Bismillah

627

۱تا۷جمادی الاولیٰ۱۴۳۹ھ   بمطابق ۱۹تا۲۵جنوری۲۰۱۸ء

مسئلہ فلسطین اور ایک تاریخی فتویٰ (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 622 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Masla Falastin aur Tareekhi Fatwa

مسئلہ فلسطین اور ایک تاریخی فتویٰ

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 622)

مسجد ِ اقصیٰ … جسے بے شمار انبیاء کرام علیہم السلام کی قدم بوسی کا شرف نصیب ہوا…

امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے سفرِ معراج کی پہلی منزل …

اہل اسلام کا قبلۂ اول ، جس کی طرف وہ تقریباً ڈیڑھ سال رخ کر کے نمازیں ادا کرتے رہے …

جسے سیدنا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے صلح کے ذریعے فتح کیا اور یہاں کے رہنے والے غیر مسلم شہریوں کے حقوق کو بے مثال تحفظ فراہم کیا …

جہاں ۸۸ برس صلیبیوں کے ظلم و ستم کے بعد جب ۱۱۸۷ء میں سلطان صلاح الدین ایوبی رحمۃ اللہ علیہ فاتح بن کر داخل ہوئے تو نہ صرف تمام اہل شہر کو امان عطاکی بلکہ غریب غیر مسلم افراد کی طر ف سے خراج بھی خود ہی ادا کیا …

مسجدِ اقصیٰ صرف گارے اینٹو ں سے بنی ہوئی ایک عمارت کا نام نہیں … یہ صرف کسی زمین کے مختصر ٹکڑے کا نام نہیں ۔ مسجد ِ اقصیٰ تو خود اپنی ذات میں ایک تاریخ ہے، ایک یاد گار ہے اور ایک دستاویزہے۔یہاں کے ذرے ذرے سے ایسی داستانیں وابستہ ہیں کہ اگر یہاں کے پتھروں کو زبانِ نطق اور قوتِ گویائی عطا ہوجائے تو تاریخ کا ایک ایسا حیرت انگیز دفتر تیار ہو جائے گا ، جہاں قدم قدم پراہلِ اسلام کی جرأت ، بہادری،عبادت گزاری ، زندہ دلی ،رحم دلی اور انسانیت نوازی کے نقش ثبت ہوں گے تو وہیں لمحہ لمحہ یہود ونصاریٰ کی طرف سے اپنے انبیاء علیہم السلام کی سرزمین پر بد ترین ، وحشتناک اور خوفناک ظلم و ستم کا ریکارڈبھی ہو گا ۔ خود صلیبی مؤرخین اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ جب عربوں کی غفلت اور باہمی جنگوں کی وجہ سے صدیوں پہلے انہوں ے اس زمین مقد س کا کنٹرول سنبھالا تو اتنی خون ریزی کی گئی کہ کوئی جان محفوظ رہی ، نہ کوئی عزت ، کوئی مرد بچ سکا نہ کوئی عورت ، یہاں تک معصوم بچوں کو بھی بے دردی سے قتل کیا گیا اور انہی کے بقول صلیبی سپاہیوں کے گھوڑے گھٹنو ں گھٹنوں تک خونِ مسلم مں ڈوبے ہوئے چل رہے تھے۔

اسرائیل ، ایک قابض اور ناجائز ریاست ، وحشت اور ویرانی کی علامت ، عالمی برادری کالے پالک بچہ ، ہزاروں نہیں لاکھوں بے گناہ مسلمانوں کا سفاک قاتل ، انتہاء پسند اور شدت پسند جنونی قسم کے یہودیوں کا مسکن ، انسانیت کے نام پر بد نما داغ، جس نے کبھی اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ اپنی بد ترین دشمنی پر پردہ ڈالنے کا بھی تکلف نہیں کیا ، یہ ریاست آج تو نہیں بنی اور نہ ہی بیت المقدس پر آج اس نے چڑھائی کی ہے ۔

انیسویں صدی کے آخر میں اور بیسویں صدی کے آغاز میں دنیا بھر کے یہودی ایک قوم بن کر سامنے آئے ، انہوں نے اپنے مذہبی تشخص کو اپنی قوم کی بنیاد بنایا ۔

۱۹۰۴ء سے ۱۹۱۴ء تک ۴۰ ہزار یہودیوں نے دنیا بھر سے نقل مکانی کی اور عرب کی سرزمین پر آباد ہوئے ۔ یہ لوگ اپنے اپنے ملکوں میں ہر آسائش چھوڑ کر ہر طرف سے خطرات میںگھر ئے ہوئے اس علاقے میںآئے ہیں ۔ ان کے دماغوں پر صرف ’’ احیاء ِ یہودیت ‘‘ کا بھوت سوار تھا اور انہوں نے اپنے مذہب کے تن مردہ میںروح پھونکنے کا عزم کررکھا تھا ۔

لبرل کہلانے والے مسلمانوںکو یہ حقیقت ہضم کرنا مشکل ہو گی لیکن تاریخی حقائق یہی ہیں کہ دنیا کی سب سے کمزور اور ذلیل کہلانے والی قوم جب اپنے ’’مذہب‘‘ پر یکسوئی اور یکجہتی سے عمل پیرا ہوئی تو اس نے اپنی پہچان ہی بدل کررکھ دی ۔ حالانکہ ان کی قومی زبان مٹ چکی تھی اور ان کی مذہبی کتاب میںبے شمار تبدیلیوں اور تحریفات نے راہ پالی تھی ۔پھر ایک سچا مسلمان ، اپنے اس مذہب کے ساتھ جو ابدی صداقتوں کا حامل ہے اورہر دور کیلئے قابل عمل ہے ، اپنی اس کتاب کے ساتھ جو ہر طرح کی ترمیم اور تحریف سے محفوظ ہے ، اپنے عظیم پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی پاکیزہ سیرت کی روشنی میں ترقی کا سفر کیوں طے نہیں کر سکتا ۔

بہرحال اس وقت ہمارے پیش نظر نہ تو اسرائیل کے قیام کی تاریخ بیان کرنا ہے اور نہ ہی امریکہ کی اسلام اور انسان دشمنی کی داستان سنانا ہے ۔ اسی طرح یہاںمسلمانان عالم اور بالخصوص اہل عرب کی غفلت اور بے حسی کی تفصیلات ذکرکرنا بھی مقصد نہیں ، جس کی بدولت موجودہ صورت حال کی نوبت آئی ہے ۔

جس دور میںیہودی دنیا بھر سے فلسطین کی سر زمین پرمنتقل ہو رہے تھے اور یہاں منہ مانگی قیمت پر عرب آبادی سے زمینیں خرید رہے تھے ، اُس وقت عرب علماء نے اپنے لوگوںکو اس سے سختی سے منع کیا کہ وہ اپنی زمینیں ہرگز یہودیوں کو نہ فروخت کریں ۔ اس سلسلے میں انہوں نے دنیا بھر کے مختلف علماء کی خدمت میں بھی استفتاء ( سوال) بھیجا ، تاکہ ان کی رائے سے بھی استفادہ کرسکیں ۔ اس سلسلے کا ایک تاریخی سوال و جواب عربی زبان میں ‘ امداد الفتاویٰ ) جلد ۳، صفحہ ۵۹ تا ۶۱ مطبوعہ مکتبہ دارلعلوم کراچی) میں موجود ہے ۔ بعینہٖ یہی فتویٰ بوادر النوادر (صفحہ ۴۵۹ تا ۴۶۰ مطبوعہ ادارئہ اسلامیات لاہور ) میں بھی ہے ۔فلسطین کی سرزمین کی یہودیوں کے ہاتھ فروخت کرنے کے بارے میں یہ فتویٰ حضرت حکیم الامت مولانا محمد اشرف علی تھانوی قدس اللہ سرہ ( ۱۲۸۰ھ ۔ ۱۳۶۲ھ) کا تحریر کردہ ہے:

اس فتویٰ کے آخر میںلکھا ہوا ہے:

’’ کتبہ ، اشرف علی التھانوی من الھند الحنفی الفاروقی عفی عنہ اللثلث الاول فی رمضان المبارک ۱۳۳۸ھ ‘‘۔

اس طرح یہ تاریخی فتویٰ تحریر میں آئے ہوئے قمری اعتبار سے پوری صدی یعنی سو سال گزرچکے ہیں ۔ یہ فتویٰ اس حقیقت کا واضح ثبوت ہے کہ علماء حق نے ہمیشہ بر وقت امت کی درست راہنمائی کی اور اس سلسلے میں وہ نہ توکسی مداہنت کا شکارہوئے اورنہ ہی انہوں نے کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ کی ۔ زمانۂ حال کی من گھڑت مصالح اور نام نہاد روشن خیالی ان علماء ِ حق کو چھو کربھی نہیں گزری تھی ۔ انہوں نے وہ ہی کچھ لکھا ، جو قرآن و سنت اور اقوال فقہاء کی روشنی میںانہوں نے درست سمجھا ۔

جیسا کہ عرض کیاگیا کہ یہ اصل سوال و جواب عربی میں ہیں‘ جن کا اردو ترجمہ یہاں پیش کیا جا رہاہے

شریعت اسلامیہ کا ان مسلمانوں کے بارے میں کیاحکم ہے ؟ جو فلسطین کی مقدس زمینوں کویہودیوں کے ہاتھوں فروخت کررہے ہیں، یا ان زمینوں کو یہودیوں کے ہاتھوں فروخت کرنے کاواسطہ بن رہے ہیں ، جن کا مقصد یہ ہے کہ ان کی زمینیں خرید کران کوجلا وطن کردیں اور ان کی مسجد اقصیٰ پرنا حق غلبہ حاصل کرلیں اور مسجد اقصیٰ کی جگہ پراپنے ہیکل نامی کنیسہ کی تعمیرکرلیں اور فلسطین میںان اسلام دشمن ممالک کی مدد اور تعاون سے ایک یہودی ریاست قائم کر لیں کہ جو ممالک اسلام اور مسلمانوں کے مقابلہ میںہر ممکن کوششوں میں مصروف ہیں اور ان کے اس خطرناک عمل پر کوئی روک ٹوک اور نکیر کرنے والا نہیں ہے ۔ دوسری طرف بعض علماء نے ان لوگوں کے بارے میں کفر کا فتویٰ صادر کر دیا ہے جو یہودیوں کے ہاتھوں اپنی زمین فروخت کریں گے یا کسی دوسرے مسلمان کی زمین ان یہودیوں کے ہاتھوں فروخت کرنے میں واسطہ بنیں گے اور ان علماء کے کفر کا فتویٰ صادر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کے خلاف کافروں کا تعاون کررہے ہیں اور ان یہودیوں سے دوستانہ تعلق قائم کر رہے ہیں جو دن رات مسلمانوں کو فلسطین سے اور اس مسجد اقصیٰ سے در بدر کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں ، جہاںکی اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر علیہ السلام کو شب معراج میں سیر کرائی تھی اور اس کو شش میں لگے ہوئے ہیں کہ مسلمانوں کو وہاں نماز پڑھنے اور ان کے قبرستانوں میں دفن کرنے سے محروم کردیں ، نیز اس فتویٰ میں دوسروں کے لیے سامان عبرت ہے کہ جو بھی مسلمان اس راستہ پر چلے گا ، وہ بھی ان ہی کی طرح مجرم اور گنہگار قرار دیا جائے گا ، تو آنجناب کا ان علماء کے فتویٰ کے متعلق کیا خیال ہے؟ اور اگر ان کے فتویٰ کے خلاف کوئی مواد موجود ہو تو فراہم کرکے ہمیں مستفید فرمائیں ۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اجروثواب سے نوازیں ۔

جواب :  پہلے جزو میںہم اولاً دلائل پیش کریں گے ، پھر اس کے بعد سائل کو خراج تحسین پیش کریں گے ’’ درمختار ‘‘ میں جزیہ کی فصل کے تحت اور ذمیوں کے احکام کے متعلق جوفرمایا ہے کہ وہ ہتھیار کے ساتھ اپنا کام نہیں کر سکتے تو ’’ ردالمحتار ‘‘ میںاس کا مطلب یہ لکھا ہے کہ ذمی نہ تو ہتھیار استعمال کرسکتا ہے اور نہ ہی ہتھیار اٹھا سکتا ہے ، اس لیے کہ ذمی کے ہتھیار اٹھانے میںایک طرح کی اس کی عزت ہے ، لہٰذ ا جو چیز بھی اس قبیل سے ہو گی ذمی کو اس سے روکا جائے گا ، لہٰذا اب اس اصول سے بہت سارے احکام جان سکتے ہو اور یہ ایک کلی اصول ہے ، اس سے بہت سارے جزئیات متفرع ہوتے ہیں ، جن کوابھی ہم ذکرکریں گے ، چنانچہ درمختار میںلکھا ہے کہ ذمی نے کوئی گھر خریدا یعنی شہر میںخرید نے کا ارادہ کیا تو یہ صحیح نہیں ہے کہ ذمی کے ہاتھوں اس گھر کو فروخت کیا جائے ، لیکن اگر اس نے خرید لیا تو کیا اس کو مجبور کیا جائے گا ؟ کہ وہ مسلمان کے ہاتھ اس کو فروخت کرے ؟ تو کہا گیاہے کہ اس کو مجبور نہیں کیاجائے گا ، الا یہ کہ ذمی کثیر تعداد میں جمع ہو جائیں ۔

 اور ’’ رد المحتار‘‘ میں ’’ الذمی اذ ا اشتری‘‘ کے تحت علامہ سرخسی ’’ شرح السیر‘‘ میں لکھتے کہ:

 اگر امام مسلمانوں کی زمینوں میںمسلمانوں کے لیے بستی آباد کرے ، جس طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کوفہ اور بصرہ میں مسلمانوں کو بسایا تھا ، پھر وہاں ذمی گھر خرید لیں اور مسلمانوں کے ساتھ رہنے لگیں تو ان کو اس سے نہیں روکا جائے گا ، کیوں کہ ہم نے ان سے ذمہ کے عقد کو قبول کر لیاہے ، تاکہ وہ وہاں رہ کر دین کی اچھی باتوں کو سیکھیں اور امیدہے کہ ایمان لے آئیں اور یہ تب ہی ہو سکتا ہے جب وہ مسلمانوں کے ساتھ مل جل کررہیں گے اور ان کے ساتھ رہ کر زندگی گزاریں گے ۔ اور علامہ حلوانی ؒ فرماتے ہیں کہ :

یہ مسئلہ اس وقت ہے جب ذمی کم تعداد میں وہاں ہوں ،اگر بہت ہی زیادہ تعداد میں ذمی ہوں گے اور اس بات کا خطرہ لا حق ہو سکتا ہو کہ مسلمانوں کی جماعتوں میں انتشار پیدا ہو گا اور ان کے ساتھ رہ کر مسلمانوں کی جماعت میں کمی آجائے گی تو اس وقت ان کو وہاں رہنے سے منع کر دیا جائے گا اور ان کو شہر کے کنارے رہنے پر مجبور کیا جائے گا ، جہاں مسلمانوں کی کوئی جماعت نہ رہتی ہو ۔

اوریہ قول امام ابو یوسف ؒ  کی کتاب ’’امالی‘‘ سے ماخوذ ہے پھر ’’درمختار‘‘ میںچند سطروں کے بعد یہ عبارت ہے :

اذا تکاری اھل الذمۃ ‘‘الخ ۔

یعنی ذمیوں نے مسلمانوں کے مابین رہنے کے لیے گھر کرایہ پر لیا ، لہٰذا کرایہ پرلینا جائزہے ، کیوںکہ بیع و شراء کی صورت میںنفع کے وقت مسلمانوں سے رجوع کریں گے اور مسلمانوں کے مابین رہنے کے لیے گھر کرایہ پرلیا ، لہٰذا کرایہ پر لینا جائزہے ، کیوںکہ بیع و شراء کی صورت میں نفع کے وقت مسلمانوں سے رجوع کریں گے اور مسلمانوں کے معاملات کامشاہدہ کریں گے ،جس کی وجہ سے ہو سکتاہے کہ وہ اسلام میں داخل ہوجائیں اور یہ بھی مذکورہ شرائط کے ساتھ ہی جائزہوگا ، یعنی ذمیوں کی تعداد کم ہو اور مسلمانوں کے درمیان انتشار کاسبب نہ بنتے ہوں ، چنانچہ علامہ حلوانیؒ اور علامہ تمرتاشی کے کلام کاخلاصہ بحث یہ ہے کہ :

اگرذمی مسلمانوں کے ساتھ رہیں اور مسلمانوں میںکوئی انتشار کاخطرہ نہیںہے تو اس میں کوئی حرج نہیںکہ وہ مسلمانوں کے درمیان رہیں ، لیکن ایک خاص محلہ میںنہیں رہیںگے ، کیوں کہ اگر ایک خاص محلہ میں ذمی ایک ساتھ رہیں گے تو ان کومسلمانوں کی طرح قوت و عزت حاصل ہوجائے گی ، لہٰذا اس کوآپ اچھی طرح سمجھ لیں پھر ’’ ردالمحتار‘‘ میںچند سطروںکے بعد تنبیہ کے عنوان سے ’’ درمنتقی‘‘ میںاس بات کی صراحت کی ہے کہ:

 ذمیوں کومسلمانوں کے مقابلہ میں اونچی عمارتیں بنانے سے روکا جائے گا ، نیز بعض علماء  کے نزدیک مساوی درجہ کی عمارتوں سے بھی روکا جائے گا ، تاہم قدیم عمارتوں کو باقی رکھا جائے گا ، پھر علامہ شامیؒ لمبی بحث کرنے کے بعد فرماتے ہیںکہ:

 حدیث شریف سے اس بات کا ثبوت نہیںہوتاکہ ان کو وہی عزت و شرف حاصل ہو جو مسلمانوں کو حاصل ہے ، البتہ عقود و غیرہ کے معاملات اس سے الگ ہیں ، اس لیے کہ دلائل سے یہ بات ثابت شدہ ہے کہ ان پرذلت اور مسلمانوں کے مقابلہ میںمغلوب رہنے کو لازم کر دیا گیاہے ۔

 اور شوافع نے اس بات کی صراحت کی ہے کہ ذمیوں کو بلند عمارتیں تعمیرکرنے سے روکنا واجب ہے ، کیوں کہ ان کو اونچی عمارت سے روکنے میں اللہ تعالیٰ کا حق ہے اور دین اسلام کی تعلیم ہے ،لہٰذا کسی مسلمان پڑوسی کی رضامندی کے باوجود اسکومباح قرار نہیںدیاجائے گا اورہمارے اصول قواعد بھی اس کے مخالف نہیںہیں اور یہ بات گزرچکی ہے کہ ذمی کی تعظیم کرنا حرام ہے ، لہٰذا اس کی رضا مندی پر اونچی عمارتیں بنانے میں خود اس کی تعظیم ہے ، یہ وہ خلاصہ کلام ہے جو اس مقام پر میرے سامنے عیاں ہوا ۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۔

میں ( حضرت تھانویؒ ) کہتا ہوں کہ اس بات میں بے شمار روایتیں اور جزئیات ہیں اور جوبات ہم نے ذکرکی ہے وہ کافی ہے ،جب کرایہ پرگھرلینا اور خرید نااور اونچی عمارت بننے کے متعلق یہ حکم ہے تومسلمانوں کااپنی زمینیں کفار کے ہاتھوں بیچنے کاکیاحکم ہو گا ؟ حالانکہ یہ تواور زیادہ عزت ، شان وشوکت اورغلبہ کاسبب ہے ۔

جب ذمیوں کے یہ احکام ہیںجوکہ مسلمانوںکی ماتحتی میںرہ کرزندگی گزارتے ہیں، توان غیرذمیوں کاکیاحکم ہو گا جواسلام کی ماتحتی میں نہیںہیں،اسی کواللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میںان الفاظ میں تعبیر کیاہے:

’’ یالونکم خبالا‘‘

( یہ لوگ تمہاری بدخواہی میںکوئی کسر اٹھا نہیںرکھتے) نیزاللہ تعالیٰ کاارشاد ہے:  ’’ لایرقبون فی مؤمن الاولا ذمۃ‘‘

( یہ کسی مومن کے معاملہ کے بارے میںکسی رشتہ داری یامعاہدہ کا پاس نہیں کرتے)

اورمزید اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : 

’’ان یثقفو کم یکو نو الکم اعداء ویبسطوا الیکم اید یھم والسنتھم بالسوء وودو لو تکفرون ‘‘

(اگر تم انکے ہاتھ آجائو تو وہ تمہارے دشمن بن جائیں گے اور اپنے ہاتھ اورزبانیں پھیلا پھیلا کرتمہارے ساتھ برائی کریںگے اوران کی خواہش ہے کہ تم کافر بن جائو)

کسی شاعر نے کیاہی خوب کہاہے:

ہمارے دوستوں پرزمانے کے مصائب بہت طرح سے آتے ہیں ۔اورمصائب میںسب سے بھاری مصیبت بے وقوفوں کی شان وشوکت ہے ، توکب یہ زمانہ اپنے نشہ سے افاقہ پائے گا اور میںیہودیوں کودیکھتا ہوں کہ وہ فقہاء کالباس پہنے ہوئے ہیں۔

اورجزوثانی کاجواب یہ ہے کہ اس کافتویٰ دینے والے اہل بصیرت اورمعاملہ فہم علماء ہیں، تویہی اقرب ترین تدبیر ہے اورعلماء کو ان جیسے معاملات میںسربراہی کاحق حاصل ہے ۔واللہ اعلم بالصواب

امریکی صدر ٹرمپ کے حالیہ بیان کے بعد اگر کسی کو کچھ شک تھا تو وہ اب دور ہوجانا چاہیے کہ مسلمانوں کے تمام مقبوضہ علاقوں کی بازیابی کا واحد راستہ مزاحمت اور جذبۂ جہاد ہے ۔ورنہ عالمی برادری کے مذمتی بیانات ہوں یا احتجاجی بیانات و مظاہرے ، ان کا کچھ وقتی فائدہ تو ہوتا ہو گا لیکن عملی اعتبار سے یہ سب کچھ صرف پانی کا بلبلہ ثابت ہوتے ہیں اور اہل ایمان بد ستور ظلم و ستم کی چکی میں پستے رہتے ہیں ۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس نازک موقع پرمسلمانانِ عالم کو درست راستے کے انتخاب کی توفیق دے اور پوری امت کے مظلوم مسلمانوں کو ظالموں سے نجات عطا فرمائے۔( آمین ثم آمین)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online