Bismillah

618

۲۷صفرتا۳ربیع الاول۱۴۳۸ھ   بمطابق ۱۷تا۲۳نومبر۲۰۱۷ء

بَرما … کچھ تو کریں (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 609 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Barma Kuch to kerin

بَرما … کچھ تو کریں

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 609)

امت مسلمہ کبھی اتنی بے بس تو نہ تھی ، جتنی آج ہے ۔ سنتے ہیں کہ دنیا میں ۵۷؍اسلامی ممالک ہیں‘ جو وسائل سے مالا مال ہیں ۔ کسی کے پاس دنیا کی بہترین فوج ہے تو کسی کے پاس بے شمار معدنی وسائل ۔ کوئی اپنے آپ کو عالم اسلام کا لیڈر کہلانا چاہتا ہے تو کسی کو عالمی طاقتوں کے ساتھ اپنے تعلقات پر فخر ہے لیکن افسوس کہ روئے زمین پر ایک ارب سے زائد مسلمانوں کے ہوتے ہوئے بھی دنیا بھر کے مسلمان برما کے مظلوموں کے حق میں سوائے نعرے بازی اور بیان بازی کے کچھ نہیں کر سکتے۔

برما، جسے میانمار بھی کہا جاتا ہے، رقبے کے لحاظ سے جنوب مشرقی ایشیا کا سب سے بڑا ملک ہے، اس کے اطراف میں بنگلہ دیش، بھارت، چین، لاؤس اور تھائی لینڈ واقع ہیں۔ برما کا مسلم اکثریت والا صوبہ اراکان ملک کے جنوب مغربی علاقے میں واقع ہے اور اس کی سرحدیں خلیج بنگال اور بنگلہ دیش کو چھوتی ہیں۔ جبکہ کوہ اراکان کا سلسلہ اس علاقے کو برما کے اس حصے سے قدرتی طور پر جدا کرتا ہے، جس میں بدھ مت کے پیروکاروں کی اکثریت آباد ہے۔ برما کا دارالحکومت رنگون ہے۔ برما کا کل رقبہ ۲۶۱۰۰۰ میل ہے، جبکہ مسلم اکثریت کے صوبہ اراکان کا رقبہ ۲۰۰۰۰ میل ہے۔ برما کی کل آبادی ۵۵ ملین ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مسلمان یہاں کی کل آبادی کا پندرہ فیصد سے زیادہ نہیں، حالانکہ ان کی تعداد ۸ سے ۱۰ ملین تک ہے۔ صرف اراکان ہی میں ۷۰ فیصد سے زائد آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے۔برما میں بدھ مت، اسلام اور عیسائی مذاہب رائج ہیں۔ اکثر مسلمان روہنگیا قوم سے تعلق رکھتے ہیں۔  مسلمان نسلی طور پر عربی، فارسی، ملاوی، مغل اور پٹھان ہیں۔ قبائلی لحاظ سے برما میں ایک سو چالیس سے زائد قومیں آباد ہیں جن میں اکثریت بورمن قوم کی ہے، جو اس وقت برسر اقتدار ہیں۔ روہنگیا، بورمن کے بعد دوسرے نمبر پر ہیں۔ جبکہ انہیں برما کی غریب ترین اور پسماندہ قوم سمجھا جاتا ہے۔ سرکاری زبان برمی ہے، جبکہ دیگر زبانیں بھی رائج ہیں۔ دارالحکومت رنگون میں مساجد کی تعداد ۳۲ ہے۔ جبکہ پورے ملک میں مساجد کی تعداد ۲۵۶۶ ہے۔ مدارس اور دینی اداروں کی تعداد ۵۹۰ ہے۔ ان میں سے ۱۵۳۸ مساجد اور ۴۰۵ مدارس صوبہ اراکان میں واقع ہیں۔

مورخین نے لکھا ہے کہ اراکان میں اسلام کی کرنیں سب سے پہلے خلیفہ ہارون الرشید رحمہ اﷲ کے دور میں پہنچیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس سے بھی پہلے اس علاقے میں اسلام خاموش انداز میں اس وقت پہنچا ،جب صحابیٔ رسول حضرت وقاص بن مالک رضی اﷲ عنہ ایک تجارتی سفر پر جارہے تھے کہ خلیج بنگال میں پہنچ کر ان کی تجارتی کشتی ٹوٹ گئی اور حضرت وقاص رضی اﷲ عنہ کئی تابعین کے ہمراہ اراکان کی سرزمین پر اتر گئے۔ یہ حضرات یہیں رہنے لگے، انہوں نے یہاں شادیاں کیں اور لوگوں تک دین اسلام کی دعوت پہنچائی۔ مقامی آبادی نے بڑے پیمانے پر اسلام قبول کرلیا۔ اسی دوران یہاں مسلمانوں کی باقاعدہ آمد و رفت بھی شروع ہوگئی۔ یوں اراکان میں اسلام پھیلتا چلا گیا۔ حتی کہ ۱۴۳۰ عیسوی میں یہاں سلیمان شاہ کی سربراہی میں باقاعدہ اسلامی حکومت قائم ہوئی جو ساڑھے تین سو سال تک قائم رہی، حتی کہ ۱۷۸۴ عیسوی میں بدھوں نے حملہ کرکے اراکان کی اسلامی سلطنت کو تاراج کردیا۔ اس اسلامی دور کی یادگار کئی مساجد اور مدارس آج بھی اراکان میں موجود ہیں۔ جن میں اراکان کی مسجد بدرالمقام سب سے مشہور ہے۔ سلیمان شاہ کی قائم کردہ مسلم سلطنت نے خوب ترقی پائی اور تہذیب وثقافت کے لحاظ سے کافی بلند معیار پر پہنچی۔اراکان کی مسلم حکومت کا قیام ایک تاریخی حقیقت ہے لیکن موجودہ بدھ مت حکمران اسے کالعدم قرار دیتے ہوئے دعویٰ کرتے ہیں کہ برما میں اسلام ۱۸۲۴ سے ذرا پہلے آیا۔ یاد رہے کہ ۱۸۲۴ میں اس علاقے پر برطانوی عملداری قائم ہوئی تھی۔سن ۱۷۸۴ء میں برما کے بدھ مت حکمران نے اراکان کی مسلم سلطنت پر قبضہ کرلیا اور مقامی آبادی کی مرضی کے برخلاف اسے اپنی سلطنت میں شامل کرنے کا اعلان کیا۔ اس ظلم و جبر کی وجہ سے پورے علاقے میں خوف و دہشت پھیل گیا اور بدھ مت حکمرانوں کے خلاف تحریکیں اٹھنے لگیں۔ ادھر بدھ حکمرانوں نے اسلامی مقدس مقامات کو تباہ کرنا شروع کردیا اور مساجد و مدارس کو شہید کیا جانے لگا۔ علماء اور مبلغین کو تہہ تیغ کیا گیا اور بدھ مت کے پیروکاروں نے مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کردیا۔ ظلم و ستم کا یہ سلسلہ چالیس سال تک جاری رہا، یہاں تک کے ۱۸۲۴ء میں برطانیہ نے اس علاقے پر قبضہ کرکے اسے برطانوی استعمار کے ما تحت ہندوستان کے ساتھ شامل کردیا۔ برطانوی تسلط کا یہ سلسلہ سو سال تک باقی رہا۔۱۹۳۷ء میں برطانیہ نے برما کو ہندوستان سے الگ کرکے یہاں علیحدہ انتظامیہ قائم کردی اور اسے برطانوی برما کا نام دیا گیا۔۱۹۴۲ء میں اراکان کے مسلمانوں کو بدھ دہشت گردوں کے ہاتھوں قتل و غارتگری کے ایک خوفناک سلسلے کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ سلسلہ بدھ مت کے ان پیروکاروں نے شروع کیا تھا جن کا تعلق ’’مگ‘‘ قوم سے تھا اور انہیں اس دہشت گردی کے لئے بورمن بدھوں اور برطانیہ کا تعاون حاصل تھا۔ اس خوفناک سلسلے میں ایک لاکھ مسلمان شہید کردئیے گئے، جن میں اکثریت خواتین، بوڑھوں اور بچوں کی تھی۔ پانچ لاکھ مسلمانوں کو اپنے گھر بار چھوڑ کر ہجرت کرنی پڑی۔ یہ ایک ایسا خوفناک سانحہ تھا، جس کی دلخراش یادیں آج بھی بہت سے مسلمانوں کے دلوں میں تازہ ہیں۔۱۹۴۷ء میں برما کی آزادی کے لئے ملک کی تمام قوموں پر مشتمل ایک کانفرنس ہوئی، جس میں سب قوموں کو شرکت کا موقع دیا گیا، مگر مسلمانوں کو اس میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی۔۱۹۴۸ء میں برطانیہ نے برما کو اس شرط پر آزادی دے دی کہ آئندہ دس سال کے اندر اندر ملک کی تمام قوموں کو اگر وہ چاہیں تو خود مختاری دے دی جائے گی۔ لیکن برما کے بدھ حکمران اس معاہدے سے روگردانی کر گئے اور روہنگیا مسلمانوں کو باوجود ان کے مطالبے کے آزادی نہیں دی گئی۔ نہ صرف روہنگیا بلکہ مسلم اراکان کی آزادی چاہنے والوں وہ  مگ اور بورمن عوام بھی شامل ہیں جو دولت اسلام سے سرفراز ہیں۔ روہنگیا کے علاوہ دیگر اقوام سے تعلق رکھنے والے ان مسلمانوں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا رہا ہے، لیکن اس کے باوجود ان کے پائے استقلال میں کبھی لغزش نہیں آئی۔

مسلمانوں کو آزادی دینے سے انکار کے ساتھ ساتھ برما حکومت کی طرف سے وحشیانہ تشدد اور ظلم و ستم کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے اور ہر کچھ عرصہ بعد اس میں تیزی آجاتی ہے۔ برمی حکمران ملک سے اسلام اور مسلمانوں کے خاتمے پر تلے ہوئے ہیں اور ہر قیمت پر وہ اپنا مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ قتل وغارتگری مذہبی مقامات کے تقدس کی پامالی، شعائر اسلام کی بے حرمتی، اسلامی ثقافت وتہذیب کے ساتھ استہزاء اور مذاق برمی حکمرانوں کے عمومی ہتھکنڈے ہیں۔ ۱۹۶۲ء میں برما کی حکومت فوج کے ہاتھوں میں آئی تو اس سلسلے میں مزید شدت آگئی اور مسلمانوں پر پہلے سے بڑھ کر زمین تنگ ہونے لگی اور اب بھی جب کہ برما میں نام نہاد جمہوریت قائم ہے ، یہی سلسلہ پورے زور و شور سے جاری ہے۔ ۱۹۷۸ء میں برما کے تین لاکھ مسلمانوں نے بنگلہ دیش کی طرف ہجرت کی ۹۲، ۱۹۹۱ء میں پھر تین لاکھ مسلمانوں نے ہجرت کی اور ۲۰۰۰ء میں ایک بار پھر ایک لاکھ مسلمانوں کو ہجرت کرنی پڑی اور اب ۲۰۱۷ء میں تو نسل کشی اور نقل مکانی کے سارے ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں ۔ بنگلہ دیش بھی ان مسلمانوں کو پناہ دینے کے لئے اب تیار نہیں اور بھارت بھی ان پر زمین تنگ کر رہا ہے۔

عرف عام میں سلامتی و شانتی کا مذہب سمجھا جانے والے بدھ مت کے پیروکاروں نے اراکان کے نہتے مسلمانوں پر جو قیامتیں ڈھا رکھی ہیں ان کی مثال شاید تاریخ کے جابر ترین حکمران بھی پیش نہ کرسکیں۔

برما کے مسلمان امت مسلمہ کا وہ حصہ ہیں، جسے فراموش کردیا گیا، حالانکہ وہ اس کے مستحق ہیں کہ مسلمان ان کی طرف توجہ دیں، ان کے مصائب کو جاننے کی کوشش کریں، ان کی تکلیف کو محسوس کریں اور ان کے دکھ درد میں شریک ہوں۔

صدیوں سے اراکان میں بسنے والے مسلمان اس اسلامی سلطنت کے وارث ہیں جس نے ساڑھے تین سو سال تک اس خطے پر شان و شوکت کے ساتھ حکمرانی کی۔ اور نہ صرف اس علاقے پر اپنا تسلط قائم رکھا بلکہ دلوں کو بھی اسلام کی حسین تعلیمات کا گرویدہ بنا ڈالا۔ مگر آج یہی مسلمان اپنی شناخت قائم رکھنے اور اپنی تاریخ کے عظیم آثار کو سلامت رکھنے کے لئے اپنے ان مسلمان بھائیوں کی راہیں تک رہے ہیں جو دنیا کے مختلف خطوں میں خوشی اور مسرت کے ساتھ زندگیاں بسر کر رہے ہیں۔

یہ کتنی عجیب بات ہے کہ تہذیب نو کے اس دور میں جب آزادی رائے کا احترام ایک عوامی مسلک بن چکا ہے، برما کے مسلمان اپنی آزادی کے لئے ترستے ہوئے گھٹ گھٹ کر مر رہے ہیں، مگر ستم شعار بدھ مت حکمران انہیں آزادی دینے کے لئے تیار نہیں۔ برما کی فوجی حکومت نے مسلمانوں پر دائرہ حیات تنگ کرنے کے لئے ایسے ایسے قوانین اور ضابطے مقرر کر رکھے ہیں جن کے بارے میں سن کر انسانیت کانپ جاتی ہے اور شرافت کا سر شرم سے جھکنے لگتا ہے۔ برمی مسلمان بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں، یہاں ہزارہا بچے کسم پرسی کے عالم میںمرجھائے ہوئے چہروں کے ساتھ یہاں وہاں پھرتے نظر آتے ہیں۔ ننگے پیر چلتے پھرتے ان کے قدم پھٹ جاتے ہیں، مستقل کی تاریکی میں جھانکتے جھانکتے ان کی نگاہیں پھٹ جاتی ہیںاور بدھوں کے مظالم کا سامنا کرتے کرتے یہ اپنے ہوش حواس کھو بیٹھتے ہیں۔ یہاں کی فضاؤں میں ہر وقت مجبور ماؤں بہنوں کی آوازیں بلند ہوتی رہتی ہیں اور عفت مآب بیٹیاں اپنی عزت وآبرو بچانے کے لئے تگ و دو میں مصروف رہتی ہیں۔ ان کے مردوں کو سرکاری فورسز اغواء کرکے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے غائب کردیتی ہیں یا پھر درختوں پر لٹکا کر ان کے جسم کا ایک ایک عضو نوچ لیا جاتا ہے۔ یہاں کی مسجدیں یا تو ستم گروں کی وحشت کا نشانہ بن گئیں اور جو اس سے بچ رہیں وہ اپنے نمازیوں کی راہیں تکتی رہتی ہیں۔

۱۹۶۲ء میں فوج کے برسر اقتدار آنے کے بعد مظالم کا جو وحشیانہ سلسلہ شروع ہوا اس نے سابقہ تمام ریکارڈ توڑ دیئے اور معتبر ذرائع کے مطابق اب بھی تمام ظلم و ستم سرکاری سرپرستی میں جاری ہے۔ مسلمانوں کا بلاجواز قتل، انہیں نقل مکانی پر مجبور کرنا، ان پر اقتصادی پابندیاں عائد کرنا، انہیں اپنی اسلامی ثقافت ترک کرنے پر مجبور کرنااور اپنی سرزمین سے محروم کرنا فوج کے وہ عمومی ہتھکنڈے ہیں جن کاسالہا سال سے اراکانی مسلمان سامنا کر رہے ہیں۔ برمی فوج تیزی کے ساتھ اراکان میں مساجد اور تاریخی مدارس کو شہید کر رہی ہے۔ ایک طرف اسلامی عمارتوں کے انہدام کا یہ سلسلہ جاری ہے اور دوسری طرف مسلمانوں پر یہ پابندی ہے کہ وہ کوئی ایسی عمارت تعمیر نہیں کر سکتے جس کا تعلق مذہب سے ہو، نہ ہی کوئی ایسا ادارہ قائم کیا جاسکتا ہے۔

اس وقت دو کروڑ اراکانی مسلمان درختوں کے پتوں سے بنائی گئی جھونپڑیوں اور ٹاٹ کے پیوند زدہ خیموں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ ان مسلمانوں میں بھی اقوام متحدہ کی طرف سے امداد لانے والے عیسائی اپنے مذہب کو پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اراکانی مسلمان نوجوانوں کو تعلیم اور درسگاہوں سے جبراً دور رکھا جاتا ہے اور جس نوجوان کے بارے میں پتہ چل جائے کہ وہ باہر کے کسی ادارے میں پڑھ کر آیا ہے اسے قید وبند میں ڈال دیا جاتا ہے یا پھر واپس آتے ہی موت کے گھاٹ اتاردیا جاتا ہے۔

یہاں کے مسلمانوں کو عید قربان کے موقع پر بھی قربانی کرنے کے لئے بڑی ہی سخت شرائط سے گزرنا پڑتا ہے۔ مسلمان اگر دارالحکومت رنگون یا کسی بھی دوسرے شہر کا سفر کریں تو یہ حکومت کی نظر میں بدترین جرم ہے۔ بلکہ مسلمانوں کے لئے یہ بھی ممنوع ہے کہ وہ ایک بستی سے دوسری بستی بغیر سرکاری اجازت کے داخل ہوں۔ اگر ایک مسلمان کسی مہمان کو اپنے گھر میں ٹھہرانا چاہتا ہے اگرچہ وہ اس کا قریبی رشتہ دار یا سگا بھائی ہی کیوں نہ ہوتو اسے اس کے لئے سرکاری اجازت نامہ پہلے حاصل کرنا ہوگا اور کسی مسلمان کا دوسرے کے گھر میں رات کو ٹھہرنا تو قطعاً ممنوع ہے، سرکاری نظر میں یہ جرم اتنا بھاری ہے کہ اس کی سزا میں میزبان کا گھر گرایا جاسکتا ہے یا اسے گرفتار کیا جاسکتا ہے اور یا پھر اسے خاندان سمیت ملک بدر کیا جاسکتا ہے۔

اراکان کے مسلمانوں پر پابندی ہے کہ وہ اپنی زمین کی پیداوار صرف فوج ہی کو فروخت کریں گے اور اس کی جو بھی قیمت انہیں ادا کی جائے گی وہ اس پر راضی رہیں گے۔

مسلمانوں کی نسل کشی کیلئے بھی برمی فوج انتہائی خوفناک اقدامات کر رہی ہے۔ ایک قانون کے تحت کوئی مسلمان دوشیزہ ۲۵ سال سے کم عمر میں شادی نہیں کرسکتی اور کوئی نوجوان مرد ۳۰ سال سے کم عمر میں شادی نہیں کرسکتا۔ اور پھر اس شادی کے لئے بھی انہیں فوج سے ایک تحریری اجازت نامہ حاصل کرنا پڑتا ہے جو بغیر بھاری رشوت ادا کیے نہیں مل سکتا۔ رشوت کی یہ رقم اس قدر زیادہ ہوتی ہے کہ ہر شخص یہ ادا نہیں کر پاتا۔

اوّل تو کوشش کی جاتی ہے کہ مسلمان سرکاری نوکریاں کم سے کم حاصل کرسکیں اور جو لوگ یہ نوکریاں حاصل کرلیں ان پر طرح طرح کی پابندیاں لگا دی جاتی ہیں۔ سرکاری ملازمت کرنے والے مسلمانوں کو داڑھی رکھنے کی قطعاً اجازت نہیں، انہیں اسلامی شکل و صورت اختیار کرنے کی بھی اجازت نہیں اور اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو اس کی سزا میں انہیں ملازمت سے برخواست کیا جاسکتاہے۔

اراکان کے مسلمانوں کو اجازت نہیں کہ وہ اپنی سیاسی سرگرمیوں کے لئے کوئی جماعت بنا سکیںنہ ہی اسلامی تنظیمیں بنائی جاسکتی ہیںاور نہ ہی رفاہی سرگرمیوں کے لئے کوئی ادارہ قائم کیا جاسکتا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ کسی بھی عالمی اسلامی ادارے کو یہاں رفاہی خدمات سرانجام دینے کی اجازت نہیں۔

فوج کے مسلح دستے ہر وقت مسلمانوں کی بستیوں کا گشت کرتے رہتے ہیں، ان کی نقل وحرکت پر کڑی نگاہ رکھتے ہیںاور قانون کی ذرا سی خلاف ورزی پر انتہائی عبرتناک سزائیں دیتے ہیں۔ یہاں کے مسلمان ہر وقت ظالم برمی فوج کے محاصرے میں رہتے ہیں اور اس کے رحم و کرم پر جیتے ہیں۔

مسلمانوں کے خلاف ان اقدامات نے، مسلمانوں میں خوف و دہشت پھیلا رکھا ہے اور اپنی زمین پر رہتے ہوئے وہ اس پر مجبور ہیں کہ اسے چھوڑ جائیں، مگر … کیا دنیا کا کوئی بھی مسلمان ملک ان بے بس اور بے سہارا مسلمانوں کا بوجھ سہہ لینے کیلئے تیار ہے؟؟

یہ ہے امت ِ مسلمہ کے ایک حصے کی داستانِ اَلم ، جس کو بیان کرتے ہوئے دل خون کے آنسوروتا ہے اور جگر پاش پاش ہو جاتا ہے ۔ ابھی تو ان کیلئے جس سے جو کچھ ہو سکتا ہے ، اُسے کر گزرنا چاہیے ۔ کوئی ظالم بڈ ھسٹ بد معاشوں کو کیفر کردار تک پہنچا سکتا ہے تو یہ بہترین بدلہ ہے ‘ کوئی ان میں سے کسی بھوکے کو کھانا ،کسی برہنہ کو لباس یا کسی بے گھر کو سائبان بھی فراہم کر سکتا ہے تو اس میں کوتاہی نہیں کرنی چاہیے ۔ خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو اس موقع سے فائدہ اٹھا کر اپنے رب کو راضی کر لیں گے اور دنیا و آخرت میں کامیاب ٹھہریں گے ۔

اللہ تعالیٰ تمام امت مسلمہ کی حفاظت فرمائے اور ظلم و ستم سے نجات عطا فرمائے ۔(آمین)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online