Bismillah

618

۲۷صفرتا۳ربیع الاول۱۴۳۸ھ   بمطابق ۱۷تا۲۳نومبر۲۰۱۷ء

سچے وارث (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 617 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Sache Waris

سچے وارث

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 617)

قافلہ شہدا ء کتنا عظیم ہے،یہ برادری کتنی مبارک ہے اور یہ قبیلہ کتنی بلند نسبت رکھتا ہے۔ہر آئے دن اس کی آبادی میں اضافہ ہی ہوتا چلا جا رہا ہے اور سلام ہے ان ماں باپ پر،ان نوجوانوں پر اور ان جاں نثاروں پر جنہوں نے ان راہوں کو ویران نہیں ہونے دیا ،جنہوں نے مکاری ،عیاری اور عیاشی کے سارے حیلے بہانوں کو نظر انداز کر کے ثابت کر دیا کہ آج اکیسویں صدی میں بھی الحمد للہ تعالیٰ!اسلام کی شان پر ،حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس پر اور اہل ایمان کے تحفظ کے لیے جان دینے والے زندہ ہیں ۔

وہ کڑیل خوبصورت نوجوان شوق شہادت میں مست ،ذہانت ایسی کہ لوگ عش عش کر اٹھے ،خطابت ایسی کہ ہر سمت سے صدائے آفریں بلند ہو ،صحت ایسی کہ ہر کو ئی رشک کرے،دنیا اپنی تمام تر رعنائیوںاور خوبصورت اداوں کے ساتھ اس کے سامنے تھی اور آج کے نوجوان کو اپیل کرنے والی ہر چیز اس کی دسترس میں تھی لیکن وہ نہ جانے کس مٹی کا بنا ہوا تھا اور اس پر رب کا کیسا خاص فضل اور کرم تھا کہ اسے ایک ہی دھن سوار تھی ،ایک ہی نشہ اس کے دل اور دماغ پر چھایا ہوا تھا ، وہ لیلائے شہادت کے  فراق میں مچلتا رہا ،تڑپتا رہا ،روتا رہا اور راستے ڈھونڈتا رہا ۔ اسے جب بھی دیکھا تو یہی لگن،یہی جذبہ ،یہی دھن اور انیہ خیالوں میں مست ومگن ۔

ہاں یہ سچ ہے کہ ہمارا عزیز طلحہ چلا گیا لیکن وہ تو کب سے جانے کے لیے بے تاب بیٹھا تھا ۔وہ جب بھی بولتا تھا تو اس کی تان شہادت پر ہی ٹوٹتی تھی ۔اور وہ فرمائش کرتا تھا تو اسی کے لیے ،وہ اپنی چاہت کا اظہار کرتا تو اسی کے لیے ۔برسوں سے وہ بیتاب تھا ،مضطرب تھا ،بے قرار تھا ،اس کا حال ایسا تھا کہ گویا کسی کی تلاش میں ہے اور آج جب اس کو سکون آگیا وہ اپنی چاہت کو پا گیا اور اس نے قافلہ شہداء میں اپنا نام لکھوا لیا تو ہم سب کے لیے اپنی یادیں چھوڑ گیا، اپنی وفاوں کے نقوش انمٹ کر گیا اور ہمیں زندگی کا اصل مطلب سمجھا گیا ۔

اقبال مرحوم نے کہا تھا :

اگر عثمانیوں پر کوہ غم ٹوٹا تو کیا غم ہے

کہ خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا

بے شک یہ عزیز طلحہ جیسے ستارے ہی ہوتے ہیں جو ڈوبتے ہیں تو افق پر پیغام سحر چھوڑ جاتے ہیںاور انہی کی قربانیوں کی بدولت قومیں آزادی کی نعمت سے سرفراز ہوتی ہیں ۔یہ ستا رے اسی لیے جنم لیتے ہیں ،اپنی خوبصورت اداوں سے سب کے دلوں کو کھینچتے ہیں اور پھر صبح نو کی امید دلاتے ہوئے غروب ہو جاتے ہیں۔ 

رحمتِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات نے جہاں مسلمانوں کیلئے زندگی کو قیمتی بنایا اور اس کو گزارنے کیلئے وہ طور طریقے سکھائے جن کی بدولت انسانی حیات کی قدروقیمت میں اضافہ ہوا تو وہاں ہی ایک مسلمان کی موت کو بھی بہت اعلیٰ اور ارفع بنا دیا۔ اگر ایک مسلمان دین کی خاطر اپنی گردن کٹواتا ہے اور اپنے لہو کا نذرانہ راہِ الٰہی میں پیش کرتا ہے تو وہ ایسا انمول اور بے بہا ہو جاتا ہے کہ لاکھوں زندگیاں بھی اُس کی ظاہری موت پر قربان کی جا سکتی ہیں۔ سعادت کی زندگی اور شہادت کی موت دونوں ہی اسلام کا نصب العین اور طرّہ امتیاز ہیں۔

قرآن و سنت نے شہادت کے جو فضائل بتائے اور اس پر جو انعاماتِ الٰہی گنوائے، اُن پر یقین رکھنے والے حضرات کی ایسی بے مثال جماعت تیار ہوئی جن کیلئے شہادت سے بڑھ کر اور کوئی انعام نہیں تھا۔ اُن کے سپہ سالار برسرِ میدان دشمنوں کو کہتے تھے:

اللہ کی قسم!میرے ساتھ وہ لوگ ہیں جو موت سے ایسی محبت رکھتے ہیں جیسے تم لوگ شراب کو محبوب رکھتے ہو۔

ہمارے یہ شہزادے جن صحابہ کرامؓ کے شوقِ شہادت کے سچے وارث ہیں ،ان کے حالات کی صرف ایک جھلک ملاحظہ کرلیتے ہیں:

بیعت عقبہ ثانیہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار میں سے بارہ نقیب منتخب فرمائے۔ ان میں سے نو کا تعلق خزرج سے تھا اور تین کا قبیلہ اوس سے۔ اوس کے سرداروںمیں سے ایک سعد بن خیثمہ بھی تھے۔ سعد خود بھی صحابہ میں سے تھے اور یہی شرف ان کے والد حضرت خیثمہ کو بھی حاصل تھا۔غزوہ بدر کیلئے جب صحابہ کرام مدینہ منورہ سے نکل رہے تھے تو ان کے والد نے کہا:

بیٹا عورتوں اور بچوں کی حفاظت کیلئے ہم میں سے ایک کا گھر پر ٹھہرنا ضروری ہے تم یہ قربانی دو اور مجھے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جانے دو۔

اس پر حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے اپنے والد محترم کو جو جواب دیا وہ ان کے ایمان اور اللہ سے گہرے تعلق کی روشن دلیل ہے۔ سعد نے بالکل انکار کردیا اور کہنے لگے:ابو جنت کے علاوہ اگر کوئی اور معاملہ ہوتا، تو میں یہ قربانی دیتا، لیکن مجھے اللہ سے پوری امید ہے کہ وہ اس سفر میں مجھے شہادت نصیب فرمائے گا۔

باپ نے بیٹے کی یہ بات سننے سے انکار کردیا اور بحث شروع ہوگئی۔ دونوں موت کی آغوش میںجانے کیلئے بے قرار ہیں اور پھر ہر ایک کی تمنا یہ ہے کہ کسی بھی طور وہ حق بندگی ادا کرے، قضیہ پھیلتا چلا گیا اور آخر کار باپ اور بیٹے نے قرعہ اندازی کا فیصلہ کرلیا کہ جس کا بھی نام نکلے اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے سمجھ کر قبول کرلیا جائے۔ قرعہ اندازی ہوئی تو حضرت سعد ؓ کا نام نکل آیا۔ شاداں و فرحاں بدر کی طرف روانہ ہوئے۔

اس پہلی رزم حق و باطل میں جن حضرات کو شہادت کی عظمت سے سرفراز فرمایا گیا ان میں سے ایک یہ بھی تھے۔ بدر میں پہنچے تو طعیمہ بن عدی سے مقابلہ ہوا۔ جس چیز پر قرعہ اندازی کی وہ مل گئی اور جس جنت کو وہ دیکھ رہے تھے اللہ تعالیٰ نے انہیں وہاں پہنچادیا۔

کوئی آدمی اللہ تعالیٰ کیلئے اس قدر آسانی سے نہ صرف یہ کہ جان دے دے بلکہ اس مقصد کیلئے باپ بیٹے میں قرعہ اندازی ہونے لگے۔ اس دور میں یہ معاملہ سمجھنا اور سمجھانا بہت مشکل ہے اور وجہ اس کی یہ ہے کہ ہم نے زندگی کو موت پر ترجیح دے رکھی ہے، جبکہ انہوں نے موت کو زندگی پر ترجیح دی تھی۔ ہمیں تو زندگی گزارنے کا ڈھنگ نہیں آتا انہیںجینے اور مرنے کے اصول و قواعد، اسباب وعلل تمام حقیقتیں معلوم تھیں، جن عظیم مقاصد کی تکمیل وہ کرنا چاہتے تھے۔ ان کا یقین اس راہ کی دشواریاں آسان کردیتا تھا۔ ہم اس یقین کاذکر تو کیا کریں ان مقاصد ہی کی خبر نہیں جن کیلئے وہ اپنی جان پرکھیل گئے۔ علامہ اقبال نے ایسے ہی حضرات کے بارے میں کہا تھا۔ ؎

اس کی امیدیں قلیل اس کے مقاصد جلیل

اس کی ادا دل فریب اس کی نگہ دل نواز

نرم دم گفتگو گرم دم جستجو

رزم ہو یا بزم ہو پاک دل و پاک باز

حضرت سعدؓ بدر میںشہید ہوئے اس کے ایک سال بعد احد کا کارزار گرم ہوا۔ باپ خیثمہ رضی اللہ عنہ جو قرعہ اندازی میں رہ گئے تھے، اپنے بیٹے کو خواب میں دیکھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت مبارکہ میں حاضر ہوئے اور عرض کیا:

اللہ کے رسول میں نے کل رات اپنے بیٹے کو خواب میں دیکھا، نہایت حسین وجمیل شکل میںہے جنت کے باغات اور نہروں میں سیر وتفریح کر رہا اور کہتا ہے ابو آپ بھی یہیں آجائیں۔ دونوں جنت میں اکٹھے رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے جو مجھ سے وعدہ کیا تھا وہ پورا ہوگیا۔

اپنی بات مکمل کی اور عرض کیا:

یا رسول اللہ!مجھے بدر میں شرکت کی تمنا تھی، اس سعادت کو حاصل کرنے کیلئے مجھ میں اور میرے بیٹے میں قرعہ اندازی ہوئی، وہ جیت گیا، اس کے نام قرعہ نکلا اور وہ شہید ہوگیا، میں رہ گیا، اس کا بہت افسوس ہے

پھر اپنی عمر کا حال بیان کیا اور تمنا کی وہی عرض کی کہ اللہ کے رسول!اب بیٹے سے ملنا چاہتا ہوں۔ بوڑھا ہوگیا ہوں، ہڈیاں کمزور ہوگئی ہیں اور اب تمنا یہ ہے کہ کسی طرح اپنے پروردگار سے جاملوں۔ یارسول اللہ دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ شہادت نصیب فرمائے اور میں اپنے بیٹے سعد سے جنت میں جا کر مل لوں۔

اس سچی طلب، جہاد کی تڑپ اور شہادت کی تمنا کیلئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعا کرنے میں کیا چیز مانع ہو سکتی تھی۔

ابن قیم فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کیلئے دعا فرما دی اور وہ احد میں شہید ہوئے۔

باپ جو بوڑھا ہوچکا تھا، جس کی ہمت جواب دے رہی تھی اپنے بیٹے سعد کے پاس جنت میں پہنچ گیا۔ وہ خود بوڑھا تھا مگر شوق شہادت جوان تھا۔ جسم کمزور تھا مگر عزائم مضبوط تھے۔ جان سے باپ بیٹا دونوں گزر گئے مگر آن قائم رکھی۔اپنے بعد میں آنے والوں کو یہ نصیحت سکھانے کیلئے کہ

جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا

وہ شان سلامت رہتی ہے

یہ جان تو آنی جانی ہے

اس جان کی تو کوئی بات نہیں

انہی اہل عزیمت کے سچے  وارث آج بھی کشمیر کے کوہساروں میں، افغانستان کے برف پوش پہاڑوں میں، فلسطین کے گلی کوچوں میں اور عراق و شام کے شہروں دیہاتوں میں جسموں پر اسلحہ سجائے اور دلوں میں آرزوئے شہادت لئے وقت کے ستم پیشہ کفار سے برسرِپیکار ہیں۔ آفرین ہے ان جوانوں پر جن کی جوانیاں قبلہ اوّل کی حفاظت کیلئے، حرمین شریفین کے تحفظ کیلئے، بلادِ اسلامیہ کی آزادی کیلئے اور سب سے بڑھ کر فریضہ جہاد کی بقاء اور آبیاری کیلئے کام آرہی ہیں۔یہی وہ لوگ ہیں جنہیں فاروقی اور حسینی کہلانا سجتا ہے اور تاریخ میں عظمت و عزت کے تاج انہی پیشانیوں کا حسین جھومر بنیں گے۔

شہادتوں کا موسم پورے جوبن پر ہے، آزمائش کے طوفان پوری شدت سے رواں دواں ہیں، کفر کی آندھیاں مخلص و منافق اور کھرے و کھوٹے میں خطِ امتیاز کھینچ رہی ہیں۔ ایسے میں تاریخِ اسلام کے لاکھوں شہداء کا خون مسلمانوں کو اُن کی عزت اور آزادی کی راہ دکھا رہا ہے۔

اللہ تعالیٰ  تمام شہدا کی شہادتوں کو اعلی ٰ درجے میں قبول فرمائے ،پیچھے رہ جانے والوں کو صبر جمیل عطاء فرمائے اور امت مسلمہ کو ظالموں سے نجات بخشے (آمین ثم آمین)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online