Bismillah

660

۱۰تا۱۶محرم الحرام۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۲۱تا۲۷ستمبر۲۰۱۸ء

قافلۂ عمروؓ بن جموح … رواں دواں (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 623 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Qafila Amar Bin Jaoo

قافلۂ عمروؓ بن جموح … رواں دواں

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 623)

یہ تذکرہ ہے ایک ایسے قافلے کا جس کا ہر فرد ، مقدر کا سکندر اور آسمان عظمت کا چمکتا دمکتا ستارہ ہے ۔ یہ قافلہ ہے اُن بلند حوصلہ ، آہنی عزم اور پختہ ارادے کے مالک لوگوں کا ، جو ظاہری طور پر تو معذور ہوتے ہیں لیکن ان کے جذبے اور ان کا عمل ، صحت مند لوگوں کیلئے بھی قابل رشک ہوتے ہیں ۔ یہ قافلہ زمان اور مکان کی ہر قید سے آزاد اور ہر طرح کے قومی ، نسلی اور علاقائی تعصبات سے پاک ہے ۔ اس قافلہ کا زادِ راہ ، اللہ تعالیٰ پر کا مل بھروسہ ، باطل کے سامنے مزاحمت اور شوق شہادت کے سوا کچھ نہیں ۔ اسی طرح اس قافلے کی منزل صرف اللہ تعالیٰ کے کلمے کی سربلندی ، دین محمدی کی حفاظت اور مظلوم مسلمانوں کا تحفظ ہے۔

یہ قافلہ ماہر القادری مرحوم کے الفاظ میں سرکار رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے شیدائیوں ، اُن کے نام لیوائوں اور ان کے پریشان حال دیوانوں کا قافلہ ہے ۔

انہوں نے اپنے مشہور زمانہ ’’ سلام‘‘ میں نہ جانے کس جذبے سے یہ اشعار کہے تھے:

سلام اُس پر کہ جس نے زندگی کا راز سمجھایا

سلام اُس پر کہ جو خود بدر کے میدان میں آیا

سلام اُس پر کہ جس کا نام لے کر اُس کے شیدائی

الٹ دیتے ہیں تخت قیصریت ، اوجِ دارئی

سلام اس پر کہ جس کے نام لیوا ہر زمانے میں

بڑھا دیتے ہیں ٹکڑا ، سرفروشی کے فسانے میں

سلام اس ذات پر جس کے پریشان حال دیوانے

سنا سکتے ہیں اب بھی خالدؓ و حیدرؓ کے افسانے

میں نے تو جب بھی یہ اشعار پڑھے اور سنے ، مجھے یوں ہی لگا کہ ان چند سطروں میں امت مسلمہ کی چودہ سو سال پر پھیلی ہوئی عزم و ہمت اور جرأت و بہادری کی داستان بڑی خوبی سے سمت کر آگئی ہے۔

کوئی لاکھ مایوسیاں پھیلائے اور اندھیروں کی تجارت کرے لیکن ہر چند دن بعد ہماری راکھ سے کوئی نہ کوئی چنگاری اڑتی ہے اور امیدوں کی شمع روشن کر دیتی ہے ۔ دنیا بھر کے ظالموں نے سارے منافقین کے ساتھ مل کر امت مسلمہ کو شیشہ و شراب اور رنگین بتوں میں گم کرنے اور خواب غفلت میں مد ہوش کرنے کی لاکھ کوششیں کیں لیکن ابھی کل کی ہی تو بات ہے کہ فلسطین کے ایک معذور مجاہد ، جنہیں معذور لکھتے ہوئے شرم آتی ہے کہ اصل اپاہج تو ہم ہیں اور ۵۷؍اسلامی ممالک کے وہ حکمران ہیں جو اغیار کے ہر وار پر صرف چند نعرے لگا کر پھر سے اپنی دنیا میں مست ہو جاتے ہیں ، ہاں وہ عظیم فلسطین کا عظیم بیٹا ابراہیم ابوثریا ، جس نے ۲۰۰۸ ء میں اپنی دونوں ٹانگیں راہِ خدا میں قربان کیں اور اب خود بھی اسرائیلی فائرنگ سے جامِ شہادت نوش کر گیا ، اس عظیم مجاہد کی بے مثال قربانی نے عرب دنیا کے نوجوانوں میں ایک نیا جذبہ اور ولولہ پیدا کر دیا ہے اور مجھے یقین ہے کہ آئندہ دنوں میں چل کر یہی ابراہیم ابو ثریا صیہونیت کے خلاف جدوجہد کا استعارہ بن جائے گا ۔

میں کوئی شاعر نہیں کہ ابراہیم ابو ثریا کی شان میں کوئی لازوال قصیدہ کہہ سکوں لیکن اقبال مرحوم نے شہیدہ فاطمہ بنت عبداللہ کی قربانی سے متاثر ہو کر جو سدا بہار گلہائے عقیدت پیش کیے تھے ، اُن میں سے چند میں قرض لے کر ابراہیم ابو ثریا کی نذر کرنا چاہتا ہوں ۔ یہ معصوم بچی طرابلس کے میدانِ جہاد میں جنگ کے دوران غازیوں کو پانی پلاتے ہوئے شہید ہوئی تھی ۔ ۱۹۱۲ء میں لیبیا کے حریت پسند مسلمان ، اٹلی سے آئے ہوئے حملہ آوروں کے خلاف برسرِ پیکار تھے ۔

اقبال مرحوم کہتے ہیں:

فاطمہ ! تو آبروئے ملت مرحوم ہے

ذرہ ذرہ تیری مشتِ خاک کا معصوم ہے

یہ جہاد اللہ کے رستے میں بے تیغ و سپہ

ہے جسارت آفریں شوقِ شہادت کس قدر

یہ کلی بھی اس گلستانِ خزاں منظر میں تھی

ایسی چنگاری بھی یا رب اپنی خاکستر میں تھی

ہے کوئی ہنگامہ تیری تربت ِ خاموش میں

پل رہی ہے ایک قوم تازہ اس آغوش میں

فلسطینی قوم کو تقریباً ایک صدی بیت چکی ہے کہ وہ ’’اقوامِ متحدہ، عالمی برادری ، جمہوریت اور انسانی حقوق ‘‘جیسے مہمل اور بے کار لفظوں کا کاروبار دیکھ رہے ہیں ۔ اس لیے اب ان کیلئے یہ سب باتیں بے معنی اور صرف دشمن کا ہتھیار ہیں ۔ اس سر زمین نے قافلۂ عمرو ؓ بن جموح کا یہ پہلا سپاہی جنم نہیں دیا بلکہ فلسطین کی سب سے بڑی تحریک مزاحمت ’’ حماس‘‘ کے بانی شیخ احمد یاسین شہیدؒ  بھی اس قافلے کے ہمراہی اور اسی لشکر کے سپاہی تھے ۔ شیخ احمد یاسینؒ بچپن میں ہی ایک حادثے کا نشانہ بن کر معذور ہو چکے تھے اور انہوں نے وہیل چیئر پر بیٹھ کر ہی اسرائیل کے خلاف کامیاب ترین انتفاضہ کی قیادت فرمائی ۔ یہ ۲۲؍ مارچ ۲۰۰۴ء کی نماز فجر کے فوراً بعد کا وقت تھا ، جب اسرائیلی طیاروں نے غزہ کی الصبرہ کالونی میں واقع مرکزی جامع مسجد پر بمباری کی اور شیخ احمد یٰسین ؒ اپنے سات ساتھیوں کے ساتھ جامِ شہادت نوش فرما گئے ۔ تب پورا عالم عرب …

قعید احیاالامۃ

( ایک معذور اور اپاہج شخص پوری امت میں نئی روح پھونک گیا )

کے نعروں سے گونج اٹھا ۔

اور اب تذکرہ کرتے ہیں ان سب کے سردار ہمارے سروں کے تاج عظیم صحابی رسول ، حضرت عمر وؓ بن جموح کا …

حضرت عمروؓ بن جموح کے واقعہ شہادت کی طرح ان کے قبول اسلام کا واقعہ بھی بہت دلچسپ ، ایمان افروز اور سبق آموز ہے ۔ اس لیے پہلے یہاں اُسی کا ذکر کرتے ہیں۔

اسلام سے پہلے آپ نے لکڑی کا ایک بت بنا کر گھر میں رکھ لیا تھا ، جس کا نام مناف تھا آپ اس کی بیحد تعظیم کرتے تھے ، اسی زمانہ میں سر زمین مکہ سے اسلام کا غلغلہ بلند ہوا تو مدینہ کے کچھ لوگ اس پر لبیک کہنے کے لیے مکہ پہنچے اور ’’ بیعت ِ عقبہ ثانیہ‘‘ میں مسلمان ہو کر واپس آئے ، اس جماعت میں عمروؓ کے اپنے ایک بیٹے معاذ بھی شامل تھے ۔

یہ لوگ مکہ سے واپس آئے تو شہر مدینہ کا ہر ہر گوشہ تکبیر کے نعروں سے گونج اٹھا ۔ بنو سلمہ کے چند نوجوانوں نے جو مسلمان ہو چکے تھے ، آپس میں مشورہ سے یہ طے کیا کہ کسی صورت سے عمرو کو بھی مسلمان بنایا جائے ، ان کے بیٹے نے اس کیلئے خاص کوشش کی ، چنانچہ کچھ دنوں تک ان کا یہ مشغلہ رہا کہ رات کو معاذ بن جبل ؓ وغیرہ کو ہمراہ لے کر مکان آتے اور گھر والوں کو سوتا ہوا پا کر بت کو اٹھا لاتے اور باہر کسی گڑھے میں پھینک دیتے تھے ، صبح کو اٹھ کر عمرو سخت غصہ ہوتے اور اپنے خدا کو اٹھا کر اندر لے جاتے ، نہلاتے اور خوشبو مل کر پھر وہیں رکھ دیتے ۔ آخر عاجز آکر ایک دن بت کی گردن میں تلوار لٹکائی اور کہا کہ مجھے تو پتہ نہیں ، ورنہ ان لوگوںکی خود خبر لیتا ، اگر تم کچھ کر سکتے ہو تو کرو ، یہ تلوار موجود ہے ۔ ان لڑکوں کو اب ایک اور چال سوجھی ، رات کو آکر بت کو اٹھایا ، گردن سے تلوار علیحدہ کی اور اس میں ایک مرے ہوئے کتے کو باندھ کر کنویں پر لٹکادیا، عمرو نے یہ کیفیت دیکھی تو بجائے اس کے کہ اپنے معبود کی توہین پر غصہ ہوتے ، راہ راست پر آگئے ، چشم ہدایت روشن ہو گئی اور اسی وقت مذہب اسلام قبول کر لیا ۔

آپ کی غزوئہ بدر کی شرکت میں اختلاف ہے ، لیکن صحیح یہ ہے کہ شریک نہ تھے ، چونکہ پیر میں سخت چوٹ آگئی تھی ۔ اور لنگڑا کر چلتے تھے ، اس لیے جب غزوہ کے لیے جانا چاہا تو بیٹوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے منع کیا کہ ایسی صورت میں آپ پر جہاد فرض نہیں۔

غزوئہ احد میں بھی یہی واقعہ پیش آیا ،بولے کہ تم لوگوں نے مجھ کو بدر جانے سے روکا اب پھر روک رہے ہو ، لیکن میں ضرور جائوں گا ، بیٹوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر کی ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بلا کر سمجھایا کہ تم معذور ہو ، اس لیے سر ے سے ’’ مکلف‘‘ ہی نہیں لیکن وہاں شہادت کا شوق سوار تھا ، عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ لڑکے مجھ کو آپ کے ساتھ چلنے سے روک رہے ہیں ، لیکن اللہ کی قسم! مجھے یہ امید ہے کہ میں اسی لنگڑے پائوں سے جنت میں گھسیٹتا ہوا پہنچوں گا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر زیادہ زور دینا پسند نہیں کیا اور لڑکوں کو سمجھایا کہ اب اصرار نہ کرو ، شاید ان کی قسمت میں شہادت ہی لکھی ہو ۔

حضرت عمرو ؓ نے ہتھیار لے کر میدانِ جنگ کا رخ کیا اور کہا’’ الٰہی مجھے شہادت نصیب کر ! اور اب گھر واپس نہ لا ‘‘ ۔

 دعا نہایت خلوص سے کی تھی ، مقبول ہوئی ، لڑائی کی شدت کے وقت جب مسلمان منتشر ہونے لگے ، حضرت عمروؓ نے اپنے بیٹے خلادؓ  کو لے کر مشرکین پر حملہ کیا اور اس قدر بہادری سے لڑے کہ دونوں باپ بیٹوں نے شہادت پائی اور حضرت عمروؓ اپنے لنگڑے پیر کے ساتھ جنت میں لنگڑاتے ہوئے پہنچ گئے ۔انا للہ و انا الیہ راجعون

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف سے گزرے تو دیکھا کہ شہید پڑے ہوئے ہیں ، فرمایا:

’’خدا اپنے بعض بندوں کی قسم پوری کرتا ہے … عمروؓ  بھی انہی میں ہیں اور میںان کو جنت میں اسی لنگڑے پائوں کے ساتھ چلتے ہوئے دیکھ رہا ہوں ‘‘۔

بعض روایتوں میں آیا ہے کہ ’’ اس کے بدلے ان کو وہاں صحیح و سالم پائوں دیا گیا ہے‘‘ ۔

حضرت عمروؓ کی بیوی کو ان کی شہادت کی خبر پہنچی تو ایک اونٹ لے کر آئیں اور اپنے شوہر اور بھائی عبداللہ بن عمروؓ (حضرت جابرؓ کے والد ماجد) کو اس پر لاد کر گھر لے جانے لگیں لیکن اونٹ کا رخ جب مدینہ کی طرف کرتے تو وہ رک جاتا اور ٹس سے مس نہ ہوتا ، پھر جب احد پہاڑ کی طرف موڑتے تو وہ چل پڑتا ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ عمروؓ نے گھر سے نکلتے وقت کوئی دعا تو نہیں مانگی تھی ؟ اہلیہ نے عرض کیا کہ انہوں نے یوں دعا کی تھی:

 ’’ الٰہی مجھے شہادت نصیب کر اور اب گھر واپس نہ لا ‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: اسی دعا کی وجہ سے یہ صورت حال پیش آئی ۔

بہرحال !بعد میں احد کا دامن ہی گنج شہیداں قرار پایا ، اس بنا ء پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لاش منگوا کر یہیں تمام شہداء کے ساتھ دفن کی ، چنانچہ عبداللہ بن عمروؓ اور عمروؓ بن جموح ایک قبر میں دفن کیے گئے ۔ رضی اللہ عنہما ۔

کاش! کہ مسلمان حکمران، امت مسلمہ کے غیرت مند جوانوں کو اپنا دشمن سمجھنے اور دشمنوں کی گولیوں کا نشانہ بننے کیلئے چھوڑ دینے کے بجائے نفاذ ِ اسلام کیلئے اپنا دست و بازو بناتے تو آج عالم اسلام کا نقشہ ہی کچھ اور ہوتا ۔ بہرحال:

نوارا تلخ ترمی زن ، چو ذوقِ نغمہ کم یابی

حدی راتیز ترمی خواں چو محمل راگراں بینی

(اگر ذوقِ نغمہ کم ہو گیا ہے تو مایوس نہ ہو بلکہ اپنی صدا کو مزید تلخ کردو کیونکہ اگر اونٹ پر بوجھ زیادہ محسوس ہو رہا ہو تو حدی خواں اپنی آواز کی لے اور تیز کر دیتے ہیں)

اللہ تعالیٰ شہدائے اسلام کی شہادتوںکو قبول فرمائے ، امت مسلمہ کے حال پر رحم فرمائے اور اہل ِ ایمان ، ہر میدان میں فتح و کامیابی سے ہمکنارہوں ۔

 (آمین ثم آمین)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online