Bismillah

627

۱تا۷جمادی الاولیٰ۱۴۳۹ھ   بمطابق ۱۹تا۲۵جنوری۲۰۱۸ء

روشن دن کی روشنیاں (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 621 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Roshan din ki Roshaniyan

روشن دن کی روشنیاں

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 621)

اسلام میں جمعہ کے دن کی جو خاص اہمیت اور فضیلت ہے وہ کسی مسلمان سے پوشیدہ نہیں ۔ جب سے ہمارے ہاں ہفتہ وار چھٹی جمعہ کے بجائے اتوار کو ہونے لگی ہے تب سے اچھے خاصے دیندار گھرانوں میں بھی اس دن کا اہتمام باقی نہیں رہا ۔ خاص طور پر نئی نسل تو صرف اتوار ہی کو جانتی ہے جو عیسائیوں کا مقدس اور محترم دن ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ صورت حال ہمارے لیے فکر انگیز بھی ہے اور افسوس ناک بھی ۔ اگر ابھی سے ہم سب نے مل کر اس غفلت کا ازالہ نہ کیا تو یقینا آگے چل کر یہ بہت بڑی محرومی اور بد نصیبی بن جائے گی ۔

اسی احساس کے پیش نظر جمعہ کے مبارک دن ، جس کو مشکوٰۃ شریف کی ایک حدیث میں ’’ روشن دن ‘‘ قرار دیا گیا ہے ، اس سے متعلق چند باتیں پیش خدمت ہیں:

جمعہ کے فضائل میں یہ بات خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ ہفتہ کے تمام ایام میں صرف جمعہ کے نام سے ہی قرآن کریم میں سورت نازل ہوئی ہے جس کی رہتی دنیا تک تلاوت ہوتی رہے گی ، ان شاء اللہ ۔

حضرت عراک بن مالک ؒ جمعہ کی نماز سے فارغ ہو کر لوٹ کر مسجد کے دروازہ پر کھڑے ہو جاتے اور یہ دعا پڑھتے :

اللھم انی اجبت دعوتک ، وصلیت فر یضتک وانتشرت کما امر تنی فار زقنی من فضلک وانت خیرالرازقین

اے اللہ ! میں نے تیری آواز پر حاضری دی اور تیری فرض نماز ادا کی ، پھر تیرے حکم کے مطابق اس مجمع سے اٹھ آیا ، اب تو مجھے اپنا فضل نصیب فرما ، تو سب سے بہتر روزی رساں ہے۔( ابن ابی حاتم)

جمعہ کا نام جمعہ رکھنے کے مختلف اسباب ذکر کیے جاتے ہیں:

(۱)…جمعہ ’’ جمع ‘‘ سے ماخوذ ہے ، جس کے معنی ہیں : جمع ہونا ، کیونکہ مسلمان اس دن بڑی مساجد میں جمع ہوتے ہیں اور امت مسلمہ کے اجتماعات ہوتے ہیں ، اس لیے اس دن کو جمعہ کہا جاتا ہے ۔

(۲)… چھ دن میں اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان اور تمام مخلوق کو پیدا فرمایا ۔ جمعہ کے دن مخلوقات کی تخلیق مکمل ہوئی یعنی ساری مخلوق اس دن جمع ہو گئی ، اس لیے اس دن کو جمعہ کہا جاتا ہے ۔

(۳)… اس دن یعنی جمعہ کے دن حضرت آدم علیہ السلام پیدا کیے گئے ، یعنی اُن کو اس دن جمع کیا گیا ۔

یوم الجمعہ کو پہلے ’’ یوم العروبہ‘‘ کہا جاتا تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ منورہ ہجرت کرنے اور سورئہ جمعہ کے نزول سے قبل انصار صحابہ ؓ نے مدینہ منورہ میں دیکھا کہ یہودی ہفتہ کے دن اور نصاریٰ اتوار کے دن جمع ہو کر عبادت کرتے ہیں ، لہٰذا سب نے طے کیا کہ ہم بھی ایک دن اللہ تعالیٰ ذکر کرنے کے لیے جمع ہوں ، چنانچہ حضرت ابو امامہ ؓ کے پاس جمعہ کے دن لوگ جمع ہوئے ، حضرت اسعد بن زرارۃ ؓ نے دورکعت نماز پڑھائی ۔ لوگوں نے اپنے اس اجتماع کی بنیاد پر اس دن کا نام ’’ یوم الجمعہ ‘‘ رکھا ، اس طرح سے یہ اسلام کا پہلا جمعہ ہے ۔ ( تفسیر قرطبی)

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ ہجرت کے وقت مدینہ منورہ کے قریب بنو عمرو بن عوف کی بستی قبا میں چند روز کے لیے قیام فرمایا ۔ قبا سے روانہ ہونے سے ایک روز قبل جمعرات کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد قبا ء کی بنیاد رکھی ۔ یہ اسلام کی پہلی مسجد ہے ، جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ۔ جمعہ کے دن صبح کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قبا ء سے مدینہ منورہ کے لیے روانہ ہوئے ۔ جب بنو سالم بن عوف کی آبادی میں پہنچے تو جمعہ کا وقت ہو گیا ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے  بطن وادی میں اُس مقام پر جمعہ پڑھایا جہاں اب مسجد ( مسجد جمعہ) بنی ہوئی ہے ۔ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا پہلا جمعہ ہے۔(تفسیر قرطبی)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ جمعہ کے دن ارشاد فرمایا :

مسلمانو! اللہ تعالیٰ نے اس دن کو تمہارے لیے عید کا دن بنایا ہے ، لہٰذا اس دن غسل کیا کرو اور مسواک کیا کرو۔ ( طبرانی ، مجمع الزوائد )

 اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جمعہ کا دن لغوی اعتبار سے ہر ہفتہ کی عید ہے ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

اللہ کے نزدیک سب سے افضل نماز جمعہ کے دن فجر کی نماز جماعت کے ساتھ ادا کرنا ہے ۔ (طبرانی ، بزاز )

جہنم کی آگ روزانہ دہکائی جاتی ہے ، مگر جمعہ کے دن اس کی عظمت اور خاص اہمیت و فضیلت کی وجہ سے جہنم کی آگ نہیں دہکائی جاتی ۔ ( زادالمعاد ،۱؍۳۸۷)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن کا ذکر کیا اور فرمایا :

اس میں ایک گھڑی ایسی ہے ، جس میں کوئی مسلمان نماز پڑھے اور اللہ تعالیٰ سے کچھ مانگے تو اللہ تعالیٰ اس کو عنایت فرما دیتا ہے اور ہاتھ کے اشارے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح فرمایا کہ وہ ساعت مختصر سی ہے ۔ (بخاری )

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

وہ گھڑی خطبہ شروع ہونے سے لے کر نماز کے ختم ہونے تک کادرمیانی وقت ہے ۔ (مسلم)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

جمعہ کے دن ایک گھڑی ایسی ہوتی ہے کہ مسلمان بندہ جو مانگتا ہے ، اللہ اس کو ضرور عطا فرما دیتے ہیں ۔ اور وہ گھڑی عصر کے بعد ہوتی ہے ۔(مسند احمد )

مذکورہ حدیث شریف اور دیگر احادیث کی روشنی میں جمعہ کے دن قبولیت والی گھڑی کے متعلق علماء نے دو وقتوں کی تعیین کی ہے ۔

( ۱) دونوں خطبوں کا درمیانی وقت ، جب امام منبر پر کچھ لمحات کے لیے بیٹھتا ہے ۔

(۲)… عصر کے بعد غروب آفتاب سے کچھ وقت قبل ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

پانچوں نمازیں ، جمعہ کی نماز پچھلے جمعہ تک اور رمضان کے روزے پچھلے رمضان تک درمیانی اوقات کے گناہوں کے لیے کفارہ ہیں ، جب کہ ان اعمال کو کرنے والا بڑے گناہوں سے بچے۔ (مسلم)

یعنی اللہ تعالیٰ کے حقوق میں سے چھوٹے گناہوں کی معافی ہو جاتی ہے ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

جو شخص اچھی طرح وضو کرتا ہے ، پھر جمعہ کی نماز کے لیے آتا ہے ، خوب دھیان سے خطبہ سنتا ہے اور خطبہ کے دوران خاموش رہتا ہے تو اس جمعہ سے گزشتہ جمعہ تک اور مزید تین دن کے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں ۔ (مسلم)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

جو شخص جمعہ کے دن جنابت کے غسل کی طرح ( اہتمام کے ساتھ) غسل کرتا ہے پھر پہلی فرصت میں مسجد جاتا ہے تو گویا اس نے اللہ کی خوشنودی کے لیے اونٹنی قربان کی ۔ جو دوسری فرصت میں مسجد جاتا ہے گویا اس نے گائے قربان کی ۔ جو تیسری فرصت میں مسجد جاتا ہے گویا اس نے مینڈھا قربان کیا ۔ جو چوتھی فرصت میں جاتا ہے گویا اس نے مرغی قربان کی ۔ جو پانچویں فرصت میں جاتا ہے گویا اس نے انڈہ صدقہ کرنے سے خدا کی خوشنودی حاصل کی ۔ پھر جب امام خطبہ کے لیے نکل آتا ہے تو فرشتے خطبہ میں شریک ہو کر خطبہ سننے لگتے ہیں۔( بخاری ، مسلم)

یہ فرصت (گھڑی) کس وقت سے شروع ہوتی ہے ، علماء کی چند آراء ہیں ، مگر خلاصۂ کلام یہ ہے کہ حتی الامکان مسجد جلدی پہنچیں ، اگر زیادہ جلدی نہ جا سکیں تو کم از کم خطبہ شروع ہونے سے کچھ وقت قبل ضرور مسجد پہنچ جائیں ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

جس نے جمعہ کے دن دورانِ خطبہ اپنے ساتھی سے کہا (خاموش رہو) اس نے بھی لغو کام کیا۔ (مسلم)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

جس شخص نے کنکریوں کو ہاتھ لگایا یعنی دورانِ خطبہ اُن سے کھیلتا رہا ( یا ہاتھ ، چٹائی ، کپڑے وغیرہ سے کھیلتا رہا) تو اس نے فضول کام کیا (اور اس کی وجہ سے جمعہ کا خاص ثواب ضائع کر دیا )  (مسلم)۔

حضرت عبداللہ بن بسرؓ  فرماتے ہیں کہ :

میں جمعہ کے دن منبر کے قریب بیٹھا ہوا تھا ، ایک شخص لوگوں کی گردنوں کو پھلانگتا ہوا آیا جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بیٹھ جا ! تو نے تکلیف دی اور تاخیر کی۔ (صحیح ابن حبان )

جب امام خطبہ دے رہا ہو تو لوگوں کی گردنوں کو پھلانگ کر آگے جانا منع ہے ، پیچھے جہاں جگہ ملے وہیں بیٹھ جائے ۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

 جمعہ کے دن کا غسل ، گناہوں کو بالوں کی جڑوں تک سے نکال دیتا ہے ۔ (طبرانی ، مجمع الزوائد)

یعنی صغائر گناہ معاف ہو جاتے ہیں ، بڑے گناہ بغیر توبہ کے معاف نہیں ہوتے ، اگر صغائر گناہ نہیں ہیں تو نیکیوں میں اضافہ ہو جاتا ہے ۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ جمعہ نہ پڑھنے والوں کے بارے میں فرمایا:

میں چاہتا ہوں کہ کسی کو نماز پڑھانے کا حکم دوں پھر جمعہ نہ پڑھنے والوں کو اُن کے گھروں سمیت جلا ڈالوں۔( مسلم)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

خبردار ! لوگ جمعہ چھوڑنے سے رک جائیں یا پھر اللہ تعالیٰ اُن کے دلوں پر مہر لگا دے گا ، پھر یہ لوگ غافلین میں سے ہو جائیں گے ۔(مسلم)

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص سورئہ کہف کی تلاوت جمعہ کے دن کرے گا ،آئندہ جمعہ تک اس کے لیے ایک خاص نور کی روشنی رہے گی ۔(نسائی ، بیہقی ، حاکم)

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہارے دنوں میں سب سے افضل دن جمعہ کا دن ہے ۔ اس دن کثرت سے درود پڑھا کرو ، کیونکہ تمہارا درود پڑھنا مجھے پہنچایا جاتا ہے۔( مسند احمد ، ابو دائود ، ابن ماجہ ، صحیح ابن حبان )

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جمعہ کے دن اور جمعہ کی رات کثرت سے درود پڑھا کرو ، جو ایسا کرے گا ، میں قیامت کے دن اس کی شفاعت کروں گا۔(بیہقی)

جمعہ کے دن یا رات میں انتقال  کرجانے والے کی خاص فضیلت :

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو مسلمان جمعہ کے دن یا جمعہ کی رات میں انتقال کر جائے  اللہ تعالیٰ اُس کو قبر کے فتنہ سے محفوظ فرما دیتے ہیں ۔ (مسند احمد ، ترمذی)

اللہ تعالیٰ ہمیں جمعۃ المبارک سمیت تمام اسلامی روایات و اقدار کو باقی رکھنے اور اُن کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔(آمین ثم آمین)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online