Bismillah

648

۳۰رمضان المبارک تا۶شوال ۱۴۳۹ھ  بمطابق    ۱۵تا۲۱ جون۲۰۱۸ء

فتنوں کے خلاف مضبوط پناہ گاہ (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 624 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Fitno k Khilaf Panagah

فتنوں کے خلاف مضبوط پناہ گاہ

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 624)

اس بات میں بھلا کس کو کیا شک ہو گا کہ یہ فتنوں کا دور ہے اور ایک فتنہ ختم ہوتا نہیں کہ دوسرا سر اٹھا لیتا ہے ۔ گویا آج کل دنیا ’’ دارالفتن‘‘ بن چکی ہے ۔ ہمارے پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے ہی اس امت کو ان فتنوں سے آگاہ کر دیا تھا اور بتلا دیا تھا کہ ایک دور ایسا آئے گا کہ بس فتنہ ہی باقی رہ جائے گا ، جیسا کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

لم یبق من الدنیا الا بلا ء وفتنۃ  ( ابن ماجہ)

’’ دنیا میں صرف فتنہ اور آزمائش ہی باقی رہ جائے گی ‘‘۔

گویا آج وہ دن آہی چکا ہے ۔ ہر طرف فتنوں اور آزمائشوں کا دور دورہ ہے ۔ ایسے دور سے باخبر کرتے ہوئے ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پہلے پہلے اعمال کے اہتمام کا تاکیدی حکم فرمایا تھا :

’’ جو فتنے تاریک رات کے حصوں کی طرح ( چھا جانے والے) ہوں گے ، ان سے پہلے پہلے نیک اعمال کرنے میں جلدی کرو ( ان فتنوں میں) آدمی صبح کو مومن ہو گا اور شام کو کافر ہو جائے گا ، یاشام کو مومن ہو گا اور صبح کو کافر ہو جائے گا ۔ وہ دنیوی سازو سامان کے عوض اپنا دین بیچتا ہو گا‘‘۔ ( مسلم شریف )

یعنی لوگوں کی نظر میں دین اس قدر ارزاں ہو جائے گا کہ چند دنیوی فوائد کے بدلے میں اس کو بھی دائو پر لگانے سے گریز نہیں کریں گے اور ایمانی حالت اس قدر دگرگوں ہو جائے گی کہ اگر صبح کو وہ ایمان کی حالت میں ہو گا تو شام کو کفریہ حالت سے دو چار ہو چکا ہو گا اور اگر شام کو دائرہ ایمان میں ہو گا تو صبح تک اس سے نکل چکا ہو گا۔(نعوذ باللہ من ذالک) اگر ہم اپنی اپنی حالت پر غور کریں تو ہر شخص اس صورت حال سے کچھ نہ کچھ متاثر ضرور ہوا ہے ۔

ایسے ہی ایام و حالات کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک اور ارشاد گرامی ہے کہ :

’’ عنقریب فتنوں کا دور دورہ ہو گا ، ان میں بیٹھنے والا کھڑا ہونے والے سے بہتر ہو گا ، کھڑا ہونے والا چلنے والے سے اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہو گا ، جو اس (فتنے) میں جھانکے گا ، فتنہ اسے بھی اُچک لے گا ، اس لیے (ا یسے حالات میں) جو کوئی جہاں جگہ یا پناہ پائے وہاں چلا جائے( تاکہ اپنے دین کو فتنوں سے بچا سکے)‘‘۔  ( بخاری شریف )

اور سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

’’ وہ زمانہ بہت قریب ہے جس میں مسلمان کا بہترین مال بکریاں ہوں گی جن کو لے کر وہ پہاڑوں کی چوٹیوں اور بارش کے مقامات کی طرف نکل جائے گا اور فتنوں سے راہِ فرار اختیار کر کے اپنے دین کو بچا لے گا ‘‘۔ ( بخاری شریف )

یعنی فتنوں کے ایسے دور میں اپنا ایمان بچانا بھی مشکل ہو جائے گا اور ایک صاحب ایمان اس کو بھی غنیمت سمجھے گا کہ وہ کچھ بکریاں لے کر پہاڑوں کی طرف نکل جائے ، وہیں ان کو چرا گر گزر بسر کرے اور اپنے ایمان کو فتنوں کا شکار ہونے سے بچائے رکھے ۔

اہل بصیرت آج اس بات پر متفق ہیں کہ دجالی فتنے بڑی تیزی سے ظاہر ہو رہے ہیں اور دینی حلقے بھی کسی نہ کسی درجے میں ان فتنوں سے متاثر ہو رہے ہیں ۔ ایسے فتنوں کی یلغار میں ہمارے لیے سب سے بڑی پناہ گاہ وہ تدابیر ہیں‘ جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے دور کیلئے بتاتی ہیں ۔ رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو کسی دور کے اندھیروں میں بھی بھٹکنے کیلئے بغیر راہنمائی کے نہیں چھوڑا بلکہ ایسی واضح ہدایات دی ہیں کہ جن پر عمل کر کے ہم خود اپنے ایمان کی بھی حفاظت کر سکتے ہیں اور اپنے متعلقین کے ایمان کو بھی بچا سکتے ہیں ۔

اس مختصر مضمون میں ایسی تمام بصیرت افروز باتوں کو بیان کرنا تو ممکن نہیں لیکن آج خاص طور پر اپنے قارئین کی توجہ اُس محفوظ پناہ گاہ اور نا قابل شکست حصار کی طرف دلانی ہے ‘ جس کی ترغیب کئی احادیث مبارکہ میں آئی ہے ۔

احادیث مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے سوئہ کہف میں دجالی فتنوں سے حفاظت کا سامان رکھا ہے۔ اس بارے میں درج ذیل چند احادیث رسول خاص توجہ چاہتی ہیں:

۱…ابو الدرداء رضی اللّٰہ عنہ رفعہ : من حفظ عشرایات من اول سورۃ الکہف عصم من فتنۃ الدجال و فی روایۃ من اخرالکھف( صحیح مسلم کتاب فضائل القرآن ۲؍ ۲۷۱)

حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جس نے سورۃ کہف کی پہلی دس آیات یاد کر لیں تو اُسے دجال کے فتنے سے بچا لیا جائے گا اور ایک روایت میں سورئہ کہف کی آخری آیات کا ذکر ہے ۔ 

۲…نواس بن سمعان رضی اللّٰہ عنہ رفعہ… فمن ادرکہ منکم فلیقراعلیہ فواتح سورۃ الکھف(مسلم ، ابو دائود ، ترمذی )

 حضرت نواس بن سمعان ؓ سے روایت ہے کہ تم میں سے جو دجال کو پائے تو اس پر سورۃ کہف کی پہلی آیتیں پڑھ لے۔

۳… ابو سعید خدری رضی اللّٰہ عنہ رفعہ :من قرأ الکھف کماانزلت کانت لہ نورا یوم القیامۃ فتکون من مقامہ الی مکۃ ومن قرأ عشرایات من اخرھاثم خرج الدجال لم یسلط علیہ( مستدرک حاکم و قال صحیح علی شرط مسلم ووافقہ الذہبی)

 حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جس نے سورۃ کہف اس طرح پڑھی جیسے نازل کی گئی ہے تو وہ قیامت کے دن اس کے لیے نور ہو گی ، اس کے مقام سے مکہ تک اس کا نور ہو گا اور جس نے سورۃ کہف کی آخری دس آیات پڑھیں پھر دجال نکلا تو وہ اس پر مسلط نہیں ہو گا ۔

۴…ابو امامہ باہلی رضی اللّٰہ عنہ رفعہ:… فمن ابتلی بنا رہ فلیستغث باللّٰہ ولیقرأ فواتح الکھف فتکون علیہ بردا وسلاما( ابن ماجہ کتاب الفتن )

 حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ … جو شخص دجال کی آگ میں مبتلا ہو گیا تو اللہ کی مدد مانگے اور سورۃ کہف کی ابتدائی آیات پڑھے پھر وہ آگ اس کے لیے ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جائے گی ۔

۵…ابو الدرداء رضی اللّٰہ عنہ رفعہ: من قرأ ثلاث ایات من اول الکھف عصم من فتنۃ الدجال(ترمذی ، ابواب فضائل القرآن )

حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جس نے سورۃ کہف کی پہلی تین آیات پڑھیں تو دجال کے فتنے سے اُس کو بچا لیا جائے گا ۔

اصحاب کہف کے نام کیا ہیں اور یہ غار کس علاقے میں ہے؟ ہم ان تفصیلات کو چھوڑتے ہوئے مختصر طور پر اصحابِ کہف کا واقعہ ذکر کرتے ہیں تاکہ یہ بات واضح ہو جائے کہ آخر ان حضرات کی وہ کیا زبردست قربانی تھی ‘ جس کی بناء پر انہیں اعزاز و احترام کا یہ بے مثال مرتبہ نصیب ہوا کہ ان کا تذکرہ قرآن مجید جیسی عظیم کتاب کا حصہ بنا۔

 کہف عربی زبان میں غار کو کہتے ہیں ۔واقعہ یہ ہوا تھا کہ ایک بت پرست بادشاہ کے زمانے میں کچھ صاحب ِ حیثیت نوجوان دین توحید پر ایمان لے آئے تھے اور شرک و بت پرستی سے بیزار تھے ۔ بت پرست بادشاہ اور اس کے کارندوں نے ان پر ظلم و ستم توڑنے شروع کیے ، لہٰذا یہ لوگ اپنے ایمان کو بچانے کیلئے بستی سے فرار ہو کر ایک غار میں مقیم ہو گئے ، اللہ تعالیٰ نے ان پر گہری نیند مسلط فرما دی اور یہ سالوں تک پڑے سوتے رہے ، غار کا محل وقو ع ایسا تھا کہ سورج کی روشنی اور ہوا تو بقدر ضرورت اندر پہنچتی تھی ۔ لیکن دھوپ کسی وقت اندر نہیں آتی تھی۔ کئی سال گز ارنے کے بعد بت پرست بادشاہ کی حکومت ختم ہو گئی اور اس کی جگہ ایک موحد اور صحیح العقیدہ نیک بادشاہ برسر اقتدار آگیا ۔ اس زمانہ میں یہ لوگ اپنی نیند سے بیدار ہوئے ، بھوک لگی ہوی تھی ، انہوں نے اپنی ایک ساتھی کو سکے دے کر شہر بھیجا اور یہ تاکید کی کہ خفیہ طریقے پر جا کر کوئی حلال کھانا خرید لائے وہ لوگ یہی سمجھ رہے تھے کہ ابھی تک بت پرست بادشاہ کا زمانہ ہے اس لیے خطرہ تھا کہ اگر ان لوگوں کا اتہ پتہ انہیں معلوم ہو گیا تو وہ ظلم و ستم میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھیں گے چنانچہ یہ صاحب چھپتے چھپاتے بستی میں پہنچے اور ایک نانبائی کی دکان سے کھانا خریدنا چاہا لیکن جب سکہ اس کے حوالے کیا تو وہ بہت پرانے زمانے کا تھا ، جس سے سارا راز کھل گیا ، انہیں یہ معلوم ہو کر اطمینان ہوا کہ حکومت بدل چکی ہے ، عوام سے ہوتے ہوئے بادشاہ وقت کو بھی اطلاع پہنچی اور ان صاحب نے اپنے ساتھیوں کو بھی نئے حالات کی اطلاع دے دی۔

قرآن کریم نے اجمالی طور پر مذکورہ بالا واقعہ بیان کرنے کے بعد یہ بھی ارشاد فرمایا ہے کہ اس دور کے لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے ان نیک بندوں کی قدردانی کے طور پر ان کے اوپر ایک مسجد بھی تعمیر کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا ۔

قرآن کریم نے اپنے عام اسلوب کے مطابق اس واقعے کی تاریخی اور جغرافیائی تفصیلات بیان نہیں فرمائیں کہ یہ واقعہ کس دور میں اور کہاں پیش آیا ؟ چنانچہ تاریخی روایات کی بنیاد پر مفسرین اور مؤرخین نے اس سلسلے میں مختلف آراء ظاہر کی ہیں ۔

زیادہ تر محققین کا رجحان یہ ہے کہ یہ واقعہ حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا و علیہ السلام کے عروجِ آسمانی کے کچھ ہی عرصہ بعد یعنی پہلی سے تیسری صدی عیسوی تک کا ہے اس وقت اس علاقہ پر نبطی بت پرست بادشاہ کی حکمرانی تھی لیکن رفتہ رفتہ دین عیسوی جو فلسطین کے علاقہ میں ظاہر ہوا تھا اس کے اثرات یہاں تک پہنچ رہے تھے ، انہی کی بناء پر یہ نوجوان اس دین کے حلقہ بگوش ہوئے پھر جس زمانے میں یہ سعید روحیں غار میں محو خواب تھیں ‘ اس دور میں رفتہ رفتہ دین عیسوی کے پیرو کار اس علاقہ میں نبطی حکمرانوں سے آزاد کرا کر اپنی حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے اور یہاں کے باشندوں نے بھی دین عیسوی قبول کر لیے۔

پھر جب نیند سے بیدار ہونے کے بعد ان حضرات کو بدلے ہوئے حالات معلوم ہوئے تو اگرچہ انہیں دین برحق کی نشرو اشاعت سے خوشی ہوئی لیکن انہوں نے اپنے لیے یہی پسند کیا کہ دنیا کے ہنگاموں سے الگ اسی غار میں اپنی باقی زندگی گز اردیں۔ لوگوں نے بھی اصرار کیا کہ وہ اب شہر میں آجائیں ، لیکن وہ آمادہ نہ ہوئے اور اپنی باقی زندگی اسی غار میں گزاردی ۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب بادشاہ ِ وقت ان کا حال معلوم کر کے ان کی زیارت کیلئے غار میں پہنچا تو ان کا انتقال ہو چکا تھا لیکن دوسری روایات ان کی وفات کے بارے میں خاموش ہیں۔

اصحابِ کہف کا واقعہ ہمیں یہ سمجھاتا اور بتاتا ہے کہ جب ایمان پر ایسی سخت آزمائش کا وقت آجائے کہ اپنے عقیدہ اور نظریہ کو بچانے کیلئے دنیاوی اسباب ِ راحت و آسائش کی قربانی دینی پڑی تو خوش قسمت اور کامیاب وہ ہی ہو گا ، جو ایمان کے راستے کو اپنا لے ، خواہ اس کیلئے اس کو کتنی ہی بھاری قیمت کیوں نہ چکانی پڑے۔

اصحاب ِ کہف نے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کیلئے فناء کے راستے پر ڈالا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں ایسی بقاء عطا فرمائی کہ ان کے تذکرے پر مشتمل آیات کی تلاوت کے بغیر قرآن مجید ہی مکمل نہیں ہو سکتا ۔ انہوں نے اپنے ایمان کو بچانے کیلئے اپنا نام مٹایا لیکن کلامِ الٰہی نے اُن کے مقام کو زندہ و جاوید بنا دیا ۔ آج بھی جو خوش قسمت اصحاب ِ کہف کے راستے سے سبق حاصل کرتے ہوئے اپنے ایمان کی حفاظت کیلئے اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں والے مقامات سے دور رہے گا اور سلامتی کے غاروں میں پناہ لے گا ، یقینا اللہ تعالیٰ اُسے بھی کبھی ضائع نہیں فرمائیں گے ۔

سورئہ کہف ایک سو دس آیات مبارکہ پر مشتمل ہے اور پندرہویں پارے کے نصف سے شروع ہو کر ، سولہویں پارے کے آغاز میں ختم ہوتی ہے ۔ بعض احادیث مبارکہ میں جمعہ کے دن اس کے پڑھنے کی خاص فضیلت آئی ہے ۔ اس لیے فتنوں سے حفاظت کیلئے اس سورتِ مبارکہ کی ابتدائی اور آخری دس آیات تو زبانی یاد کر کے پڑھتے رہنی چاہئیں اور جمعہ کے دن اس کی مکمل تلاوت کر لینی چاہیے ۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہر قسم کے ظاہری و باطنی فتنوں سے محفوظ فرمائے ۔ (آمین ثم آمین)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online