Bismillah

664

۸تا۱۴صفر المظفر۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۱۹تا۲۵اکتوبر۲۰۱۸ء

نقشِ قدم نبی کے ہیں جنت کے راستے (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 620 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Naqsh e Qadam Nabi K

نقشِ قدم نبی کے ہیں جنت کے راستے

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 620)

ماہ ربیع الاول شروع ہوتے ہی ہر طرف سرکار رسالت مآب ا کی حیات طیبہ کے جانفزا تذکرے شروع ہوجاتے ہیں، ہر لب پر درود، ہر بام ودر پر سلام سجا ہوتا ہے۔ لوگ سیرت پاک کا ذکر انتہائی عقیدت واحترام سے کرتے ہیں اور سامعین بھی غور سے سنتے ہیں اور سر دھنتے ہیں۔

یہ صورتحال جہاں ایک طرف باعث خوشی ہے کہ اس ذات اقدس صلی اﷲ علیہ وسلم سے ہم اپنی وابستگی کا اقرار کرکے مسلمان ہونے کا ثبوت دے رہے ہیں اور محسن انسانیت ا کے احسانات اور فضائل کا مشک بار ذکر کرکے اپنے دل ودماغ کو معطر اور منور کر رہے ہیں وہیں یہ کئی حیثیتوں اور جہتوں سے قابل تشویش اور باعث پریشانی بھی ہے۔

سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ رفتہ رفتہ اب صورتحال یہ دیکھنے میں آرہی ہے کہ باعث وجود کائنات، سید الرسل ا کی عادات اور خصائل کا تذکرہ محض ماہ ربیع الاول کی زینت بن کر رہ گیا ہے اور یوں محسوس ہونے لگا ہے کہ خدانخواستہ حضرت محمد مصطفی احمد مجتبیٰ ا سے ہمارا تعلق بھی کوئی وقتی اور موسمی قسم کی چیز ہے، جیسے موسمی پھل صرف اپنے موسم میں ملتے ہیں اور ان کا صحیح مزہ انہی خاص دنوں میں ہوتا ہے۔ اب محافل سیرت بھی صرف ربیع الاول میں منعقد ہو رہی ہیں اور دوسرے مہینوں میں اس کی طرف کوئی توجہ کرنے کیلئے ہی تیار نہیں ہے۔ حالانکہ اس سلسلے میں ہمارا عقیدہ ومسلک کیا ہے؟ مشہور فقیہ اور سنن ابی داؤد کے شارح حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوری رحمہ اﷲ تحریر فرماتے ہیں:

’’وہ جملہ حالات جن کو رسول اﷲ ا سے ذرا بھی علاقہ ہے ان کا ذکر ہمارے نزدیک نہایت پسندیدہ اور اعلیٰ درجہ کا مستحب ہے، خواہ ذکر ولادت شریف کا ہو یا آپ کے بول وبراز اور نشست وبرخاست اور بیداری وخواب کا تذکرہ ہو۔‘‘ (المہند علی المفنّد)

پھر کیا وجہ ہے کہ ہم نے عملاً اس مستحب کو صرف ربیع الاول کے مہینے بلکہ اس کے کچھ دنوں کے ساتھ خاص کرلیا ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسا کرنا نہ صرف شریعت کے حکم کا چہرہ بگاڑنا ہے بلکہ اپنے عظیم وکریم محسن ا کی احسان فراموشی اور ناقدری بھی ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ اب ہماری ربیع الاول کی ’’مجالس سیرت‘‘ بھی محض ایک رسمی چیز بنتی جارہی ہیں اور ان مجالس کی جو اصل روح تھی کہ ان کے ذریعے اتباع سنت کے جذبہ کو بیدار کیا جائے اور محض زبانی، کلامی عشق کے بجائے حقیقی اطاعت کی طرف پیش قدمی کی جائے۔ یہ روح اب بڑی تیزی سے نکل رہی ہے۔ بلکہ بعض جگہ تو نوبت بایں جا رسید کہ سرکار دو عالم ا کے نام نامی اسم گرامی پر منعقد ہونے والی ان محافل میں صراحتاً آپ کے احکام کی نافرمانی کی جاتی ہے بلکہ زیادہ صحیح لفظوں میں یوں کہنا چاہئے کہ ان کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔

نامحرم عورتوں اور مردوں کا مل بیٹھنا، عورتوں کا بلا ضرورت شرعیہ گھومنا پھرنا، ڈھول، باجا، سارنگی، طبلہ بجانا اور گانے گانا یہ ایسے ناجائز اور حرام فعل ہیں، جن کی حرمت سے مسلمانوں کا بچہ بچہ خوب اچھی طرح واقف ہے لیکن اب یہ سب امور بے تکلف طور پر ان محافل ومجالس میں ہورہے ہیں جن کو سرکار دوعالم ا کی طرف نسبت دی گئی ہے۔ اس لیے سیرت کے نام پر ایسی مجالس میں شرکت کرنا ایک مستقل گناہ ہوگا اور اس سے بہتر ہوگا کہ ہم اتنا وقت سیرت کی کسی مستند کتاب کے مطالعہ یا درود شریف پڑھنے میں گزاردیں۔

ان دوباتوں کے ساتھ سب سے اہم اور سنگین خرابی اس سلسلے میں جو پیدا ہوئی ہے اور اس نے ان محافل کی افادیت کو بری طرح مجروح کیا ہے وہ یہ ہے کہ اس پورے سلسلے کا جو اصل مقصد تھا وہ نظروں سے اوجھل ہوگیا ہے اور اب محض خانہ پُری کے طور پر یہ سب کچھ ہورہا ہے۔

اس اجمال کی کچھ تفصیل یہ ہے کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے خصائل حمیدہ اور کمالات عظیمہ کی دو قسمیں ہیں:

ایک قسم کے فضائل وکمالات وہ ہیں جن میں کوئی فرد بشر آپ کا ہمسر نہیں ہوسکتا اور تمام مخلوقات میں سے اﷲ تعالیٰ نے آپ کو ممتاز کرنے کیلئے یہ اوصاف عطا فرمائے۔ ایسے کمالات بے شمار ہیں لیکن بطور مثال کے ہم حضور ا کے حسن وجمال کو پیش کرسکتے ہیں۔

حضرت علی رضی اﷲ عنہ آپ ا کا سراپا بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں:

یقول ناعتہ مارأیت قبلہ مثلہ ولا بعدہ

’’آپ کی تعریف کرنے والا یہ کہنے پر مجبور ہوجائے گا کہ میں نے آپ سے پہلے یا بعد آپ جیسا کوئی نہیں دیکھا۔‘‘

مشہور سابق یہودی عالم حضرت عبداﷲ بن سلام رضی اﷲ عنہ نے جب آپ ا کو پہلی مرتبہ دیکھا تو کہتے ہیں:

عرفت ان وجہہ لیس بوجہ کذاب

’’میں جان گیا کہ آپ ا کا چہرہ کسی جھوٹے کا چہرہ ہر گز نہیں ہوسکتا۔‘‘

اردو کا شاعر اس حقیقت کو بیان کرنے کیلئے ان الفاظ کا سہارا لیتا ہے:

غرض کونین میں اس جسم اطہر کا نہیں ثانی

سراپا صرف وہ تھے مظہر آیات قرآنی

کوئی ان سے حسیں شے ہو تو تشبیہ اس سے دیدیں ہم

دو عالم سے نرالے جب ہیں کامل سرور عالم ا

اسی طرح آپ ا کا کلام معجز بیان، آپ کی معراج، آپ کے علوم ومعارف یہ سب کچھ وہ امتیازات واوصاف ہیں جن میں کوئی بشر آپ جیسا نہ ہوسکتا ہے نہ ہی بننے کی کوشش کرسکتاہے۔ اسی لیے حافظ شیرازی ؒ فرماتے ہیں:

لا یمکن الثناء کما کان حقہ

بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر

( آپ ا کی تعریف کا حق ادا کرنا تو ممکن نہیں، اتنا کہا جاسکتا ہے کہ بس اﷲ تعالیٰ کے بعد آپ کا مقام ومرتبہ ہے)

ان تمام معجزات وکمالات کے ساتھ ہی اﷲ تعالیٰ نے آپ ا کو جو کامل ومکمل تعلیمات عطا فرمائیں، انھیں ایک مستقل معجزہ کہا جاسکتا ہے، یہی وہ تعلیمات ہیں جو درحقیقت خیر امت کا سرمایۂ فخر ہیں۔ ان کے دائرہ کار کی وسعت کا اندازہ اس روایت سے لگائیں:

’’ ایک مرتبہ مشرکین نے حضرت سلمان فارسی ؓ سے مذاق اڑاتے ہوئے پوچھا کہ ہم لوگ تمہارے صاحب (رسول اﷲ ا ) کو دیکھتے ہیں کہ وہ تمہیں ہر چیز کی تعلیم دیتے ہیں یہاں تک کہ قضاء حاجت کے آداب بھی سکھاتے ہیں۔ حضرت سلمان فارسیؓ نے فرمایا: بالکل! آپ ا نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم قضاء حاجت کے وقت قبلہ رخ نہ ہوں اور دائیں ہاتھ سے استنجاء نہ کریں۔‘‘ (مسلم)

جب زندگی کے بظاہر اتنے غیر اہم گوشے کے متعلق بھی ہدایات موجود ہیں تو دیگر اہم معاملات کے بارے میں کیا حالت ہوگی؟ پھر یہ بھی صرف اس امت مرحومہ کا عزاز ہے کہ ہمارے پیغمبر ا کی تمام تعلیمات انتہائی مستند طریقے سے محفوظ ہیں اور ہم تک علمی اور عملی اعتبار سے مسلسل چلی آرہی ہیں۔ دنیا کے دیگر بانیان مذاہب کی حالت تو یہ ہے کہ چند اہم قصوں اور حکایات کے علاوہ ان کی زندگی کے دیگر شعبے بالکل آنکھوں سے اوجھل ہیں اور کوئی نہیں جانتا کہ انہوں نے زندگی کیسے گزاری؟ ان کے گھریلو حالات کیا تھے؟ وہ باہر کے لوگوں سے کس طرح پیش آتے تھے اور اگر کسی کے بارے میں کچھ معلومات ہیں بھی تو انتہائی غیر مستند اور محض سنی سنائی۔ یہ تک معلوم نہیں کہ ان معلومات کو کن لوگوں نے محفوظ کیا؟ امانت وصداقت کے اعتبار سے وہ راوی کیسے تھے؟ ان کے عام حالات کیا ہیں؟ کچھ بھی تاریخ کو معلوم نہیں۔

مگر دوسری طرف سرور دو جہاں ا کی تعلیمات ملاحظہ فرمائیں تو معلوم ہوگا کہ زندگی کا کوئی شعبہ ان سے خالی نہیں۔ کتب احادیث میں سینکڑوں عنوانات کے تحت یہ ذخیرہ محفوظ ہے اور اندازہ لگائیں کہ آپ ا کے پا نی پینے تک کا طریقہ بھی آپ کو ا ن میں مل جائے گا۔ غصے کے وقت آپ ا کی زبان مبارک سے کیا ادا ہوتا تھا، یہ بھی آپ یہاں سے معلوم کرسکتے ہیں۔

غرضیکہ آپ ا کے لباس، شکل وصورت، بول چال، اٹھنا بیٹھنا، کھانا پینا، لین دین، ہنسی مذاق، رکھاؤ برتاؤ، شادی بیاہ، خوشی غمی، عبادات ، معاملات اور زندگی کے ہر شعبے سے متعلق معلومات آپ کو سیرت کی کتابوں میں مل جائیں گی۔ اور پھر ہر روایت ایسی مستند کہ آپ کسی بھی حدیث پر انگلی رکھ کر واقف حال سے پوچھ سکتے ہیں کہ اس کے راوی کون ہیں؟ کہاں پیدا ہوئے؟ ان کے عام معمولات زندگی کیا تھے؟ گفتار وکردار کے اعتبار سے کس پایہ کے تھے؟ اﷲ تعالیٰ نے اپنے حبیب ا کی احادیث کی حفاظت کا یہ محیر العقول انتظام فرمایا کہ پورا ایک علم ’’اسماء الرجال‘‘ اسی لیے ایجاد ہوا کہ سلسلہ حدیث میں آنے والی تمام شخصیات کے نام، نسب اور حالات محفوظ رکھے جائیں۔

یہی وہ تعلیمات وہدایات ہیں جن کے بارے میں حکم دیا گیا:

’’(اے محمد ا ) آپ کہہ دیجئے! اگر تم اﷲ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، اﷲ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا۔‘‘ (آل عمران)

’’تم لوگوں کیلئے اﷲ کے رسول میں بہترین نمونہ موجود ہے۔‘‘ (الاحزاب)

ہمارے ہاں عملاً ہوتا کیا ہے رسول اﷲ ا کے معجزات اور آپ کے حسن وجمال کا ذکر تو بھرپور طریقے سے ہوتا ہے لیکن آپ ا کی تعلیمات کے بارے میں کوئی بات نہیں کی جاتی یا پھر سرسری طور پر انہیں بیان کردیا جاتا ہے حالانکہ ہمارے عمل اور ہماری فلاح وبقاء کا تعلق انہی سے ہے اور ہمارا نفس چونکہ فطری طور پر کام چور واقع ہوا ہے اس لیے وہ اس طرف آنے ہی نہیں دیتا۔

یہی وجہ ہے کہ وہ لوگ جو عام عملی زندگی میں سنت رسول ا کے سب سے زیادہ باغی ہوتے ہیں وہ ان مجالس کے قائم کرنے میں پیش پیش رہتے ہیں کیونکہ وہ اپنے زعم کے مطابق اسی طرح اپنے گناہ بخشوا لیتے ہیں اور قرآن وحدیث جن احکامات سے بھرے پڑے ہیں ان پر عمل کرنے کی ضرورت انہیں قطعاً محسوس نہیں ہوتی۔

حد یہ ہے کہ ہم لوگ سیرت کے نام پر مجالس تو کرتے ہیں لیکن آپ ا کی طرح ڈاڑھی بڑھانے اور مونچھیں کٹوانے کو دقیانوسیت خیال کرتے ہیں۔

آپ ا کے لائے ہوئے قرآن وحدیث سیکھنے سکھانے کو اپنی اولاد کیلئے باعث عار سمجھتے ہیں۔ آپ ا کی سنت کے مطابق ہم بود وباش کو عربوں کے طریقے کہہ کر چھوڑ دیتے ہیں۔ آپ ا کی عادت شریفہ کے برخلاف ہم معاف کردینے کو بزدلی بتاتے ہیں۔ طائف میں پتھر کھانے اور احد میں اپنے دندان مبارک شہید کروانے والے آقاا  کی طرح، ہم ان مصائب میں پڑنا بے وقوفی خیال کرتے ہیں۔ آپ ا کے دین کی حفاظت کیلئے ہم سینے پر اسلحہ سجاکر دشمنوں سے میدان جنگ میں برسرپیکار ہونے کو دہشت گردی خیال کرتے ہیں۔ شہادت کی بار بار تمنا کرنے والے پیغمبر ا کے برخلاف ہم خاک وخون میں تڑپنے کی لذت سے محروم رہنا چاہتے ہیں۔ عجیب دورنگی ہے کہ ہم نام تو آقاا  کا لیتے ہیں لیکن لباس، عادات اور نظام سب کچھ ان کے دشمنوں جیسا بنا رکھا ہے۔

رسول اﷲ ا نے واضح طور پر ارشاد فرمایا:

’’میرا ہر امتی جنت میں داخل ہوجائے گا، سوائے اس کے جس نے انکار کیا۔ پوچھا گیا کہ انکار کرنے والا کون ہے؟ فرمایا: جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہوگیا اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے درحقیقت انکار کیا۔ ‘‘ (بخاری)

جس نے آپ ا کے طریقے کو اختیار کیا اور آپ ا کی سنت پر چلا، اس کیلئے بھی خوشخبری سن لیجئے:

’’حضرت انس ؓ بتاتے ہیں کہ رسول اﷲ ا نے مجھے فرمایا: اے میرے بیٹے ! اگر تو صبح اور شام ایسے کرسکے کہ تیرے دل میں کسی کیلئے برائی کا ارادہ نہ ہو تو ضرور ایسا کرو اور یہ میری سنت ہے۔ جس نے میری سنت سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا۔‘‘ (ترمذی)

بخاری شریف کی ایک روایت میں عجیب جامع الفاظ آئے ہیں:

ومحمد (ا ) فرق بین الناس

’’محمد ا ہی لوگوں کے درمیان فرق کا معیار ہیں۔‘‘

یعنی آپ ا کی محبت اسلام اور ایمان ہے اور آپ ا کا بغض وعناد کفر۔ آپ ا کی اطاعت سراپا ہدایت ہے اور آپ ا کی نافرمانی کھلی ہوئی بغاوت۔ آپ ا کے راستے پر چلنا سعادت ہی سعادت اور اس سے انحراف سراسر شقاوت۔

یاد رکھیں! مسلمان کیلئے صرف ایک ہی راستہ ہے اور وہ ہے مکمل اتباع سنت۔ اس کے علاوہ جتنے راستے ہیں وہ سب گمراہی اور ناکامی کی طرف لے جاتے ہیں۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online