Bismillah

618

۲۷صفرتا۳ربیع الاول۱۴۳۸ھ   بمطابق ۱۷تا۲۳نومبر۲۰۱۷ء

کیا کسی کو پھر کسی کا امتحاں مقصود ہے ؟ (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 612 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Phir kisi ka imtehan

کیا کسی کو پھر کسی کا امتحاں مقصود ہے ؟

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 612)

گزشتہ رات یہ افسوسناک افواہ سننے میں آئی کہ قومی اسمبلی میں انتخابی اصلاحات کا جو بل پیش ہوا ہے ، اُس میں قومی اسمبلی کے رکن بننے کی اہلیت کے حوالے سے ختم نبوت پر ایمان کے متعلق جو شق ہے‘ اُسے بھی ختم کر دیا گیا ہے ۔ ابھی تک صورت حال واضح نہیں اور گو مگو کی کیفیت چل رہی ہے لیکن اس مسئلہ کی حساسیت اور نزاکت کے پیش نظر ہر مسلمان کیلئے اپنے ایمانی جذبات کا اظہار کرنا ضروری ہے ۔ اللہ کرے کہ یہ افواہ غلط ثابت ہو اور ملک و ملت کسی نئے امتحان سے دو چار ہونے اور کسی خوفناک آزمائش کا سامنا کرنے سے محفوظ رہیں۔

ختم نبوت کا مسئلہ مسلمانوں میں اتنا اہم اور حساس موضوع ہے کہ مسیلمہ کذّاب ‘ جو جھوٹا مدعی نبوت تھا ، اُس کے خلاف جہاد میں بارہ سو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جامِ شہادت نوش فرمایا ۔ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت کے دوران لاہور میں دس ہزار سے زیادہ شمع ِ رسالت کے پروانوں نے اپنے مقدس لہو کا نذرانہ پیش کیا ۔ جوانوں نے گریبان کھول کر سینوں پر گولیاں کھائیں ۔ مائوں نے اپنے لاڈلے بیٹے ختم نبوت پر قر بان ہونے کیلئے بھیجے ۔ معصوم بچوں نے اپنی توتلی زبانوں سے ’’ ختم نبوت ‘ زندہ باد‘‘ کے نعرے لگا کر سر کاری احکامات کی دھجیاں بکھیر دیں ۔ علماء کرام نے قیدو بند کی صعوبتیں کاٹیں ، عام مسلمانوں نے اپنے خون سے اس کی آبیاری کی تب جا کر کہیں یہ مسئلہ آئینی طور پر حل ہوا ۔

 ۷؍ ستمبر ۱۹۷۴ء یومِ دفاع ختم نبوت ایک ایسا دن ہے ، جو اپنے اندر ہفتوں مہینوں اور سالوں کی نہیں کئی عشروں تک جاں نثارانِ ختم نبوت کی طرف سے پیش کی جانے والی عظیم قربانیوں کو سمیٹے ہوئے ہے ۔ اہل اسلام کیلئے جس طرح یہ دن خوشیاں اور مسرتیں لے کر آیا تھا ، ویسے ہی قادیانیوں کے لیے یہ تاریخی شکست اور غم کا موقع تھا اسی لیے وہ ہر قیمت پر پاکستان سے ۷؍ ستمبر کا ا نتقام لینا چاہتے ہیں ۔ پاکستان کے آئین میں ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء کو انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا ، قادیانی اس ترمیم کو ہر قیمت پر ختم کروانا چاہتے ہیں اور ساتھ ہی وہ اپنے آپ کو مظلوم بنا کر رائے عامہ کو اپنے حق میں ہموار کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں ۔

پروپیگنڈے کے تمام تر جدید ترین ذرائع اُن کی دسترس میں ہیں ۔ بی بی سی تو گویا اُنہی کے مؤقف کو بیان کرنے کیلئے وقف ہے ۔ دین سے محبت رکھنے والے مختلف جوان وقتاً فوقتاً انٹرنیٹ ، ٹی وی چینلز اور اخبارات میں آنے والے ان کے بیانات کی نشاندہی کرتے رہتے ہیں ۔ موجودہ پروپیگنڈے کی لہر میں قادیانیوں کا زیادہ زور اس بات پر ہے کہ گزشتہ تقریباً ایک صدی میں ہمارے خلاف علماء کرام اور زعمائے ملت نے جو کچھ کہا ‘ وہ محض جذباتیت پر مبنی ہے ۔ مرزا غلام قادیانی نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا تھا ‘ بعض لوگوں نے ذاتی رنجش اور جماعتی رقابت کی بناء پر اُس کی طرف یہ کفر منسوب کر دیا ۔ دوسری بات آج کل قادیانی یہ کہتے ہیں کہ ہم بڑے با اخلاق اور خوش گفتار ہیں ‘ جبکہ ہمارے مخالفین ہمیں گالیاں دیتے ہیں ‘برا بھلا کہتے ہیں ۔ اس لیے ہم بے چارے مظلوم ہیں اور علماء کرام (نعوذ باللہ ) ظالم ہیں ۔ تیسرا نکتہ جسے وہ بڑے شدو مد سے بیان کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ ۱۹۷۴ء میں قوی اسمبلی کو علماء کرام نے ہائی جیک کر لیا تھا اور وزیر اعظم مسٹر بھٹو کو بلیک میل کر کے ہمارے کفر کا فیصلہ لیا گیا ورنہ ’’ مولویوں ‘‘ کے علاوہ کسی نے بھی ہماری مخالفت نہیں کی ۔ یہ تین نکات ہیں جنہیں نت نئے انداز سے چبا کر قادیانی پیش کرتے ہیں ۔ آئیں !! بالکل اختصار کے ساتھ اُن کے تینوں خیالات کا جائزہ لیتے ہیں ۔

پہلی بات یہ کہ مرزا قادیانی نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا تھا ، سر ا سر جھوٹ اور فریب ہے ۔ مرزا کے احمقانہ دعووں پر علماء نے مستقل کتابیں لکھی ہیں جن میں اُس مخبوط الحواس شخص کے بہت سے مضحکہ خیز دعوے بھی نقل کیے ہیں ۔ اپنی بات کی وضاحت کیلئے ہم صرف ایک حوالہ نذرِ قارئین کرتے ہیں ۔ مرزا اپنی کتاب ’’حقیقتہ الوحی‘‘ کے حاشیہ ‘ص ۷۳پر لکھتا ہے :

’’ میں آدم ہوں ، میں شیث ہوں ، میں نوح ہوں ، میں ابراہیم ہوں ، میں اسحق ہوں ، میں اسمٰعیل ہوں ، میں یعقوب ہوں ، میں یوسف ہوں ، میں موسیٰ ہوں ، میں دائود ہوں ، میں عیسیٰ ہوں ، اور آنحضرت کے نام کا میں مظہر ِ اتم ہوں ، یعنی ظلی طور پر میں محمد اور احمد ہوں ‘‘۔( نعوذباللہ تعالیٰ )

دوسری بات یہ کہ قادیانی با اخلاق ہیں اور ان کے مخالفین بد اخلاق ، یہ بھی بالکل حقائق کے برخلاف بات ہے ۔ اگر کہیں قادیانی ظاہری طور پر با اخلاق بننے کی کوشش بھی کرتے ہیں تو اُس کا مقصد محض مسلمانوں کے ایمان پر شب خون مارنا ہوتا ہے ۔ ان کی خوش گفتاری اور مسکراہٹیں کاروباری بنیادوں پر ہوتی ہیں ورنہ وہ پوری امت مسلمہ کے بارے میں کیا غلیظ سوچ رکھتے ہیں ، اس کا اندازہ مرزا قادیانی کی اپنی مندرجہ ذیل تین عبارات سے لگائیں :

۱… جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہو گا اور تیرا مخالف رہے گا وہ خدا اور رسول کی مخالفت کرنے والا جہنمی ہے ۔ ( الہام مرزا غلام احمد تبلیغ رسالت ۹؍ ۶۷)

۲… کل مسلمانوں نے مجھے قبول کر لیا ہے اور میری دعوت کی تصدیق کر لی ہے مگر کنجریوں اور بد کاروں کی اولاد نے مجھے نہیں مانا ۔( آئینہ کمالات :۵۴)

۳… جو شخص ہماری فتح کا قائل نہ ہو گا تو صاف سمجھا جائے گا کہ اس کو ولد ا لحرام بننے کا شوق ہے ۔ ( انوار الاسلام :۳۰)

   پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خان قادیانی نے جب بانی ٔ پاکستان محمد علی جناح کی نماز ِ جنازہ میں باوجود وہاں موجود ہونے کے شرکت نہیں کی ، تو صحافیوں کے سوال پر اُس نے جواب دیتے ہوئے واضح طور پر کہا ’’ آپ لوگ مجھے ایک کافر حکومت کا مسلمان وزیر سمجھ لیں یا ایک مسلمان حکومت کا کافر وزیر ‘‘۔ظاہر ہے کہ اس جملے کا مقصد اپنے آپ کو کافر کہنا نہیں بلکہ قادیانیوں کے علاوہ پوری امت کو کافر قرار دینا ہے ۔ جو لوگ ساری امت ِ مسلمہ کو کافر بناتے پھریں وہ مسلمانوں سے کیسے یہ توقع رکھتے ہیں کہ انہیں اہل ِ اسلام میں سے محض ایک فرقہ شمار کر لیا جائے ۔

تیسری بات کا تعلق ۱۹۷۴ء کو قانون ساز اسمبلی کی کاروائی سے ہے ۔ قوی اسمبلی میں قادیانیوں کو صفائی پیش کرنے کا مکمل موقع فراہم کیا گیا اور ہر طرح انصاف کے تقاضے پورے کئے گئے ۔ یہ پوری کاروائی تاریخی و قومی دستاویز کے نام سے شائع ہو چکی ہے ۔ ہم صرف نئی نسل کیلئے مختصراً وہ پس منظر بیان کرنا چاہتے ہیں جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے ہمارے اراکین اسمبلی کو اس کا رِ خیر کی توفیق عطا فرمائی ۔

شورش کاشمیری مرحوم نے وہ تمام حوالہ جات تفصیل سے لکھے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ قادیانی تحریک پاکستان کے روزِ اول سے ہی پاکستان کا دشمن تھا اور اس دشمنی کی وجہ یہ تھی کہ مسلم آبادی والے ملک میں اُس کی اپنی موت کھلی آنکھوں نظر آرہی تھی ۔ پاکستان بننے کے بعد قادیانیوں نے اس مملکت پر اپنا غلبہ اور تسلط قائم کرنے کی بہت کوششیں کیں یہ مستقل طویل تاریخی داستان ہے ۔ بہر حال آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی کی امت اپنے مذموم عقائد کی برآوری کے لئے ملک کے کلیدی عہدوں کے طفیل اپنا ہی کھیل، کھیل رہی تھی، وہ ملک عزیز میں اپنا غلبہ چاہتے تھے۔ ان کی جرأتیں اور جسارتیں یہاں تک بڑھ گئی تھیں کہ ملک کے تعلیمی اداروں میں طلبہ یونین کے انتخابات میں علی الاعلان حصہ لیتے اور شکست کو اپنی انا کا مسئلہ بنا لیتے۔ نشتر میڈیکل کالج ملتان کی طلبہ یونین کے انتخابات میں ایک قادیانی طالب علم کے ہارنے کا انتقام انہوںنے اس انداز سے لیا کہ پوری امت ان کے خلاف شعلہ جوالہ بن گئیں۔ ۲۲؍مئی ۱۹۷۴ء کو نشتر میڈیکل کالج کے طلبہ کا ایک گروپ تفریح اور مطالعاتی دورے پر پشاور کیلئے چناب ایکسپریس سے روانہ ہوا۔ گاڑی جونہی ربوہ پہنچی تو وہاں حسب معمول قادیانی لڑکوں اور طلبہ کی بوگی کے لئے خصوصاً لڑکیوں (قادیانی حوروں) نے اپنا کفریہ لٹریچر تقسیم کرنا شروع کردیا جس پر طلباء نے اظہار ناپسندیدگی کیا اور ختم نبوت زندہ باد کے نعرے لگائے، اس کے جواب میں قادیانی مشتعل ہوگئے اور احمدیت زندہ باد، محمدؐیت مردہ باد (نعوذ باللہ)، مرزا غلام احمد کی جے، ایسے کفریہ اور اشتعال انگیز نعرے لگائے اور طلبہ کو زدوکوب کیا۔ اسی اثناء میں گاڑی چل پڑی اور یوں ایک بڑا حادثہ ٹل گیا۔ لیکن جب طلبہ کی واپسی اسی ٹرین سے ہوئی اور گاڑی جیسے ہی ۲۹؍مئی ۱۹۷۴ء کو سرگودھا اسٹیشن پہنچی تو قادیانی نوجوان ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مذکورہ بوگی میں بغیر کسی استحقاق کے سوار ہوگئے جیسے ہی ربوہ اسٹیشن آیا، بوگی کو چاروں طرف سے گھیر لیا گیا۔ طلبہ کو مار مار کر لہو لہان کردیا گیا۔ قادیانی اسٹیشن ماسٹر نے گاڑی کو نہ جانے دیا۔ جب یہ لٹا پٹا قافلہ فیصل آباد پہنچا تو ایک قیامت کا سماں تھا۔ ریلوے اسٹیشن پر مولانا تاج محمودؒ کی قیادت میں لوگ قادیانی دہشت گردی کے خلاف سراپا احتجاج تھے۔ قادیانیت کے خلاف مسلمانوں کی نفرت اور غم وغصہ کی لہر پورے ملک میں پھیل گئی۔ پنجاب اسمبلی میں اس واقعہ کی صدائے بازگشت سنی گئی۔ قائد حزب اختلاف علامہ رحمت اللہ ارشد، حاجی سیف اللہ خان اور جناب تابش الوری نے مطالبہ کیا کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ اسی روز قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف مولانا مفتی محمودؒ نے سانحہ ربوہ کے بارے میں آواز بلند کی کہ وہ اس مسئلہ کو زیر بحث لانا چاہتے تھے۔ وزیر تعلیم عبدالحفیظ پیرزادہ نے یہ استدلال پیش کیا کہ چونکہ امن و امان کا مسئلہ صوبائی نوعیت کا ہے اور یہ مسئلہ صوبائی اسمبلی میں پیش کیا جا چکا ہے، اس لئے قومی اسمبلی میں اس کی ضرورت نہیں۔ پورے ملک میں قادیانیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے۔ ۳۱؍مئی کو سانحہ ربوہ کی تحقیق کیلئے لاہور ہائی کورٹ کے جج جناب جسٹس کے ایم صمدانی پر مشتمل یک رکنی ٹریبونل کا اعلان کیا گیا۔ صوبہ سرحد کی صوبائی اسمبلی نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی قرار داد متفقہ طور پر منظور کرلی جبکہ صوبہ سندھ کی اسمبلی میں حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے درمیان اس مسئلہ پر سمجھوتہ ہوگیا۔ ۲۸؍جون ۱۹۷۴ء کو پنجاب اسمبلی کے ستر ارکان نے قرار داد پیش کی لیکن اس وقت کے اسپیکر شیخ رفیق احمد نے قرار داد خلاف ضابطہ قرار دے دی۔ ۲۸؍جون کو مولانا مفتی محمودؒ نے مجلس عمل کا اجلاس اسلام آباد میں منعقد کیا تاکہ قومی اسمبلی میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی قرار داد پیش کی جائے۔ مجلس عمل نے مسلمانوں سے قادیانیوں کے سوشل بائیکاٹ کی اپیل کی۔ ۳۰؍جون کو مولانا شاہ احمد نورانی ؒ نے قومی اسمبلی میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی تحریک پیش کی۔ یکم جولائی کو وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کرلیا۔ تحریک کا مورال ایساتھا کہ قوم کا ہرفرد خود کو تحریک کا حصہ سمجھتا تھا، پوری قوم نے ملت واحدہ کا عملی نمونہ پیش کیا۔ ادھر قادیانیوں نے اپنی خاص حکمت عملی کے تحت اندرون ملک تمام قومی بینکوں سے اپنا سرمایہ نکلوا کر بیرون ملک یا غیر ملکی بنکوں میں منتقل کرانا شروع کردیا تاکہ ملک میں معاشی ابتری پیدا ہوسکے۔ ادھر لندن میں بیٹھے سابق وزیر خارجہ پاکستان سر ظفر اللہ خان، حکومت پاکستان کو دھمکیاں دے رہے تھے کہ پاکستان میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا تو اس فرقے کے تمام لوگ بھرپور مزاحمت کریں گے اور کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔ قومی اسمبلی میں ۱۳ ؍روز تک قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا ناصر احمد اور لاہوری جماعت کے سربراہ صدر الدین لاہوری پر خصوصی جرح ہوئی اور ان کا حلفی بیان قلمبند کیا گیا۔ اس سلسلہ میں انصاف کے تمام تقاضے پورے کئے گئے۔

مرزا ناصر احمد نے قومی اسمبلی میں اپنی جماعت کی طرف سے محضر نامہ پیش کیا۔ جس کا جواب مجلس عمل نے علماء کرام کے مشورہ سے دیا جسے ’’ملت اسلامیہ کا موقف‘‘ کے نام سے شائع کرانے کے بعد اراکین اسمبلی میں تقسیم کیا گیا۔ لاہوری گروپ کے محضر نامہ کا جواب مولانا غلام غوث ہزارویؒ نے دیا۔ قادیانی و لاہوری جماعت کے سربراہوں کے مفصل بیانات، ان پر علماء کی جرح اور یحییٰ بختیار کے وضاحتی نوٹس کے دوران قادیانی مسئلہ کا ایک ایک گوشہ اراکین اسمبلی کے سامنے واضح ہوگیا ورنہ اسمبلی کے اکثر اراکین اس مسئلہ کو فرقہ وارانہ مسئلہ سمجھتے تھے۔ اٹارنی جنرل یحییٰ بختیار کی طرف سے قادیانی جماعت کے سربراہوں پر کی گئی جرح اپنی مثال آپ تھی اور اس کے نتیجے میں ارکان پارلیمنٹ کو فیصلے تک پہنچنے کیلئے کسی مشکل کا سامنا نہیںکرنا پڑا۔ وزیراعظم بھٹو نے ۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء فیصلہ کی تاریخ مقرر کردی۔ پوری قوم کی نگاہیں اس یوم سعید پر مرکوز ہو کر رہ گئیں۔ ۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء ،۱۹؍شعبان ۱۳۹۴ھ ملت اسلامیہ کی تاریخ کا وہ سنہری اور ناقابل فراموش دن ہے جب قومی اسمبلی نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا۔

اگر قادیانی تاریخ کا پہیہّ پیچھے کی طرف گھمانا چاہتے ہیں تو مسلمان بھی اپنی تاریخ دھرانا جانتے ہیں ۔ اگرمیدانِ سیاست کے کھلاڑی قادیانیوں کی ان پھرتیوں سے غافل ہیں تو کوئی بات نہیں ، امت مسلمہ آج بھی تاج ختم نبوت کے طرف اٹھنے والی ہر غلیظ آنکھ کو پھوڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ اگر ہمارے سیاسی لیڈر قادیانیوں کو بھائی کہہ کر امریکہ کی نظر میں معتبر ہونا چاہتے ہیں تو یہ بچگانہ سوچ اُنہی کو مبارک ہو ، امریکہ اور اس کے حواریوں کی مستقل چالبازیوں اور حکمرانوں کی مسلسل غفلت سے شمع ِ رسالت کے پروانوں کیلئے ماحول کچھ ایسا بنتا جا رہا ہے کہ :

آگ ہے ،اولادِ ابراہیم ہے ‘ نمرود ہے !

کیا کسی کو پھر کسی کا امتحاں مقصود ہے ؟

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online