Bismillah

652

۶ تا۱۲ذوالقعدہ ۱۴۳۹ھ  بمطابق    ۲۰تا۲۶جولائی۲۰۱۸ء

مشکل حالات میں بہترین سہارا (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 618 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Mushkil Halaat mein Behtreen Sahara

مشکل حالات میں بہترین سہارا

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 618)

آج ہر شخص پریشانیوں میں جکڑا ہوا ہے اور حکومتی اقدامات کی وجہ سے آئے روز ان پریشانیوں میں اضافہ ہی ہوتا چلا جارہا ہے ۔ ویسے تو دنیا میں ہر وقت ہی تبدیلیاں آتی رہتی ہیں ، کبھی صبح ہے تو کبھی شام، کبھی چاندنی ہے تو کبھی اندھیرا ، کبھی دن چھوٹے ہیں تو کبھی راتیں ، کبھی خشکی ہے تو کبھی برسات ، شاعر نے بالکل سچ کہا ہے     ؎

کسی کی ایک طرح پر بسر ہوئی نہ انیسؔ

عروج ِمہر بھی دیکھا تو دو پہر بھی دیکھا

ہر شخص کی زندگی میں جتنے الگ الگ حالات گزرتے ہیں ، وہ انقلابات دنیا کو سمجھنے کے لئے کافی ہیں ۔ کبھی انسان پر ایسا وقت آتا ہے کہ اس کی خوشیاں اپنی آخری حدوں کو چھو رہی ہوتی ہیں اور ہر وقت وہ فرحت وانبساط میں ڈوبا ہوتا ہے ۔ ایسے حالات میں اسے بھول کر بھی یہ خیال نہیں آتا کہ یہ دنیا کبھی دھوپ اور کبھی چھاؤں کا مصداق ہے اور اس کی یہ خوشیاں کبھی غم اور پریشانی بھی بدل سکتی ہیں۔ اسی طرح کبھی اس کے برعکس ایک انسان پر تکالیف اور پریشانیوں کی وہ یلغار ہوتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو دنیا کا بدقسمت شخص سمجھتا ہے ۔ اس وقت اگر کوئی اس کے سامنے اچھے حالات کی تصویر کشی کرے اور اسے پریشانیاں دور ہونے کی امید دلائے تو وہ اسے کبھی اس پر یقین کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا ۔ حالانکہ دنیا کا غم ہو یا خوشی ، اس کی حقیقت یہی ہے کہ :

فر   ح    و    حزن      مد  ۃ

لا الحزن دام ولا السرور

’’یعنی خوشی ہو یا رنج وغم دونوں تھوڑی دیر کے ہیں ، غم ہمیشہ باقی رہتا ہے نہ ہی خوشی‘‘

یہ سب کچھ برحق ہے اور عقل مند وہ ہی ہے جو ہر حال میں ان حقائق کو سامنے رکھے ۔ خوشی کی صورت میں شرعی حدود کی پاسداری کرتا رہے، فخر وتکبر سے اپنا دامن بچائے رکھے اور دوسروں کی تحقیر وتوہین سے اپنے دلوں اور اپنی زبان کو پاک رکھے ، تکالیف وپریشانیوں میں رحمت الہی سے مایوس نہ ہو ، امید کا دامن تھامے رکھے اور جائز اسباب اختیار کرنے کے ساتھ دعاؤںکا اہتمام کرتا رہے۔

ہمارے وہ حکمران جو خدمت خلق کانعرہ لگاکر اقتدار میںآئے تھے ، اب وہ عوام سے جینے کاحق بھی سلب کرکے عوام کی تمناؤں کا خون اور اب اشیاء خوردو نوش، پٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ، ان تمام مسائل نے بالکل وہ ہی کیفیت پیدا کر دی ہے ، جسے صدیوںپہلے شیخ سعدیؒ نے یوں بیان کیا تھا    ؎

چناں قحط سالے شد اندر دمشق

کہ یاراں فراموش کردند عشق

’’ یعنی دمشق میں ایک سال اتنا قحط پڑا کہ یا رلوگ عشق وغیرہ جیسے چونچلے سب بھول گئے ‘‘ ۔

ایسے حالات میں ہر مسلمان کیلئے سب سے بڑی جائے پناہ اور سامانِ تسلی رحمت ِ دو عالم ﷺکے وہ ارشادات گرامی ہیں ‘ جن میں امراض کی صحیح تشخیص بھی ہے اور مکمل علاج بھی ۔ جو دنیا میں کامیابی و کامرانی کا ذریعہ ہیں تو آخرت میں بھی باعث ِ سر فرازی ۔ بندہ نے یہ احادیث ِ مبارکہ اور ضمناً چند اہم روایات امام حدیث شیخ ابو بکر عبداللہ بن ابی الدنیا رحمۃ اللہ علیہ ( المتوفیٰ ۲۸۲ھ) کے رسالہ ’’الفرج بعد الشدۃ ‘‘ کے اردو ترجمہ ’’ مصیبت کے بعد راحت‘‘ ( مؤ لفہ مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع رحمۃ اللہ علیہ) سے نقل کی ہیں :

 

حدیث… امام ابو بکر ابن ابی الدنیارحمۃ اللہ علیہ اپنی سند کے ساتھ بروایت حضرت علی کرم اللہ وجہہ نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: (مصیبت کے وقت) حق تعالیٰ کی رحمت سے مصیبت دور ہونے کا انتظار ایک عبادت ہے اور جو شخص تھوڑے رزق پر راضی ہو جائے گا حق تعالیٰ اس کے تھوڑے عمل پر راضی ہو جائے گا ۔

حدیث  … حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ  فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل کی دعا مانگو کہ حق تعالیٰ اس کو پسند فرماتا ہے اور افضل عبادت ( بعد فرائض کے) یہ ہے کہ آدمی ( مصیبت کے وقت ) زوالِ مصیبت و فراخیٔ عیش کا منتظر ہے ۔

حدیث … حضرت سہیل بن سعد ساعدیؓ فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺنے حضرت عباس ؓسے فرمایا :’’اے لڑکے تم چاہتے ہو کہ میں تمہیں چند کلمات بتلائوں جو تمہیں (ہر حال میں) نفع دیں۔ابن عباسؓ نے عرض کیا:ضرور یا رسول اللہ! آپﷺ نے ارشاد فرمایا: تم حق تعالیٰ کے احکام کی حفاظت کرو حق تعالیٰ تمہاری حفاظت فرمائیں گے ، تم حق تعالیٰ کو یاد رکھو تو اس کو ہر مصیبت کے وقت اپنے سامنے پائو گے (یعنی اس کی مدد تمہارے شامل حال ہو گی ) جب کوئی سوال کرو تو اللہ تعالیٰ سے کرو ، جب مدد مانگو تو اللہ سے مانگو جو کچھ انسان پر (راحت یا مصیبت ) آنے والی ہے وہ لکھی جا چکی ہے (اس کے خلاف نہیں ہو سکتا ) اگر ساری مخلوق تمہیں وہ نفع پہنچانا چاہے جو تمہارے لئے مقدر نہیں تو وہ ہرگز اس پر قادرنہ ہوں گے ۔ پس اگر تم یہ کر سکتے ہو کہ صدق و اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں مشغول رہو تو کر لو اور اگر یہ نہیں کر سکتے تو سمجھ لو کہ مکروہات اور خلاف طبع چیزوں پر صبر کرنے میں بڑی خیر ہے اور سمجھ لو کہ حق تعالیٰ کی مدد صبر کے ساتھ ہے اور یہ کہ راحت مصیبت کے ساتھ اور فراخی تنگی کے ساتھ ( یہ جملہ دو مرتبہ ارشاد فرمایا)

حدیث… حضرت ابو عبیدہ ؓفرماتے ہیں کہ ایک شخص آنحضرت ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ (ﷺ) فلاں قبیلہ نے مجھ پر لوٹ ڈال دی اور میرے سب اونٹ اور ایک لڑکے کو لے گئے ۔ نبی کریم ﷺنے فرمایا کہ محمد ﷺکے تمام اہل بیت میں تو اس وقت ایک مد (تقریباً آدھا سیر) کھانا بھی نہیں ہے ۔ تم اپنی حاجت اللہ تعالیٰ سے مانگو ۔ یہ شخص گھر واپس آیا تو بیوی نے پوچھا:آنحضرت ﷺ نے کیا جواب دیا ۔ اس نے واقعہ بیان کیا تو بی بی نے کہا کہ آپ ﷺنے بہت اچھی تعلیم فرمائی (انہوں نے تعلیم نبوی کے موافق دعا کی) تھوڑے ہی عرصے میں حق تعالیٰ کے فضل سے اس کے اونٹ اور لڑکا واپس مل گیا اور آنحضرت ﷺکی خدمت میں حاضر ہو کر اس کی اطلاع کی آپ نے خطبہ دیا جس میں فرمایا کہ ہر مشکل کے وقت انسان کو حق تعالیٰ ہی کی طرف رجوع کرنا چاہیے اسی سے ہر حاجت کا سوال کرنا چاہیے ۔ اس کے بعد آپ ﷺنے یہ آیت تلاوت فرمائی ۔

و من یتق اللّٰہ یجعل لہ مخرجا ویرزقہ من حیث لا یحتسب

حدیث…حضرت ابو ہریرہ ؓفرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺنے ارشاد فرمایا : لاحول ولا قوۃ الا باللّٰہ ننانوے بیماریوں کا علاج ہے جن میں سب سے کم غم و فکر ہے ۔

حدیث… حضرت عمران بن حصین ؓفرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺنے ارشاد فرمایا: جو شخص لوگوں سے قطع نظر کر کے حق تعالیٰ پر اعتماد و توکل کرے ۔ حق تعالیٰ اس کی ہر حاجت کے کفیل بن جاتے ہیں اور بے گمان رزق دیتے ہیں اور جو شخص (حق تعالیٰ کی رحمت سے قطع نظر کرکے) محض لوگوں پر بھروسہ کرے اور اُن سے اپنی حاجت طلب کرے تو خدا تعالیٰ اس کو اسی کے حوالے کر دیتے ہیں ۔

حدیث…حضرت یزید رقاشیؒفرماتے ہیں کہ میں نے حضرت انس ابن مالک ؓسے سنا ہے کہ جہاں تک میرا علم ہے حضرت انس ؓنے اس کو آنحضرت  ﷺ سے سنا ہے ارشاد فرمایا: حضرت یونس علیہ السلام جب مچھلی کے پیٹ میں محبوس تھے اور ارادہ کیا کہ حق تعالیٰ سے دعا کریں تو یہ کلمات کہے :

اَللّٰھُمَّ لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ سُبْحَانَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنّ الظّٰلِمِیْن

یہ دعا سیدھی عرش پر پہنچی ملائکہ نے عرض کیا یا اللہ یہ ایک ضعیف آواز ہے اور پہچانی ہوئی ہے ( یعنی ہم پہلے بھی یہ آواز سنا کرتے تھے ) اور (تعجب یہ ہے کہ ) یہ آواز بلا دغربیہ دور دراز ملک سے آرہی ہے حق تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ کیا تم ان کو پہچانتے نہیں ۔ ملائکہ نے عرض کیا اے ہمارے مالک یہ کون ہے ؟ فرمایا یہ ہمارا بندہ یونس ہے ۔ ملائکہ نے عرض کیا کہ آپ کے بندہ یونس نبی تو وہ ہیں کہ ہمیشہ ان کے اعمال مقبولہ اور مقبول دعائیں بارگاہ قدس میں آتی رہتی ہیں پھر فرشتوں نے عرض کیا کہ یا رب وہ راحت تندرستی کے وقت آپ کی اطاعت ذکر میں رہتے تھے اب سختی و مصیبت کے وقت آپ ان پر رحم فرمائیے اور مصیبت سے نجات دیجئے ۔ حق تعالیٰ نے مچھلی کو حکم دے دیا اس نے آپ کو ایک کھلے میدان میں ڈال دیا ۔

حضرت ابو ہریرہ ؓفرماتے ہیں کہ حق تعالیٰ نے اسی میدان میں ایک کدو کی بیل ان کے لئے اُگادی (کیونکہ ضعیف کے لئے یہ ایک بہترین غذا ہے ) اور ایک پہاڑی بکری کو اس کے لئے تیار کر دیا کہ صبح شام آپ کے پاس آکر کھڑی ہو جاتی آپ اس کا دودھ پی لیتے (ا س سے حق تعالیٰ نے ان کو قوت عطا فرمادی )۔

حدیث… حضرت سعد بن ابی وقاصؓ فرماتے ہیں کہ ہم ایک روز آنحضرت ﷺکے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے آپ ﷺنے ارشاد فرمایا: کیا تمہیں ایسی چیز بتلادوں جس کے پڑھنے سے ہر مصیبت و تکلیف جو کسی انسان پر پڑ گئی ہو دور ہو جائے ۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ !ضرور بتلائیے۔

آپﷺنے فرمایا:حضرت ذوالنون (یونس علیہ السلام)کی دعا یعنی آیت کریمہ

لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ سُبْحَانَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْن

حدیث… ایک شخص کو حجاج ابن یوسف نے گرفتار کر کے قید کر لیا تھا اور یہ کہا تھا کہ کل ہمارے سامنے پیش کیا جائے ۔ یہ شخص کہتا ہے کہ رنج و غم میں اوندھے منہ پڑا ہوا تھا کہ یکایک مکان کے ایک گوشہ سے کسی کہنے والے نے میرا نام لے کر کہا اے فلاں ! میں نے کہا : تم کون ہو‘ کیا کہتے ہو؟ اس نے جواب دیا کہ ان کلمات کے ساتھ اللہ سے دعا مانگو۔

یَا مَنْ لَا یَعْلَمُ کَیْفَ ھُوَ اِلَّا ہُوَ، یَا مَنْ لَا یَعْرِفُ قُدْرَتَہٗ اِلاَّ ھُوَ، فَرِّجْ عَنِّیْ مَا اَنَا فِیْہ ۔

میں نے یہ کلمات کہے ختم کرنے نہ پایا تھا کہ دفعۃً تمام ہتھکڑیاں اور بیڑیاں میرے ہاتھوں پیروں سے کھل کر گر گئیں اور دیکھا کہ سب دروازے کھلے ہوئے ہیں میں گھر کے صحن میں آیا تو دیکھا کہ بڑا دروازہ بھی کھلا ہوا ہے اور سب سپاہی اور نگہبان سوئے ہوئے ہیں میں وہاں سے نکلا تو اپنے آپ شہر واسط کی مسجد میں جس جگہ میں پہلے تھا وہیں پایا ۔

روایت… تو بہ عنبری کہتے ہیں کہ مجھے یوسف بن عمر نے ایک کام پر مجبور کیا جب میں وہاں سے واپس آیا تو مجھے قید کر دیا میں ایک طویل مدت تک قید خانہ میں رہا یہاں تک کہ بوڑھا ہو گیا اور میرے سر میں ایک بال بھی سیاہ باقی نہ رہا ۔ ایک روز میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص سفید پوش آیا اور کہا کہ اے توبہ تمہاری قید بہت طویل ہو گئی میں نے کہا کہ بے شک اس شخص نے کہا کہ تم یہ دعا کرو ۔

اَسْاَلُ اللّٰہَ الْعَفْوَوَالْعَافِیَۃَوَالْمُعَافَاۃَ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰ خِرَۃ

میں اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی اور تکالیف سے عافیت طلب کرتا ہوں ۔

پھر خواب ہی میں اس دعا کو میں نے تین بار پڑھا۔ اس کے بعد بیدار ہوا تو میں نے غلام سے کہا کہ دوات قلم اور کاغذ اور چراغ لائو اور پھر میں نے یہ دعا لکھ لی اس کے بعد میں نے کچھ نماز پڑھی اور یہی دعا صبح کی نماز تک کرتا رہا ۔ جب صبح کی نماز پڑھی توقید خانہ کا ایک چپڑاسی آیا اور جیل خانہ کا دروازہ کھٹکھٹایا ۔ دروازہ کھولا گیا تو کہا تو بہ عنبری کہاں ہیں لوگوں نے میری طرف اشارہ کیا پھر چند چپڑاسیوں نے مجھے اسی حالت میں بندھے اور جکڑے ہوئے یوسف کے سامنے لاکر رکھ دیا یوسف نے کہا کہ اے توبہ ہم نے تمہاری قید بہت طویل کر دی میں نے عرض کیا کہ ہاں یا امیر المومنین ! پھر کہا کہ ان کی قید کھول دو اور ان کو آزاد کردو۔توبہ عنبری کہتے ہیں کہ پھر میں نے یہ دعا ایک دوسرے قیدی کو بتلا دی وہ بھی اس دعا کی برکت سے فوراً رہا ہو گیا ۔

اللہ کریم تمام مسلمانوں کو ہر قسم کی تکلیف ‘ رنج ‘ پریشانی اور غم سے نجات عطا فرما کر راہِ ہدایت پر استقامت نصیب فرمائے ۔(آمین ثم آمین)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online