Bismillah

614

۲۹محرم الحرام تا۵صفر۱۴۳۸ھ   بمطابق ۲۰تا۲۶اکتوبر۲۰۱۷ء

سب سے بڑا فتنہ (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 593 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Sab se Bara Fitna

 سب سے بڑا فتنہ

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 593)

الحمد للہ تعالیٰ! ماہِ شعبان المعظم ۱۴۳۸ھ آ پہنچا ہے۔ مسلم ممالک اور اسلامی معاشروں کے خوش قسمت افراد اسی مہینے میں اپنے مال سے زکوٰۃ ، صدقات اور خیرات نکال کر مستحق لوگوں اور اداروں تک پہنچانے کی فکر کرتے ہیں تاکہ رمضان المبارک آتے ہی اُن کے اموال، غربا ء اور مساکین کے ہاتھوں خرچ ہونا شروع ہو جائیں۔

مال، اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت بڑی آزمائش اور وبال بھی۔ اگر انسان اس مال کو جائز طریقوں سے حاصل کرے، صحیح جگہوں پر اسے خرچ کرے اور اس مال میں سے اللہ تعالیٰ اور بندو ں کے حقوق ادا کرتا رہے تو بلا شبہ یہ مال بہت بڑی نعمت ہے، دنیا کے اعتبار سے بھی اور آخرت کے اعتبار سے بھی۔

لیکن اگر خدا نخواستہ ناجائز ذرائع سے مال حاصل کیا گیا یا آمدنی تو حلال تھی لیکن اُسے غلط جگہوں پر خرچ کیا گیا اور مال میں سے اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے حقوق ادا نہ کیے گئے تو یہ مال سراپا عذاب اور وبال ہے۔ دنیا و آخرت میں ذلت و رسوائی کا ذریعہ ہے۔

مال کے بارے میں اسلام کا نظریہ یہی ہے اور اس نظریے میں انسانیت کی مجموعی فلاح و بہبود ہے۔ آج جب ہر سمت کرپشن، بد دیانتی اور خیانتوں کے چرچے عام ہیں اور روزانہ ہی اہل اقتدار کی تباہ کن لوٹ مار کی داستانیں سامنے آرہی ہیں، یہ سب کچھ سنتے اور پڑھتے وقت بلا اختیار امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد مبارک زبان پر آجاتا ہے:

’’ان لکل امۃ فتنۃ وفتنۃ امتی المال‘‘  (الترمذی، ابن حبان، احمد)

(ہر امت کی کوئی خاص آزمائش ہوتی ہے اور میری امت کی وہ آزمائش، مال ہے)

افسوس اور حیرت کی بات یہ ہے کہ جو لوگ کرپشن اور بد دیانتی کے خلاف بلند آہنگ نعرے لگا رہے ہیں اور اس ناسور کے خلاف مہم چلانے کی باتیں کر رہے ہیں وہ اس لیے نہیں کہ خود ان کے دامن اس داغ سے پاک ہیں بلکہ صرف اس لیے کہ انہیں بھی لوٹ مار کا موقع مل جائے اور وہ بھی قوم کے خون پیسنے کی کمائی سے اپنے جیب اور اکائونٹس بھر سکیں۔

بہر حال قومی سطح پر تو ہم اس لعنت سے چھٹکارا پا سکتے ہیں یا نہیں  لیکن کم از کم ہم سب کو انفرادی طور پر تو اس آزمائش میں پورا اترنے کی کوشش کرنی چاہیے، جسے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے اس امت کا سب سے اہم فتنہ قرار دیا ہے۔ اس آزمائش پر پورا اترنے کیلئے ضروری ہے کہ ہم اپنا احتساب کریں اور یہ سوچیں کہ ہم سیدنا حضرت عثمان اور سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہما والا مال چاہتے ہیں جو ہمیں دنیا و آخرت میں خوشیوں اور کامیابیوں سے سرفراز کرے یا خدانخواستہ ہم قارون جیسے مالدار بننے کی آرزو، دل میں چھپائے بیٹھے ہیں جس کے مال نے دنیا میں اُسے پہلے فخر وغرور اور دین حق کی مخالفت پر آمادہ کیا اور پھر اُس کیلئے دنیا و آخرت کے عذاب کا ذریعہ بن گیا۔

آج مجموعی اعتبار سے ہمارے عصری تعلیمی ادارے قارون کی سوچ کو ہی پروان چڑھا رہے ہیں اور قوم میں وہ ہی نفسیات پیدا کر رہے ہیں  جس نے قارون کو تباہی سے دو چار کیا۔ یہ سوچ اور نفسیات چونکہ انسانی معاشرے کیلئے انتہائی تباہ کن ہے  اسی لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی سورۃ القصص میں آیات نمبر۷۹ تا ۸۲ اس کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔ آج اس قارونی ذہنیت کو سمجھنا اور پھر اس سے بچنا ہم سب کیلئے بہت ہی اہم ہے۔ امام ابن کثیر ؒ نے قارون کا جو واقعہ لکھا ہے  اُس کا خلاصہ اردو میں نذرِ قارئین ہے:

قارون، حضرت موسیٰ علیہ السلام کے چچا کا بیٹا تھا۔ اس کا نسب یہ ہے: قارون بن یصہر بن قاہیث اور موسیٰ علیہ السلام کا نسب یہ ہے: موسیٰ بن عمران بن قاہیث۔ چونکہ بہت مال دار تھا، اس لئے اللہ کو بھول بیٹھا تھا۔ قوم میں عام طور پر جس لباس کا دستور تھا، اس نے اس سے بالشت بھر نیچا لباس بنوایا تھا جس سے اس کا غرور اور اس کی دولت ظاہر ہو۔ اس کے پاس اس قدر مال تھا کہ اس کے خزانے کی کنجیاں اٹھانے پر قوی مردوں کی ایک جماعت مقرر تھی۔ اس کے بہت خزانے تھے۔ ہر خزانے کی کنجی الگ تھی جو بالشت بھر کی تھی۔ جب یہ کنجیاں اس کی سواری کے ساتھ خچروں پر لادی جاتیں تو اس کے لئے ساٹھ خچر مقرر ہوتے۔ واللہ اعلم

 قوم کے نیک لوگوں اور علماء نے جب اس کے سرکشی اور تکبر کو حد سے بڑھتے ہوتے دیکھا تو اسے نصیحت کی کہ اتنا مت اکڑ، اس قدر غرور نہ کر، اللہ کا ناشکرا نہ ہو، ورنہ اللہ کی محبت سے دور ہوجاؤ گے۔ قوم کے علماء نے کہا کہ یہ جو اللہ کی نعمتیں تیرے پاس ہیں انہیں اللہ کی رضامندی کے کاموں میں خرچ کر تاکہ آخرت میں بھی تیرا حصہ ہوجائے۔ یہ ہم نہیں کہتے کہ دنیا میں کچھ عیش و عشرت کر ہی نہیں۔ نہیں اچھا کھا، پی، پہن، اوڑھ، جائز نعمتوں سے فائدہ اٹھا، نکاح سے راحت اٹھا، حلال چیزیں برت، لیکن جہاں اپنا خیال رکھ وہاں مسکینوں کا بھی خیال رکھ، جہاں اپنے نفس کو نہ بھول وہاں اللہ کے حق بھی فراموش نہ کر۔ تیرے نفس کا بھی حق ہے، تیرے مہمان کا بھی تجھ پر حق ہے، تیرے بال بچوں کا بھی تجھ پر حق ہے۔ مسکین غریب کا بھی تیرے مال میں حق ہے۔ ہر حق دار کا حق ادا کر اور جیسے اللہ نے تیرے ساتھ سلوک کیا تو اوروں کے ساتھ سلوک واحسان کر، اپنے اس مفسدانہ رویہ کو بدل ڈال، اللہ کی مخلوق کی ایذ رسانی سے باز آجا۔ اللہ فسادیوں سے محبت نہیں رکھتا۔

قوم کے علماء کی نصیحتوں کو سن کر قارون نے جواب دیا کہ: آپ اپنی نصیحتوں کو رہنے دیجئے میں خوب جانتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے جو دے رکھا ہے اسی کا مستحق میں تھا، میں ایک عقلمند، زیرک، دانا شخص ہوں، میں اسی قابل ہوں اور اسے بھی اللہ جانتا ہے اسی لئے اس نے مجھے یہ دولت دی ہے۔

 قارون کے اس جواب کے رد میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ غلط ہے کہ میں جس پر مہربان ہوتا ہوں اسے دولت مند کردیتا ہوں، نہیں اس سے پہلے اس سے زیادہ دولت اور آسودہ حال لوگوں کو میں نے تباہ کردیا ہے، تو یہ سمجھ لینا کہ مالداری میری محبت کی نشانی ہے، محض غلط ہے۔ جو میرا شکر ادا نہ کرے کفر پر جما رہے اس کا انجام براہوتا ہے۔ قارون کا خیال تھا کہ مجھ میں صلاحیت ہے اس لئے اللہ کا یہ فضل مجھ پر ہوا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ میں اس مالداری کا اہل ہوں اگر مجھ سے خوش نہ ہوتا اور مجھے اچھا آدمی نہ جانتا تو مجھے اپنی یہ نعمت بھی نہ دیتا۔

قارون ایک دن نہایت قیمتی لباس پہن کر زرق برق عمدہ سواری پر سوار ہو کر اپنے غلاموں کو آگے پیچھے بیش بہا لباس پہنائے ہوئے لے کر، بڑے ٹھاٹھ سے اتراتا ہوا، اکڑتا ہوا نکلا۔ اس کا یہ ٹھاٹھ اور یہ زینت وتجمل دیکھ کر دنیا داروں کے منہ میں پانی بھر آیا اور کہنے لگے کاش کہ ہمارے پاس بھی اس جتنا مال ہوتا۔ یہ تو بڑا خوش نصیب ہے اور بڑی قسمت والا ہے۔ علماء کرام نے ان کی یہ بات سن کر انہیں اس خیال سے روکنا چاہا اور انہیں سمجھانے لگے کہ دیکھو اللہ نے جو کچھ اپنے مومن اور نیک بندوں کے لئے اپنے ہاں تیار کر رکھا ہے وہ اس سے کروڑہا درجہ بارونق دیرپا اور عمدہ ہے۔ تمہیں ان درجات کو حاصل کرنے کے لئے اس دو روزہ زندگی کو صبر و برداشت سے گزارنا چاہئے، جنت صابروں کا حصہ ہے۔

  دنیا دار لوگوں کو ہمیشہ سے وعظ و نصیحت سے چڑ ہوتی ہے، اسی طرح قارون کو بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی باتیں ناگوار گزرتیں۔ قارون ملعون نے ایک فاحشہ عورت کو بہت کچھ مال و متاع دے کر اس بات پر آمادہ کیا کہ عین اس وقت جب حضرت موسیٰ کلیم اللہ بنی اسرائیل میں کھڑے خطبہ کہہ رہے ہوں،

 وہ آئے اور آپ سے کہے کہ تو وہی ہے نا جس نے میرے ساتھ ایسا ایسا کیا۔ اس عورت نے یہی کیا، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کانپ اٹھے اور اسی وقت نماز کی نیت باندھ لی اور دو رکعت ادا کرکے اس عورت کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمانے لگے:

 تجھے اس اللہ کی قسم جس نے سمندر میں سے راستہ دیا اور تیری قوم کو فرعون کے مظالم سے نجات دی اور بھی بہت سے احسانات کئے تو جو سچا واقعہ ہے اسے بیان کر۔

یہ سن کر اس عورت کا رنگ بدل گیا اور اس نے صحیح واقعہ سب کے سامنے بیان کردیا اور اللہ سے استغفار کیا اور سچے دل سے توبہ کرلی۔ حضرت موسیٰ پھر سجدہ میں گرگئے اور قارون کی سزا چاہی۔ اللہ کی طرف سے وحی نازل ہوئی کہ میں نے زمین کو تیرے تابع کردیا ہے۔ آپ نے سجدے سے سر اٹھایا اور زمین سے کہا کہ تو اسے اور اس کے محل کو نگل لے۔ زمین نے یہی کیا۔

دوسرا سبب یہ بیان کیا جاتا ہے کہ:

جب قارون کی سواری اس طمطراق سے نکلی سفید قیمتی خچر پر بیش بہا لباس پہنے سوار تھا، اس کے غلام بھی سب کے سب ریشمی لباسوں میں تھے۔ ادھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) خطبہ پڑھ رہے تھے بنو اسرائیل کا مجمع تھا۔ یہ جب وہاں سے نکلا تو سب کی نگاہیں اس پر اور اس کی دھوم دھام پر لگ گئیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اسے دیکھ کر پوچھا، آج اس طرح کیسے نکلے؟ اس نے کہا بات یہ ہے کہ ایک بات اللہ نے تمہیں دے رکھی ہے اور ایک فضلیت مجھے دے رکھی ہے، اگر تمہارے پاس نبوت ہے تو میرے پاس یہ جاہ وحشم ہے اور اگر آپ کو میری فضیلت پر شک ہو تو میں تیار ہوں کہ آپ اور میں چلیں اور اللہ سے دعا کریں۔ دیکھ لیجئے کہ اللہ کس کی دعا قبول فرماتا ہے۔ آپ اس بات پر آمادہ ہوگئے اور اس کو لے کر چلے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ پہلے تو دعا کرتا ہے یا میں کروں ؟ اس نے کہا نہیں میں کروں گا اب اس نے دعا مانگنی شروع کردی اور ختم ہوگئی لیکن دعا قبول نہ ہوئی۔ حضرت موسیٰ نے کہا، اب دعا میں کرتا ہوں اس نے کہا ہاں کیجئے۔ آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ یا اللہ زمین کو حکم دے کہ جو میں کہوں مان لے۔ اللہ نے آپ کی دعا قبول فرمائی اور وحی آئی کہ میں نے زمین کو تیری اطاعت کا حکم دے دیا ہے۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے یہ سن کر زمین سے فرمایا:

اے زمین! اسے اور اس کے لوگوں کو پکڑ لے وہیں یہ لوگ اپنے قدموں تک زمین میں دھنس گئے۔ آپ نے فرمایا اور پکڑے لے۔ یہ اپنے گھٹنوں تک دھنس گئے۔ آپ نے فرمایا اور پکڑ یہ مونڈھوں تک زمین میں دھنس گئے۔ پھر فرمایا: ان کے خزانے اور مال بھی یہیں لے آ۔ اسی وقت ان کے کل خزانے اور مال وہاں آگئے اور انہوں نے اپنی آنکھوں سے ان سب کو دیکھ لیا۔ پھر آپ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ ان کو ان کے خزانوں سمیت اپنے اندر کرلے اسی وقت یہ سب غارت ہوگئے اور زمین جیسی تھی ویسی ہوگئی۔ نہ تو مال ان کے کام آیا نہ جاہ و حشم نہ دولت وتمکنت نہ کوئی ان کی مدد کے لئے اٹھا نہ یہ خود اپنا کوئی بچاؤ کرسکے۔ تباہ ہوگئے، بے نشان ہوگئے، مٹ گئے اور مٹادئیے گئے (اعاذنا اللہ) اس وقت تو ان لوگوں کی بھی آنکھیں کھل گئیں جو قارون کی دولت کو للچائی ہوئی نظروں سے دیکھتے تھے اور اسے نصیب دار سمجھ کر لمبے سانس لیا کرتے تھے اور رشک کیا کرتے تھے کہ کاش ہم ایسے دولت مند ہوتے۔

 وہ کہنے لگے اب دیکھ لیا کہ واقعی سچ ہے دولت مند ہونا کچھ اللہ کی رضامندی کا سبب نہیں۔ یہ اللہ کی حکمت ہے جسے چاہے زیادہ دے جسے چاہے کم دے۔ جس پر چاہے وسعت کرے جس پر چاہے تنگ کرے۔ اس کی حکمتیں وہی جانتا ہے۔ مال تو اللہ کی طرف سے اس کے دوستوں کو بھی ملتا ہے اور اس کے دشمنوں کو بھی۔ البتہ ایمان اللہ کی طرف سے اسی کو ملتا ہے جسے اللہ چاہتا ہو۔ قارون کے اس دھنسائے جانے کو دیکھ کر وہ جو اس جیسا بننے کی امیدیں کررہے تھے کہنے لگے، اگر اللہ کا لطف واحسان ہم پر نہ ہوتا تو ہماری اس تمنا کے بدلے جو ہمارے دل میں تھی کہ کاش ہم بھی ایسے ہی ہوتے، آج اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اس کے ساتھ دھنسا دیتا۔ وہ کافر تھا اور کافر اللہ کے ہاں فلاح کے لائق نہیں ہوتے۔ نہ انہیں دنیا میں کامیابی ملے نہ آخرت میں ہی وہ چھٹکارا پائیں۔

آپ اس واقعہ کو بار بار غور سے پڑھیں تو آپ کو اس میں وہ تمام باتیں مل جائیں گی جو مال کے بارے میں ہمارے خیالات اور نظریات کو درست کردیں گی۔ اللہ کریم ہم سب کو قارونی ذہنیت، سوچ اور دولت سے بچائے اور سیدنا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ والا مال اور اُن کے عظیم جذبات نصیب فرمائے۔ (آمین ثم آمین)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online