Bismillah

664

۸تا۱۴صفر المظفر۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۱۹تا۲۵اکتوبر۲۰۱۸ء

بلیک فرائیڈے یا روشن دن (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 619 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Black Friday ya Roshan Din

بلیک فرائیڈے یا روشن دن

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 619)

دل پر ایک سخت چوٹ لگتی ہے ‘ جب کسی مسلمان کی زبان یا قلم سے ’’ بلیک فرائیڈے (کالا جمعہ) ‘‘ کا لفظ سننے یا پڑھنے کو ملتا ہے ۔کفار کے مقابلے میں احساس کمتری اور شوق نقالی نے کیا دن دکھایا ہے کہ وہ دن جس کے بارے میں مشہور صحابی اور رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خادمِ خاص سیدنا حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بتاتے ہیں:

وکان رسول اللّٰہ ﷺ یقول:لیلۃ الجمعۃ لیلۃ اغرویوم الجمعۃ یوم ازہر

( اللہ کے رسولﷺفرمایا کرتے تھے کہ جمعہ کی رات ‘ روشن رات ہے اور جمعہ کا دن ‘ چمکتا دن ہے) (مشکوٰۃ المصابیح ، باب الجمعۃ)

نجانے ایک مسلمان کس دل سے ایسے قابل احترام دن کو ’’ بلیک فرائیڈے‘‘ کے مکروہ اور قابل نفرت عنوان سے یاد کر سکتا ہے ۔

بلیک فرائیڈے یا کالا جمعہ ، مغربی دنیا کی ایک مشہور اصطلاح ہے اور وہاں کے لوگ اس سے نومبر کے مہینے کی چوتھی جمعرات کے بعد آنے والا جمعہ مراد لیتے ہیں ۔ اس دن کاروباری مراکز اور راستوں میں بے پناہ رش ہوتا ہے‘ جس کی وجہ یہ ہے کہ مختلف کمپنیاں اس دن اپنی مصنوعات کی خریداری پر خصوصی رعایت کی پیش کش کرتی ہیں اور لوگ اس رعایت سے بھر پور فائدہ اٹھانے کیلئے کب سے اس دن کے انتظار میں ہوتے ہیں اور پھر یہ دن آتے ہی بازار کھچا کھچ بھر جاتے ہیں اور مرکزی راستوں پر صحیح لفظوں میں تل دھرنے کی جگہ بھی باقی نہیں رہتی ۔ بہت سے لوگ یہ بھی بتاتے ہیں کہ اسی دن سے عیسائی دنیا اپنے آنے والے مقدس دن ’’ کرسمس ڈے‘‘ (۲۵ دسمبر) کیلئے خریداری کا آغاز بھی کرتی ہے اور اسی مقصد کیلئے ’’ بلیک فرائیڈے‘‘ پر قیمتیں کم کی جاتی ہیں تاکہ ہر عام و خاص اور امیر و غریب‘ کرسمس ڈے اچھے طریقے سے منا سکے ۔

آپ جانتے ہی ہیں کہ یہودیوں کا مقدس دن ’’ السبت ‘‘ یعنی ہفتہ ہے ‘ عیسائی اپنا مبارک دن ’’ الاحد ‘‘ یعنی اتوار کو مناتے ہیں اور مسلمانوں کے ہاں ہفتے کے دنوں میں سب سے زیادہ قابل احترام دن ’’ الجمعۃ‘‘ ہے ۔ یہ آج سے نہیں‘ صدیوں سے ان تمام قوموں کی پہچان اور خصوصیت ہے ۔ میرا نہیں خیال کہ کوئی یہودی کبھی بھی ’’ کالے ہفتے‘‘ کی اصطلاح اور کوئی عیسائی ’’ کالا اتوار‘‘ کا لفظ پسند کرے گا ۔ پھر ایک مسلمان کیوں اتنا تہی دامن اور تہی دست ہے کہ اُسے اہل یورپ کوئی بھی سبق پڑھا دیں وہ بلا سوچے سمجھے اُسے دہرانا شروع کر دیتا ہے ۔ اسے اپنے مذہب کی فکر ہے نہ اپنی تہذیب کی ‘ اس کے پاس اپنی پہچان ہے اور نہ شناخت ‘ یہ بے چارہ اپنی زبان بولتے ہوئے بھی شرماتا ہے اور اپنا لباس پہنتے ہوئے بھی گھبراتا ہے ۔

ہائے اقبال بھی کیسے وقت یاد آگئے کہ جن سے زیادہ مغرب کو قریب سے دیکھنے اور پرکھنے والا آج ان لوگوں میں سے کون ہو گا ‘ جو پوری کی پوری قوم کو اہل یورپ کا ذہنی ‘ فکری اور طبقاتی غلام بنانا چاہتے ہیں ۔ اقبال کہتے ہیں:

قافلے دیکھ اور ان کی برق رفتاری بھی دیکھ

رہرو درماندہ کی منزل سے بیزاری بھی دیکھ

دیکھ مسجد میں شکست رشتۂ تسبیح شیخ

بت کدے میں برہمن کی پختہ زناری بھی دیکھ

کافروں کی مسلم آئینی کا بھی نظارہ کر

اور اپنے مسلموں کی مسلم آزادی بھی دیکھ

ہاں ‘ تملق پیشگی دیکھ آبر و والوں کی تو

اور جو بے آبرو تھے ‘ ان کی خودداری بھی دیکھ

جس کو ہم نے آشنا لطف ِ تکلم سے کیا

اس حریف بے زباں کی گرم گفتاری بھی دیکھ

چاک کر دی تُرک ناداں نے خلافت کی قبا

سادگی مسلم کی دیکھ‘ اوروں کی عیاری بھی دیکھ

اب چاہیے تو یہ تھا کہ مسلمان تاجر ‘ ماہِ مبارک رمضان ‘ عید الفطر یا عید الاضحی کی مناسبت سے عوام کو سہولت فراہم کرتے تاکہ غریب مسلمان بھی ایسے مواقع میں سب کے ساتھ خوشیوں میں شریک ہو سکتے اور انہیں کسی اضافی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑتا ۔ لیکن ہوتا کیا ہے؟ باقی مسلم دنیا کا تو مجھے علم نہیں لیکن ہمارے ہاں تو رمضان کا آغاز ہونے سے پہلے ہی تاجر حضرات اپنی چھریاں تیز کر لیتے ہیں اور پھر روزے شروع ہوتے ہی روزے دار عوام کو الٹی چھری سے ذبح کر تے ہیں ۔ یہ تو رمضان کی برکات ہوتی ہیں کہ ہر مسلمان خواہ وہ کتنا ہی غریب کیوں نہ ہو ‘ روزے کے دنوں میں اپنے لیے کچھ نہ کچھ اہتمام ضرور کرتا ہے اور سال کے عام دنوں کی نسبت کچھ بہتر ہی کھاتا ہے ۔

اسی طرح آپ عمرہ اور حج کے فضائی سفر کو دیکھ لیں ۔ یہ ایسی عبادات ہیں کہ ہر مسلمان کی تمنا ہوتی ہے کہ وہ زندگی بھر میں ایک مرتبہ تو ضرورہی ادا کر لے ۔ اب اگر آپ کے پاسپورٹ پر بزنس یا ورکنگ ویزا ہے تو فضائی کمپنیاں آپ کو سستا ٹکٹ دیں گی لیکن اگر آپ عمرہ یا حج پر جا رہے ہیں تو وہ ہی ٹکٹ ہزاروں روپے مہنگا ملے گا ۔ یہ وہ مواقع تھے جن سے مسلمان تاجر اپنے لیے دنیا و آخرت کما سکتے تھے اور اپنی مصنوعات کو رواج دے کر اپنی تجارت کو بڑھا سکتے تھے لیکن ناس ہو غیروں کی نقالی کا کہ اب تو پاکستان میں بھی ’’ بلیک فرائیڈے‘‘ پر ہی قیمتوں میں خصوصی رعایت کی پیش کش کی جا رہی ہے اور وہ بھی اشیاء ضرورت میں نہیں بلکہ اکثر و بیشتر صرف سامانِ تعیش میں ۔ اب انسان اس کو خیر خواہی سمجھے یا بدخواہی؟

یہ مسئلہ صرف تاجروں کا ہی نہیں ‘ ہم میں سے ہر ایک کا ہے کہ زندگی کے کتنے ہی میدانوں میں ہم نے اپنی روایات کو بھلا کر بلا سوچے سمجھے کفار کی پیروی ہی نہیں نقالی بھی شروع کر دی ہے ۔ اس بیماری کی اصل تشخیص تو امیر المومنین سیدنا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمائی تھی اور انہوں نے ہی اس کا علاج بھی تجویز فرمایا تھا ۔

طارق بن شہاب کہتے ہیں کہ جب سیدنا حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیت المقدس کی فتح کے سلسلے میں شام تشریف لائے تو ہم حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ اُن کے استقبال کیلئے شہر سے باہر پانی کے چشمے تک آئے ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہاں پہنچے تو اپنی اونٹنی پر سوار تھے ، آپ سواری سے اترے ‘ آپ نے اپنے دونوں موزے اتارے اور اُن کو اپنے کندھے پر رکھ کر ، اپنی اونٹنی کی لگام کو پکڑے ہوئے پانی کے چشمے کی طرف چل پڑے ۔

حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ صورت حال دیکھ کر عرض کیا :

’’ اے امیر المومنین ! آپ یہ کیا کر رہے ہیں‘ موزوں کو پائوں سے اتار کر آپ نے کندھے پر رکھ لیا ہے اور اونٹنی کی لگام پکڑ کر آپ اُس کو پانی پلانے لے جا رہے ہیں‘ ہمیں تو یہ اچھا نہیں لگتا کہ اس شہر کے لوگ آپ کو اس حال میں دیکھیں‘‘۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ نے یہ سن کر ارشاد فرمایا :

’’ اے ابو عبیدہ ! کاش کہ یہ بات آپ کے سوا کوئی اور کہتا ، آپ نے ان باتوں کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کیلئے عیب کیسے سمجھ لیا ، ہم لوگ تو ذلیل تھے پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں اسلام کے ذریعے عزت اور سر بلندی عطا فرمائی ،لہٰذا اب جب بھی ہم اسلام کے علاوہ کسی اور چیز میں عزت تلاش کریں گے ، اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ذلیل کر دیں گے ۔‘‘ ( المستدرک للحاکم وقال: ھذا حدیث صحیح علی شرط الشیخین)

سیدناحضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ کی یہ بات پتھر پر لکیر ہے اور مسلمانوں کی چودہ صدیوں پر پھیلی ہوئی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ آپ نے جو کچھ کہا ‘ حرف بحرف درست کہا ۔ جب تک عرب نے اسلام کو سینے سے لگائے رکھا ‘ اللہ تعالیٰ نے انہیں ایسی عزت دی کہ ساری دنیا کے لوگ اُن کے لباس پہننے ‘ اُن کی زبان بولنے اور ان کی عادات و اطوار اختیار کرنے میں فخر محسوس کرتے تھے ۔ کتنے ممالک جو جغرافیائی اعتبار سے عرب نہ تھے ‘ لسانی تہذیبی اور ثقافتی اعتبار سے عرب بن گئے ۔ پھر اسی اسلام کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے کبھی ترکوں کو ‘ کبھی سلجو قوں کو ‘ کبھی افغانوں کو ‘ کبھی اہل ہند کو اور کبھی افریقہ کے بربروں کو ایسی عزت اور ایسا مقام دیا کہ آج امت مسلمہ بحیثیت مجموعی اُس کا تصور بھی نہیں کر سکتی ۔ ہمارے سعودی بھائیوں نے پہلے اسلام کے ذریعے کئی دہائیوں تک امت میں بے پناہ احترام اور پرخلوص محبت پائی ہے لیکن اب انہیں بھی ’’لبرل ‘‘ بننے کا شوق ہوا ‘ دیکھیں اس کا انجام کیا ہوتا ہے ۔

مسلم ممالک کے حکمران طبقے کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ جب حالات ان کے موافق ہوتے ہیں تو یہ دین اسلام کو نافذ کرنے سے کتراتے ہیں اور صرف اپنی من پسند باتوں کو ہی پورا اسلام بنا ڈالتے ہیں لیکن پھر جب حالات کروٹ لیتے ہیں ، کوئی مشکل کھڑی ہوتی ہے اور کوئی طوفان اُن کے ایوانوں کا رخ کرتا ہے تو اسلام کو ہی ذمہ دار قرار دے کر اُس سے پیچھا چھڑانے کی کوششیں شروع کر دی جاتی ہیں ۔ حالانکہ جب آپ نے دین اسلام کو نافذ ہی نہیں کیا ، اُس پر مکمل طور سے عمل ہی نہیں کیا اور اپنی عوام کو اُس کے مطابق چلایا ہی نہیں تو پھر یہ دین آپ کی مشکلات کا ذمہ دار کیسے بن گیا

بہر حال جمعہ کا دن سیاہ نہیں بلکہ بہت ہی روشن اور مبارک دن ہے ۔ جو لوگ اپنے جمعہ کے دن کو اہتمام سے نیکی کے کاموں میں لگاتے ہیں ‘ انہیں بھی اس صفت ِ میں سے حصہ مل جاتا ہے ۔ اُن کا دل روشن ہوتا ہے ۔ ایک ایسے دور میں جب دل تاریک سے تاریک تر ہوتے جا رہے ہیں اور ظاہری روشنیوں کے باوجود باطن کا اندھیرا بڑھ رہا ہے ‘ دل کا ایمان سے روشن اور منور ہو جانا کتنی بڑی نعمت اور سعادت ہے ۔

ایک حدیث شریف میں جمعہ کو ’’ سید الایام ‘‘ یعنی تمام دنوں کا سردار بھی بتایا گیا ہے ۔ اس لیے جمعہ کا اہتمام کیجئے ‘ اپنے گھروں میں اور اپنی اولادوں میں اس عظیم دن کا احساس پیدا کیجئے ، تب دین ہماری نسلوں میں باقی اور محفوظ رہے گا اور ہمیں دنیا و آخرت کی سرداری بھی ملے گی ۔ ان شاء اللہ تعالیٰ

اللہ تعالیٰ اپنے لطف و کرم سے ہمیں جمعہ کے دن کی تمام برکات نصیب فرمائیں (آمین ثم آمین)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online