Bismillah

614

۲۹محرم الحرام تا۵صفر۱۴۳۸ھ   بمطابق ۲۰تا۲۶اکتوبر۲۰۱۷ء

احترامِ رمضان کے قانون کی مخالفت کیوں؟ (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 594 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Ehtram e Ramazan ka Qanoon

احترامِ رمضان کے قانون کی مخالفت کیوں؟

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 594)

پاکستان میں احترامِ رمضان کا قانون ۱۸۹۱ء سے موجود ہے اور حالیہ دنوں میں سینیٹ آف پاکستان کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور نے اس میں چند ترامیم متفقہ طور پر منظور کی ہیں ، جن کے مطابق احترام ِ رمضان آرڈیننس کی مخالفت کرنے والے ہوٹل مالکان پر جرمانہ پانچ سو روپے سے بڑھا کر پچیس ہزار روپے کر دیا گیا ہے۔ نیز روزے کے اوقات میں عوامی مقامات پر کھلے عام کھانے پینے والے افراد کو پانچ سو روپے جرمانہ اور تین ماہ قید کی سزا دی جا سکے گی۔ یاد رہے کہ اس قانون سے چھوٹے بچے ، مریض اور مسافر پہلے ہی مستثنیٰ ہیں اور انہیں اس قانون کی بنیاد پر سزا نہیں سنائی جا سکتی۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کی طرف سے یہ ترامیم سامنے آتے ہی چند حلقوں کی طرف سے گھسے پٹے بیانات آنا شروع ہو گئے۔

’’ اسلام یہ طریقہ نہیں سکھاتا ‘‘

’’ اسلام میں زور زبردستی نہیں‘‘

’’ اسلام جبرو اِکراہ کے خلاف ہے‘‘

’’ اسلام میں تو سختی نہیں ‘ نرمی ہی نرمی ہے ‘‘ وغیرہ وغیرہ

پاکستان کا ہر شخص جانتا ہے کہ یہ شور شرابا اور واویلا اُس طبقے کی طرف سے ہے ، جسے پاکستان کے نام کے ساتھ بھی ’’اسلامی‘‘ لکھنا گوارہ نہیں ۔یہ لوگ یوں تو اپنے آپ کو سیکولر اور لبرل کہتے ہیں لیکن اگر ان کی عام روش اور عمومی اعتراضات دیکھے جائیں تو یہ سمجھنے میں ذرا دیر نہیں لگتی کہ درحقیقت یہ صرف اور صرف اسلام اور پاکستان کے دشمن ہیں۔

ان کے نزدیک دنیا کے ہر ملک کو یہ اختیار ہے کہ وہ اپنے قوانین ، اپنی عوام کی اکثریت کی رائے کے مطابق بنائے خواہ اُن سے آزادیٔ اظہارِ رائے سلب ہوتی ہو یا انسانی حقوق متاثر ہوتے ہوں۔ آج مغربی دنیا میں کتنے ممالک ہیں جو اپنے ہاں اسلام کی واضح ، دو ٹوک اور کھلے عام دعوت کی اجازت دیتے ہیں۔ بات صرف نماز ، روزے کی نہیں، جہاد و قتال اور اسلامی حدود و تعزیرات سمیت داڑھی ، پردے کی بھی ہے۔

یورپین ممالک اگر مسلمانوں کی مساجد کے مینار بنانے پر پابندی عائد کریں تو انہیں کوئی اعتراض نہیں۔ وہاں میری مسلمان بہن کے چہرے سے نقاب نوچ کر اُتارا جائے تو انہیں کوئی تکلیف نہیں۔ عوامی مقامات پر پردہ کرنے سے روکنے کیلئے مسلم خواتین پر بھاری جرمانے عائد کیے جائیں تو بھی ان کے نزدیک درست ہے۔ ہاں اور یاد آیا کہ عالمی کفریہ طاقتیں صرف اپنی دھونس جمانے کے لیے پورے پورے اسلامی ملک کو کھنڈرات میں بدل ڈالیں یا زندہ انسانوں کو گوانٹا ناموبے کے پنجروں میں بند کر دیں تب بھی ان کی زبانوں پر کوئی حرف مذمت نہیں آتا۔

مگر وطن عزیز میں یا کسی بھی اسلامی ملک میں وہاں کی اکثریت کی خواہشات کے عین مطابق کوئی اسلامی قانون نافذ ہو جائے تو ان کی تلخی دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ احترامِ رمضان کے قانون پر سب سے زیادہ تکلیف کا اظہار ،جس پارٹی کی طرف سے کیا جا رہا ہے ،اُس کا مسئلہ فی الحال صرف اتنا ہے کہ سالہا سال تک پاکستانی عوام پر حکومت کرنے کے باوجود وہ عوامی خدمت کے محاذ پر بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ تھر کے بھوکے پیاسے اور برہنہ بچے اُن لوگوں کی سنگدلی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ اب ’’کپڑا ، روٹی اور مکان،مانگ رہا ہے ہر انسان‘‘ کے نعرے پر تو انہیں کوئی ووٹ نہیں دے گا ، اس لیے اب پاکستان کی سیاست میں پسِ پردہ موجود عالمی طاقتوں کے سامنے ’’قابل قبول ‘‘ بننے کیلئے اسلامی قوانین کے خلاف اس طرح کا واویلا کیا جارہا ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اسلامی ملک نہیں ، یہاں کی واضح اکثریت مسلمان نہیں ؟ کیا پاکستان کے مسلمان روزے نہیں رکھتے اور پاکستان میں وہ احترام رمضان کی فضاء￿  نہیں دیکھنا چاہتے۔ پھر اعتراض کس بات پر ہے،قانون پر ؟ وہ تو یقینا عوام کی خواہشات کے عین مطابق ہے۔ پھر عوامی حکومت اور جمہوریت پر یقین رکھنے والے اس کی مخالفت کیسے کر سکتے ہیں؟ ہاں اگر اعتراض قانون کے استعمال اور اطلاق پر ہے تو اُسے یقینا بہتر بنانا چاہیے اور ایسا ماحول بنانا چاہیے کہ جس میں کسی قانون کا غلط استعمال نہ ہو سکے کیونکہ کوئی بھی قانون جب پاکستانی عدلیہ اور پاکستانی پولیس کے ہاتھوں میں آتا ہے تو اُس کی جو درگت بنتی ہے وہ ہم سب کو بخوبی معلوم ہے۔

لیکن یہاں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ قانون کے غلط استعمال کا بہانہ بنا کر اُسے ختم کرنے کی کوشش کرنا بھی ایک انتہاء پسندانہ رویہ ہے۔ دنیا میں سب سے سخت قوانین منشیات کے خلاف ہیں اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ دنیا میں سب سے زیادہ غلط استعمال بھی اُنہی قوانین کا ہوتا ہے۔ ہر سال ہزاروں بے گناہ لوگ ، اس قانون کی زد میں آکر شدید ترین سزائیں برداشت کرتے ہیں لیکن دنیا کا کوئی بھی عقل مند آدمی منشیات کے خلاف قوانین کے خاتمے کا مطالبہ نہیں کرتا۔ پھر صرف اسلامی قوانین کے غلط استعمال کو بہانہ بنا کر ان کے خلاف زہر اگلنا ، انسانیت نوازی نہیں بلکہ بد ترین اسلام اور انسان دشمنی ہے۔

احترام رمضان کے قانون کی مخالفت کرنے والے دیگر اسلامی سزائوں کے بارے میں بھی عجیب و غریب مضحکہ خیز گفتگو کرتے ہیں اور انہیں انسانی حقوق کے خلاف کہتے ہیں۔ اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں چند باتیں اس حوالے سے بھی لکھ دی جائیں تاکہ اُن کے پھیلائے ہوئے وساوس کا توڑ ہو سکے۔

یہ بات کسی کے ذہن سے پوشیدہ نہیں رہنی چاہیے کہ نفاذِ شریعت اور احکامِ شریعت لاگو کرنے سے پوری امت افراتفری اور تباہی سے محفوظ ہوگی ، معاشروں میں بگاڑ پیدا نہیں ہوگا، اس کیلئے ترقی کے راستے میں رکاوٹ بننے والے بیوقوف ، مجرم اور فسادی طبع لوگوں کو روکنا ہوگا، آپ ﷺ نے پورے معاشرے کو سمندر میں چلتی ایک کشتی سے تشبیہ دیتے ہوئے فرمایا کہ اگر ساحل تک پر امن انداز سے پہنچنا چاہتے ہو تو کشتی میں سوراخ کرنے والوں کو روکنا ہوگا۔

شریعت نے جرائم کا علاج جرائم رونما ہونے سے پہلے ہی حکمت ، وعظ و نصیحت ، ترغیب و ترہیب، احیائے ضمیراور اللہ کا خوف دلوں میںپیدا کر کے کیا ہے۔اس دین کی عظمت دیکھیں کہ اس کی طرف سے نافذ کی جانے والی حدود بھی عدل و انصاف پر مبنی ہیں، ہر گناہ اور غلطی کی نوعیت اور حقیقت کے مطابق اس کی سزا مقرر کی۔چنانچہ شریعت نے جہاں نرمی کی ضرورت تھی وہاں نرمی برتی اور جس جگہ پر سختی کی ضرورت تھی وہاں سختی اپنائی، لہٰذا دعوت و اصلاح کیلئے نرمی اور شفقت بھرا انداز اپنایا، اگر یہ بلا سود ثابت ہوں ، انسان سر چڑھتا جائے تو اس کے ساتھ سختی بھی اپنائی اور اس بارے میں ایسے اقدامات کیے جو گناہ ترک کرنے اور غلطی تسلیم کرنے پر مجبور کر دیں۔

کوئی بھی عقل مند شخص اس بات کا انکار نہیں کر سکتا کہ سزا میں سختی کا پہلو لازمی ہونا چاہیے۔شریعت اور عقل دونوں کی یکساں رائے کے مطابق ایسے اعضا کو کاٹ کر جدا کر دیا جاتا ہے جو خرابی کا باعث بنے، اس کی حرکتوں سے شر انگیزی پھیلے، امن و امان مخدوش ہوں اور اس کے مزید باقی رہنے سے انفرادی اور معاشرتی نقصانات سامنے آئیں۔سزاؤں کے بارے میں زبان درازی کرنے والے حقیقت میں مجرم سے اظہار ہمدردی تو کرتے ہیں لیکن پورے معاشرے کے حقوق نظر انداز کر دیتے ہیں، وہ مجرم پر شفقت تو کرتے ہیں لیکن جرم سے متاثر شخص کو بھول جاتے ہیں، وہ سزا کو دیکھتے ہیں لیکن مجرمانہ گھٹیا حرکت سے آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔

حدود کی وجہ سے معاشرے کو طیش مزاج لوگوں اور گھٹیا حرکتوں سے تحفظ ملتا ہے، کینہ پرور لوگوں کی دسیسہ کاریوں کیلئے راستے بند ہوتے ہیں اور انتہا پسند فکر زمین دوز ہوتی ہے، منحرف لوگوں کو راہِ اعتدال ملتی ہے، جس سے خطرات و خدشات میں خاطر خواہ کمی واقع ہوتی ہے۔حدود کو شریعت کا حصہ اس لیے نہیں بنایا گیا کہ دل کی بھڑاس نکالی جائے ، انتقام لیا جائے، اور مجرموں کو اذیت دی جائے، بلکہ حدود کے مقاصد اور اہداف بہت عظیم ہیں، ان مقاصد میں یہ شامل ہے کہ پورے معاشرے کیلئے بڑے اہداف حاصل کیے جائیں اور وہ ہیں:

دین، جان، عقل، مال اور عزت آبرو کی حفاظت

حدود اصل میں جرائم کی جانب مائل لوگوں پر رحمت و شفقت کا اظہار ہیں، حدود کے ذریعے انہیں جرائم سے روکا جاتا ہے، چنانچہ سزا دیکھ کر مجرم اپنے ارادے تبدیل کر لیتے ہیں، حدود کی وجہ سے جرائم پیشہ لوگوں کیساتھ ساتھ دیگر لوگوں کو بھی جرائم سے دور رہنے کا سبق براہِ راست ملتا ہے۔امت کے حالات قابو میں رکھنے کیلیے حدود کا نفاذ اصل میں مجرموں کے ساتھ رحمت و شفقت ہے، تبھی تو تعمیر و ترقی کا پہیہ رواں دواں رہے گا، اور بد عنوان و شر انگیز عناصر کو اپنے انجام کا بھی علم ہو گا۔جن لوگوں کو مجرم کے جرم سے دلی صدمے پہنچے ہوتے ہیں انہیں حدود کے نفاذ سے قلبی سکون ملتا ہے، نیز جرائم سے متاثر ہونے والے لوگوں میں دہشت کی جگہ امن و سکون سرایت کر جاتا ہے۔

ان سب فوائد کے ساتھ یہ بات بھی ذہن میں رہنی چاہیے کہ اسلامی قوانین کا عادلانہ اور درست اطلاق ہی کامیابی کا ضامن ہے ورنہ یہ سب کچھ محض انتقامی کاروائی بن جائے گا ، جس کے بہت ہی منفی نتائج سامنے آئیں گے۔

اسلامی قوانین اور سزائوں پر اعتراض کرنے والوں میں سے اکثریت ایسے موقع پر قرآن مجید کی ایک آیت مبارکہ کا بھی ضرور حوالہ دیتی ہے ، جس کے الفاظ یہ ہیں:

لا اکراہ فی الدین (البقرۃ: ۶۵۲)

( دین میں کوئی زبردستی نہیں)

حالانکہ یہاں یہ بات بالکل واضح ہے کہ دین قبول کرنے میں کسی پر جبر اور تشدد نہیں کیا جائے گا۔ اسلام کے بد ترین دشمن مستشرقین بھی تاریخِ اسلام کا کوئی ایک بھی مستند واقعہ نہیں پیش کر سکے ، جس میں کسی شخص کو اپنا آبائی مذہب چھوڑ کر اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا گیا ہو۔ لیکن اس آیت مبارکہ کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ جو شخص اپنی رضا مندی سے اسلام قبول کر لے تو اس پر کسی قسم کے قانون کا کوئی اطلاق ہی نہیں ہو گا۔ ورنہ تو قرآن مجید کا بیان کردہ سارا نظامِ جز اء و سزا ہی معطل ہو جائے گا۔ حالانکہ قرآن مجید میں قاتل مردو عورت ، بد کار مرد و عورت ، چوری کرنے والے مرد و عورت ، قتل و غارت گری کرنے والے افراد اور دیگر کئی مجرموں کو سنگین سزائیں سنائی گئی ہیں۔

اس کی بالکل واضح مثال یہ ہے کہ اگر آپ کسی ریاست میں داخل نہیں ہوں گے تو وہاں جانے پر آپ کو مجبور نہیں کیا جا سکتا لیکن اگر آپ نے ایک مرتبہ وہاں قدم رکھ دیا تو آپ کو اس ریاست کے تمام قوانین کی پابندی کرنی ہو گی۔ بصورتِ دیگر آپ کو سخت سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ، جس کو کوئی بھی شخص انسانی حقوق کے خلاف نہیں کہے گا۔ اسی طرح اگر آپ کسی محکمہ میں بھرتی نہیں ہوئے تو آپ پر لباس کی کوئی پابندی ہو گی نہ ہی کسی خاص وقت پر آنے جانے کی ، لیکن جب آپ ایک مرتبہ کسی ادارہ یا محکمہ سے منسلک ہو جائیں گے تو اب آپ سے وہاں کے تمام قوانین کی پابندی کا مطالبہ ہو گا اور مخالفت کی صورت میں آپ کو سزا بھی ملے گی۔ جسے کوئی عقلمند بھی بے جا تشدد یا نا روا سختی نہیں کہہ سکتا۔ اب اگر اسلام بھی یہی بات کہتا ہے تو اس میں اعتراض کی بھلا کیا گنجائش ہے۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو آنے والا رمضان المبارک خوبی ، سلامتی اور عافیت کے ساتھ عطا فرمائے اور اس کو ساری امت کے لیے خوشیوں کا ذریعہ بنائے۔ (آمین ثم آمین)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online