Bismillah

618

۲۷صفرتا۳ربیع الاول۱۴۳۸ھ   بمطابق ۱۷تا۲۳نومبر۲۰۱۷ء

اسوئہ ابراہیمی :ہمارے مسائل کا حل (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 608 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Uswa Ibrahimi

اسوئہ ابراہیمی :ہمارے مسائل کا حل

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 608)

آج امت مسلمہ بے شمار اجتماعی مسائل کا سامنا کررہی ہے۔ صرف برما، کشمیر، فلسطین اور افغانستان ہی نہیں، ہمار ا انگ انگ زخمی ہے اور امت کی کشتی مسائل کے بھنور میں بُری طرح پھنس چکی ہے۔ ایسے میں ہر مسلمان یہی سوچتا ہے کہ ان مسائل کا حل کیا ہے؟ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم نے اب اپنے مسائل کا حل بھی اپنے ہی دشمنوں سے پوچھنا شروع کردیا ہے۔ اسی لئے ’’مرض بڑھتا گیا، جوں جوں دواکی‘‘ والی صورت حال بن چکی ہے۔ اگر ہم زیادہ نہیں صرف قرآن مجید کی روشنی میں ’’اسوۂ ابراہیمی‘‘ کا مطالعہ کرلیں تو ہمیں اپنے تمام مسائل کا حل مل سکتا ہے۔

 آپ قربانی کرچکے ہیں ۔ مگر جانتے بھی ہیں یہ قربانی کیا ہے ؟ جب صحابہ کرامؓ نے یہی سوال بارگاہِ رسالت میں پیش کیا تو زبانِ نبوت سے ارشاد ہوا ’’ سنۃ ابیکم ابراہیم‘‘ ’’ تمہارے جد امجد ابراہیم کا طریقہ‘‘وہ کون تھے جن کے طریقے کو ہزاروں سال بعد بھی زندہ رکھنے کا حکم دیا گیا اور انہی کے راستے کو کامیابی کی ضمانت بتایا گیا ۔

وہ جس گھرانے میں پیدا ہوئے ارد گرد سب بتوں کے پوجنے والے ، اپنے والد آزر صرف بت پرست ہی نہیں ، بت ساز اور بت فروش بھی تھے ۔ ماحول اور معاشرے میں بھی شرک کی فضاء قائم تھی ۔ ہر طرف جھوٹے خدائوں کو پوجنے والے موجود تھے پھر وقت کا حکمران نمرود بھی خدائی کا دعویدار ۔ ایسے میں کہیں سے کوئی آواز حمایت میں اٹھنے والی نہ تھی ۔ سب مخالف ، انسان دشمن ، ماحول مخالف ، فضا نا ساز گار ، معاشرہ ناموافق ، ایسے حالات میں بڑے بڑوں کا پتہ پانی ہو جاتا ہے ۔

بہت سے لوگ حق کو جانتے ہوئے بھی اپنے گھرانے ، اپنی سو سائٹی اور حکومت ِ وقت کے خوف سے حق کا اعلان نہیں کر سکتے ۔ دنیا کا دستور بھی یہی ہے کہ جب غیر ظلم کریں تو انسان اپنوں سے مدد مانگتا ہے ، باہر کے لوگ مخالفت کریں تو گھر والے حمایت میں کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ عوام میں سے کوئی ستائے تو حکومت کا دروازہ کھٹکھٹایا جاتا ہے ۔

مگر وہ کون تھا کہ جب ہوائیں مخالف ، فضائیں ناموافق ، اپنے دشمن ، غیر درپئے آزاد ، وہ پھر بھی حق کہنے سے باز نہ آیا ، حق کہااور دلیل سے بات کی ۔ اپنو ں سے گھبرائے نہ معاشرے سے مرعوب ہوئے ، حکومت کے دبدبے سے ڈرے نہ سزا کا خوف دامن گیر ہوا ۔ وہ تھے ابو الانبیاء سید نا حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام ۔ جب بھی بات کی انتہائی معقول اور مدلل ۔ جب زبان سے کام نہ چلا تو راہِ حق میں ہاتھ اٹھانے سے بھی گریز نہ کیا ۔ اپنی کلہاڑی سے قوم کے سارے بت ، سوائے بڑے بت کے ، پاش پاش کر دئیے ۔ زندہ آگ میں پھینکے گئے ، تب بھی سراپا استقامت ، بات میں کوئی لوچ نہ قدم میں کوئی لغزش حق بات پر کوئی سمجھوتہ نہ اپنی جان کی کوئی پرواہ ۔

آج کے دور میں جب ہر طرف سے ’’ چلواُدھر کو ‘ ہوا ہو جدھر کی ‘‘ اور ’’ جیسا دیس ‘ ویسا بھیس ‘‘ کی صدائیں بلند ہو رہی ہوں اور عوام ہی نہیں‘ مد عیانِ فکر و دانش بھی کفار سے مرعوبیت میں اللہ تعالیٰ کے مقدس دین کی ازلی و ابدی تعلیمات بدلنے کے درپے ہوں تو یہ باتیں کتنی عجیب لگتی ہیں ۔ مقامِ ’’خلیل اللہ ‘ ‘ کوئی ایسے آسانی سے تو نہیں مل گیا ۔ بارگاہِ الٰہی سے کامیابی کی سند اور امامت ِ عامہ کا تمغہ:

واذابتلیٰ ابراہیم ربہ بکلمات فاتمھن قال انی جاعلک للناس اماماً (البقرہ :۱۲۴)

’’ اور جب آزمایا ابراہیم کو اس کے رب نے چند باتوں سے اور اس نے وہ پوری کر دکھائیں تو ارشاد ہوا : بے شک میں تمہیں سب لوگوں کا راہنما بنانے والا ہوں‘‘۔

بغیر کسی آزمائش کے تو کچھ نہیں ملا کرتا ۔ بعض مواقف ایسے ہی ہوتے ہیں‘ جن کے ساتھ دیوانگی کی حد تک وابستگی رکھنے والے ہی کامیاب ہوتے ہیں ورنہ ہر ایک کی قسمت میں کامیابی کا اعزاز کہاں؟

لوٹ آئے جتنے فرزانے گئے

تا بمنزل صرف دیوانے گئے

مستند رستے وہی مانے گئے

جن سے ہو کر تیرے دیوانے گئے

دیکھ لیں جسے دشمن نے نذرِ آتش کر کے مٹانا چاہا ، رب تعالیٰ نے اُس کے بنائے ہوئے راستوں کو بھی قیامت تک کیلئے مستند قرار دے دیا ۔

قربانی بہت عظیم اور لذیذ عمل ہے لیکن صرف گوشت کھانے کیلئے نہیں ‘ اُسوئہ ابراہیمی کو زندہ کرنے کیلئے ، ملت ِ ابراہیمی سے جڑنے کیلئے اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی استقامت میں سے کچھ حصہ پانے کیلئے ۔

سنیں تو سیدنا ابراہیم علیہ السلام خود اپنا نظریہ بیان فرما رہے ہیں:

انی وجھت وجھی للذی فطر السمٰوت والارض حنیفاً وما انا من المشرکین

’’ میں تو ان سب (جھوٹے خداوئوں ) کو چھوڑ کر اپنا چہرہ سیدھا کرتا ہوں‘ اُس ذات کی طرف جس نے تمام آسمان اور زمین پیدا فرمائے اور میں شرک کرنے والوںمیں سے نہیں ہوں‘‘۔ (الانعام:۷۹)

توحید کا کتنا صاف ستھرا ، غیر مبہم اور واضح عقیدہ ہے ۔ پھر مخالفین کے درمیان کھڑے ہو کر ایسا اعلان صرف وہ ہی کر سکتا ہے ‘ جس کا دل محبت ِ الٰہی سے لبریز ہو ۔ محبت غیرت مند ہوتی ہے ۔ محبت یکسو ہوتی ہے ۔ سچا عاشق کبھی ہرجائی نہیں ہو سکتا، اس لیے اُسے محبوب کے خلاف کوئی بات گوارہ نہیں ہوتی ، وہ یہ نہیں سوچتا کہ لوگ کیا کہتے ہیں‘ وہ تو صرف یہ دیکھتا ہے کہ محبوب کیا چاہتا ہے اور اس کی مرضی کیا ہے؟ جو محبوب کا نہیں‘ وہ اُس کا کیسے ہو سکتا ہے ۔

دیکھیں سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور ان کے باوفا ساتھی ہمیں’’ اسوئہ ابراہیمی‘‘ کیسے سکھا رہے ہیں:

قد کانت لکم اسوۃ حسنۃ فی ابراہیم والذین معہ اذا قالو لقو مھم انا براء وامنکم ومما تعبدون من دون اللہ کفر نا بکم و بدا بیننا وبینکم العداوۃ والبغضاء ابداً حتی تو منوا باللہ وحدہ (الممتحنۃ۔۴)

’’ بے شک تمہارے لیے ابراہیم اور اُن کے ساتھ جو لوگ تھے ‘ اُن میں بہترین نمونہ ہے جب انہوں نے اپنی قوم کو کہا تھا کہ ہم تم سے اور جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو بالکل بیزار ہیں ۔ ہم تمہارا انکار کرتے ہیں اور ہمارے اور تمہارے درمیان ہمیشہ کیلئے دشمنی اور نفرت ظاہر ہو گئی ہے مگر یہ کہ تم بھی اللہ پر ایمان لے آئو ‘ جو یکتا ہے‘‘۔

حضرت خواجہ عزیز الحسن مجذوبؒ نے ’’ اسوئہ ابراہیمی‘‘ کی کیا خوب ترجمانی کی ہے ‘ وہ فرماتے ہیں:

مجھے دوست چھوڑ دیں سب کوئی مہرباں نہ پوچھے

مجھے میرا رب ہے کافی ، مجھے کل جہاں نہ پوچھے

شب و روز میں ہوں مجذوبؔاور یاد اپنے رب کی

مجھے کوئی ہاں نہ پوچھے ، مجھے کوئی ہاں نہ پوچھے

یہ تو اسوئہ ابراہیمی کی صرف ایک دو جھلکیاں ہیں ‘ ورنہ قرآن مجید کی پچیس سورتوں میں ۶۹ مرتبہ آپ کا ذکر آیا ۔ آپ کبھی اُن مقامات کا ترجمہ اور تفسیر پڑھیں تو تب انداز ہ ہو گا کہ آخر وہ کون سی وجوہات ہیں کہ ہمیں ملت ِ ابراہیمی کی پیروی کا حکم دیا گیا ہے اور خانوادئہ ابراہیمی کی ایک ایک ادا کو قیامت تک کیلئے محفوظ کر دیا گیا ہے ۔

جن سورتوں اور آیات میں سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا ذکر مبارک آیا ہے ‘ وہ یہ ہیں:

(۱)… سورۃ البقرۃ : آیا ت نمبر 124، 125( دو دفعہ )126،127،130، 132، 133، 135، 136،140،258(تین دفعہ) 260

(۲)… آلِ عمران: 33،65،67، 68، 84،95،97

(۳)… النساء : 54،125(دو دفعہ)، 163

(۴)… الانعام:74،75،83،161

(۵)…التوبۃ:70،114(دد دفعہ)

(۶)… ہود:69،74،75،76

(۷)… یوسف:6،38

(۸)… ابراہیم:53

(۹)… الحجر : 51

(۱۰)… النحل :120،123

(۱۱)… مریم:41،46،58

(۱۲)… الانبیاء:51،60،62،69

(۱۳)…الحج:26،43،78

(۱۴)… الشعراء :ـ69

(۱۵)… العنکبوت :16،31

(۱۶)… الاحزاب:7

(۱۷)…الصافات :83،104،109

(۱۸)… ص : 45

(۱۹)…الشوریٰ:13

(۲۰)… الزخرف:26

(۲۱)… الذاریات:24

(۲۲)… النجم: 37

(۲۳)… الحدید : 26

(۲۴)…الممتحنۃ:4(دو دفعہ)

(۲۵)… الاعلیٰ:19

سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی اس ’’قرآنی سیرت‘‘ کو پڑھیں اور پھر سوچیں کہ کیا ہم نے ایک جانور کی گردن پر صرف چھری چلا کر ’’ سنۃ ابیکم ابراہیم‘‘ کا حق ادا کردیا ہے ۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی سنت ادا کرنی ہے تو آئیں ! ایک چھری اپنی ناجائز خواہشات پر بھی چلائیں ۔ ایک چھری باطل عقائد اور نظریات پر بھی چلائیں ۔ ایک چھری اپنی بری عادات اور اپنے گندے خیالات پر بھی چلائیں ۔ تب یقینا ہم ’’ سنۃ ابیکم ابراہیم‘‘ پر عمل کرنے والے ہوں گے ۔ اسوئہ ابراہیمی کے یہ نکات جو قرآن مجید نے بیان کر دئیے اور سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف اشارہ فرما دیا ‘ یہی آج امت مسلمہ کے انفرادی اور اجتماعی پریشانیوں کا حل ہے اور یہی قربانی کی روح اور فلسفہ ہے ۔ اس کے اپنائے بغیر مسلمان چاہے امریکی بلاک میں شامل ہوجائیں یا روسی بلاک کا حصہ بن جائیں، غیروں کی غلامی میں ہر حد سے گزر جائیں یا کفار کی کی نقالی کو ہی ترقی سمجھ لیں، کبھی بھی کامیابی ان کا مقدر نہیں بن سکتی۔

اللہ کریم ہم سب کو سنت ِ ابراہیمی ‘ اسوئہ ابراہیمی اور جذبۂ ابراہیمی کا حامل و پیروکار بنائے ۔ (آمین ثم آمین)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online