Bismillah

618

۲۷صفرتا۳ربیع الاول۱۴۳۸ھ   بمطابق ۱۷تا۲۳نومبر۲۰۱۷ء

توہم پرستی کی بیماری سے بچیں (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 615 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Toham Parasti

توہم پرستی کی بیماری سے بچیں

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 615)

آج مسلمان کہلانے والوں میں سے بہت سے لوگوں کا نہایت مہلک اور بد ترین عیب توہم پرستی میں مبتلا ہونا ہے ۔

عام طور پر کچھ لوگ جو کمزور عقیدے کے حامل اور ذہنی طور پر پسماندہ ہوتے ہیں ، اس لیے وہ حالات سے بہت جلد دلبرداشتہ ہو جاتے ہیں ۔ اگر ان کی مرضی کے مطابق کوئی کام نہ ہو تو دل چھوڑ بیٹھتے ہیں اور درپیش معاملے کو عقل و شعور کی روشنی میں دیکھنے جا نچنے اور پرکھنے کے بجائے مختلف قسم کے توہمات کا شکار ہو جاتے ہیں ۔

اگر کسی خاتون کا خاوند اپنی ماں کی طرف مائل ہو اور اس کی خدمت گزاری اور اطاعت شعاری کے جذبے سے سر شار ہو تو بیوی سمجھتی ہے کہ ساس نے میرے شوہر پر کوئی جادو ٹونا کر دیا ہے ۔ وہ اپنے گریبان میں جھانکنے اور یہ سوچنے کی زحمت کبھی گوارا نہیں کرتی کہ میں اپنے شوہر اور ساس سے کیسا برتائو کرتی ہوں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ میرا خاوند میرے رویے کی بنا پر مجھ سے بے رخی برت رہا ہے ؟ بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ خاوند ماں اور بیوی دونوں سے یکساں حسنِ سلوک سے پیش آتا ہے مگر بیوی کو یہ معقول بات بھی گوارا نہیں ہوتی … چنانچہ وہ اپنے خاوند کو ’’ سدھارنے ‘‘ اور اپنے تئیں راہِ راست پر لانے کے لیے مختلف آستانوں ، درباروں ، گدی نشینوں اور عاملوں کا رخ کرتی ہے ۔

اسی طرح اگر کسی خاتون کا بیٹا اپنی بیوی کا دھیان رکھتا ہے اور اس کی ضروریات بخوبی پوری کرتا ہے تو ماں طیش میں آکر طرح طرح کے وسوسوں کا شکار ہو جاتی ہے اور اپنے بیٹے کو اپنی طرف مائل کرنے کیلیے جادو ٹونہ اور تعویذ گنڈے شروع کر دیتی ہے ۔

بعض لوگ تو اس قدر توہم پرست ہوتے ہیں کہ اگر کوئی شخص خود اپنی طرف سے کوئی بات بنا کر کہہ دے کہ فلاں دن فلاں واقعہ رونما ہوا تھا ، لہٰذا اس دن کام نہ کرنا اور اگر تم نے کوئی کام کیا تو تم طرح طرح کی مشکلات اور مصیبتوں میں پھنس جائو گے ، تو وہ نادان لوگ اس دن اپنا کام کاج ہی چھوڑ دیتے ہیں ۔

بعض لوگوں نے بعض مہینے اور کچھ دن مخصوص کر رکھے ہیں کہ فلاں دن یا مہینے میں فلاں کام نہیں کرنا یا فلاں دن اور فلاں مہینے میں فلاں کام کرنے سے امیدیں برآتی ہیں ، مثلاً : ماہِ محرم کو شادیوں کی ممانعت کا مہینہ سمجھا جاتا ہے اور اس کے بارے میں یہ عقیدہ رواج پا گیا ہے کہ جو شخص اس مہینے میں شادی کرتا ہے ، اس کی شادی کامیاب نہیں ہوتی یا ایسے شخص پر مصیبتیں نازل ہونے لگتی ہیں ۔

بعض لوگ کو ے کے بولنے کو مہمانوں کی آمد کی اطلاع قرار دیتے ہیں اور بعض لوگ کالی بلی کے راستہ کاٹ جانے کو بد فال سمجھتے ہیں ۔

بعض لوگ لڑکی کی پیدائش کو نحوست خیال کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جب سے یہ پیدا ہوئی ہے گھر سے برکت اٹھ گئی ہے ۔ میں نے اس کی پیدائش کے بعد کبھی خوشی کا منہ نہیں دیکھا ۔ اس کے پیدا ہونے کی وجہ سے اہل خانہ مختلف تنگیوں اور آزمائشوں میں مبتلا ہیں ۔ بعض خواتین یہی نظریہ اپنی بہو کے بارے میں بھی رکھتی ہیں ۔

یہ تمام امور سراسر توہمات اور لغویات ہیں ۔ ان کا حقائق ِ زندگی سے دور کا بھی تعلق نہیں ہے ۔ یہ تمام امور خلاف شریعت بلکہ بدعت کے زمرے میں آتے ہیں ۔ ان میں سے بعض امور تو ایسے ہیں جن کے مشرکین مکہ بھی قائل تھے ۔ ایسی باتوں اور دیگر شرکیات و کفریات کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے انہیں ابدی جہنمی قرار دیا ۔

 ہو سکتا ہے کہ کوئی ان امور کو معمولی سمجھتا ہو اور انہیں دنیا و آخرت میں اپنی کامیابی کی ضمانت گردانتا ہو لیکن درحقیقت یہ تمام امور اُس کی دنیا و آخرت کے لیے انتہائی نقصان دہ اوراُس کی ناکامی کا سبب ہیں ۔

کچھ لوگ چھوت چھات کے قائل ہیں ۔ وہ خود بھی اس بات سے ڈرتے ہیں اور دوسروں کو بھی ڈراتے ہیں کہ کسی کو ڑھی ، خارش زدہ یا کسی اور متعدی بیماری میں مبتلا شخص کے پاس نہ بیٹھو ۔ یہ تو حاملہ عورت کو مرگ والے گھر جانے سے منع کرتے ہیں یا کسی خاتون کو کسی زچہ کے پاس جانے سے روکتے ہیں ۔ یہ سب ایسے امور ہیں جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے ۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا :

لا عدوی ولا طیرۃ ولا ھامۃ ولا صفر (سنن ابی داؤد)

’’چھوت چھات ، بد شگونی ، اُلو (کے بولنے ) اور ماہ صفر ( کو منحوس سمجھنے) کی کوئی حقیقت نہیں ہے ‘‘۔

اس حدیث کو بار بار پڑھیںاور غور کر یں کہ یہ فرمان کس ہستی کا ہے ؟ آج لوگ ہر جاہل ، کم عقل اور فضول بات کی اتباع کرنے والوں کی بات پر اعتماد کرتے ہیں ، حالانکہ اس کی بات کی کوئی سند ہوتی ہے نہ حقیقت ۔ ایسے لوگ خود بھی گمراہ ہیں اور لوگوں کو بھی گمراہ کرتے ہیں ۔ لیکن جس عظیم ہستی کا یہ فرمان ہے وہ وحی الٰہی کے ذریعے سے ان تمام امور کی حقیقت سے خوب واقف ہے ۔ اسے معلوم ہے کہ چھوت چھات کس قدر موثر ہے اور بد شگونی کی حقیقت کیا ہے ۔

اس حدیث میں نبی اکرم ﷺنے جن توہمات کا تذکرہ فرمایا ہے ان میں سے پہلی چیز بیماری کے متعدی ہونے کا عقیدہ ہے ۔ آپ ﷺنے چھوت چھات کی بات سے صاف انکار کیا ہے اور ہمیں یہ نکتہ سمجھایا ہے کہ کسی کا بیماری میں مبتلا ہونا محض اللہ تعالیٰ کی مشیت سے ہوتا ہے ۔ بیماری بذات خود متعدی نہیں ہوتی کہ خود اپنی مرضی سے کسی کو لگ جائے ۔

ہم اپنی روز مرہ کی زندگی میں دیکھتے ہیں کہ جس گھر میں کوئی کسی متعدی بیماری ، مثلاً طاعون ، کوڑھ وغیرہ میں مبتلا ہو تو اس کا سارا گھرانہ اس میں مبتلا نہیں ہوتا بلکہ کنبے کے اکثر افراد اس بیماری سے محفوظ ہوتے ہیں ۔ اگر یہ بیماری بذات خود متعدی ہوتی تو کم از کم مریض گھرانے کے دیگر افراد کو تو ضرور مبتلائے آزمائش کرتی ۔ لیکن ایسا نہیں ہوتا ، بلکہ ہوتا یوں ہے کہ کوئی ہمسایہ یا گلی محلے میں دور کے گھر والا اس بیماری میں مبتلا ہو جاتا ہے تو شور مچ جاتا ہے کہ فلاں آدمی کی وجہ سے اسے یہ بیماری چمٹ گئی ہے ، حالانکہ یہ شخص شاید اس کے پاس بیٹھا بھی نہ ہو ۔ اسی لیے نبی ٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایسے بیمار کے ساتھ بیٹھ کر بھی کھا لیا کرتے تھے جس کے متعلق لوگ سمجھتے تھے کہ اسے کوئی متعدی مرض لاحق ہے

حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :

’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوڑھی کا ہاتھ تھام کر اسے اپنے دستِ مبارک کے ساتھ کھانے کے پیالے میں ڈالا اور فرمایا :’’ بسم اللہ ‘‘ پڑھو اور اللہ پر اعتماد اور بھروسہ کر کے کھائو ۔ ‘‘ ( سنن ابو دائود )

البتہ اگر عقیدہ غلط نہ ہو اور صرف احتیاط کی بناء پر شرعی حدود میں طبی ہدایات پر عمل کریں تو شرعاً اس کی گنجائش ہے ۔

دوسری بات جس کا آپ ﷺنے شدت سے انکار کیا ہے ، وہ ہے بد شگونی لینا ، کسی چیز ، دن ‘ مہینہ یا فرد کو منحوس سمجھنا ہے ۔

 ہر مسلمان کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو مفید بنایا ہے اور کسی چیز میں ہر گز کوئی نحوست نہیں رکھی ۔ مختلف اشیاء کے منحوس ہونے یا ان سے بد شگونی لینے کا عقیدہ رکھنا مشرکین مکہ کا طرز عمل ہے۔ رسول اللہ ﷺکے دور میں مختلف قسم کی بد شگونیاں لی جاتی تھیں جن میں سے دو کا تذکرہ آپ ﷺنے گزشتہ حدیث میں کیا ہے ۔ ان میں سے ایک چیز الو کی آواز سے بد شگونی لینا اور دوسری چیز صفر کے مہینے کو منحوس سمجھنا ہے ،

 حالانکہ ان دونوں کی مطلقاً کوئی حقیقت نہیں ہے ۔

اُلّو کو موجودہ دور میں بھی منحوس سمجھا جاتا ہے ، لہٰذا اس عقیدے کے قائل لوگوں کو چاہیے کہ وہ مشرکین مکہ کی تقلید سے باز رہیں اور جانوروں کو منحوس اور رحمت ِ الٰہی سے دھتکارا ہوا قرار نہ دیں ۔ اسی طرح کوے کی کائیں کائیں سے کوئی شگون لینا بھی ناجائز اور غلط ہے

دوسری چیز جس کی رسول اللہ ﷺنے تردید فرمائی وہ ماہ صفر کو منحوس سمجھنا ہے ۔ چونکہ عرب محرم میں جنگ و جدال کو حرام سمجھتے تھے ، جیسا کہ ہماری شریعت مطہرہ کے مطابق بھی یہ حرمت والا مہینہ ہے ، تو عموماً محرم گزرنے کے بعد ان کے ہاں لڑائی جھگڑوں اور جنگ و جدال میں شدت آجاتی تھی ، لیکن وہ اپنا قصور ماننے کی بجائے ماہ صفر کو منحوس قرار دیتے تھے کہ اس میں قتل و غارت اور خون ریزی کا بازار گرم ہو جاتا ہے ، جنگ کے شعلے بھڑک اٹھتے ہیں اور مصیبتیں نازل ہوتی ہیں ۔

اسی طرح وہ بدھ کے دن کو بھی منحوس سمجھتے تھے اور ماہ شوال میں شادی کرنا بھی معیوب گرادنتے تھے ۔

آج کچھ مسلمان بھی مشرکین مکہ کے طرز عمل پر چلتے ہوئے محرم میں شادی کو منحوس قرار دیتے ہیں اور یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ اگر کسی عورت کی شادی محرم میں ہو تو اس کا نباہ مشکل ہے یا اُسے اولاد کے مسائل لا حق ہو جاتے ہیں اور اس کا سبب یہ ہے کہ اس مہینے میں سیدناحضرت حسین ؓکی شہادت ہوئی تھی ۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ یہ تمام مہینے تو اللہ تعالیٰ کے پیدا کردہ ہیں ۔ان میں کوئی خرابی نہیں ۔ ہاں ! بعض مہینے اور دن اللہ تعالیٰ کی مشیت سے باعث برکت ہیں ‘ مثلاً ماہ رمضان اور ذوالحجہ کا پہلا عشرہ وغیرہ ۔

ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ مذکورہ بالا تمام امور سے بد شگونی لینے سے باز آجا ئے کیونکہ بد شگونی کو رسول اللہ ﷺنے شرک قرار دیا ہے ۔ آپ ﷺکا ارشاد ہے :

الطیرۃ شرک ، الطیرۃ شرک (سنن ابی داؤد)

’’ بد شگونی شرک ہے ، بد شگونی شرک ہے ‘‘

ہم میں سے ہر شخص کو چاہیے کہ یہ عقیدہ اپنا لے کہ کوئی بھی چیز اللہ تعالیٰ کی مرضی کے بغیر بذات خود بھلائی رکھتی ہے نہ برائی ، بلکہ جو کچھ بھی ہوتا ہے وہ صرف اللہ تعالیٰ کی مرضی سے ہوتا ہے ۔ آل فرعون بھی اپنے اوپر نازل ہونے والے عذابِ الٰہی کو موسیٰ علیہ السلام کی نحوست سمجھتے تھے ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

’’ جب ان پر خوش حالی آتی تو کہتے : یہ ہمارے ہی لیے ہے اور اگر انہیں بد حالی آلیتی تو اسے موسیٰ اور ان کے ساتھیوں کی نحوست ٹھہراتے ہیں ۔ خبردار ! ان کی نحوست اللہ کے ہاں ( علم میں ) ہے لیکن ان میں سے اکثر (لوگ)نہیں جانتے ۔‘‘(سورئہ الاعراف۔۱۳۱)

حضرت عکرمہ ؒبیان کرتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓکے پاس بیٹھا تھا ، اچانک ایک پرندہ چیختا ہوا گزرا تو لوگوں میں سے ایک شخص نے اس سے شگون لیتے ہوئے کہا کہ اس میں خیر ہے اور اب بھلائی آئے گی تو حضرت ابن عباس ؓنے فرمایا :

ما عند ھذا،لاخیرولا شر(القرطبی)

’’ اس پرندے کے پاس کوئی خیر ہے نہ کوئی شر ۔‘‘

لوگوں کے توہمات میں سے ایک ستاروں کے انسانی زندگی پر اثر انداز ہونے کا عقیدہ ہے ۔ اور لوگوں کی اسی دلچسپی کے باعث علم نجوم صرف لوٹ کھسوٹ کا دھندا بن کر رہ گیا ہے ۔ لوگ نِت نئے طریقوں سے سادہ لوح عوام بلکہ اچھے خاصے پڑھے لکھے لیکن دین سے بے خبر لوگوں کو بھی اپنے جال میں پھنسا کر انہیں لوٹتے ہیں ۔ وہ انہیں سنہری قسمت سازی کے سبز باغ دکھاتے ہیں اور یہ بچارے پکے پھل کی طرح ان کی جھولی میں گر پڑتے ہیں۔

جبکہ حقیقت یہ ہے کہ انسان کی قسمت سازی میں ستاروں کا کوئی دخل ہے نہ وہ اس کام کے لیے بنائے گئے ہیں ۔

حضرت قتادہ ؒفرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے ان ستاروں کو تین مقاصد کے لیے پیدا کیا ہے :

(۱)… آسمان کی زینت کے لیے ۔

(۲) شیاطین کو مارنے اور انہیں بھگانے کے لیے

(۳) اور بحرو بر میں سمت معلوم کرنے کے لیے

جو شخص ان کے علاوہ دیگر امور کی تکمیل میں انہیں سبب قرار دیتا یا سمجھتا ہے ، وہ غلطی پر ہے ۔ اس شخص نے اپنے آپ کو ہر قسم کی بھلائی سے محروم کر لیا ہے ۔ اس نے ایسی چیز کے بارے میں تکلف کیا ہے جس کا اسے کچھ علم ہی نہیں ہے ۔

ماہِ صفر کی آمد آمد ہے اور بہت سے احباب نے اس مہینے میں شادی اور دیگر کاموں کے بارے میں پوچھنا شروع کر دیا ہے ‘ اسی لیے اس موضوع پر یہ چند باتیں عرض کر دیں ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ جو مسلمان ‘ کالی بلی ‘ الّو ‘کوا ‘ جھاڑو اور اپنے سائے سے بھی ڈرے گا وہ بے چارہ دشمنان ِ اسلام کا کیا مقابلہ کر سکے گا ۔ ایسا مسلمان تو وقت آنے پر کفار کے لیے تر نوالہ ثابت ہو سکتا ہے ۔ اس لیے ہمیں ایسے فالتو ‘ بے ہودہ اور بے اصل خیالات سے اپنے دلوں کو پاک رکھنا چاہیے ۔

اللہ تعالیٰ سب مسلمانوں کو دین کی صحیح سمجھ اور اُس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔ (آمین)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online