Bismillah

606

۲۵ذیقعدہ تا۱ذی الحجہ۱۴۳۸ھ  بمطابق    ۱۸تا۲۴ اگست ۲۰۱۷ء

محبت … صرف اللہ کے لیے (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 598 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Muhabbat Sirf Allah k Liye

 محبت … صرف اللہ کے لیے

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 598)

آئیں! سب سے پہلے رحمت ِ دو عالمﷺ کے دو ارشادِ مبارک پڑھتے ہیں:

من احب للّٰہ و ابغض للّٰہ واعطی للّٰہ و منع للّٰہ فقد استکمل الایمان (الترمذی)

’’جس نے اللہ تعالیٰ کے لیے محبت کی اور اس کے لیے خفگی کی ، کچھ دیا تو اللہ ہی کے لیے اور کسی کو دینے سے روکا تو اللہ تعالیٰ ہی کی خوشنودی کو ملحوظ رکھتے ہوئے تو اس شخص نے اپنا ایمان کمل کر لیا‘‘۔

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

جس شخص میں تین خصلتیں ہوں گی وہ ایمان کی مٹھاس کو پا لے گا ۔

(۱)… وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے دنیا کی ہر چیز سے بڑھ کر محبت کرتا ہو۔

(۲)… وہ جس شخص سے بھی محبت کرتا ہو محض اللہ کی (رضا ) وجہ سے کرتا ہو ۔

(۳)… کفر سے نجات پانے کے بعد دوبارہ کفر میں لوٹنے کو اسی طرح نا پسند کرتا ہو جیسے آگ میں پھینکے جانے کو نا پسند کرتا ہے ۔ ( مشکوٰۃ المصابیح )

عالمی حالات تیزی سے بدلتے جا رہے ہیں ۔ کل کے دشمن آج کے دوست اور کل کے دوست آج کے دشمن نظر آرہے ہیں ۔ نجانے آگے زمانہ کیا کروٹ لے گا ، عربی کے مشہور شاعر طرفہ کا شعر ہے :

ستبدی لک الایام ما کنت جاھلا

ویاتیک بالاخبار من لم تزود

( زمانہ آپ کے سامنے وہ باتیں لائے گا جن سے آپ بالکل بے خبر تھے اور آپ کو وہ شخص بھی آکر خبریں بتائے گا جس کو آپ نے کوئی زادِ راہ نہیں دیا )

مطالبہ ہے اہل ایمان سے کہ وہ ایمان والوں کی محبت سے دستبردار ہو جائیں ، بھلا یہ کیسے ممکن ہے اور اگر کوئی ایمان والوں کو چھوڑے گا تو اپنے سوا کس کا نقصان کرے گا ۔

’’حماس ‘‘ جو مظلوم فلسطینی مسلمانوں کے دل کی دھڑکن اور شیخ احمد یاسین شہید ؒ جیسی صاحب عزیمت ہستی کی یاد گار ہے، جو اسرائیل کے دل میں چبھا ہوا سب سے تکلیف دہ کانٹا ہے اور اب پتہ چل رہا ہے کہ بہت سے اپنوں کے لیے بھی سخت ناقابلِ برداشت اور ناقابلِ تسلیم ۔

اللہ اکبر! جتنی سختی اور جتنی تعزیرات اپنوں کے لیے ہیں ، کاش کہ اُس کا کچھ معمولی سا حصہ قبلہ اول پر قابض صیہونی درندوں کے لیے بھی ہوتا ، جتنے بغض اور نفرت کا اظہار اپنے دین ، اپنے وطن اور اپنے افراد کا جائز دفاع کرنے والوں سے ہو رہا ہے ، کاش ! کہ اس کا کچھ اظہار فلسطینی مسلمانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹنے والوں کے خلاف بھی ہوتا تو بات کچھ سمجھ آتی ۔

’’حماس ‘‘ آپ کو کیا کہتی ہے اور آپ کو کیوں چبھتی ہے ؟ کیا صرف اس لیے کہ اُس نے امریکہ کے زیر سایہ پلنے والی یہودی ریاست اسرائیل کا مقابلہ ایسے استقامت اور جواں مردی سے کیا جس کی توقع آپ سے کی جا رہی تھی۔ورنہ حالات و واقعات گواہ ہیں کہ اس کے سوا اُن کا کوئی جرم نہیں ۔

’’حماس‘‘ ( حرکۃ المقاومۃ الاسلامیۃ ) عربی تعارف اور منشور کے پہلے صفحہ پر لکھا ہے :

حماس اور اسلامی بیداری کے فرزندوں کو چند نصیحتیں…

۱)اخلاص نیت، باطن کے صدق کو لازم پکڑیئے، ریا سے اپنے آپ کو بچایئے-

۲)ہر روز قرآن کریم کا ایک پارہ ضرور تلاوت کیجئے

۳) قرآن کریم میں سے روزانہ کم سے کم ایک آیت حفظ کیجئے

۴) صبح وشام کے اذکار کو لازم پکڑیئے

۵) دن رات کے اوراد، کھانے پینے، لباس پہننے اور مسجد میں داخل ہونے وغیرہ کی دعائوں کا اہتمام کیجئے

۶) مختصر جلالین یا تفسیر طبری جیسی کوئی مختصر تفسیر اور ریاض الصالحین کو ہمیشہ ساتھ رکھئے

۷)منیر غضبان کی کتاب ’’المنہج الحرکی للسیرۃ النبویۃ‘‘ کا مطالعہ کیجئے

۸) محمد یوسف کاندھلوی کی کتاب ’’حیاۃ الصحابۃ‘‘ کا مطالعہ کیجئے

۹)سید سابق کی کتاب ’’فقہ السنہ‘‘ کو پڑھیے

۱۰) ڈاکٹر محمد نعیم یاسین کی کتاب ’’الایمان ارکانہ ونواقضہ‘‘ کو پڑھیے

۱۱)احمد شاکر کی کتاب ’’التاریخ الاسلامی‘‘ کو ضرور پڑھیے

۱۲) اپنی زبان کی حفاظت کرو، اپنی غلطی پر اشک بار ہو

۱۳) اپنا وقت فضول مت ضائع کیجئے

۱۴)اپنے اعضاء کو گناہوں سے بچائو، اﷲ تعالیٰ انہیں تمہارے لئے چست اور توانا رکھے گا

۱۵) صرف مومن سے دوستی کرو اورفقط متقی کو کھلائو

۱۶)محرمات، خصوصاً جن کا تعلق عورتوں سے ہو بچو، کیونکہ حضورﷺ کا ارشاد ہے ’’میں نے اپنے بعد مردوں پر عورتوں سے بڑا کوئی فتنہ نہیں چھوڑا‘‘

۱۷) جلدی سوئو اور جلدی اٹھو، فجر کے بعد مت سوئو

۱۸) تہجد ضرور پڑھو

۱۹) رات کو جہاد کی نیت کرکے سوجائو اور اس کی تیاری کرو

ان میں سے کون سی بات ایسی ہے جس کی بناء پر کوئی مسلمان ، کسی مسلمان سے نفرت کر سکتا ہے یا خدانخواستہ اسے دشمن کے سامنے بے یار و مدد گار چھوڑ سکتا ہے۔مسجد ِ اقصیٰ اور بیت المقدس صرف ’’حماس‘‘ کا مسئلہ نہیں یہ تو حضرت محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ پڑھنے والے ہر مسلمان کا مسئلہ ہے ۔ اسی لیے ’’حماس ‘‘ نے عرب حکمرانوں کو اُن کا فرضِ منصبی یاد کرواتے ہوئے اپنے منشور میں لکھا ہے :

حماس اور عرب اور مسلمان حکومتیں…

صہیونی جنگ بڑی خطرناک اور ظالم ہے- وہ اپنے مقاصد کے حصول کے لئے ہر قسم کے خسیس اور خبیث وسائل کو بھی کام میں لانے سے نہیں چوکتی- صہیونیت اپنا عمل دخل بڑھانے اور جاسوسی کیلئے اپنی ذیلی تنظیموں ’’فری میسن‘‘ ’’روٹیری کلب‘‘ اور ’’لائینز‘‘ پر بھروسہ کرتی ہے- یہ تمام تنظیمیں صہیونی مقاصد کی تکمیل کیلئے اس کے اشاروں پر کام کرتی ہیں، ان کا ہدف معاشروں میں بے راہ روی،اخلاق وعقائد اور اسلام کو تباہ کرنا ہے- دنیا میں غلبہ اور تسلط حاصل کرنے کے لئے مختلف نشہ آور اشیا کی تجارت کے پیچھے بھی صہیونیت کارفرما ہے-

اسرائیل کے اردگرد کی حکومتوں سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ عرب اور اسلامی قوم کے فرزندوں کیلئے اپنی سرحدیں کھول دیں تاکہ وہ اپنا کردار ادا کرسکیں اور اپنی کوششوں کو فلسطین میں ’’الاخوان المسلمون‘‘ کی کوششوں کے پلڑے میں ڈال سکیں-

دیگر عرب اور اسلامی ممالک سے کم سے کم یہ مطالبہ ہے کہ وہ مجاہدین کی آمد ورفت اور نقل وحرکت  میں آسانیاں پیدا کریں-

ہم سب مسلمانوں کو یہ یاد دہانی بھی کرادینا ضروری سمجھتے ہیں کہ جب ۱۹۶۷ء میں یہودیوں نے بیت المقدس پر قبضہ کیا تو مسجد اقصیٰ کی دہلیز پر کھڑے ہوکر یہ نعرہ لگایا تھا کہ ’’محمدمات خلف بنات‘‘  (محمد اپنے پیچھے بیٹیاں چھوڑ کر چلے گئے)

اسرائیل اپنی یہودیت اور یہودیوں کے ذریعے اسلام اور مسلمانوں کو چیلنج کررہا ہے (مگر پھر بھی ہم غافل ہیں) ’’خدا بزدلوں کو سکون نصیب نہ کرے‘‘

رہی بات ’’ اخوان‘‘ کی تو اُن سے بڑھ کر مظلوم کون ہو گا ؟ جس نے پُر امن طریقے سے اپنی دعوت کو پھیلایا اور آج اُن سے تعلق رکھنے والے ، مصر کے منتخب جمہوری صدر محمد مرسی ہی نہیں ، ہزاروں کارکن بلاجواز قید و بند اور پھانسی کی سزائوں کا سامنا کر رہے ہیں ۔

’’اخوان‘‘ دور حاضر میں عالمِ عرب کی سب سے بڑی اسلامی تحریک ہے- یہ تنظیم گہری سوچ، دقیق تصور اور زندگی کے مختلف میدانوں، مثلاً تصورات وعقائد، سیاست واقتصادیات، تربیت اور معاشرت، حکمرانی اور عدالت، دعوت وتعلیم، ذرائع ابلاغ اور ظاہر وباطن اور دیگر معاملات میں پوری طرح اسلامی مفاہیم پر مشتمل ہونے کے سبب ممتاز حیثیت کی مالک ہے-ان کے چند ضمنی کاموں سے اختلاف ہو سکتا ہے لیکن مجموعی طور پہ مفکر اسلام مولانا سید ابوالحسن ندوی ؒ کا یہ تبصرہ حرف بحرف برحق ہے ۔

انہ لا یحبھم الا مومن، ولا یبغضھم الا منافق

( ان سے صرف ایمان والا ہی محبت کرے گا اور ان سے صرف منافق ہی بغض رکھے گا )

زمانے کی گندی اور متعفن سیاست اپنی موت آپ مر جائے گی اور اہل ایمان ، ایمان والوں سے محبت کرتے رہیں گے … ہاں! البتہ ابھی بہت سے نقاب مزید اٹھیں گے اور بہت سے لوگ اپنی اصل شکل میں پہچانے جائیں گے ۔

آخر میں سیدنا یوسف علیہ السلام کی زبانِ مبارک سے نکلی ہوئی اس دعا پر آمین کہہ دیں :

فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَنْتَ وَلِیّٖ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ  تَوَفَّنِیْ  مُسْلِمًا  وَّاَلْحِقْنِیْ  بِالصّٰلِحِیْن

(اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے ، توہی دنیا و آخرت میں میرا مدد گار ہے ، مجھے مسلمان ہونے کی حالت ہی میں موت دینا اور مجھے نیک لوگوں کے ساتھ ملا دینا)

آمین وصلی اللّٰہ علی النبی الکریم و علی اٰلہ وصحبہ اجمعین

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online