Bismillah

618

۲۷صفرتا۳ربیع الاول۱۴۳۸ھ   بمطابق ۱۷تا۲۳نومبر۲۰۱۷ء

خوش قسمت کون ؟ (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 613 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Khush Qismat Kon

خوش قسمت کون ؟

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 613)

کبھی آپ نے سوچا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں کتنا خوش قسمت بنایا ہے ۔ ہم ایک طرف شمع ِ رسالت کے ان پروانوں کو اپنا مقتداء اور راہنما مانتے ہیں جنہیں صحابہ کرام ؓ  کہا جاتا ہے تو دوسری طرف ہم آسمانِ ہدایت کے اُن تاروں سے بھی ظلمت کدئہ دہر میں روشنی پاتے ہیں ‘ جنہیں اہلِ بیت کرام ؓ کہا جاتا ہے ۔

اگر ایک طرف ہمیں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ، سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ ، سیدنا عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ اور دیگر اصحابِ پیغمبر کی نسبت کا شرف حاصل ہے اور ہم اُنہیں اپنے سروں کا تاج سمجھتے ہیں تو دوسری طرف ہم سیدنا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ ‘ سیدنا حضرت حسن رضی اللہ عنہ ، سیدنا حضرت حسین رضی اللہ عنہ ، سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا ، دیگر بناتِ اطہار اور ازواج مطہرات کی برکات بھی سمیٹتے ہیں اور انہیں اپنی آنکھوں کا نور اور دلوں کا سرور جانتے ہیں

پھر ایسا کیوں نہ ہو کہ ان دونوں طبقات ‘ خواہ وہ حضرات صحابہ کرام ہوں یا اہل بیت اطہار ‘ ان کا تعلق ہی سرور کائنات ‘ فخرِ موجودات حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا ہے کہ جس کو بھی آفتاب نبوت سے پیار و محبت کا کچھ حصہ نصیب ہو گا ‘ وہ کبھی ان مقدس ہستیوں سے بغض و عداوت کا تعلق رکھ ہی نہیں سکتا ۔ بھلا جن لوگوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رشتے ناطے کیے ‘ جن کو دنیا و آخرت میں اپنا رفیق و زیر بنایا ‘ جن کو بار ہا مختلف اعزازات ‘ القابات اور عنایات سے نوازا ‘ کیسے ممکن ہے کہ کسی کے دل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور ان کی دشمنی جمع ہو جائے ۔

دنیا میں تو ہم نے یہی دیکھا اور یہی سنا ہے کہ جس سے انسان کو سچی محبت ہو جائے تو اُس کے محبوبوں سے بھی محبت ہو جاتی ہے ۔ محبوب تو بڑی بات ‘ اُس کے گلی کوچوں اور درو دیوار سے بھی محبت ہو جاتی ہے ۔ عربی کا ایک شاعر کہتا ہے :

امر علی الدیار دیار لیلی

اقبل ذاالجدار و ذاالجدار

وما حب الدار شغفن قلبی

و لکن حب من سکن الدیار

( میں جب اپنی محبوبہ کے علاقے سے گزرتا ہوں تو کبھی ایک دیوار کو چومتا ہوں اور کبھی دوسری دیوار کو بوسہ دیتا ہوں ۔ میری اس وارفتگی کی وجہ یہ نہیں کہ ان درودیوار کی محبت میرے دل میں موجزن ہے بلکہ اصل بات یہ ہے کہ یہاں بسنے والوں کی محبت نے میرے دل میں بسیرا کر لیا ہے )

میں حیران ہوتا ہوں اُن لوگوں پر جو ایک طرف تو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا دعویٰ بھی کرتے ہیں لیکن دوسری طرف اُن فرامین نبوت کو بھی نظر انداز کر دیتے ہیں ‘ جو حضرات ِ صحابہؓ اور اہلِ بیت ؓ اطہار کے بارے میں کتب حدیث میں بڑی تفصیل سے آئے ہیں ۔

 

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ارشاد تو ایسا ہے کہ جو بھی اُسے صرف ایک مرتبہ دل کی نگاہ سے پڑھ لے وہ کبھی آ پ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ‘ جن میں بہت سے اہلِ بیت بھی داخل ہیں ‘کے بار ے میں اپنے دل میں کوئی ادنیٰ خلش بھی نہیں رکھ سکتا ۔

امام ترمذی ؒنے اپنی سنن میں حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کی روایت سے اس حدیث پاک کو نقل کیا ہے ۔ وہ فرماتے ہیں :

’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرو ‘ اللہ سے ڈرو ۔ ان کو میرے بعد (طعن و تشنیع کا ) نشانہ نہ بنا لینا ۔ خوب سمجھ لو کہ جس نے ان سے محبت کی اس نے میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت کی اور جس نے ان سے بغض رکھا ‘ اس نے مجھ سے بغض ہی کی وجہ سے ان سے بغض رکھا اور جس نے ان کو تکلیف پہنچائی ‘ اس نے مجھے تکلیف پہنچائی اور جس نے مجھے تکلیف پہنچائی ‘ اس نے اللہ کو تکلیف دی اور جس نے ایسا کیا تو قریب ہے کہ اللہ کی طرف سے اُس کی پکڑ ہو گی ‘‘ ۔

اگر ہمیں ہمارے والد ‘ استاذ یا شیخ کسی کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی ذات کا واسطہ دے کر کہیں کہ اس کے ساتھ برائی نہ کرنا اور اس کی طرف سے دل میں کدورت نہ رکھنا تو ہر سلیم الفطرت انسان اُن کی یہ بات مان لے گا یا نہیں ۔ ضرور مانے گا پھر کیسے ممکن ہے کہ سید الاولین والاخرین ‘ شفیع المذنبین‘ ہمارے آقا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اپنے صحابہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا بار بار واسطہ دیں لیکن ہم اپنی بے سرو پا تحقیقات اور چند لغو اور بے بنیاد تاریخی روایات کی بناء پر اسے نظر انداز کر دیں ۔ نعوذ باللہ من ذلک

حدیث پاک کی معروف کتاب ‘ مشکوٰۃ المصابیح میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی ایک طویل حدیث ہے ‘ جس میں انہوں نے رحمت ِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی علامات ِ قیامت نقل کی ہیں ۔ اس حدیث کے آخری الفاظ کا مطلب اور مفہوم یہ ہے کہ :

’’ اور جب اس امت کے بعد میں آنے والے لوگ ‘ اس کے پہلے لوگوں کو برا کہنے لگیں اور اُن پر لعنت کرنے لگیں تو اُس وقت تم ان عذابوں کا انتظار کرنا کہ سرخ تیز و تند آندھی آجائے یا زلزلہ آجائے یا زمین دھنس جائے یا چہرے مسخ کر دئیے جائیں یا آسمان سے پتھر برسائے جائیں ‘‘ اعاذ نا اللہ من ذلک

اس حدیث پاک کے الفاظ ’’ و لعن آخر ھذہ الامۃ اولہا ‘‘ پر نامور محدث و فقیہ حضرت ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے بہت دردِ دل سے چند باتیں لکھی ہیں ‘ ہم اُن کا خلاصہ اپنے الفاظ میں نقل کرتے ہیں :

اس حدیث میں اس طرف اشارہ ہے کہ یہ برائی اسی امت کے ساتھ مخصوص ہے ، گزشتہ امتوں کے لوگوں میں اس برائی کا چلن نہیں تھا ، چنانچہ اس زمانے کے لوگوں میں سے کچھ لوگ اس برائی میں مبتلا ہیں کہ وہ ان گزرے ہوئے اکابر یعنی صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین تک کے بارے میں زبان لعن و دراز کرتے ہیں جن کے حق میں اللہ تعالیٰ یوں فرماتے ہیں :

’’ جن لوگوں نے سبقت کی ( یعنی سب سے ) پہلے ( ایمان لائے ) مہاجرین میں سے بھی اور انصار میں سے بھی اور جنہوں نے نیکو کاری کے ساتھ ان کی پیروی کی ، خدا ان سب سے خوش ہے ‘‘

اور ایک آیت میں یہ فرمایا کہ :

’’ ( اے محمد ) جب مومن آپ سے درخت کے نیچے بیعت کر رہے تھے تو اللہ تعالیٰ ان سے خوش ہوا ‘‘ ۔

کس قدر بد نصیبی اور شقاوت کی بات ہے کہ جن بندگان خاص سے اللہ راضی و خوش ہو ان سے ناراضگی و ناخوشی ظاہر کی جائے اور ان کے خلاف ہفوات بکے جائیں ۔ ان بندگان خاص کے مناقب و فضائل سے قرآن و حدیث بھرے ہوئے ہیں ۔ وہ پاک نفوس ایسی عظیم ہستیاں ہیں جنہوں نے سب سے پہلے خدا کے دین کو قبول کیا ، قبول ایمان میں سبقت حاصل کی ، نہایت سخت اور صبر آزما حالات میں خدا کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد و حمایت کی ، اللہ کے دین کا پرچم سر بلند کرنے کے لیے اپنی جانوں کی بازیاں لگائیں ، جہاد کے ذریعہ اسلام کی شوکت بڑھائی ‘ بڑے بڑے شہر اور ملک فتح کیے‘ کسی واسطہ کے بغیر پیغمبر ِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے دین کا علم حاصل کیا ، شریعت کے احکام و مسائل سیکھے ، دین کی بنیاد یعنی قرآن کریم کو سب سے زیادہ جانا اور سمجھا ۔ ان مقدس ہستیوں کے بارے میں تو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے ذریعہ امت کے تمام لوگوں کو یہ تلقین فرمائی کہ ان کے حق میں یوں کہا کریں :

’’ اے پروردگار ! ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بخش دے جنہوں نے قبول ایمان میں ہم پر سبقت حاصل کی ہے ‘‘۔

لیکن وہ لوگ کہ جو یا تو ایمان کی روشنی کھو چکے ہیں ، یا دیوانے ہو گئے ہیں ، ان مقدس ہستیوں اور امت کے سب سے افضل لوگوں کے بارے میں صرف زبا ن لعن و طعن دراز کرنے ہی پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ محض اپنے گندے خیالات و نظریات اور سڑے ہوئے فہم کی وجہ سے یہ کہہ کر ان پاک نفسوں کی طرف کفر کی بھی نسبت کرتے ہیں کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ ، عمر رضی اللہ عنہ ، اور عثمان رضی اللہ عنہ ، نے بلا استحقاق خلافت پر قبضہ کیا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلافت کے اصل مستحق علی رضی اللہ عنہ تعالیٰ عنہ تھے ۔ خدا ان عقل کے اندھوں کو چشم بصیرت دے آخر وہ کیوں نہیں سمجھتے کہ اس امت کے اگلے پچھلے تمام لوگوں نے اس بات کو غلط اور باطل قرار دیا ہے اور قرآن و سنت میں ایسی کوئی دلیل نہیں ہے جس سے یہ صراحت ہوتی ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلافت اول حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا حق تھا ۔ نیز صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے جن لوگوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے زمانۂ خلافت میں ان سے اختلاف کیا ، انہوں نے نعوذ باللہ کسی بری غرض کے تحت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی مخالفت نہیں کی بلکہ ان کا اختلاف ان کی اجتہادی رائے کے تحت تھا ۔ پھر اس وجہ سے ان پر لعن و طعن کرنا ، اور ان کے حق میں گستاخانہ باتیں منہ سے نکالنا نہایت ناروا بلکہ صریح زیادتی ہے ،بلکہ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ اگر یہ بھی مان لیا جائے کہ ان میں سے کسی نے بھی حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مخالفت غلطی کی وجہ سے کی تو بھی ان کو آخر کس بناء پر برا بھلا کہا جاسکتا ہے ، کیونکہ یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ انہوں نے مرنے سے پہلے اپنی غلطی سے توبہ کر لی ہو یا اگر توبہ بھی نہ کی ہو تو اللہ تعالیٰ کی ذات سے یہ غالب امید رکھنی چاہیے کہ وہ اپنی رحمت کے صدقہ میں اور ان کی گزشتہ خدمات کے بدلے میں ان کومغفرت سے نواز دے گا چنانچہ ابن عساکر رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ مرفوع روایت نقل کی ہے کہ :

’’( آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ) میرے (بعض ) صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین (اگر ) لغزش کا شکار ہوں گے (تو ) اللہ تعالیٰ ان کو میری صحبت اور میرے ساتھ تعلق رکھنے کی برکت سے بخش دے گا ‘‘ ۔

اس بات کو اس طرح بھی کہا جا سکتا ہے کہ ہم لوگ اکثر و بیشتر صغیرہ کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کرتے رہتے ہیں لیکن اس کے باوجود اپنے پروردگار کی رحمت اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کے امید وار رہتے ہیںتو کیا وہ لوگ جو اس امت کے سب سے افضل اور سب سے بڑے لوگوں کے زمرہ سے تعلق رکھتے ہیں ، اس بات کے مستحق نہیں ہیں کہ ان کے حق میں یہ نیک گمان رکھا جائے کہ اگر ان سے کوئی لغزش ہوئی بھی ہو گی تو یقینا اللہ تعالیٰ ان کے درجہ کی عظمت اور ان کے شرف صحابیت کی برکت سے ان سے درگزر فرمائے گا۔ کیا وہ اس بات سے بے خبر ہیں کہ نیک بخت وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے خود کے عیوب ان کو دوسروں کی عیب جوئی سے باز رکھتے ہیں کیا وہ لوگ اس فرمان رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کے منکر ہیں کہ اپنے مرے ہوئے لوگوں کو برائی کے ساتھ یاد نہ کرو ۔ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی نہیں ہے کہ ’’ جب تمہارے سامنے میرے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا ذکر ہو تو اپنی زبان کو قابو میں رکھو ‘‘ ۔

سنو سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا ہے :

’’ ابو بکر و عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی محبت ایمان کی ایک شاخ ہے اور ان دونوں سے بغض و عداوت کفر ہے ‘ انصار کی محبت ایمان کی ایک شاخ ہے اور ان سے بغض رکھنا کفر ہے ‘ اہل عرب کی محبت ایمان کی ایک شاخ ہے اور ان سے بغض و عداوت کفر ہے ، جس نے میرے صحابہ کو برے الفاظ سے یاد کیا وہ اللہ کی لعنت کا مستو جب ہوا اور جس نے ان کے بارے میں میرے حکم کی پاسداری کی،میں قیامت کے دن اس کی پاسداری کروں گا ‘‘ (مرقاۃ المفاتیح ۱۰؍۸۷۔۸۸ طبع دارالکتب العلمیۃ ‘بیروت )

اللہ کریم ہمیں حضرات صحابہ کرام اور اہلِ بیت اطہار کے دامن سے وابستہ رہنے والے خوش قسمت لوگوں میں شامل فرمائے اور ان میں سے کسی کی شان میں بھی ادنیٰ تنقیص کرنے کی بد قسمتی سے ہماری حفاظت فرمائے ۔ ( آمین )

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online