Bismillah

618

۲۷صفرتا۳ربیع الاول۱۴۳۸ھ   بمطابق ۱۷تا۲۳نومبر۲۰۱۷ء

اپنے ایمان کی حفاظت کریں (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 614 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Apne Eman ki Hifazat kerin

اپنے ایمان کی حفاظت کریں

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 614)

احادیث مبارکہ کے مطابق قیامت کے قریب بے شمار فتنے آئیں گے اورموجودہ دور میں بلا شبہ بڑی تیزی اور تسلسل کے ساتھ فتنوں کا ظہور ہو رہا ہے۔جس طرح ہم جان لیوا بیماریوں کے بارے میں بنیادی معلومات رکھتے ہیں ،اسی طرح ہمیں ایمان لیوا فتنوں کے بارے میں آگاہی ہونی چاہیے تاکہ ہم اپنی غفلت اور سستی کی وجہ سے ان کا شکار نہ ہو جائیں۔

 اس بارے میں تو کوئی دورائے نہیں ہو سکتیں کہ انسانوں کے درمیان اختلاف فطرتِ انسانی کا لازمی تقاضہ ہے۔ اگر آپ اس بات کو یوں کہہ لیں کہ سیدنا آدم علیہ السلام سے لے کر آج تک اُن کی اولاد نے جو کام سب سے زیادہ کیا ہے وہ ہے اختلاف! تو یہ بات سولہ آنے درست اور سو فیصد صحیح ہوگی۔ اردو کا یہ مصرعہ تو بہت ہی مشہور ہے کہ:

اے ذوقؔ اس جہاں کو زیب ہے اختلاف سے

بہرحال اس بارے میں اتنی بات ضرور یاد رکھنی چاہئے کہ ہر اختلاف نہ تو قابلِ تعریف اور نہ ہی ہر اختلاف قابلِ مذمت۔ اگر اختلاف اپنی حدود سے باہر نکل جائے اور اس کی آنچ اسلام کی قطعی احکام اور مسلمہ مسائل کو چھونے لگے تو بلاشبہ یہ وہی اختلاف و افتراق ہے جس کی مذمت قرآن و حدیث میں کی گئی لیکن اگر شرعی حدود کی پاسداری کے ساتھ متفقہ شرائط کی رعایت کرتے ہوئے، اختلاف کی اہلیت رکھنے والے حضرات کی طرف سے کوئی اختلاف سامنے آئے تو صرف لفظِ ’’اختلاف‘‘ کی آڑ لے کر اُن کو بُرا بھلا کہنا کسی طرح بھی درست طرزِ عمل نہیں ہے۔

لیکن ہمارے دور میں ایک طبقہ وہ پیدا ہوا جس نے اجتہاد کے نام پر الحاد کا بازار گرم کیا، دینِ اسلام کے مسلمہ مسائل کو اپنے فہم کی کند چھری سے ذبح کرنے کی مذموم کوششیں کیں اور حقیقت یہ ہے کہ مغرب سے مرعوب حلقے میں اس طبقے کو کافی پذیرائی بھی نصیب ہوئی۔ ایسے لوگوں نے ’’حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ تک کو نہیں بخشا، ڈاڑھی، پردہ، جہاد اور ہر وہ مسئلہ جس پر اہل مغرب نے اعتراض کیا، انہوں نے اس اعتراض کی حقیقت اور اس کی تہہ میں چھپی ہوئی عداوت اور حماقت کو سمجھے بغیر اپنے غلط افکار و آراء کے ذریعے امت میں نئے اختلافات کے بیج بو دئیے۔

یہ طبقہ سمجھتا ہے کہ اجتہاد اور فتوی کا مقام ، دینی مسائل میں تحقیق وتنقید ،حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم اور اسلاف امت کے اعمال وکردار اور مختلف دینی شعبوں میں حرف زنی کا حق ہر اس شخص کو حاصل ہے جس نے اسلامی علوم کا کچھ حصہ اردو ترجمے کی مدد سے پڑھ لیا ہو یا پھر مغرب کی کسی یونیورسٹی سے اسلامیات کی ڈگری حاصل کرچکا ہو۔ اسے اس عمل سے روکنا، اجتہاد دو فتوی کی شرائط اور حدود بتانا ،حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین کے مقام اور ان کے فتاوی کی اہمیت سے آگاہ کرنا، یہ سب اندھی تقلید اور آباء پر ستی ہے۔ حقیقت میں یہ طبقہ چاہتا یہ ہے دین ہماری مرضی کے مطابق ہونا چاہیے یعنی اسلام کے احکام کو نئے اجتہاد کے ذریعے اس طرح سے بدل دینا چاہیے کہ وہ ہمارے مغربی لٹریچر سے تیار شدہ ان خیالات اور تصورات کے ساتھ ہم آہنگ ہوجائے، جنہیں مغرب کی بھی مہر تصدیق حاصل ہے۔

 اس طبقے کے نزدیک ہر بات کی خوبی وخرابی کا معیار درحقیقت اپنا زاویہ نگاہ اور اپنی عقل نارسا ہے چونکہ ان کی عقل مغرب کے لٹریچر اور مستشرقین کی تحقیقات سے (جن میں انہوں نے بڑی خوبی کے ساتھ دین اور حاملین دین کے بارے میں تشکیک کا زہر بھر دیا ہے )پروان چڑھی ہوتی ہے اس لئے اسلام کے جس حکم پر ان کو اعتراض ہو یا جس پر عمل پیرا ہونا مشکل ہویا جو نفس کی خواہشات کے لئے رکاوٹ ہویا جس کی حکمت ومصلحت خود اپنی سمجھ میں نہ آئے تو اس کو یاد ائرہ دین سے خارج کردیتے ہیں یا مَن مانی دوراز کار تاویلات کے ذریعے اپنے مطلب کا معنی پہنا دیتے ہیں ( العیاذباللہ )۔ اس مقصد کے حصول میں ان کے لئے سب سے بڑی رکاوٹ حدیث وفقہ اور ان کے حاملین ( محدثین وفقہاء اور ائمہ مجتہدین ) ہیں لہٰذا ان کے مضامین اور تصنیفات میں اسلام کے ان سرچشموں اور حاملین کتاب وسنت کے بارے میں شکوک وشبہات پیدا کرنے کی پوری کوشش کی جاتی ہے ۔

حالانکہ اجتہاد اور ائمہ کے اقوال وفتاوی میں تحقیق کے لئے جو اصول وشرائط بیان کئے گئے ہیں ان کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ اتباع نفس اور اتباع ہوا کا راستہ کسی طرح نہ کھلنے پائے ، قرآن وسنت کی من مانی تاویلات اور غلط تشریحات کا سد باب ہوسکے اور تحریف کرنے والوں کی تحریف سے یہ دین محفوظ رہے۔

اس سلسلے میں اگر یہ بنیادی بات سمجھ لی جائے تو تمام گمراہیوں کا راستہ خود  بخود بند ہو جاتا ہے کہ ائمہ مجتہدین چونکہ اجتہاد کے اہل تھے لہٰذا انہوں نے اجتہاد کی بناء پر جو رائے بھی اختیار کی اس میں وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجر کے مستحق تھے لیکن ہرشخص نہ اجتہاد و اختلاف کا اہل ہے اور نہ ہر مسئلہ میں اجتہاد کی اجازت ہے ۔

اجتہاد کے لئے بنیادی طورپر دوباتیں ضروری ہیں:

۱۔ وہ مسئلہ جس میں اجتہاد کیا جارہا ہے وہ اجتہاد کی گنجائش بھی رکھتا ہو ۔

۲۔اجتہاد کرنے والے میں اجتہاد کی اہلیت بھی ہو ۔

پہلی بات کی وضاحت یہ ہے کہ دین کا جو مسئلہ درپیش ہو اس میں سب سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ قرآن وحدیث میں اس کا حکم موجود ہے یا نہیں ؟ اگر قرآن کریم میںموجود ہو تو اس کے قرآن کریم سے ثابت ہونے کی دو صورتیں ہوسکتی ہیں :

۱…قرآن کریم کی اس حکم پردلالت اور اس کا قرآن سے سمجھ میں آنا یقینی اور قطعی ہوگا ، ایسا اس وقت ہوتا ہے جب آیت میں کسی دوسرے حکم اور معنی کا احتمال نہ ہو اگر اس طرح کی صورت پیش آجائے تو اجتہاد کی بالکل اجازت نہیں ۔

۲…قرآن کریم کی اس حکم پر دلالت اور اس کا قرآن سے سمجھ میں آنا ظنی ہوگاتو اس صورت میں اجتہاد کی گنجائش ہوگی ۔

اور اگر اس مسئلہ کا حکم کسی حدیث سے ثابت ہورہا ہو تو اسکی بھی دو صورتیں ہیں :

۱… وہ حدیث متواتر ہوگی ( متواتر کا مطلب ہے کہ جس کو نقل کرنے والے ہر زمانے میں اتنے افراد ہوں کہ جن کا جھوٹ پر متفق ہونا ناممکن ہو )۔

 ۲…  وہ حدیث متواتر نہیں ہوگی ۔

 اگر حدیث متواتر ہو اور اس کی دلالت اپنے معنی پر یقینی ہو تو اس میں کسی قسم کا اجتہاد جائز نہیں ہوگا اور اگر حدیث متواتر کی دلالت اپنے معنی پر ظنی ہو یعنی اس میں کئی معنی کا احتمال ہوتب کسی ایک معنی کی تعیین کے لئے اجتہاد کی گنجائش ہے

اگر حدیث متواتر نہیں تو اس میں اجتہاد کے دوپہلو ہوں گے:

۱… ایک سند کے اعتبار سے یعنی اس حدیث کی سند کی تحقیق کی جائیگی تاکہ معلوم ہو کہ کیا اس حدیث کو روایت کرنے والے افراد اس قابل ہیں کہ ان پر اعتماد کر کے ہم اس حدیث کو قبول کرلیں اور اگر اعتماد کے لائق نہیں تو اس حدیث کو رد کردیں ؟

۲… حدیث غیر متواتر میں اجتہاد کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ حدیث کی دلالت کسی ایک معنی پر یقینی نہ ہو بلکہ ظنی ہو اس صورت میں حدیث کی مراد اور معنی متعین کرنے کیلئے اجتہاد کی گنجائش ہوگی ۔

اگر کوئی مسئلہ ایسا پیش آجائے جس کا حکم قرآن وحدیث میں صراحتاً نہیں ہے تو دیگر دلائل شرعیہ یعنی اجماع اور قیاس کی طرف رجوع کیا جائیگا ، جس حکم پر حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم یا ان کے بعد کے فقہاء امت کا اجماع ہوگا اس میں بھی اجتہاد کی گنجائش نہیں ہوگی ۔

خلاصہ یہ کہ وہ مسائل جن کے بارے میں صراحتاً قرآن وحدیث میں کوئی حکم موجود نہیں یا موجود تو ہے لیکن قطعی اور یقینی نہیں بلکہ ظنی ہے( قرآن کریم میں دلالۃً اور حدیث میں ثبوتاً یا دلالۃً) تو ان میں اجتہاد کی گنجائش ہے چنانچہ اصول فقہ کی کتابوں میں صراحت ہے کہ اجتہاد کا محل ہر وہ حکم شرعی ہے جس میں کوئی دلیل قطعی نہ ہو (اصول الفقہ الاسلامی ۲/۱۰۵۲) اور ایسے ہی اجتہادی مسائل میں جو کہ دین کے بنیادی مسائل نہیں تھے حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم اور ائمہ مجتہدین کا اختلاف ہوا ہے۔

دوسری بات جو اجتہاد کے لئے ضروری ہے اس کی وضاحت یہ ہے کہ اجتہادی مسئلہ میں اجتہاد کرنے والا اجتہاد کا اہل بھی ہو۔ جو لوگ اجتہادی اہلیت کے بغیر اجتہاد کرنے لگ جاتے ہیں وہ دانسۃ یا غیر دانسۃ طور پر دین میں تحریف کے مرتکب ہوجاتے ہیں ، اجتہاد اور اختلاف وہ شخص کرسکتا ہے جو علمی اور عملی اعتبار سے اس کا اہل ہو ، علمی اعتبار سے اہل ہونے کا مطلب حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے علامہ بغوی رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے یہ بیان فرمایا ہے کہ :

’’مجتہد وہ شخص ہے جو پانچ علوم کا جامع ہو:

 (۱) کتاب اللہ ‘‘کتاب اللہ کے جامع ہونے کا مطلب یہ ہے کہ کتاب اللہ میں ناسخ ومنسوخ ،مجمل ومفصل ، خاص وعام، محکم ومتشابہ ، کراہت، تحریم ، اباحت، ندب، اورو جوب کو جانتا ہو۔

 (۲)’’سنت‘‘ سنت کے جامع ہونے کا مطلب یہ ہے کہ احادیث میں سے بھی مذکورہ اشیاء کو جانتا ہو اور ساتھ ہی صحیح ، ضعیف ، مسند اور مرسل حدیثوں سے واقف ہو۔

 (۳) علمائے سلف کے اجماعی اور اختلافی فتاوی اس کی نظر میں ہوں تاکہ ان سے باہر ہوکر اجماع (خواہ اجماع مرکب ہو یا اجماع مفرد) کی مخالفت نہ ہو اور دوقولوں میں سے تیسرا قول ایجاد نہ ہو۔

 (۴) علم لغت

 (۵)’’علم قیاس‘‘ علم قیاس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کتاب اللہ ، سنت اور اجماع سے صراحتاً کوئی حکم ثابت نہ ہو تو ان سے حکم نکالنے کا جو طریقہ ہوگا وہ قیاس کہلائے گا ‘‘ (قیاس کی تفصیلات اصول فقہ کی کتابوں میں مذکور ہیں ) مذکورہ پانچ علوم کا ذکر کرنے کے بعد شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :

’’وإذعرف من کل من ھذہ الأنواع معظمہ فھوحینئذ مجتھد وإذا لم یعرف نوعامن ھذہ الأنواع فسبیلہ التقلید‘‘(عقد الجید ۴ وازالۃ الخفاء ۱/۲۱طبع نور محمد )

بقیہ صفحہ ۵ پر

’’اگر مذکورہ اقسام میں سے ہر قسم کا اکثر حصہ جانتا ہوگا تب مجتہد ہوگا اور اگر ایک قسم سے بھی ناواقف ہوگا تو اس کے لئے (نجات کا ) راستہ تقلید ہی ہے ‘‘

اسی طرح امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ:

 قاضی اور مفتی کے لئے فیصلہ کرنا اور فتوی دینا ( اپنے اجتہادسے) جائز نہیں ہے یہاں تک کہ وہ کتاب اللہ کا عالم ہوجائے ، علمائے تفسیر نے اس کی تفسیر میں جو کچھ فرمایا ہے اس کو جانتا ہو ، احادیث اور آثار کا عالم ہو ، علماء کے اختلاف کا عالم ہو ، غوروفکر کی اچھی صلاحیت رکھتا ہو ۔۔۔جب کسی مسئلہ میں شبہ ہوجائے تو مشورہ کرتا ہو یہ سب امام مالک رحمۃ اللہ علیہ اور ہر شہر کے تمام فقہاء کا مذہب ہے ۔(جامع بیان العلم لابن عبدالبر ۳۵۱)

پھر جو شخص دینی مسائل میں اجتہاد کرنے کا دعوی کر رہا ہے ،اس کے لیے علمی اعتبارسے اجتہاد کا اہل ہونے کے ساتھ ساتھ عملی اعتبار سے بھی اجتہاد کا اہل ہونا ضروری ہے ، عملی اعتبار سے اجتہاد کا اہل ہونے کا مطلب شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے یہ بیان فرمایا ہے کہ :

’’ان علوم کے جامع ہونے کے ساتھ بدعات سے بچتا ہو ، کبیرہ گناہوں سے دور رہتا ہو ، صغیرہ گناہوں پر اصرار نہ کرتا ہو ( اگر مذکورہ دونوں باتیں پائی جائیںتو) اس کے لئے اجتہاد اور (اجتہاد کی بنیاد پر) فتوی دینا جائز ہے۔ (عقد الجید ۵)

آج کل جو لوگ ٹی وی چینلز کی بدولت مجتہد بن بیٹھے ہیں اور آئے دن اسلام کے کسی نہ کسی مسئلے پر اجتہاد کا شوق فرماتے رہتے ہیں ،عام طور پر وہ اجتہاد کی تمام شرائط  سے بالکل خالی ہوتے ہیں ۔اس لیے ان کی چکنی چپڑی گفتگو کے جال میں پھنسنے کے بجائے پہلے ان کے معیار تحقیق کو جانچ لینا چاہیے ۔جب ہم معمولی بیماریوں کا علاج کسی راہ چلتے انجان آدمی سے نہیں کرواتے تو دین کے معاملہ میں ہر کسی کی بات کو بلا سوچے سمجھے کیسے مان سکتے ہیںاور اگر کسی کے پاس اتنی تحقیق کے لیے بھی اہلیت اور وقت نہیں تو اس کے لیے سلامتی کا راستہ یہی ہے کہ وہ انہی ائمہ کرام پر اعتماد کرے،جن کی پیروی سینکڑوں سالوں سے بے شمار مفسرین ،محدثین اور محققین کرتے چلے آئے ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں ہر قسم کے فتنے اور گمراہی سے محفوظ رکھ کر راہ ہدایت پر گامزن رکھے۔(آمین ثم آمین)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online