Bismillah

614

۲۹محرم الحرام تا۵صفر۱۴۳۸ھ   بمطابق ۲۰تا۲۶اکتوبر۲۰۱۷ء

ماہ ِ رمضان : کیا کریں ؟ کیا نہ کریں؟ (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 595 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Mah Ramazan

ماہ ِ رمضان : کیا کریں ؟ کیا نہ کریں؟

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 595)

سیدنا حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بڑے جلیل القدر صحابہ کرام ؓ میں سے ہیں۔ انہوں نے دینِ اسلام کیلئے جو تکالیف برداشت کیں اور صعوبتیں جھیلیں‘ اُن کے تصور سے بھی پسینے چھوٹ جاتے ہیں۔ یہ بتاتے ہیں کہ جب شعبان کے مہینے کا آخری دن تھا تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے ایک تقریر فرمائی۔ یہ تقریر اور خطبہ اگلے دن شروع ہونے والے مبارک مہینے رمضان کی عظمت و اہمیت کے بارے میں تھا۔

آپ کے سامنے جب تک یہ مضمون آئے گا، غالباً وہ بھی شعبان کا آخری دن ہو گا، اس لیے سب سے پہلے تو اُسی عظیم خطبے کا ترجمہ نقل کرتا ہوں تاکہ ہم پورے ماہِ مبارک میں اس کو اپنے سامنے رکھیں اور ان بابرکت شب و روز میں اپنے لیے خوب نیکیاں جمع کر لیں۔ نہ جانے اگلے سال کا ماہِ مبارک ہم میں سے کس کے نصیب میں ہے اور کس کے نصیب میں نہیں ہے ‘ اس لیے خوب حریص اور شوقین بن کر ہم اس مہینے کے ہر لمحے کو قیمتی بنا لیں ۔

رحمت ِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خطبہ میں ارشاد فرمایا :

٭…تمہارے اوپر ایک مہینہ آ رہا ہے جو بہت بڑا مہینہ ہے ،بہت مبارک مہینہ ہے۔

٭… اس میں ایک رات (شب قدر) جو ہزار مہینوں سے بڑھ کر ہے۔

٭… اللہ تعالیٰ نے اس کے روزہ کو فرض فرمایا اور اس کے رات کے قیام ( یعنی تراویح) کو ثواب کی چیز بنایا ہے۔

٭… جو شخص اس مہینہ میں کسی(نفل) نیکی کے ساتھ اللہ کا قرب حاصل کرے ایسا ہے جیسا کہ غیر رمضان میں فرض ادا کیا ۔

٭… جو شخص اس مہینہ میں کسی فرض کو ادا کرے وہ ایسا ہے جیسا کہ غیر رمضان میں ستر فرض ادا کرے۔

٭… یہ مہینہ صبر کا ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے۔

٭… یہ مہینہ لوگوں کیساتھ غمخواری کرنے کا ہے۔

٭…اس مہینہ میں مومن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے۔

٭… جو شخص کسی روزہ دار کا روزہ افطار کرائے اس کیلئے گناہوں کے معاف ہونے اور آگ سے آزادی کا سبب ہو گا اور روزہ دار کے ثو اب کے برابر اس کو ثواب ہو گا، مگر اس روزہ دار کے ثواب سے کچھ کم نہیں کیا جائے گا۔

٭… صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ا!ہم میں سے ہر شخص تو اتنی وسعت نہیں رکھتا کہ روزہ دار کو افطار کرائے تو آپ انے فرمایا کہ ( پیٹ بھر کر کھلانے پر موقوف نہیں) یہ ثواب تو اللہ جل شانہ ٗ  ایک کھجور سے کوئی افطار کرا دے یا ایک گھونٹ پانی پلا دے یا ایک گھونٹ لسی پلا دے اس پر بھی مرحمت فرما دیتے ہیں۔

٭… یہ ایسا مہینہ ہے کہ اس کا اول حصہ اللہ کی رحمت ہے اور درمیانی حصہ مغفرت ہے اور آخری حصہ آگ سے آزادی ہے۔

 ٭…جو شخص اس مہینہ میں ہلکا کر دے اپنے غلام(وخادم) کے بوجھ کو حق تعالیٰ شانہ ٗ  اس کی مغفرت فرماتے ہیں، اور آگ سے آزادی فرماتے ہیں۔

٭… چارچیزوں کی اس میں کثرت رکھا کر و جن میں سے دو چیزیں اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اور دوچیزیں ایسی ہیں کہ جن سے تمہیں چارۂ کار نہیں، پہلی دو چیزیں جن سے تم اپنے رب کو راضی کرو وہ’’ کلمۂ طیبہ ‘‘ ادراستغفار کی کثرت ہے اور دوسری دوچیزیں یہ ہیں کہ جنت کی طلب کرو، اور آگ سے پناہ مانگو۔

٭… جو شخص کسی روزہ دار کو پانی پلائے حق تعالیٰ ( قیامت کے دن) میرے حوض سے اس کو ایسا پانی پلائیں گے جس کے بعد جنت میں داخل ہونے تک اُسے پیاس نہیں لگے گی۔ (بیہقی، ترمذی)

اس خطبہ میں میں آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے وظیفے اور ورد کے طور پر جن چار باتوں کی کثرت کا حکم دیا ہے ، اُن کے لیے بالترتیب آپ یہ چار کلمات پڑھ سکتے ہیں :

لَا اِلٰہَ اِلاَّ اﷲُ

’’نہیں ہے کوئی معبود سوائے اﷲ کے‘‘

اَسْتَغْفِرُاﷲَ

’’میں اﷲ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہوں‘‘

اَسْأَلُ اﷲَ الْجَنَّۃَ

’’میں اﷲ تعالیٰ سے جنت کا سوال کرتا ہوں‘‘

وَاَعُوْذُ بِاﷲِ مِنَ النَّارِ

’’اور اﷲ تعالیٰ کی پناہ مانگتاہوں جہنم سے‘‘

اس خطبے سے ہمیں یہ تو بخوبی پتہ چل گیا کہ رمضان مبارک میں ہمیں کیا کام کرنے ہیں اور کس کس طرح ہم اپنے دامن کو رمضان کی بہاروں سے بھر سکتے ہیں لیکن کچھ کام ایسے بھی ہیں ‘ جن سے اس ماہِ مبارک میں پرہیز کرنا ضروری ہے ورنہ کبھی وہ ہی صورت حال پیش آجاتی ہے ، جسے ’’ نیکی برباد ‘ گناہ لازم‘‘ کہا جاتا ہے اور ایک حدیث شریف کے بھی یہ الفاظ ہیں :

رب صائم لیس لہ من صیامہ الا الجوع ( ابن ماجہ )

( کتنے ہی روزے دار ایسے ہیں‘ جنہیں اُن کے روزے سے سوائے بھوک کے کچھ نصیب نہیں ہوتا)

اس لیے یہاں چند اُن باتوں کا تذکرہ بھی کرتے ہیں جن سے بچنا اس ماہِ مبارک میں ہم سب کے لیے ضروری ہے :

(۱)… سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اپنے روزوں کو برباد ہونے سے بچائیں ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم روزے میں حلال کھانا پینا تو چھوڑ دیں لیکن حرام کا ارتکاب کرتے رہیں ۔ روزہ صرف منہ کا نہیں ہونا چاہیے بلکہ زبان ، آنکھ ، کان ، دل اور تمام اعضاء کا ہونا چاہیے کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچے رہیں ۔

(۲)… تروایح کے معاملے میں ایک وقت وہ تھا ، جب لوگ صرف وہاں ہی جاتے تھے جہاں ’’ یعلمون تعلمون‘‘ کے سوا کچھ سمجھ نہ آئے اور امام صاحب جلد سے جلد فارغ کر دیں ۔ الحمد للہ تعالیٰ! اب رفتہ رفتہ اس صورت حال میں بہتری آرہی ہے اور دینی شعور کی بیداری کی وجہ سے بہت سے مقامات پر اچھے پڑھنے والے قرّاء کرام خوب مزے مزے سے قرآن مجید سناتے ہیں اور لوگ بھی دور دور سے کلام اللہ شریف سننے کیلئے آتے ہیں ۔ آپ بھی ماہِ مبارک میں ایسی ہی کسی جگہ کا انتخاب کریں ، جہاں قرآن مجید ، صرف کانوں تک پہنچتا ہو انہیں ، بلکہ دل میں اترتا ہوا محسوس ہو ۔

(۳)… آج کل مجموعی طور پر رمضان مبارک کے تقدس کو پامال کرنے میں سب سے پیش پیش وہ فنکار اور اداکار ہیں ، جو پورے سال تو ٹی وی کی سکرینوں پر دینی احکام کی دھجیاں اڑاتے نظر آتے ہیں لیکن اس ماہِ مبارک کے آغاز ہوتے ہی اپنا حلیہ اور لباس تبدیل کر کے ’’ نیم ملا‘ خطرئہ ایمان‘‘ بن کر مختلف مذہبی پروگراموں میں جلوہ افروز ہوتے ہیں اور امت کو گمراہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے ۔ خدارا! خدارا! ان بہروپیوں سے خود بھی بچیں اور اپنے گھر والوں کو بھی بچائیں ۔ جو لوگ خود اپنے چھ فٹ کے قد پر دین نافذ نہیں کر سکتے ، وہ پورے معاشرے میں کیا دین پھیلائیں گے ۔ ان کے پروگراموں کی ایک بڑی نحوست یہ ہے کہ پہلے سحر و افطار کے وقت مساجد اور گھروں کے گوشوں سے تلاوت ، استغفار ، درود شریف ، دعائوں ، مناجات اور اللہ تعالیٰ کے سامنے رونے گڑ گڑانے کی آوازیں سنائی دیتی تھیں ، اب ماہِ مبارک کے انتہائی قیمتی اوقات میں ناظرین، غیر محرموں کو دیکھ دیکھ کر اپنے روزے تباہ کر رہے ہوتے ہیں اور یوں سمجھتے ہیں کہ ہم شاید کوئی عبادت کر رہے ہیں ۔ اس لیے کم از کم ماہِ مبارک میں تو اپنے ٹی وی کیلئے ایک بڑا سا تالا خرید لیں ‘ جو اللہ کرے کہ کبھی نہ اترے ۔ ٹچ موبائل فون کی تباہ کاریاں بھی ٹی وی سے زیادہ نہیں تو کم بھی نہیں ہیں‘ اس لیے ماہِ مبارک کے دوران اس آستین کے سانپ سے بھی ہوشیار رہیں ، یہ نہ ہو کہ بے خبری میں یہ اپنا زہر آپ کے رگ و ریشے میں اتار تا رہے ۔

(۴)… اس ماہِ مبارک میں آپ قرآن مجید سے اپنا تعلق خوب بڑھائیں ، قرآن مجید پڑھیں ، سنیں اور سمجھیں…

 لیکن اس کیلئے صرف مستند علماء کرام کے دروس میں شرکت کریں یا ان کی تفاسیر کا مطالعہ فرمائیں ۔ رمضان کے موسم میں بہت سے مردو خواتین جنہوں نے اپنی پوری زندگی دیگر کاموں میں کھپائی ہوتی ہے ، قرآن مجید کی تفسیر کا نازک اور مشکل ترین کام لے کر بیٹھ جاتے ہیں اور پھر خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہی کی دلدل میں دھکیل دیتے ہیں ۔ یا درکھیں ! قرآن مجید سمجھنا آسان ہے لیکن مفسر قرآن بن کر احکام و مسائل مستنبط کرنا ہرگز آسان نہیں ۔ اس کیلئے سالہا سال کی محنت ، اخلاصِ نیت اور اللہ تعالیٰ کا خصوصی فضل و کرم ضروری ہے ۔

(۵)… رمضان کے دن جیسے بابرکت ہوتے ہیں ، ویسے ہی اس کی راتیں بھی بہت قیمتی ہوتی ہیں ۔ اللہ والے فرماتے ہیں کہ یہ راتیں سونے کی نہیں ، سونا بنانے کی ہوتی ہیں ۔ مگر بہت سے مسلمان بالخصوص خواتین ان راتوں کو ایسی شاپنگ میں ضائع کر دیتی ہیں جو کئی گناہوں کا مجموعہ ہوتی ہے ۔ پھر آخری دس راتوں کے تو اتنے فضائل احادیث ِ طیبہ میں آئے ہیں کہ اگر انسان اُن کا ہر لمحہ بھی عبادت میں گزاردے تو شکر گزاری کا حق ادا نہیں ہو سکتا ۔ انہی راتوں میں سے ایک رات ، ہزار مہینوں(تقریباً ۸۳ سال ) سے بہتر ہے ۔ اس لیے عید کی تیاری کے نام پر رمضان کی مقدس راتوں کو گناہوں کی نذر کرنے کے بجائے ، رمضان شروع ہونے سے پہلے ہی ضروری اشیاء خرید لینی چاہئیں تاکہ ماہِ مبارک کی راتیں یکسوئی سے عبادات میں ہی استعمال ہوں ۔

(۶)… کہنے کو تو بہت سی باتیں مزید بھی ہیں لیکن سو باتوں کی ایک بات یہ ہے کہ جو شخص رمضان کو قیمتی بنانا چاہتا ہو، اسے چاہیے کہ اپنے آپ کو نیک کاموں میں خوب مصروف رکھے اور کسی وقت کو خالی نہ چھوڑے کہ نفس کو حملے کا موقع نہ مل سکے ۔ جائز ضروریات سے فراغت پر اپنے لیے کوئی نہ کوئی معمول مقرر کر لے جیسے سحری کے وقت اٹھے تو ساتھ ہی نمازِ تہجد بھی پڑھ لے اور افطار کے وقت بیٹھے تو خوب دعائیں مانگے ۔ اپنی ملازمت یا تجارت پر جائے تو بھی جہاں تک ہو سکے کلمۂ طیبہ ، استغفار اور درود شریف پڑھتا رہے ۔ حضرت امام شافعی ؒ کا عجیب پُرحکمت ارشاد ہے :

’’اپنے نفس کو اچھے کاموں میں مصروف رکھو ورنہ وہ تمہیں کسی برے کام میں مبتلا کر دے گا‘‘

بہت سے اہل فضل و کمال فرماتے ہیں کہ تجربہ سے یہ بات ثابت ہے کہ انسان جیسا رمضان گزارتا ہے ، باقی گیارہ مہینے بھی اس کے ویسے ہی گزرتے ہیں ۔ اس لیے آئیں ، ابھی سے یہ عہد کر لیں کہ۔ ان شاء اللہ تعالیٰ۔ ہماری زندگی کا یہ رمضان ، اللہ تعالیٰ کی عبادت ، دین ِ اسلام کی محنت اور خلقِ خدا کی خدمت کے اعتبار سے ایک مثالی مہینہ ہو گا ۔ ہم اس کا ایک ایک لمحہ سوچ سمجھ کر نیکی کے کاموں میں خرچ کریں گے اور اگر کبھی غفلت ہوئی تو اس کی تلافی کر کے نئے عزم سے محنت شروع کر دیں گے ۔

اللہ کریم اس رمضان کو ہم سب کیلئے اور پوری امت مسلمہ کیلئے دنیا و آخرت کی خوشیوں اور کامیابیوں کا مہینہ بنائے ۔ (آمین ثم آمین)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online