) تو وہاں سے نہ بھاگنا ۔

۸۔ اپنے گھر والوں پر اپنی طاقت کے مطابق خرچ کرنا ۔

۹۔ تنبیہ کے واسطے ان پر سے لکڑی نہ ہٹانا۔

۱۰۔ اللہ تعالیٰ سے ان کو ڈراتے رہنا ۔(مسند احمد)

ایک نماز کا نقصان:

جس شخص کی ایک نماز بھی فوت ہو گئی وہ ایسا ہے کہ گویا اس کے گھر کے لوگ اور مال و دولت سب چھین لیا گیا ہو۔ (نسائی، مسند احمد)

نماز کا اہتمام کرنے والے:

جو شخص نماز کا اہتمام کرے تو نماز اس کے لئے قیامت کے دن نور ہو گی اور حساب پیش ہونے کے وقت حجت ہو گی اور نجات کا سبب ہو گی اور جو شخص نماز کا اہتمام نہ کرے اس کے لئے قیامت کے دن نہ نور ہو گا اور نہ اس کے پاس کوئی حجت ہو گی اور نہ نجات کا کوئی ذریعہ اس کا حشر فرعون ٗ ہامان اور ابی بن خلف کے ساتھ ہو گا۔ (مسنداحمد)

نماز کے لیے مسجد جانے کی فضیلت:

آدمی کی وہ نماز جو جماعت سے پڑھی گئی ہو اس نماز سے جو گھر میں پڑھ لی ہو یا بازار میں پڑھ لی ہو پچیس درجہ المضاعف ہوتی ہے اور بات یہ ہے کہ جب آدمی وضو کرتا ہے اور وضو کو کمال درجہ تک پہنچا دیتا ہے۔ پھر مسجد کی طرف صرف نماز کے ارادہ سے چلتا ہے کوئی اور ارادہ اس کے ساتھ شامل نہیں ہوتا تو جو قدم بھی رکھتا ہے اس کی وجہ سے ایک نیکی بڑھ جاتی ہے اور ایک خطا معاف ہو جاتی ہے اور پھر جب نمازپڑھ کر اسی جگہ پر بیٹھا رہتا ہے تو جب تک وہ باوضو بیٹھا رہے گا فرشتے اس کے لئے مغفرت اور رحمت کی دعا کرتے رہتے ہیں اور جب تک آدمی نماز کے انتظار میں رہتا ہے وہ نماز کا ثواب پاتا رہتا ہے۔ (بخاری، مسلم، ابوداؤد، ترمذی)

اپنی نماز وقت پر پڑھنا :

حضرت ابو ذر غفاری رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے مجھ سے فرمایا‘ تمہارا کیا حال اور کیا رویہ ہوگا جب ایسے (غلط کار اور ناخدا ترس) لوگ تم پر حکمراں ہوں گے جو نماز کو مردہ اور بے روح کریں گے (یعنی ان کی نمازیں خشوع و خضوع اور آداب کا اہتمام نہ ہونے کی وجہ سے بے روح ہوں گی) یا وہ نمازوں کو ان کے صحیح وقت کے بعد پڑھیں گے؟ میں نے عرض کیا تو آپ کا میرے لیے کیا حکم ہے‘ یعنی ایسی صورت میں مجھے کیا کرنا چاہئے؟ آپ نے فرمایا تم وقت آجانے پر اپنی نماز پڑھ لو‘ اس کے بعد اگر ان کے ساتھ نماز پڑھنے کا موقع آئے تو ان کے ساتھ پھر پڑھ لو۔ یہ تمہارے لئے نفل ہو جائے گی۔( صحیح مسلم)

نماز کی قضاء:

حضرت انس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا جو کوئی نماز کو بھول گیا یا نماز کے وقت سوتا رہ گیا تو اس کا کفّارہ یہ ہے کہ جب یاد آئے یا سو کے اُٹھے اسی وقت پڑھ لے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

نماز کیلئے مسجد نہ آنے والوں کی سزا :

حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا کہ منافقوں پر کوئی نماز بھی فجر و عشاء سے زیادہ بھاری نہیں ہے‘ اور اگر وہ جانتے کہ ان دونوں میں کیا اجرو ثواب ہے اور کیا برکتیں ہیں تو وہ ان نمازوں میں بھی حاضر ہوا کرتے اگرچہ ان کو گھٹنوں کے بل گھسٹ کر آنا پڑتا(یعنی اگر بالفرض کسی بیماری کی وجہ سے وہ چل کر نہ آسکتے تو گھٹنوں کے بل گھسٹ کے آتے‘ اس کے بعد آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا) کہ میرے جی میں آتا ہے کہ (کسی دن) میں مؤذن کو حکم دوں کہ وہ جماعت کے لئے اقامت کہے‘ پھر میں کسی شخص کو حکم دوں کہ (میری جگہ) وہ لوگوں کی امامت کرے اور خود آگ کے فتیلے ہاتھ میں لوں اور ان لوگوں پر (یعنی ان کے موجود ہوتے ہوئے ان کے گھروں میں) آگ لگادوں جو اس کے بعد بھی ( یعنی اذان سننے کے بعد بھی) نماز میں شرکت کرنے کیلئے گھروں سے نہیں نکلتے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

نماز ایک بہت ہی محبوب اور میٹھا عمل ہے ۔ دنیا میں اگر ہمیں چند لمحے اپنی کسی محبوب ہستی کے پاس بیٹھنا نصیب ہو جائے اور ہمیں ان سے گفتگو کی سعادت مل جائے تو ہم کس قدر خوش ہوتے ہیں اور اپنے آپ کو خوش نصیب سمجھتے ہیں ۔

اب جب ہم نماز کے مبارک عمل کو دیکھتے ہیں تو یہ احکم الحاکمین ، رب العالمین ، خالق کائنات سے ملاقات ہے ، جس ذاتِ پاک نے مجھے ، آپ کو اور ساری دنیا کو پیدا فرمایا اور اپنی بے انتہاء نعمتوں سے نوازا ، نماز اُس سے گفتگو کرنے کا نام ہے ، اس کے سامنے سر بسجود ہونے کا نام ہے ۔ اس میں کتنی لذت ، حلاوت اور مٹھاس ہو گی کہ کیا ہم میں سے کوئی اس کا اندازہ کر سکتا ہے؟ ۔

نماز کی یہی مٹھاس اور لذت تو تھی کہ ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم پوری پوری رات نماز میں کھڑے رہتے یہاں تک کہ آپ کے پائوں مبارک ورم آلود ہو کر سوج جاتے تھے ۔

حضرت امام اعظم ابو حنیفہ ؒ نے چالیس سال تک عشاء کے وضو سے فجر کی نماز ادا کی کیونکہ وہ پوری رات اللہ تعالیٰ کے سامنے نماز پڑھتے رہتے اور تلاوت میں مصروف رہتے۔

اللہ کے آخری نبی حضرت محمد مصطفیﷺ کا ارشاد ہے:

وجعلت قرۃ عینی فی الصلاۃ

(میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے)

آنکھوں کی ٹھنڈک اس چیز میں ملتی ہے ‘ جو انسان کو حد سے زیادہ محبوب ہو ۔ کیا ہمیں بھی کبھی نماز میں آنکھوں کی ٹھنڈک محسوس ہوتی ہے؟

الحمد للہ تعالیٰ !ہم سب مسلمان ہیں اور مسلمان کی زندگی کا سب سے ضروری اور اہم کام نماز ہوتا ہے ۔ وہ نماز کیلئے اپنے آرام ، اپنی ملازمت ، اپنی تجارت سب کچھ چھوڑ سکتا ہے لیکن نماز کو کسی کام کیلئے نہیں چھوڑ سکتا۔

امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ شہادت سے پہلے جب زخموں سے چور چور تھے اور مسلسل خون بہہ رہا تھا ، بار بار بے ہوش ہو جاتے تھے لیکن جوں ہی ہوش آتا …

تو نماز کے وقت کا پوچھتے اور فرماتے:

لا حظ فی الاسلام لمن ترک الصلاۃ ( مالک ، البیہقی )

( اُس شخص کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں جو نماز چھوڑ دے )

میرے قابل احترام مسلمان بھائیو اور مسلمان بہنو!

ہم میں سے جو پابندی سے نماز پڑھتے ہیں اُنہیں سب سے پہلے تو اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے اور پھر اپنی نمازوں کو مزید اہتمام ، محبت اور خوبصورتی کے ساتھ پڑھنا چاہیے ۔ جوں ہی نماز کا وقت داخل ہو ، ہمیں چاہیے کہ ہماری سب سے پہلی فکر نماز کی ہو ۔ آپ دیکھیں گے کہ ہماری نمازیں جتنی جاندار ہوں گی ، ہماری زندگی اتنی ہی شاندار ہو گی ۔

اگر خدانخواستہ ہم نماز میں سستی اور کوتاہی کرتے ہیں تو ہمیں آج اور ابھی ہی سچے دل سے توبہ کرنی چاہیے اور آئندہ کیلئے پابندی اور اہتمام سے نماز پڑھنی چاہیے۔

نماز کے بغیر زندگی بے مزہ ، بے کیف ، ادھوری اور ناکام زندگی ہے ، جب کہ نماز کے ساتھ زندگی کامیاب ، پرکیف ، خوبصورت اور باکمال زندگی ہے ۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہم سب کو ، ہمارے گھر کے تمام افراد کو اور تمام مسلمانوں کو پابندی اور اہتما م سے نماز پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے ۔(آمین ثم آمین)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online