Bismillah

618

۲۷صفرتا۳ربیع الاول۱۴۳۸ھ   بمطابق ۱۷تا۲۳نومبر۲۰۱۷ء

احتساب کے اسلامی اصول (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 616 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Ehtasab k Islami Usool

احتساب کے اسلامی اصول

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 616)

آج کل وطن عزیز میں احتساب کے نعرے کی گونج ہے ، کچھ لوگ اس سے خوش ہیں اور کچھ ناخوش ۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ہمارا ان دونوں فریقوں سے کوئی تعلق نہیں ہے لیکن جب کچھ لوگ اپنے ذاتی و گروہی مفادات کیلئے اسلامی نظریات کا کندھا استعمال کرنا چاہتے ہوں تو پھر یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ صحیح اسلامی تعلیمات کو واضح طور پر بیان کر دیا جائے ۔

 اسلام احتساب کا نہ صرف حامی ہے بلکہ اس کیلئے بہتر قواعد و ضوابط بھی فراہم کرتا ہے ۔ اس سلسلے میں اسلام کی نظر میں امیر ، غریب ، عالم  جاہل ، کالے ، گورے ، حکمران اور عوام سب برابر ہیں ۔ یہاں تک کہ اسلامی نظام میں کوئی محتسب بھی ، احتساب کے عمل سے بالا تر نہیں ہے ۔ اسلام میں فوری اور جلد بازی پر مشتمل احتساب کے بجائے قانونی تقاضوں کی تکمیل پر احتساب کا جو بہترین نظام ہے ، اس سے معاشرے میں افراتفری اور افتراق و انتشار جنم لینے کے بجائے امن و سکون عام ہوتا ہے ۔

ہمارے ہاں کے نظام عدل میں جو خامیاں ہیں ، وہ اس وقت زیرِ بحث نہیں لیکن اتنا تو ہر شخص جانتا ہے کہ ایک بے سہارا اور بے بس انسان کیلئے اس نظام سے انصاف حاصل کر لینا تقریباً نا ممکن بن چکا ہے ۔ یہ کیسا نظام عدل ہے کہ جس میں ظالم اور سفاک ، خائن اور بد دیانت تو آزاد ہی نہیں ، ہر عزت و تکریم مستحق سمجھے جاتے ہیں اور ایک غریب اپنے حق کے حصول کے لیے بھی سالہا سال تک ٹھوکریں کھاتا ہے اور بالآخر ہار مان کر بیٹھ جاتا ہے ۔

یہاں میں دورِ نبوت کے دو مستند واقعات پیش کرنا چاہتا ہوں ، جس سے پتہ چلتا ہے کہ اسلام میں احتساب کیسے ہوتا ہے ۔ یہ دونوں واقعات انتہائی دلچسپ بھی ہیں اور سبق آموز بھی ۔

عہد نبوی میں بنو مخزوم کی ایک عورت لوگوں سے روز مرہ استعمال کی مختلف چیزیں اُدھار لیا کرتی اور استعمال کے بعد واپس نہیں کرتی تھی۔ لوگ اپنی چیزوں کا مطالبہ کرتے تو وہ سرے سے انکار کر دیتی کہ میں نے یہ چیزتم سے نہیں لی ۔ اُس کی تخریب کاری حد سے بڑھ گئی تو لوگوں نے یہ معاملہ رسول اللہ ﷺ کی عدالتِ عالیہ میں پیش کیا ۔ آپ نے فیصلہ کیا کہ اُس عورت کا ہاتھ کاٹ دیا جائے ۔ قریش کو یہ بات ناگوار گزری کہ ایک بڑے قبیلے بنو مخزوم سے تعلق رکھنے والی عورت کا ہاتھ کاٹا جائے ۔ انہوں نے نبی کریم  ﷺ سے اس سلسلے میں بات چیت کرنا چاہی تاکہ سزا میں کمی کر دی جائے ۔لوگوں نے کہا اس کام کی ہمت صرف اسامہ بن زید ؓ  کو ہوسکتی ہے جو رسول اللہ ﷺ کے پیارے ہیں اور آپ کے چہیتے زید بن حارثہ ؓ کے فرزند ہیں ۔ اُنہوں نے رسول اللہ  ﷺ کے گھر میں پرورش پائی تھی اور آپ اُنہیں بیٹوں کی طرح چاہتے تھے ۔ قریش نے حضرت اسامہؓ سے بات کی ۔ حضرت اسامہؓ رسول اللہ  ﷺ کے ہاں آئے ۔ آپ نے اُنہیں مرحبا کہا اور اپنے قریب بٹھایا ۔ اسامہؓ نے کہا کہ اس سزا میں کمی کر دیجئے کیونکہ اُس عورت کا تعلق معززین قریش سے ہے ۔ اسامہؓ نبی کریم  ﷺ کو قائل کرنے کی کوشش کرتے رہے اور نبی کریم ﷺ خاموشی سے سنتے رہے ۔ آپ کا چہرہ متغیر ہو گیا ۔ آپ نے غصے میں آکر اسامہؓ  کو اُن کی غلطی سے آگاہ کرتے ہوئے کہا :

’’اسامہؓ ! کیا تم اللہ کی حد کے بارے میں سفارش کر رہے ہیں ؟‘‘

حضرت اسامہؓ  کا ماتھا ٹھنکا ۔ اُنہیں اپنی غلطی کا ادراک ہو گیا ۔ اُنہوں نے کہا :’’ اے اللہ کے رسول  ﷺ ! میرے لیے مغفرت کی دعا کر دیجئے ۔ ‘‘

 آپ  ﷺ منبر پر کھڑے ہوئے ۔ اللہ کی حمد و ثنابیان کی اور کہا :

’’ اما بعد ! تم سے پہلے لوگوں کی ہلاکت کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ اُن کا بڑا آدمی چوری کرتا تو اُسے چھوڑ دیتے اور کوئی غریب شخص چوری کرتا تو اُس پر حد نافذ کرتے۔ اُس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اگر فاطمہ بنت ِ محمد چوری کرتی تو میں اُس کا ہاتھ بھی کاٹ دیتا ۔ ‘‘

پھر آپ  ﷺکے حکم سے اُس عورت کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔

حضرت عائشہ ؓ بتاتی ہیں :’’ بعد کے دنوں میں اُس عورت کی توبہ بہت سچی ثابت ہوئی۔  وہ میرے پاس آیا کرتی تھی اور میں اُس کی ضرورت اللہ کے نبی  ﷺ کے سامنے پیش کیا کرتی تھی۔ ‘‘(بخاری)

 اس واقعہ میں ایک جملہ تو ایسا ہے جو عدالت و انصاف کی پوری تاریخ پر بھاری ہے ۔

اسی طرح ایک دوسرا واقعہ بد کاری کا ہے جس کی تفصیل مشہور مفسر امام بغوی ؒ نے سورۃ المائدہ(آیت ۱۴۳) کی تفسیر میں اس طرح نقل کی ہے کہ خیبر کے یہودیوں میں ایک بد کاری کا واقعہ پیش آیا اور تورات کی مقرر کردہ سزا کے مطابق دونوں مجرموں کو سنگسار کرنا لازم تھا ، مگر یہ دونوں کسی بڑے خاندان کے آدمی تھے ، یہودیوں نے اپنی پرانی عادت کے مطابق یہ چاہا کہ ان کے لیے سزا میں نرمی کی جائے ، اور ان کو یہ معلوم تھا کہ مذہب اسلام میں بڑی سہولتیں دی گئی ہیں ، اس بناء پر اپنے نزدیک یہ سمجھا کہ اسلام میں اس سزا میں بھی کمی ہو گی ، خیبر کے لوگوں نے اپنی برادری بنی قریظہ کے لوگوں کے پاس پیغام بھیجا کہ اس معاملہ کا فیصلہ محمد (ﷺ) سے کرا دیں ، اور دونوں مجرموں کو بھی ساتھ بھیج دیا ، مقصد ان کا بھی یہ تھا کہ اگر آپ ﷺ کوئی ہلکی سزا جاری کر دیں تو مان لیا جائے ورنہ انکار کر دیا جائے ، بنو قریظہ کو پہلے تو تردّد ہوا کہ معلوم نہیں آپ  ﷺ کیسا فیصلہ کریں اور وہاں جانے کے بعد ہمیں ماننا پڑے ، مگر کچھ دیر گفتگو کے بعد یہی فیصلہ رہا کہ ان کے چند سردار حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ان مجرموں کو لے جائیں اور آپ  ﷺ ہی سے اس کا فیصلہ کرائیں ۔

چنانچہ کعب ابن اشرف وغیرہ کا ایک وفد ان کو ساتھ لے کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور سوال کیا کہ شادی شدہ مرد و عورت اگر بد کاری میں مبتلا ہوں تو ان کی کیا سزا ہے ؟ آپ  ﷺ نے فرمایا کہ کیا تم میرا فیصلہ مانو گے ؟ انہوں نے اقرار کیا ، اس وقت جبریل امین، اللہ تعالیٰ کا حکم لے کر نازل ہوئے کہ ان کی سزا سنگسار کر کے قتل کر دینا ہے ، ان لوگوں نے جب یہ فیصلہ سنا تو بوکھلا گئے اور ماننے سے انکار کر دیا ۔

جبریل علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشورہ دیا کہ آپ ان لوگوں سے یہ کہیں کہ میرے اس فیصلہ کو ماننے کے لیے ابن صوریا کو حَکَم (ثالث) بنا دو ، اور ابن صوریا کے حالات و صفات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتلا دئیے ، آپ  ﷺ نے آنے والے وفد سے کہا کیا تم اس نوجوان کو پہنچانتے ہو جو سفید رنگ مگر ایک آنکھ سے معذور ہے ، فدک میں رہتا ہے جس کو ابن صوریا کہا جاتا ہے ، سب نے اقرار کیا ، آپ  ﷺ نے دریافت کیا کہ آپ لوگ اس کو کیسا سمجھتے ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ علماء یہود میں روئے زمین پر اس سے بڑا کوئی عالم نہیں ، آپ  ﷺ نے فرمایا ، اس کو بلائو ۔

چنانچہ وہ آگیا ، آپ  ﷺ نے اس کو قسم دے کر پوچھا کہ اس جرم میں تورات کا حکم کیا ہے؟ یہ بولا کہ قسم ہے اس ذات کی جس کی قسم آپ نے مجھ کو دی ہے ، اگر آپ قسم نہ دیتے اور مجھے یہ خطرہ نہ ہوتا کہ غلط بات کہنے کی صورت میں تورات مجھے جلا ڈالے گی ، تو میں یہ حقیقت ظاہر نہ کرتا ، حقیقت یہ ہے کہ حکم اسلام کی طرح تورات میں بھی یہ ہی حکم ہے کہ ان دونوں کو سنگسار کر کے قتل کرایا جائے ۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تم پر کیا آفت آئی کہ تم تورات کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہو ، ابن صوریا نے بتلایا کہ اصل بات یہ ہے کہ زنا کی سزا شرعی تو ہمارے مذہب میں یہی  ہے مگر ہمارا ایک شہزادہ اس جرم میں مبتلا ہو گیا ، ہم نے اس کی رعایت کر کے چھوڑ دیا ، سنگسار نہیں کیا ، پھر یہی جرم ایک معمولی آدمی نے کیاتو ذمہ داروں نے اس کو سنگسار کرنا چاہا ۔ مجرم کے قبیلہ کے لوگوں نے احتجاج کیا کہ اگر شرعی سزا اس کو دینی ہے تو اس سے پہلے شہزادے کو دو ، ورنہ ہم اس پر یہ سزا جاری نہ ہونے دیں گے ، یہ بات بڑھی تو سب نے مل کر صلح کر لی کہ سب کے لیے ایک ہی ہلکی سزا تجویز کر دی جائے اور تورات کا حکم چھوڑ دیا جائے ،چنانچہ ہم نے کچھ مار پیٹ اور منہ کالا کر کے جلوس نکالنے کی سزا تجویز کر دی اور اب یہی سب میں رواج ہو گیا ۔

اس روایت سے گزشتہ حدیث پاک کی تصدیق ہو جاتی ہے کہ پہلی امتوں کی بربادی کے اسباب میں سے ایک بڑا سبب احتساب میں فرق کرنا بھی تھا ۔

کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ  ﷺ سے اسلامی نظام احتساب کے یہ اہم اصول ثابت ہوتے ہیں:

(۱)… اصل محتسب اللہ تعالیٰ ہے :

کتاب و سنت نے اس یقین کو مسلمانوں کے ذہن میںمضبوط کر دیا کہ اصل ’’ سمیع و بصیر‘‘ (سننے والا اور دیکھنے والا) اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ہے یہاں تک کہ وہ ’’علیم بذات الصدور‘‘ (دلوں کا حال جاننے والا) بھی ہے ۔ انسانوں کی دی ہوئی سزا قابل برداشت ہو سکتی ہے لیکن محتسب کائنات کی سزا اپنی ہئیت و کمیت میں کسی انسانی پیمانے کے ادراک سے باہر ہے ۔ اسی تیقن کا نتیجہ تھا کہ اسلامی معاشرہ تقوی کا مرقع بن گیا ، کسی کی نظر میں نہ آنے والا مجرم بھی خود کو قانون کے حوالے کر دیتا تاکہ پاک کر دیا جائے ۔ یہ اصل محتسب کا خوف تھا کہ انسان اندر تک سے دھلتے چلے گئے اور انہیں یہ معرفت نصیب ہوئی کہ ہر وقت اور ہر حال میں ایک محتسب ان پر نظر رکھے ہوئے ہے ۔

(۲)… احتساب کے لیے:

اسلام کی نظر ِ احتساب میں امیر ، غریب ، عالم ، جاہل ، گورے ، کالے ، حکمران ، عوام سب برابر ہیں ۔ حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ نے جب حضرت بلال ؓ کے بارے میں ناپسندیدہ الفاظ کہے تو محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں جاہلیت کا اثر باقی ہے ۔ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جب ام المومنین حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں کہا کہ وہ پستہ قد ہیں تو محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا احتساب کرتے ہوئے فرمایا اس بات کے اثر سے اگر تمہاری زبان سمندر میں ڈالی جائے تو سمندر کا ذائقہ بدل جائے۔ آ پ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر ِ احتساب سے کوئی نہ بچ پاتا تھا بلکہ جو جتنا قریب ہوتا اُسے اتنے ہی سخت احتساب کا سامنا کر نا پڑتا ۔

(۳)…محتسب خود بھی قابل احتساب:

اسلامی نظام احتساب میں کوئی بھی احتساب کے عمل سے بالا تر نہیں ہے ۔ جو جس مقام و منصب پر ہے اس کے احتساب کے لیے نظام کی گرفت موجود ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عمر مبارک کے آخری حصہ میں ایک بار مسجد میں تشریف لائے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا اگر میں نے کسی کی پیٹھ پر کوڑا مارا ہو تو میری پیٹھ حاضر ہے وہ بدلہ لے لے ، کسی کی بے آبروئی کی ہو تو میری آبرو حاضر ہے وہ بدلہ لے لے ۔ یہ تاریخ عدل میں ایک اور روشن باب کا اضافہ تھا جس کی نظیر اس سے قبل آسمان نے کبھی نہ دیکھی تھی ۔

(۴)… فوری ، نتیجہ خیز ، سبق آموز اور عبرت انگیز احتساب :

احتساب کا عمل محض سزا سنانے کے لیے ہی نہیں ہوتا بلکہ اس سے مقصود قابل احتساب جرائم کی تکرار کو معاشرے میں کم سے کم درجہ تک لے جانا بھی ہے ، اس کے لیے لازمی ہے کہ احتساب فوری ، نتیجہ خیز ، سبق آموز اور عبرت انگیز ہو اور اس عمل کے دہرانے والے کو سوچتے ہی گزشتہ مجرم کا انجام آنکھوں میں گھوم جائے ۔ شاید اسی لیے قرآن نے حکم دیا کہ مجرمین کو لوگوں کے سامنے سزا دی جائے ۔

غزوہ احزاب سے واپسی پر جب امیر المجاہدین صلی اللہ علیہ وسلم ہتھیار اتار کر غسل کی تیاری فرما رہے تھے تو جبریل علیہ السلام نے آکر عرض کیا کہ آپ نے ہتھیار اتار دیے کیا ؟ اور ابھی فرشتوں نے تواتارے ہی نہیں ۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوران غسل صحابہ کرام کو پیغام بھیجا کہ اتنی تیزی کے ساتھ بنی قریظہ کی طرف بڑھو کہ عصر و ہیں پہنچ کرادا کرو ۔ یہ احتساب اتنی فوری نوعیت کا تھا کہ دشمنوں کے مکہ پہنچنے سے قبل غداروں کے گریبان تک مسلمانوں کا ہاتھ پہنچ گیا ۔ اس فوری ، نتیجہ خیز ، سبق آموز اور عبرت انگیز احتساب کا یہ نتیجہ برآمد ہوا کہ پھر ایک طویل عرصہ تک غداری کا دروازہ ہی بند ہو گیا ۔ اس احتسابی عمل میں بنی قریظہ کے چار سو افراد کو تہہ تیغ کر دیا گیا ۔

(۵)… سرعام احتساب:

عوام تک سزا کے عبرت کا سبق کو پہنچانا مقاصد احتساب میں سے ایک ہے ۔ چھپ کر سزا دینے سے جرم تو ضرور اپنے منطقی انجام کو پہنچ پائے گا لیکن معاشرہ اس نظام کے ثمرات سے محروم رہے گا ، چنانچہ بنی قریظہ کے غداروں کو مدینہ شہر کے عین وسطی بازار میں گڑھے کھود کر ان کو دو دو تین تین کی ٹولیوں میں لایا جاتا اور قتل کر کے گڑھوں میں دھکیل دیا جاتا ۔

(۶)… قانونی تقاضوں کی تکمیل :

کتاب و سنت میں عمل احتساب کے لیے قانونی تقاضوں کی تکمیل کو بہت ضروری خیال کیا جاتا ہے ۔ جلد بازی ، ناپختہ شہادت ، ظن و گمان یا شک کی بنیاد پر کبھی احتساب کی اجازت نہیں دی جاتی ۔ یہودیوں کے زانی جوڑے کے احتساب کے لیے خود انہی کی مقدس کتاب سے فیصلہ کیا گیا ، بنی قریظہ نے جس سے فیصلہ کرانے کے لیے کہا اسی سے فیصلہ کر ایا گیا ، حد زنا جاری کرنے سے پہلے کئی مرتبہ مجرم کو خود اور اس کے قبیلے والوں کو انتباہ کیا گیا ۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ مبارکہ تھا کہ اگر کوئی مجرم اقرار جرم کرتا تو آپ اس سے کئی سوالات کرتے تاکہ اطمینان ہو جائے کہ اس کا اقرار کسی دبائو ، خوف یا بیماری کا نتیجہ نہ ہو اور بعض اوقات تو ایک سے زائد نشستوں میں اقرار کرواتے تھے اور مہلت دیتے تھے لیکن قانونی تقاضوں کی تکمیل کے بعد احتساب اور انصاف سے گریز نہ کرنا اسلامی تعلیمات کا خاصہ ہے

اللہ تعالیٰ ہم سب کو صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور دنیا و آخرت کے ہر عذاب سے ہم سب کی حفاظت فرمائے ۔(آمین ثم آمین)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online